New Age Islam
Fri Apr 03 2026, 05:46 PM

Urdu Section ( 11 Dec 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

A Few Comprehensive and Practical Suggestions for the Muslims of India مسلمان ہند کے لیے چند جامع اور عملی تجاویز

خواجہ عبدالمنتقم

10 دسمبر،2025

ہم یہ تجاویز کسی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر مسلم کمیونٹی کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے پیش کررہے ہیں۔اگرچہ ہمارے ملک کاآئین اور اقلیتوں سے متعلق اقوام متحدہ کی منظور کی گئی دستاویزات میں اکثریتی اور اقلیتی فرقوں کابرابر کادرجہ دینے کی بات کہی ہے۔قانونی اعتبار سے یہ بات بالکل درست ہے مگر جب یہ زمین پراترتی ہے اور جمہوریت کے قیام اور ا س کی بقا کی بات کی جاتی ہے تو اس وقت سرگنے جاتے ہیں، تو لے نہیں جاتے۔ پلڑے کاوزن جدھر زیادہ ہوگا وہی حاوی ہوگا۔ ہم نے پروفیسر طاہر محمود کی کتاب بعنوان Minorities Commission: Monor Role in Major Affairs میں یہ بات قلمبند کی تھی کہ جہا ں اکثریت ہوگی وہاں اقلیت بھی ضرور ہوگی۔

اگر ان دونوں فرقوں کے مابین خوشگوار رشتے نہیں ہوں گے تو زیادہ نقصان مسلمانوں کاہی ہوگا چونکہ اقلیت کبھی اکثریت کو مغلوب نہیں کرسکتی جب کہ اکثریت جب بھی چاہے اقلیت کو مغلوب کرسکتی ہے مگر ایک مہذب معاشرہ میں ایسا نہیں ہونا چاہیے اور ایک دوسرے کو زیر دکھانے یا بلڈوز کرنے کی بجائے اپنے ملک کی اس طرح تعمیر نو کرنی چاہئے جس میں مستحقین کوان کا حق ملے، ناانصافی کا خاتمہ ہو، کسی کو اپنے ہی ملک میں نقل مکانی نہ کرنی پڑے، اپنی پسند کا لباس پہننے، اپنی پسند کاکھانا کھانے جیسے امور پرانگلیاں نہ اٹھائی جائیں، کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح نہ کیا جائے، کسی کو کسی مخصوص مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو کچھ سرپھرے زدوکوب نہ کریں، کوئی ایسا قانون نہ بنایا جائے جس سے کسی کی مذہبی آزادی پر منفی اثر پڑے اور بانگ اذان اور صدائے ناقوس کسی کوناگوار گزرے۔

سوشل میڈیا پر جارحانہ وقابل اعتراض مواد پوسٹ نہ کیا جائے بلکہ سوشل میڈیا پر ایسا پوسٹ کیا جائے جس سے جذبہئ اخوت کو مزید تقویت حاصل ہو۔ ہندو مسلم اتحاد اور اسی قسم کے موضوعات پرمضامین اسی شدت سے انگریزی، ہندی اور ہندوستان کی دیگر زبانو ں کے اخبارات میں بھی شائع کیے جائیں جتنی شدت سے اردو اخبار ات میں شائع ہوتے ہیں۔انگریزی اخبارات میں مسلم صحافیوں کے م ضامین کی اشاعت صرف مسلم پرسنل لا، عید ومحرم تک محدود نہ رکھی جائے۔ ہمارے سماج میں بھی ایسی تبدیلی آئے کہ برادر ان اکبر (ہمارے ہندوبھائی) اپنے برادران اصغر (مسلمانان ہند) کے سرپردست شفقت رکھیں۔ بھائی کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے بڑا بھائی ہی بیشتر معاملات میں اپنی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس طرح سرتسلم خم کردیتا ہے جس طرح پھلدار ٹہنی ہمیشہ جھکی رہتی ہے۔

سنتوں وصوفیوں کی اس مقدس سرزمین پر ایک ایسا ماحول دستیاب رہے جس میں سب کو اپنے اپنے طریقے سے پرسکون ماحول میں عبادت کرنے کی آزادی ہونہ کسی مذہبی مجمع میں خلل ڈالا جائے گا، نہ کسی کو غیر قانونی طریقے سے سزا دی جائے، نہ نظم ونسق قائم کرنے والی ایجنسیوں کے عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا جائے مگر ہر خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا اور ہر تصور یا قیاس امرواقعہ کی شکل اختیار نہیں کرتا۔مسلمانوں کو اپنے دیگر برادران وطن کی طرح ہر شعبہ حیات اور بھارت پائیدار ترقی کے عمل میں فعال کردار ادا کرکے اپنی شناخت کامظاہرہ کرناچاہئے۔ مثبت سوچ اور مستقل مزاجی کمیونٹی کو آگے لے جاتی ہے۔

