New Age Islam
Sat Apr 10 2021, 07:06 PM

Urdu Section ( 16 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Miracles of the Quran Part 2 اعجاز القرآن قسط دو

 

خواجہ ازہر عباس

اگست، 2013

قرآن کریم کے وحی الہٰی ہونے کی دوسری دلیل جو قرآن کریم نے خود ہی دی ہے وہ یہ ہے کہ اگر یہ قرآن منجانب اللہ نہ ہوتا تو تم اس میں باہم تضاد پاتے ارشاد ہوتا ہے  أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّہ لَوَجَدُوا فِيہ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (82۔4)(ترجمہ) کیا یہ قرآن میں غور نہیں کرتے، اگر یہ اللہ کے سوا کسی  اور کا کلام ہوتا تو تم اس میں ضرور اختلاف پاتے۔ آیت کا ارشاد یہ ہے کہ اگر آپ قرآن کا سرسری نظر سےمطالعہ کریں گے تو آپ  کو اس کے مضامین  میں تضاد و اختلاف محسوس ہوگا لیکن اگر آپ  اس میں غور  فکر کریں  گے،  تو اس  میں کوئی تضاد نہیں ہوگا۔

علماء و دانشوروں  کی تحریر  کردہ کتابوں کی نسبت اگر غلط کردی جاتی ہے کہ یہ کتاب کس کی ہے، تو خود مصنف سے دریافت کرلیا جاتاہے کہ یہ کتاب ان کی ہے یا نہیں ۔ کتابیں  غلط بھی منسوب کردی جاتی  ہیں۔ بعض حضرات عمداً دوسروں  کی کتابوں کو اپنی طرف نسبت کردیتے ہیں، لیکن ان کتابوں کی اس درجہ اہمیت  نہیں ہوتی ۔ قرآن  کریم اللہ تعالیٰ  کاکلام ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ سے اس کی تصدیق  نہیں کرائی جاسکتی ۔کتاب اس درجہ اہم کہ ساری انسانیت کی فوز فلاح  ہی اس پر عمل کرنے پر منحصر  ہے اس لئے اس کو اللہ تعالیٰ کی کتاب ثابت کرنا بھی نہایت ضروری بات ہے۔

اس سے پیشتر سابقہ باب میں ایک دلیل آپ کی خدمت عالی میں پیش کی جاچکی ہے ، جو قرآن  کریم کی ہی پیش کردہ ہے، کہ اگر قرآن  اللہ کا کلام نہیں ہے اور اگر کسی  کو اس سے منجانب اللہ ہونے میں شک و تر دو  ہے تو وہ اس  جیسی  کتاب ، یا اس کی ایک سورۃ کا مثل  بنالائے ، بات  واضح  ہوجائے گی  دلیل خود واضح  ہے کہ اس میں  کوئی ابہام نہیں ہے لیکن  چودہ صدیاں گزر گئیں ، قرآن کا مثل بنانا تو بہت بڑی بات  ہے، اس کی مثل بنانے کی بھی کسی نے کوشش نہیں کی۔

