New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 11:08 PM

Urdu Section ( 9 Oct 2013, NewAgeIslam.Com)

Miracles of the Quran Part- 3 اعجاز القرآن قسط تین

 

خواجہ ازہر عباس

ستمبر، 2013

کفار کے مطالبہ  کا جواب دینے کے بعد اب قرآن کریم اصل مسئلہ  کی طرف رجوع کرتا ہے اور ا ن کا مکاریوں کی تین مقامات پر تردید کرتا ہے۔

(1) وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ وَحَفِظْنَاهَا مِن كُلِّ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ (17۔16۔15) ہم نے فضا کی بلندیوں میں ، اُبھرے ہوئے کُرّے پھیلا رکھے ہیں اور ان سے روشنی منعکس  ہوتی ہے تو دیکھنے والوں  کو بڑے خوشنما نظر آتے ےہیں اور انہیں ہم نے ہر قسم  کی تخریبی قو توں سے محفوظ رکھا ہے۔ کاہنوں کے متعلق کہا کہ اب قرآن کریم کے نزول کے بعد علم کی روشنی  پھیل گئی ہے۔ اب ان کا یہ فریب چل سکتا ۔ یہ فریب و مکروف و جہالت میں چل سکتا تھا۔

إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُّبِينٌ (18۔15) اب ہر قیاس و تخمین  کے پیچھے علم و یقین کا ایک چمکتا ہوا شعلہ  موجود ہے جو اس کی حقیقت کو بے نقاب کردیتا ہے۔

(2) ان تو ہم پرستیوں  کی تردید  میں سورۂ صافات میں ارشاد ہوتا ہے۔ (ترجمہ) فضا کی یہ بلند ی جو تمہیں قریب نظر آتی ہے ، اس میں مختلف کُرّے ہیں جو اپنی چمک کی وجہ سے تمہیں نہایت خوشنما دکھائی دیتے ہیں اور ہم نے انہیں  ہر قسم کے تخریبی عناصر سے محفوظ رکھا ہے۔ان کے کاہن اور نجومی محض  اٹکلیں دوڑاتے ہیں وہ عالم امر جہاں  اول و قوانین بنائے جاتے ہیں ، وہاں تک ان کی رسائی  نہیں ہوسکتی ۔ انسانی  قیاس آرائیوں  کو وہاں  ہر طرف  سے دھکے پڑتے ہیں کیونکہ وہ مقام سرور عقل  انسانی سے ماوراء ہے۔ جہاں تک نجومیوں کے قیافوں کی بات ہے۔ یہ ان کی روحانی دلیل جب تک تھی جب علم کی روشنی عام نہیں  ہوئی تھی ۔ نزول قرآن کے بعد ان کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اب ہر قیانے کے پیچھے علم کا ایک چمکتا  ہوا شعلہ موجود رہے گا۔ (10۔7۔37) اسی مضمون  کو سورۃ الملک میں فرمایا ۔(ترجمہ) اور ہم نے اس فضا کو جو تمہیں  قریب تر نظر آرہی ہے درخشندہ ستاروں سے مُزّین کر رکھا ہے۔ جو لوگ ہمارے قوانین کا علم نہیں  رکھتے وہ ان ستاروں سے قیاس آرائیاں  کر کے غیب کا علم معلوم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن  اب نزول قرآن  کے بعد، علم کا دور آگیا  ہے اور یہ نجومی رفتہ رفتہ  ختم ہوجائیں گے (5۔67)

سورۃ الجن میں ارشاد  ہے (8۔7۔72) (ترجمہ) ( ہم سمجھا کرتے تھے کہ ہمارے کاہن) آسمانوں  کی باتیں  معلوم کر لیتے  ہیں لیکن قرآن  کے نزول کے بعد آسمان کی باتیں  لانا انسان  کے بس کی بات نہیں  رہی ہے اب جو کوئی آسمان کی بات سننے  کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے سامنے علم و برُہان کے شعلے  دیکھتا ہے ۔ آپ ان مقامات  پر غور فرمائیں  ، آپ دیکھیں گے کہ ان میں کسی  جگہ کوئی تضاد یا اختلاف نہیں ہے۔