تعلیم پر دھیان دینے کی سخت ضرورت ہے خاص کرتکنیکی تعلیم پرتاکہ وہ نوکری کے محتاج نہ رہیں۔ مایوسی تو کفر ہے۔انسان کو ہر صورت حال کابہادری سے مقابلہ جاتی امتحانات میں ہر سال بہتر کارکردگی کامظاہرہ کررہے ہیں۔ میرے بچپن میں یعنی پچاس کی دہائی کے اوائل میں دہلی میں صرف ایک مسلم ایم بی بی ایس ڈاکٹر (ڈاکٹر عبدالعلیم، شریف منزل بلیماران، خانوادہ حکیم اجمل خاں) ہوا کرتے تھے۔ آج دہلی کے ہرہسپتال میں آپ کو مسلم ڈاکٹر ضرو رملیں گے اگر چہ ان کی تعداد اطمینان بخش نہیں۔آج جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جس میں صرف بی۔اے، جسے سندی کہا جاتا تھا، تک کی تعلیم دی جاتی تھی اس کا شمار ملک کے کلیدی تعلیمی اداروں میں ہوتاہے۔ اسی دہلی کے فصیل بند شہر میں جہاں ایک گلی سے مشکل سے ایک یا دو بچے اسکول جایا کرتے تھے آج وہاں چھٹی ہونے پرٹریفک جام ہوجاتاہے۔ اسی طرح جہاں مسلم لڑکیوں کو تعلیم دلانا معیوب سمجھا جاتاتھا، آج یہ حالت ہے کہ لڑکیاں لڑکوں کے مقابلہ میں بہتر کارکردگی کامظاہرہ کررہی ہیں۔یادہے کہ جب میں قومی مذہبی ولسانی اقلیتی کمیشن کے ڈائرکٹر کی حیثیت سے شیلادکشت کے دفتر میں جسٹس رنگا ناتھن مشر ا ودیگر ان کی موجودگی میں دہلی کے مسلمانوں ودیگر اقلیتوں کے بارے میں ہونے والے اجلاس میں موجود تھا تو خوددہلی کے چیف سکریٹری نے وہ اعداد وشمار پیش کیے جن سے یہ بات صاف ظاہر تھی کہ پرانے شہر میں پڑھنے والی لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کے مقابلے میں کئی گناہ زیادہ ہے۔ صرف دہلی ہی نہیں ملک کے دیگر حصوں میں بھی مسلمان بچے اور بچیاں اور ان کے ماں باپ تعلیم کے معاملہ میں انتہائی سنجیدہ ہیں اور ویسے بھی آج کے ڈیجیٹل دورمیں تعلیم کے بغیر چھوٹا موٹا کاروبار کرنابھی مشکل ہے۔شمالی ہندوستان میں جنوبی ہندوستان کی طرح تعلیمی ادارے بھی قائم ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ عام اداروں کے دروازے بھی سب کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے لیے زیادہ سے زیادہ تکنیکی وغیر تکنیکی معیاری اسکول، کالج اور ٹیکینکل ادارے قائم کیے جائیں تاکہ وہ معیاری تعلیم حاصل کرکے معیاری ملازمتیں حاصل کرسکیں یا اپنا کاروبار شروع کرسکیں۔مدرسوں میں دینی تعلیم کے ساتھ جدید مضامین کی تعلیم بھی اسی سنجیدگی کے ساتھ دی جائے جس سنجیدگی کے ساتھ دینی تعلیم دی جاتی ہے۔طلبہ کو حفظان صحت سے متعلق سرگرمیوں جیسے خون کے عطیے، ریلیف کاموں اور دیگر رضا کارانہ خدمات میں حصہ لینے کی ترغیب دی جائے۔

ہنرمندی، اسکل ڈیولپمنٹ، اسٹارٹ اپ اور چھوٹے کاروبار پر زور دیا جائے۔ سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے لیے این جی اوز قائم کیے جائیں چونکہ سرکاری امدا د بیشتراسکیموں میں این جی اوز کے اوسط سے ہی ملتی ہے۔بزنس نیٹ ورکنگ، آن لائن مارکیٹنگ، مصنوعی ذہانت، ای کامرس کی تعلیم کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔خواتین کیلئے گھر یلوں صنعت،آن لائن ورک،ٹیلرنگ، فوڈ بزنس وغیرہ کی سہولتیں بڑھائی جائیں۔

سیاسی بیدار ی اورنظام حکومت میں باوقار شرکت بھی ضروری ہے۔ذات برادری یا مذہبی جذبات کی بجائے قومی مفاد و ملک کی ترقی کو بنیاد بنا کرسیاسی فیصلے کیے جائیں۔اپنے حقو ق کے حصول کے لیے صرف آئینی اورجمہوری طریقو ں کا استعمال کیا جائے۔قانونی بیداری وامداد کے لیے ہر علاقے میں لیگل ایڈ مراکز قائم کیے جائیں۔ مذہبی وتعلیمی اداروں، تنظیموں اور اوقاف میں شفافیت اوربہتر نظم ونسق قائم کیا جائے۔ مذہبی اختلافات کو مکالمے اورحکمت سے حل کیا جائے اور وضاحت طلب مذہبی اصطلاحات وعلا مات کے حوالے میں انتہائی احتیاط برتی جائے۔ یہ تجاویز قطعی نہیں لیکن فی الحال اگر یہ نکات ہی اجتماعی طور پر اپنا لیے جائیں توآنے والی نسل کامستقبل روشن ہونے کا پوراپورا امکان ہے۔

------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/practical-suggestions-muslims-india/d/137970

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..