قرآن نے اپنے وحی  الہٰی  ہونے کا جو یہ دوسرا ثبوت دیا ہے اور یہ  اصول دیا کہ اس  میں تضاد نہ ہونا، اس کے منجانب اللہ ہونے کی دلیل ہے ، تو یہ اصول خود اس کے وحی الہٰی  ہونے کو ثابت کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کوئی کتاب نہیں تھی ۔ عربوں میں قرآن  کریم پہلی  کتا ب تھی ۔ اس سے پیشتر ان کے ہاں کوئی کتاب نہیں تھی ۔ اس لئے رسول اللہ نے بھی اس سے پیشتر  کوئی کتاب  نہیں پڑھی تھی کہ ان کو یہ بات معلوم ہوتی کہ کتاب  کا تضاد  ، کتاب کی ایک خامی اور سقم  ہوتی ہے۔ لیکن قرآن جو اصول  بیان کررہا ہے وہ اصول یقیناً  بڑا محکم  اور مستحکم  ہے اگر یہ کتاب  حضور کی خود تصنیف کردہ ہوتی تو  اوّل تو یہ اصول ہی  حضور کو معلوم نہ ہوتا، اور اگروہ اپنی ذہانت سےیہ اصول سمجھ بھی لیتے تو وہ اس کو ہر گز پیش نہ فرماتے کیونکہ کسی بھی مفکر یا مصنف کتاب کے لئے اس اصول کا نبھانا بہت مشکل کام ہے کیونکہ اکثر و بیشتر مفکرین کی فکر میں تضاد ہوتا ہے۔ جن حضرات نے بر ٹر ینڈرسل (Russel)کا مطالعہ کیا ہے، ان میں سے کوئی شخص ا س بات کا انکار نہیں کرسکتا کہ اس کے ہاں تضاد تھا۔ حالانکہ وہ بین الاقوامی شہرت کا مالک تھا۔ اس کی عمر طویل ہوئی اور اس کی کتابیں  بھی کافی تعداد میں  ہیں ۔ ہمارے  ہاں علامہ اقبال  بھی نہایت بلند پائہ مفکر تھے اور دنیا کے اعلیٰ ترین  مفکر  ین میں شمار ہوتا ہے۔ ان پر اپنی ابتدائی  اور آخری  عمر میں تصوف کا اثر تھا لیکن درمیان  کے دس سال میں ا ن کی فکر ، خالص  قرآنی فکر تھی۔ ان کی مشہور کتاب  کا چھٹا لیکچر خالص قرآنی ہے ، جس میں انہوں نے دین اور مذہب کے فرق کو واضح کیا ہے۔ ہمارے تیرہ سو سال کے  اسلامی لٹر یچر میں اس جیسا  کوئی مضمون نہیں  ملتا لیکن  افسوس کہ  آخر عمر  میں علامہ پر پھر تصوف کا اثر نمایاں  طور پر نظر آتا ہے اسی طرح  شاہ ولی اللہ  صاحب محد ث دہلوی  نہایت ہی بلند پایۂ مفکر تھے ۔ ان  کی معروف کتاب حجہ اللہ البالغہ اس کی علمی ، فکری سوچ کا نتیجہ  کہے ۔ اس کے برخلاف انہوں نے انفاس العارفین بھی تحریر  کی ہے جو انہوں نے تصوف میں  ڈوب کر لکھی ہے۔ لہٰذا دونوں کتابوں کے درمیان سخت تضاد ہے۔ ہمارے ہاں امام غزالی کا بڑا نام ہے ۔ لفظ امام کا سابقہ ان کا جزو نام ہے۔

اپنی ابتدائی نصف عمر انہوں نے فلسفہ یونان کی ترویج و اشاعت  میں گزاردی اور مقاصد  الفلاسفہ جیسی بلند پایۂ کتاب تصنیف کی ۔ اس کے بعد انہوں نے فکری  قلابازی  لگائی اور اپنے  ہی پیش کردہ تمام نظریات سےمنحرف ہوگئے اور اپنی آخری نصف عمران کی تردید کرنے میں گزاردی اور تہافۃ الفلاسفہ جیسی علمی کتاب تصنیف فرمائی  اور اس طرح ان کی ساری زندگی کی کاوشوں کا نتیجہ صفر رہا ۔ان عظیم مفکروں کی مثالوں کے بعد آپ غور فرمائیں کہ شروع  میں حضور کے حالات بڑے مایوس کن اور بڑے مظلومانہ تھے آخری دور میں حالات نہایت ساز گار تھے ۔ دس لاکھ مربع میل کی مملکت ان کے زیر نگیں تھی ۔ اسی دوران شدید  ترین  جنگیں  بھی واقع ہوئیں ۔ ان حالات  میں کوئی شخص خارجی واقعات سے متاثر ہوئے بغیر رہ ہی نہیں  سکتا لیکن  قرآن کریم  کی عجیب  شان ہے۔ کسی جگہ خارجی حالات کی کوئی پر چھائیں  اس میں دکھائی  نہیں دیتی کیونکہ وحی میں کُلی طور پر Objectivity  ہوتی ہے۔ یہ خارجی  حالات سے متاثر نہیں ہوتی۔ اگر قرآن حضور کا پنا کلام ہوتا، تو یقیناً یہ خارجی حالات سے متاثر ہوتا اور اس طرح قرآن میں تضاد ہوتا۔ قرآن کے احکامات چونکہ محض  نظری یا ذہنی نہیں بلکہ ان احکامات پر اس دنیا میں  بطور ایک نظام حیات کے عمل کیا جاتا ہے، اس لئے ان میں تضاد نہیں ہوسکتا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ قرآن اپنے معاشی نظام کے احکامات میں کسی آیت میں زمین کی ملکیت  کو جائز  قرار دے دے ،اور کسی جگہ  ملکیت  زمین کو حرام قرار دیدے۔یہ  بھی نہیں ہوسکتا کہ کبھی مقامی حکام یعنی اولاامر کی اطاعت کو فرض قرار دیدے، اور کہیں اولوالا مر کی معصیت  کو جائز  گردانے اگر چہ قرآن نے جہاں جہاں عقائد ونظریات ، کائنات کی ابتداء زندگی کی اولین نمود اور اس کا ارتقاء ،آدم کی تخلیق ، سجدہ  ملائکہ ، وغیرہ جیسے ذہنی و فکری موضوعات بیان کئے ہیں ان میں بھی کوئی تضاد بیانی نہیں  ہے۔ ہم چونکہ ہمیشہ قرآن کریم کی بحیثیت دین کے پیش کرتے ہیں، اس لئے ہم نےبہتر یہی سمجھا کہ اس کے احکامات پیش کریں، جن سے قرآنی نظام کا عملاً  تعلق  ہے۔ یہ حوالہ جات چونکہ بے شمار تعداد  میں ہیں، اس لئے ہم ان میں سے چند ہی  پیش کرسکتے ہیں ۔ اگر کسی  صاحب کومزید ہزاروں  کی تعداد  میں ایسے حوالے در کار ہوں جن میں قرآن  کریم کی یکسانی  و یکجہتی  درکا ر ہو، وہ تبویب القرآن کی طرف رجوع کریں وہاں  سے ایسے بے شمار حوالے مل جائیں گے جن سے یہ ثابت  ہوگا کہ قرآن  میں تضاد نہیں ہے۔ حوالہ جات چونکہ بہت ہیں،  اس لئے ہم کہیں تو آیات بھی پیش کردیں گے اور بعض  مقامات پر صرف حوالہ دینے پر اکتفاء کریں گے۔ قارئین کرام قرآن  کے نسخوں  سے آیات  خود ملا حظہ فرمالیں۔