(4)اب ہم اپنے  موقف کی تائید میں کہ قرآن  میں کوئی اختلاف نہیں ہے، چوتھی دلیل  پیش خدمت عالی کرتے ہیں۔

ارشاد حضرت باری تعالیٰ  اعزسمہ جلَّ مَجد ہ ہوتا ہے  كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ۖ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (28۔2) اور تم کس طرح اللہ کی ہستی  کا انکار کرسکتے ہو، جب کہ تم مردہ  تھے اس نے تمہیں  زندہ کیا،  پھر تم پر موت وار د ہوگی۔ اس کےبعد تم پھر زندہ ہوگے اور اس کی طرف رجوع کروگے چونکہ یہ مسئلہ انسانی ادراک سے باہر کا ہے، اس لئے قرآن  کریم نے اس مسئلہ  سے تعَرض نہیں فرمایا ۔وہ اس مسئلہ کو زیر بحث  ہی نہیں لاتا کہ زندگی  کس طرح وجود  میں آگئی ۔ وہ سلسلہ گفتگو ہی یہاں  سے شروع کرتا ہے کہ زندگی  کی نمود نے کون کون  سے مراحل  و منازل طے کئے ہیں ۔ آج  زندگی جس مقام پر کھڑی  ہے ، اس مقام تک پہنچنے  میں وہ کون کون  سی منزلوں  سے گزری ہے ۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ اللہ  نے زندگی  کو اس کے اولین مادی پیکر یعنی ‘‘ نفس واحد’’ Amebia بھی آنے سے پیشتر  پیدا کررکھا  ہو لیکن  چونکہ وہ اس وقت  ہمارے احساسات  کی گرفت  میں نہیں آسکتی تھی ، اس لئے اللہ تعالیٰ  نے اس کو ہماری موت سے تعبیر  کیا ہے۔ قرآن نے زندگی  کی اس حالت کا حوالہ  لَمْ يَكُن شَيْئًا مَّذْكُورًا (1۔76) کے الفاظ میں دیا ہے (ترجمہ) نہ تھی وہ کوئی چیز جو زبان  پر آتی ۔ جب زندگی نے اپنی نمود کے لئے کوئی پیکر اختیار کرلیا۔ تو قرآنِ کریم  نے اس کو حیات تسلیم کرلیا کیونکہ  وہ اب ہماری گرفت میں آگئی تھی ۔ جب  وہ پھر ہماری گرفت سے نکل جائے گی اور کسی پیکر کے بغیر ہوجائے گی، تو قرآنِ کریم اس کیفیت  کو پھر موت  سے تعبیر  کرتا ہے۔ اس موت  کے بعد پھر اس کو کوئی نہ کوئی ذریعہ Vehicle کیا ہوگا۔ اس وقت ہماری زندگی نمود کی ساری علامات  ہمارے جسم سے ظاہر کرتی ہے اُس وقت  ہم یہ نہیں  کہہ سکتے کہ وہ Vehicle کیا ہوگا۔ اس وقت ہماری زندگی اپنی نمود  کی ساری علامات  ہمارے جسم  سے ظاہر کرتی ہے اُس وقت تو یہ جسم  ہوگا ہی نہیں ، اُس وقت  جو ذریعہ زندگی  کو اپنے اظہار کے لئے ملے گا۔ ہم اس کا ادراک نہیں کرسکتے ۔ بہر حال قرآن نے تو وہ زندگیاں اور دو موتیں  ہی تسلیم کی ہیں۔ اس زیر نظر آیت  میں قرآن  نے موجود زندگی  سے پیشتر کی موت، پھر موجودہ  زندگی ، اس کے بعد کی موت اور آخر ت کی زندگی  کا ذکر کیا ہے۔

اس آیت کے مفہوم کو بغور ملاحظہ فرمانے کے بعد اب آپ سورۂ مومن  کی یہ آیہ کریمہ ملاحظہ فرمائیں۔ ارشاد ہوتا ہے  قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ (11۔40) ( ترجمہ) وہ لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمیں دو بار مارا تو نے ہمیں دو بار زندہ کیا یعنی اس آیت میں دو موتیں دو زندگیاں کہہ کر پکارا گیا ہے اور موت کے بعد کی زندگی  کے متعلق کہا کہ اس کے بعد پھر موت وارد نہیں ہوگی ۔أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ إِلَّا مَوْتَتَنَا الْأُولَىٰ (59۔58۔37)ہم کو اس پہلی موت کے بعد پھر مرنا نہیں ہے ۔ ایک او رمقام پر بالکل اسی مضمون  کو پیش کیا گیا ہے ۔(56۔44) وہاں پہلی دفعہ  کی موت  کے  سوا ان کو موت  کی تلخی  چکھنی ہی نہیں پڑے گی۔ قرآن  نے اس ایک مضمون  کو چار مقامات  پر دہرایا ہے ۔ ہم نے چاروں  جگہ کے حوالے ساتھ لکھے ہیں ۔ جو بات  ایک جگہ کہی گئی ہے کہ وہ زندگیاں  ہیں اور دو موتیں ہیں ۔ یہی  بات چاروں  جگہ بیان  کی گئی ہے۔

(5) قرآن ِ کریم  نے  ہر مقام پر اپنے  نظام کے غلبہ  کا دعویٰ کیا  ہے کہیں فرمایا  كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ (21۔58) اللہ نے لکھ دیا ہے کہ وہ ( اللہ ) اور اس کے رسول غالب آکر رہیں گے اس لئے کہ اللہ ( کا نظام) بڑی قوتوں  اور غلبہ کا مالک ہے۔ دوسری جگہ  ارشاد ہوا وَلَن يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا ( 141۔4) اللہ تعالیٰ کافروں کو مومنین  پر غالب  نہیں آنے دے گا۔ اس سلسلہ  میں مختلف تین مقامات  پر آیات آئی ہے۔ آپ ملا حظہ فرمائیں  کہ مضمون  ایک ہی ہے کوئی اختلاف نہیں ہے۔

(1) هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (33۔9) وہی تو وہ اللہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت او رسچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ  اس دین کو تمام دینوں پر غالب کردےخواہ یہ بات ان لوگوں کو کتنی ہی ناگوار گزرے  جو اللہ کے ساتھ اورو ں کو بھی شریک  حکومت  کرنا چاہتے ہیں ۔ یہی  آیت سورۃ الصّف میں بھی آئی  ہے (9۔61) جہاں تو کرہ المشر کوں کی جگہ کفی با للہ شہید اً آیا ہے پھر سورۂ فتح  میں اس آیت  کو تیسری  مرتبہ دہرایا گیا ہے (28۔48) لیکن مضمون سب جگہ ایک ہے ، سرموکوئی اختلاف  نہیں ہے۔

(6) اب آپ ہماری  طرف سے پیش کردہ چھٹی دلیل ملا حظہ فرمائیں  کہ قرآنِ کریم میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ آیات قدرے مشکل  ہیں لیکن  ہم ان کو بہت آسان کر کے آپ  کے سامنے پیش  کرتے ہیں آپ  ہیں آپ بھی ذرا توجہ سے ملاحظہ فرمائیں ۔