قرآن کریم سے جو حوالہ جات  ہم دیں گے وہ مختلف سورتوں  سے متعلق ہوں گے۔ یہ سورتیں  نجما نجما تئیس 23 سال کے دوران نازل ہوئیں ۔ یہ بات ظاہر  و واضح  ہے کہ آیات پیش کرتے وقت حضور ان کے حوالے یا نوٹس  اپنے پاس نہیں  رکھتے تھے ۔ ان میں سے ایک آیت رسالت کی ابتداء کے دور میں نازل  ہوئی تھی اور دوسری آیت رسالت  کے آخری  دور میں نازل ہوئی ۔ آیات میں باہمی کوئی تضاد نہیں  ہے ۔ تو اس سے ظاہر ہوگا کہ قرآن  میں کوئی اختلاف نہیں اور اس کا منجانب اللہ ہونے  کا دعویٰ درست ہے۔ البتہ  ہم یہ نہیں کہہ سکتے  کہ کون سی آیت  کب نازل ہوئی اور ان دونوں آیات کے نزول کے درمیان کتنا عرصہ تھا۔ ہمارے ہاں آیات کی جو تقسیم  مدنی اور مکی آیات  کی ،  کی گئی ہے یہ کوئی حتمی  اور یقینی  نہیں ہے۔ آپ قرآن  کے نسخوں میں ملاحظہ فرماتے ہوں گے کہ کسی سورت کے اوپر مکی  اورکسی کے اوپر مدنی تحریر  ہوتا ہے۔ یہ قرآن کا جزو نہیں ہے۔ یہ تقسیم  آیات سب روایات  کی رُو  سے کی گئی ہے۔ اس وقت کسی شخص  کے پاس یہ معلوم کرنے  کا  کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ کون سی آیات  کب اور کس جگہ نازل  ہوئی ہےہیں ۔ اب  آپ وہ آیات ملاحظہ فرمائیں جو ایک ہی موضوع پر مختلف سورتوں میں دی گئی  ہیں، قارئین  کرام کی سہولت کے لئے تمام  آیات  کے حوالے  بھی درج  کردیئے گئے ہیں۔

(1) اسلامی مملکت کو چلانے کی ذمہ داری ساری اُمت کے سر ہے۔ اس مملکت کا فریضہ ہے امر بالمعروف کونا اور منکرکو روکنا ،یعنی اسلامی مملکت  کے قوانین  کو (Effective) نافذ کرے۔

(2) الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاھمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاة وَآتَوُا الزَّكَاة (41۔22)