انسان کی وہ صلاحیت  جو اختیار  و ارادہ کہلاتی ہے اس کا نام انسان کی ذات   Self خودی اور شعور ہے۔ ان مندرجہ ذیل دو آیات  میں انسانی شعور کے لئے نفس کا لفظ استعمال کیا گیا ہے قرآن کریم  روحِ خداوندی  کا تو قائل ہے لیکن قرآن  روحِ انسانی کا قائل نہیں ہے ۔  ان مندرجہ ذیل دونوں  آیات میں شعور  کو روک لیا جاتا ہے۔ نیند کی صورت  میں تو بیدار  ہونے پر شعور  کو لوٹا دیا جاتا ہے ، لیکن  موت کی صورت  میں شعور  کو روک لیا جاتا ہے اور قیامت  میں اس شعور  کو لوٹا دیا جائے گا۔ نیند  اور موت  میں فرق  صرف مُدّت  کا ہے۔ اس مختصر  سی تمہید کے بعد ہم  آپ  کے سامنے دونوں آیات  اور ان کے تراجم  پیش کرتے ہیں ۔ پہلی  آیہ کریمہ  سورۂ انعام کی ہے (60۔6)جب کہ دوسری آیت  سورۂ زمر کی (42۔39) ہے ملاحظہ فرمائیں۔

(1) وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰ أَجَلٌ مُّسَمًّى  ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (60۔6) وہ وہی اللہ ہے جو تمہیں  رات کو اٹھا لیتا ہے اور جو کچھ تم نے دن کو کیا ہے وہ جانتا ہے ۔ پھر تمہیں دن کو اٹھا کھڑا کرتاہے تاکہ زندگی کی وہ میعاد پوری کی جائے۔ پھر تم سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ پھر جو کچھ تم دنیا میں  کرتے ہو تمہیں  بتادے گا (60۔6)

سورہ زمر میں ہے ۔اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى (42۔39) ( ترجمہ) اللہ موت کے وقت نفوس کومعطل  کردیتا ہے اور جو مرتے نہیں  ان کی نیند کی حالت میں ایسا کردیتا ہے ۔ پھر جن پر موت کا حکم ہوجاتا ہے تو اُنہیں روک لیتا ہے اور دوسروں کو ایک وقت مقرر ہ تک واپس بھیج دیتا ہے۔

ان آیات کی وضاحت  کے لئے یہ اقتباس  لغاۃ القرآن  سے ملا حظہ فرمائیں سوال یہ ہے کہ اس آیت میں ‘‘ نفس’’  سے کیا مطلب ہے جسے موت  اور نیند  دونوں حالتوں میں موقوف کردیا جاتا ہے اور جب انسان جاگ اٹھتا ہے تو اُسے واپس  کردیا جاتا ہے ، لیکن بصورت موت اسے واپس نہیں  کیا جاتا ۔ جہاں تک نیند  کا تعلق  ہے ہم جانتے ہیں کہ اس میں انسان کا سب کچھ موجود ہوتا ہے۔

بجز سقوط (Conscious) کے حتیٰ کہ اس میں  تحت الشعور بھی باقی  ہوتا ہے اس لئے ظاہر ہے کہ اس آیت  میں ‘‘نفس’’ سے مراد اس کی شعوری حالت ہے یعنی  نیند اورموت دونوں  حالتوں  میں انسان کا شعور باقی نہیں  رہتا۔ سونے والا جب جاگ اٹھتا ہے تو اس کا شعور پھر روبہ عمل  ہوجاتا ہے لیکن موت  کی صورت  میں شعور کا تعلق اس جسم کے ساتھ ختم  ہوجاتا ہے۔ ہم اپنے شعور  رُو بہ عمل ہونے کو ، حیات  بعد الممات کہتے ہیں۔اس زندگی میں شعور ( یا نفس) کس طور پر رُو بہ عمل ہوتا ہے۔ ہم اپنے شعور کی موجودہ سطح پر اسے نہیں  سمجھ سکتے ۔ اس لئے کہ اس وقت ہمارے شعور کے رُوبہ عمل  ہونے کا ایک ہی ذریعہ  ہے اور وہ ہے ہمارا مادی جسم ۔ ہم اس وقت جسم کے توسط کے بغیر شعور  کی کار فرمائی  کا تصور ہی نہیں کرسکتے  قرآن کریم نے یہ نہیں بتایا  کہ حیات بعد الممات میں شعور  کی کار فرمائی  کا ذریعہ کیا ہوگا نہ ہی اس کے بتانے سے کوئی فائدہ تھا ۔ اس لئے کہ جس بات کو ہم اپنے شعور کی موجودہ سطح  پرسمجھ ہی نہیں سکتے ۔ اس کے بتانے سے حاصل  کیا ہوسکتا ہے لیکن مرنے کے بعد نفس کی کار فرمائی کو قرآن کریم  ایک حقیقت ثابۃ کے طور پر بیان کرتا ہے۔ اس پرہمارا ایمان  ہے اور یہی  دین کی اصل و بنیاد ہے۔

آپ نے غور فرمایا کہ قرآن کریم نے ان دونوں  آیات میں کس طرح شعور انسانی  کی وضاحت کی اور نیند اورموت کے درمیان  جو فرق ہے اسے واضح کردیا ہے۔ یہ دونوں  آیات  بالکل مختلف سورتوں  میں درج  ہیں لیکن  دونوں مفہوم  بالکل ایک ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی شخص بھی حیات  بعد الموت  کی کیفیات کو زندگی کی موجودہ  سطح پر سمجھ ہی نہیں سکتا  جس طرح ایک جانور مثلاً گھوڑا ، بیل ، بکری، یہ سمجھ  ہی نہیں سکتے  کہ دو اور دو چار کس طرح ہوسکتے ہیں  اور حرام و حلال  کھانے میں کیا فرق  ہے کیونکہ  زندگی کی وہ سطح  اس کا ادراک نہیں کرسکتی ۔ اسی طرح زندگی  کی موجودہ سطح پر زندگی  کی اگلی منزل کی کیفیات  کا ادراک  ہوہی نہیں سکتا ۔ قرآن  کریم نے جو نیند  اور موت کا فرق  بیان کیا ہے موجودہ دور کی سائیکا لوجی بھی اس کی تصدیق  کرتی ہے کہ نیند کی حالت  میں شعور کام نہیں کرتا ۔ وہ In Active ہوتا ہے موت اور نیند  کا فرق صرف اتنا ہے کہ ۔

خواب رامرگِ سُبک  دان

مرگ را خواب گران

اسی لئے موت سے ڈرنا  بھی نہیں  چاہئے کیونکہ شعور معدوم نہیں ہوتا ، صرف معطل  ہوتاہے، قیامت کے دن جب یہ شعور روبہ عمل ہوگا اور Activate ہوجائے گا تو یہ ساری چیزیں آپ  کے ساتھ  ہوں گی  یہاں تک کہ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ (45۔10) آپس میں ایک دوسرے کی پہچان  ہوگی ۔ ضمناً یہ عرض  ہے کہ آپ یہ بھی تو غور فرمائیں  کہ کیا رسول اللہ اس دور میں  خود اپنی  فکر  سے یہ کچھ فرما سکتے تھے ، ہر گز نہیں ، لاریب کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔

تصریف الاآیات

قرآن کریم کے وحی الہٰی ہونے کے بعد دو دلائل پیش خدمت عالی کئے جا چکے ہیں تجدید یاد داشت کے لئے عرض ہے کہ قرآن کریم کے وحی الہٰی  ہونے کی پہلے دلیل  یہ پیش کی گئی تھی  کہ فکر انسانی قرآن کا مثل  نہیں بنا سکتی اور دوسری دلیل یہ عرض کی گئی تھی جو خود قرآن نے پیش کی ہے کہ اس کے مضامین میں با ہم کوئی اختلاف یا تضاد نہیں ہے، اس لئے وحی الہٰی  ہے کیونکہ  فکر انسانی میں اختلاف ہونا ضروری ہے۔