یہی بات دوسری جگہ ارشاد ہے ، كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (110۔3)

(2) آخری فیصلہ  مرکزی حکومت  کا ہوگا۔

(1) فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوه إِلَی اللَّہ وَالرَّسُولِ (59۔4)

(2) وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَۃ إِذَا قَضَى اللَّہ وَرَسُولُہ أَمْرًا (36۔33)

(3) اسلامی مملکت میں سیاسی پارٹیاں بنانامنع ہے۔

(1) وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَھمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَأُولَٰئِكَ لَھمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (105۔3)

(2) إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَمْ وَكَانُوا شِيَعًا (159۔6)

(3)وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّہ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا (103۔3)

(4) اسلامی مملکت میں غیر مُسلمو کوانسانی حقوق پوری طرح ملیں گے لیکن چونکہ وہ اسلامی  آئیڈ یا لوجی پر ایمان نہیں لاتے،  اس لئے اُنہیں ہم راز نہیں  بنایا جاسکتا۔

(1)يَا أَيُّھا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَۃ مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاھھمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُھمْ أَكْبَرُ ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ  إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ (118۔3)

(2)إِن تَمْسَسْكُمْ حَسَنَۃ تَسُؤْ الخ (120۔3، نیز 23۔9،24،9)

(5) اسلامی مملکت  کے ملازمین  ، افسروں اور ماتحتوں کے پاس مملکت  کےجوراز  ہوں،  اور جو اموران  کے سپرد ہوں، ان میں خیانت  نہ کریں۔

(1) يَا أَيُّھا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّہ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (27۔8)

(2) إِنَّ اللَّہ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَیٰ أَھلِھا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ۚ إِنَّ اللَّہ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِہ ۗ إِنَّ اللَّہ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا (58۔4)

(6) مجرم کی سزاجرم کے برابر ہوگی۔

(1) وَجَزَاءُ سَيِّئَۃ سَيِّئَۃ مِّثْلُھا  فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُه عَلَی اللَّہ ۚ إِنَّہ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ (40۔42)

(2) فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْہ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ (194۔2)

(3) وَالَّذِينَ كَسَبُوا السَّيِّئَاتِ جَزَاءُ سَيِّئَۃبِمِثْلھا (27۔10)

(4) وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِہ (126۔16)

(5) وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوقِبَ بِہ ثُمَّ بُغِيَ عَلَيہ لَيَنصُرَنَّہ اللَّہُ (60۔22)

(6)مَنْ عَمِلَ سَيِّئَۃ فَلَا يُجْزَى إِلَّا مِثْلَھا (40۔40)

(7) کسی فعل کو قانو ناً جرم قرار دینے سے پیشتر جو کچھ ہوا، اس پر کوئی گرفت نہیں ہوگی۔

(1) وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ (23۔4)

(2)فَمَن جَاءَهُمَوْعِظَۃ مِّن رَّبِّہ فَانتَھیٰ فَلَہ مَا سَلَفَ (275۔2)

(3) لِّيَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِه ۗ عَفَا اللَّہُ عَمَّا سَلَفَ (95۔5)

(8) نظام عدل کے لئے قرآن کے یہ احکامات مختلف مقامات پرصادر ہوئے ہیں۔

(1) إِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ۚ إِنَّ اللَّہ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِہ ۗ إِنَّ اللَّہ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا (58۔4) ، جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو، تو عدل  کے مطابق فیصلہ کرو۔

(2)مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو فَأَصْلِحُوا بَيْنَھمَا بِالْعَدْلِ (9۔49) تو ان میں عدل (کتاب اللہ) کی رُو سے مصالحت کراؤ۔

(3) کسی قسم کی دشمنی  تمہیں  اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل سے کام لو وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَیٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا ھوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (8۔5)

کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اس سے عدل نہ کرو ہمیشہ عدل کرو کہ یہی تقویٰ ہے۔

(9) وہی  فعل  جرم کہلائے گا جو بالا  رادہ سرزد ہو، غلطی یا سہو سےکوئی کام ہوجائے تو  وہ جرم نہیں ہے۔

(1)لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُم بِہ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ (5۔33)

بھول چوک سے کوئی لغزش ہوجائے تووہ جرم نہیں ہے ، ہاں جو کام دل کے ارادے سےکیا جائے وہ قابل  مواخذہ ہے ۔ ؎