قرآن کے وحی الہٰی ہونے کی ایک دلیل تصریف الا آیات بھی ہے جس کی وضاحت پیش خدمت عالی کی جاتی ہے۔ یہ بات نہایت قابل غور ہے کہ قرآن وحی الہٰی  نہ ہوتا اور جیسا کہ منکرین متشکین  قرآن کا خیال ہے کہ حضور نے از خود اس کو اپنی ذاتی فکر سے تحریر کر کے ، اس کو وحی الہٰی  کے طور پر پیش کردیا ہے، تو اس قرآن میں بار بار غور و فکر کرنے پر زور نہ دیا گیا ہوتا۔ اگر یہ کتاب حضور خود تحریر فرماتے، تو اس کے مضامین پر بار بار غور کرنے کا تقاضہ نہ کرتے۔وہ خود اس بات کا خد شہ محسوس کرتے کہ اس کے مضامین پر غور و فکر کرنے سے اس کی اصل حقیقت نمایاں ہوجائے گی کہ یہ فکر انسانی کا نتیجہ ہے او رکہیں نہ کہیں اس میں فکر ی غلطی پکڑی جاسکتی ہے بلکہ اگر یہ خود حضور کی تصنیف کردہ کتاب ہوتی تو وہ اس میں غور و فکر کرنے سے منع فرماتے ۔ جس طرح عام طور پر لوگ مذہب میں غور و فکر کرنے سے منع کرتے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کا ایک  صفحہ بھی ایسا نہیں  ہے جس میں قرآن غور و فکر کرنے کی دعوت نہ دیتا ہو۔ قرآن غور  و فکر کرنے کی کس درجہ دعوت دیتا ہے ۔یہ خود ایک الگ موضوع ہے ۔ جس کے بارے میں بے شمار آیات پیش کی جاسکتی ہیں اور اس موضوع کے لئے ایک الگ کتاب کی ضرورت ہے ۔ یہاں صرف اتنا عرض کر دینا کافی ہوگا کہ دنیا  کی کسی کتاب میں غور و فکر کرنے پر اس درجہ  اصرار نہیں کیا گیا ہے جس قدر یہ اصرار قرآن میں پایا جاتا ہے ۔ جہاں  تک دنیا  ئے مذہب  کا تعلق ہے کسی مذہب کی ، کسی کتاب میں غور و فکر کرنے کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔

قرآن نے اپنے سمجھنے  کے لئے تصریف آیات  کو ضروری قرار دیا ہے ۔قرآن کا طریقہ تصنیف اور اسلوب نگارش عام انسانی تصنیف سے بالکل مختلف اور منفرد ہے۔ کسی انسانی تصنیف  کا یہ طریقہ ہو ہی نہیں سکتا انسانی تصنیف میں ہمیشہ کتاب کو مختلف ابواب و مضامین میں تقسیم  کردیا جاتا ہے ۔ اور ہر مضمون کو ایک یا چند ابواب میں تحریر کردیا جاتا ہے اور متعلقہ مضمون کا پورا مواد  ایک جگہ جمع کر کے ، پیش کر دیا جاتا ہے لیکن قرآن کا اسلوب نگارش انوکھا  Unique ہے۔ اس میں ایک حقیقت ایک جگہ بیان ہوئی ہے۔ اس کی مزید وضاحت و تفصیل دوسری جگہ دی  گئی ہے۔ ایک جگہ اضافہ ہے تو دوسری جگہ  استثنا ء ہے ۔ پھر مختلف اسم حقائق  کو اچھی طرح سمجھا نے کے لئے انہیں سیاق و سباق  کی روشنی میں مختلف مقامات  پر دہرایا گیا ہے۔یہ انداز اس درجہ بلیغ ہے کہ اس کی بلاغت کا اندازہ صرف وہ حضرات ہی کرسکتے ہیں جو قرآن کا اس طرح گہرا مطالعہ  کرتے ہیں۔ فکر انسانی اس اسلوب  سے کتاب لکھ ہی نہیں سکتی ۔ اس انداز تحریر پر آپ جس قدر غور کریں گے۔ آپ کی حیرت اس طرز تحریر پر بڑھتی  ہی چلی جائے گی۔  حضور کے دور تک عربوں میں کوئی کتاب نہیں لکھی گئی تھی ۔ نزول قرآن  سے پیشتر یہ اسلوب تحریر کسی زبان میں نہیں  تھا حضور خود اس اسلوب  تحریر کو ایجاد نہیں کر سکتے تھے کیونکہ آپ کو تصنیف و تحریر کا کوئی تجربہ ہی نہیں تھا۔ نزول قرآن کے بعد سے آج  تک کسی انسان نے اس انداز سے کوئی کتاب نہیں لکھی  کیونکہ  یہ اسلوب اختیار کرنا فکر انسانی کےبس کی بات  ہی نہیں  ہے اور یہی قرآن کا اعجاز ہے۔