(2) اسی لئے سہواً قتل کی سزادیت  ہے۔(92۔4)

(3) اگر کوئی کام جہالت سے ہوجائے ، اور اس کے بعد کرنے والا تائب ہوجائے تو وہ معاف  کیا جائے گا۔(54۔6)

(10) عورتوں او رمردوں کی صلاحیتیں ایک جیسی ہیں۔ عورتیں  کسی صلاحیت سے محروم  ہیں۔

(1)وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَیٰ وَھوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّۃ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا (124۔4)

(2) لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَی (195۔3)

(11) شادی کرنے میں عورتوں کی رضا مندی ضروری ہے۔

(1) فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَی وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ (3۔4)

(2) لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْھا (19۔4)

(12) عورت کے نان و نفقہ کی ذمہ داری  مرد پر ہوگی۔

(1) مطلقہ عورت کی عدت کے دوران نان نفقہ کی ذمہ داری  مرد پر ہوتی ہے۔ وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ (241۔2) طلاق شدہ عورتوں کے خرچ کی ذمہ داری مردوں پر ہے۔

(2)  فَأَنفِقُوا عَلَيْھنَّ حَتَّی يَضَعْنَ حَمْلَھنَّ (6۔65)تو ان پرخرچ کرو جب تک  کہ ان کا بچہ ہوجائے ۔

(3)  لَا تُخْرِجُوھنَّ مِن بُيُوتِھنَّ (1۔65)ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو۔

(13) لواطت بہت شنیع فعل ہے۔

(1) إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَھوَةمِّن دُونِ النِّسَاءِ ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ (81۔7)

تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت پرستی  میں مردوں  کی طرف مائل ہوتے ہو، مگر تم لوگ ہو ہی بے ہودہ صرف کرنے والے۔

(2) أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَھوَة مِّن دُونِ النِّسَاءِ ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ تَجْھلُونَ ( 55۔27) کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت سے مردوں کے پاس آتے ہو، بلکہ تم لوگ بڑی جاہل قوم ہو۔

(14) انسانی جان کو اللہ نے واجب الا حترام بنایا ہے۔

(1) وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّہ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (29۔4)

اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کرو ،بے شک  اللہ تم پر رحمان ہے۔

(2) وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّہ إِلَّا بِالْحَقِّ (33۔17)

(3) وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّہ إِلَّا بِالْحَقِّ (68۔25)

(4) وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّہ إِلَّا بِالْحَقِّ (151۔6)

(15) قرآنِ کریم نےعہد و پیمان  کو پورا کرنے کی سخت تاکید کی ہے۔

(1)وَأَوْفُوا بِالْعَھدِ  إِنَّ الْعَھدَ كَانَ مَسْئُولًا (34۔17)

تم اپنے عہد و پیمان پورے کیا کرو۔ تم  سے پوچھا جائے گا کہ تم  نے اپنا عقد پورا کیا تھا یا  نہیں۔

(2)وَالَّذِينَ ھمْ لِأَمَانَاتِھمْ وَعَھدِھمْ رَاعُونَ (8۔23) وہ لوگ کہ جو اپنی  امانات  اور عہد  کی پاسداری  کرتے ہیں۔ نیز مزید آیات (75۔3،32۔70) ، آپ قرآن کے کسی نسخہ سےملاحظہ فرمالیں۔

(4) وَبِعَھدِ اللَّہ أَوْفُوا (152۔6) او راللہ کے عہد و پیمان کو پورا کرو۔

(5)  وَأَوْفُوا بِعَھدِ اللَّہ إِذَا عَاھدتُّمْ (91۔16) او رجب تم باہم قول و قرار کرلیا کرو، تو اللہ کے عہد و پیمان  کو پورا کرو

(16)حلال و حرام کے احکامات

(1) إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَۃ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُھلَّ بِہ لِغَيْرِ اللّہ  فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْہ إِنَّ اللَّہ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (173۔2)

(2) حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتۃ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُھلَّ لِغَيْرِ اللَّہ بِہ (3۔5)

(3) أَن يَكُونَ مَيْتَۃ أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّہ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُھلَّ لِغَيْرِ اللَّہ بِہ (145۔6) ان تینوں مختلف مقامات ہیں ۔ بالکل ایک مضمون بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چار چیزیں ،مردار ،خون ، سور اور ہر وہ چیز جو غیر اللہ کی طرف منسوب ہو، حرام قرار دی ہیں۔ آیات مختلف  مقامات  پر ہیں لیکن مضمون ایک ہی ہے۔