ارشاد ہوتا ہے وَكَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (105۔6)اور اے رسول ہم اسی طرح اپنی آیتوں  کو پھیر پھیر کر لاتے ہیں تا کہ لوگ کہہ اُٹھیں  کہ آپ نے خوب سمجھا دیا ہے اور تاکہ عقل مندوں کے لئے اپنی آیتوں کی خود تبین  کردیں۔ دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ (65۔6) ( اور اے رسول) غور فرمائیں کہ ہم کس طرح اپنی آیتوں  کو پھیر پھیر کر لاتے ہیں تاکہ لوگ ان میں غور کریں۔

قرآن نے جو چیلنج عربوں کو اپنی مثل لانے کا دیا تھا اس میں تصریف کا اسلوب  بھی شامل تھا کہ وہ اس  طرح کا اسلوب  اختیار کر کے کوئی کتاب نہیں  لکھ سکتے ۔ عقل حیران ہوتی ہے کہ اسلام کی مخالف میں انہو ں نے جانیں دیدیں ، مال لٹادئیے ، ان کی بیویاں تک انہیں چھوڑ گئیں ۔ گھر بار لُٹ گیا ، حکومت چلی گئی ، تولیت کعبہ چلی گئی، انہوں نے 82 لڑائیاں  لڑیں ، لیکن پورا قرآن تو بہت بڑی بات ہے ۔ وہ ایک سورۃ تک نہیں بنا سکے یہ بات  بھی نہیں ہے کہ انہوں نے مل کر سورۃ بنالی اور پیش  کردی،  لیکن اس کے معیار پر اختلاف ہوگیا ۔ انہوں نے تو دعویٰ کیا کہ یہ قرآن کی مثل  ہے اور مسلمانوں  نے کہا کہ نہیں  یہ قرآن  کی مثل نہیں  یہ صورت حال ہوتی تو مخالفین  قرآن اپنے موقف پر ڈٹ جاتے ۔ صورت  یہ ہوئی  کہ ان کی ہمتیں  اس درجہ  پست ہوئیں کہ انہوں نے اس کا جواب لکھنے کی اپنے میں سکت ہی نہیں پائی اور یہ بات خود قرآن نے بھی پہلے سے ہی کہہ دی تھی کہ تم اس کا مثل  بنا ہی نہیں  سکتے ۔ یہی قرآن کا اعجاز  ہے اور یہ اس  کا رعب اور اس کا دبدبہ ۔

ستمبر، 2013  بشکریہ : صوت الحق ، کراچی

URL of Part 2:

http://www.newageislam.com/urdu-section/miracles-of-the-quran-part-2-اعجاز-القرآن--قسط-دو/d/13060

URL of Part 1:

http://www.newageislam.com/urdu-section/miracles-of-the-quran-part-1-اعجاز-القرآن--قسط-ایک/d/12633

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/miracles-of-the-quran-part--3-اعجاز-القرآن--قسط-تین/d/13933

 

Loading..

Loading..