(17) رزق میں اسراف نہ کرو۔

(1) كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا (31۔7)

کھاؤ پیو مگر اسراف نہ کرو۔

(2) إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ (27۔17)

بے جا سرف نہ کرو، ایسا کرنے والے شیطان  کے بھائی ہیں ۔

(18) رزق کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ کے سر ہے۔

(1)وَمَا مِن دَابَّۃٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّہ رِزْقھا (6۔11)

زمین پر چلنے والے کے رزق کی ذمہ داری اللہ کے اوپر ہے۔

(2) نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاھمْ (151۔6)

تم کو اور ان کو رزق دینے والے تو ہم ہیں۔

(3) وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَۃ إِمْلَاقٍ  نَّحْنُ نَرْزُقُھمْ وَإِيَّاكُمْ (31۔17)

اور مفلسی کے ڈرسے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ، ان کو اورتم کو (سب کو) ہم ہی رزق دیتے ہیں۔

اپنے اس موقف کی تائید  میں کہ قرآن کریم میں کوئی اختلاف و تضاد نہیں ہے ہم نےیہ اٹھارہ آیات پیش خدمت عالی کی ہیں چونکہ  ہمارے سامنے دین ہوتا ہے  اس لئے ہم نے یہ ساری  مثالیں  دین کے  ایسے عملی  احکامات  میں تضاد ہو ہی نہیں  سکتا، جس نظام کے احکامات  میں تضاد ہوگا وہ نظام چل ہی نہیں  سکتا ۔

ہمارا ارادہ صرف احکامات پر اکتفاء کرنے کا تھا لیکن قرآن میں اس کے عطا کردہ نظریات  و عقائد  سے متعلق  بھی ایسی  بے شمار آیات  ہیں جن میں تضاد نہیں ہے۔ ہم ان میں سے چند پیش کرتے ہیں جو ہمارے  موقف کی تائید میں حجّتِ قاطعہ کا درجہ رکھتی ہیں ۔ ہم نے قارئین  کرام کی سہولت کے لئے آیات کی  تشریح و تعدیل  کردی ہے اور یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جن آیات میں بظاہر کوئی تضاد نظر آتا ہے ، قرآن کریم کسی طرح استثنا ء دے کر آیات میں توافق  و تطابق  پیدا کردیتا ہے اور یہی  بات اس کے وحی الہٰی ہونے کی دلیل ہے۔ ہم نے ان آیات  کی تعدیل  بہت محنت سے کی ہے، اسی لئے قارئین کرام سے گزارش ہے کہ وہ بھی ان کو بغور ملاحظہ فرمائیں۔

(1) قرآن کریم کا یہ نظریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ  کی طرف سے انسانیت کو جو علم بھی ملا ہے وہ صرف انبیاء کرام کی معرفت ملا ہے انبیاء کرام کے علاوہ کسی غیر نبی سے کلام کرنا، اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا ( 118۔2) ارشاد عالی ہے وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَہُ اللَّہ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِہِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّہُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ (51۔42)اورکسی آدمی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ اللہ اس سے بات کرے مگر وحی کے ذریعے سے یا پردہ کے پیچھے  سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے غرض  وہ اپنے اختیار سے جو چاہتا ہے پیغام بھیجتا ہے بیشک وہ عالی شان، حکمت  بھیجنے والا ہے۔ آیہ کریمہ میں من ورائے حجاب (پردہ کے پیچھے سے ) سے مراد  حضرت موسیٰ سےکلام کرنا ہے۔ تمام انبیاء کرام کو ان کے قلب پر وحی کی گئی ہے (97۔2،194۔26) لیکن حضرت موسیٰ سے کلام کیا گیا ہے۔ اُن  کے قلب پر وحی نازل نہیں کی گئی ۔آپ غور فرمائیں کہ اس استثنا ء کو کس طرح سورۂ النسا ء کی آیت نمبر 164 میں برقرار رکھا گیا ہے جبکہ ارشاد ہوتا ہے۔

إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَیٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِه ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَی إِبْرَاھيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَیٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَه ھارُونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا  وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْہمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ اللَّہ مُوسَیٰ تَكْلِيمًا (164۔163۔4) اس آیۃ کریمہ میں متعدد انبیاء کرام کا نام لے کر بتایا گیا ہے کہ ہم نے ان سب پر وحی کی، لیکن  یہاں تمام  انبیاء کرام میں سے حضرت موسیٰ کو مستثنیٰ کردیا کہ ان کے قلب پر وحی نہیں اتاری بلکہ ان سے براہ راست کلام  فرمایا گیا اور یہ سورۂ شوریٰ کی آیت  میں من و راحجاب کی وضاحت ہے ۔ ان دو مقامات کی تائید پھر سورۂ مریم  میں آئی ہے جب کہ ارشاد  ہوا۔وَنَادَيْنَاہُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا (52۔19)او رہم نے ان کو طور پر داہنی طرف سے آواز دی او رہم نےانہیں  راز  ونیاز  کی باتیں  کرنے کے لئے اپنے قریب بلایا نَجِيًّا، مناجات سے ہے جس کے معنی ‘‘ سر گوشی کردن’’ہے۔ یہاں پھر حضرت حضرت موسیٰ کو وحی سے مستثنیٰ کر کے علم الہٰی  کے منتقل  کرنے کا ذریعہ سرگوشی کرنا قرار دیا ہے ۔ اس کے بعد آپ ایک اور مقام ملاحظہ فرمائیں یہاں چوتھی  مرتبہ  اس استثنیٰ حوالہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے  وَأَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَیٰ (13۔20) میں نےتمہیں اپنے لئے چُن لیا ہے تو جو تمہاری طرف وحی کی جارہی ہے اس کو کان لگا کےسنو۔ یہاں پھر کان لگاکے سننے کا ذکر ہے ، اور من و راحجاب کی تاکید و توضیح ۔ یہ  وہ مقامات  ہیں جن سے قرآن  کے وحی  ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔

(2) قرآن کریم نے نبی اور رسول کو ایک ہی معنی میں استعمال کیاہے۔ نبی اور رسول ایک ہی  سکے کے دو رُخ ہوتے ہیں۔ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ایک ہی فرد اللہ سےعلم پانے کی حیثیت سے نبی کہلا تا تھا اور اس علم کو دوسروں تک پہنچانے کی جہت سے وہ رسول تھا ۔ ہر رسول صاحب کتاب ہوتاتھا لیکن مسلمانوں کا یہ عقیدہ  ہے کہ نبی  اور رسول میں فرق ہوتاتھا، رسول صاحب کتاب ہوتا تھا لیکن نبی  بغیرکتاب  کے ہوتاتھا اور کسی رسول  کا متبع ہوتا تھا ۔ اپنی کوئی کتاب  نہیں لا تا تھا ۔ اس  بارے میں وہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے بیک وقت مبعوث ہونے کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ  تو رسول تھے ان کو کتاب  دی گئی تھی لیکن حضرت ہارون بغیر کتاب کے تھے ۔ لیکن قرآن کریم نے اپنے اصول کو برقرار  رکھا اور فرمایا  وَآتَيْنَاھمَا الْكِتَابَ الْمُسْتَبِينَ (117۔37) او رہم نے ان دونوں کو ایک واضح  المطالب کتاب عطا کی۔ اس آیت میں تثنیہ  کی ضمیر ‘‘ ھما’’ لاکر اپنے اصول کو قائم رکھا اور قرآن میں اختلاف نہیں آنے دیا۔ اگر یہ قرآن  انسانی فکر کی تخلیق ہوتا، تو یہاں  بھی ہر جگہ کی طرح واحد کا صیغہ ہی استعمال ہوتا ۔

(3) انسانی شعور اپنی ابتداء میں مظاہر فطرت کی حقیقت  سے آگاہ نہیں تھا اور وہ فطرت کے ہر مظہر سے خوف زدہ رہتا تھا اس نے اپنے اس خوف کو دور کرنے اورمظاہرفطرف کی تباہیوں سےمحفوظ رہنے کا طریقہ  پر ستش کرنے میں پایا۔اس نے ان مظاہر فطرت کی پر ستش کرنی شروع کردی۔ان تمام ہم پرستیوں میں انسانیت کے لئے سب سے زیادہ تباہ کن عقیدہ یہ تھا کہ ہر شخص کا ایک ستارہ ہوتا ہے جس ستارہ کے ماتحت اس کی تقدیر بننی ہے۔ آپ خود اندازہ فرمائیں  کہ یہ عقیدہ انسانیت  کے لئے کس  قدر تباہ کن تھا کیونکہ  اس عقیدہ کواختیار کرنے کی وجہ سے انسان بالکل مجبور ہوجاتا ہے اور اس عقیدہ  کا یہ نتیجہ  نکلتا ہے کہ اس کی وجہ سے پر ستش کرنے والے مذہبی طبقہ کی عیش ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ہر پرستش گاہ میں نجومی و کاہن موجود رہتے  تھے جو قسمت  کا حال بتاتے تھے ۔ وہ نجومی اور کاہن یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ ملا ء اعلیٰ میں جاکر ساری معلومات حاصل کرتے ہیں  اور وہ ان معلومات کو حاصل کرنے کی وجہ سےاپنے  مریدوں کو فائدہ پہنچاسکتے تھے ۔ قرآن کریم نے ان تمام تو ہم پرستوں کی تردید کرکے، ان جو جڑ بنیاد سےاکھیڑ دیا۔ قرآن کریم نے مظاہر فطرف اور عالم افلاک کی اصل حقیقت  کو ظاہر کرکے، نجومیوں  ، اور کاہنوں  کی مکاریوں  کے پردے چاک کردیئے  ان تو ہم پرستیوں  کی تردید کا تذکرہ قرآن نے تقریباً دس جگہ  کیا ہے ، البتہ  تین مقامات پر مفصل  تذکرہ  ہے۔ ہم  وہ آیات  اور ان کے تراجم ہی پیش کرنے پر اکتفاء کریں گے۔ آپ ان کی تفاسیر خود ملا حظہ فرمالیں۔ باقی وہ آیات جن میں  ان کا مختصر تذکرہ ہے ان کا حوالے دے دیں گے۔ آپ تو صرف یہ ملاحظہ  فرمائیں کہ اگر چہ یہ مسئلہ  سرور ادراک انسانی سے ماوراء ہے لیکن قرآن نےجس قدر بھی بیان فرمایا ہے اس میں باہم کوئی اختلاف نہیں ہے۔

خود قرآن  نے ان تینوں  آیات  کا پس منظر یہ بیان فرمایا ہے کہ کفارومشرکین  عرب یہ کہتے تھے کہ اگر رسول اللہ واقعی ایک سچے رسول  ہیں تو وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آئیں (7۔15) اُن  کے اس مطالبہ کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے۔

(1) وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْھم بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيہ يَعْرُجُونَ  لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ (15۔14/15) (ترجمہ) اگر ہم ان کے سامنے آسمان میں کوئی دروازہ کھول دیں اور یہ اس میں چڑھنے بھی  لگ جائیں ( تو بھی یہ ایمان  نہیں لائیں گے) اس  وقت  یہ کہنے  لگ جائیں  کہ  ہماری نگاہ بند کردی گئی ہے یا ہم پر جادو کردیا گیا ہے ۔ کفار کے مطالبہ  کا جواب دینے کے بعد قرآن  کریم اصل  مسئلہ  کی طرف رجوع کرتاہے اور ان کی مکاریوں  کی تین مقامات پر تردید  کرتا ہے۔

(2) وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّنَّاھا لِلنَّاظِرِينَ  وَحَفِظْنَھا مِن كُلِّ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ (17۔16/15) ہم نے فضا کی بلندیوں  میں ،اُبھرے ہوئے کُرّے پھیلارکھے ہیں اور ان سے روشنی منعکس ہوتی ہے تو دیکھنے والوں  کو بڑے خوشنما نظر آتے ہیں او راُنہیں  ہم نے ہر قسم  کی تخریبی  قوتوں سےمحفوظ  رکھا ہے۔ کاہنوں  کے متعلق کہا کہ اب قرآن کریم کے نزول کے بعد علم  کی روشنی  پھیل گئی  ہے اب ان کا یہ فریب نہیں چل سکتا ۔ یہ فریب  و مکروف و جہالت  میں چل سکتا تھا ۔

إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہ شھَابٌ مُّبِينٌ (18۔15) اب ہر قیاس و تخمین  کے پیچھے علم و یقین  کا ایک چمکتا  ہوا شعلہ موجود ہے جو اس کی حقیقت  کو بے نقاب کردیتا ہے۔  (اعجاز القرآن ۔جاری ہے)

اگست ، 2013   بشکریہ : صوت الحق ، کراچی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/miracles-of-the-quran-part-2-اعجاز-القرآن--قسط-دو/d/13060

 

Loading..

Loading..