New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 10:53 AM

Urdu Section ( 12 Jun 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Ulema Should Pay Attention to Religious Reform of the Society معاشرے کی مذہبی اصلاح کے لئے علما متوجہ ہوں

 

 

خوشتر نورانی

13 جون، 2014

اسلام امن و سادگی کا مذہب ہے، اسلام کا یہ اصول عبادات اور معاشرتی زندگی کے ہر شعبے سے متعلق  ہے ۔ اسلام ہر اس عمل کی مذہب کرتاہے، جس کی وجہ سے کسی دوسرے انسان کو تکلیف پہنچے ،معاشرے کا امن اور سلامتی خطرے میں پڑ جائے ، انسانی جان کے زیاں اور تلف ہونے کااندیشہ ہو اور مذہب  کی اصل شبیہ مسخ ہوکر رہ جائے ۔

اسلام اپنے ابتدائی عہد سے جو ں جوں دور ہوتا جارہا ہے ، جدید تمدن او رمخلوط مذہبی  معاشرت کے زیر اثر اس میں نئی نئی بدعات  اور خرافات کی شمولیت تیز تر ہوتی جارہی ہے۔ ہندوستان میں مذہبی حمیت  کے نام پر ایسی بدعات اور خرافات کے مظاہر کثرت سے دیکھنے کو مل جاتے ہیں ۔ شب برأت کی آمد آمد  ہے، ہندوستان کے بیشتر حصوں بالخصوص دہلی میں مسلمانو ں کا ایک بڑا طبقہ جس سے اسے مناتا ہے  ، وہ اسلام کی مذہبی ، معاشرتی اور اخلاقی تعلیمات  کے سراسر منافی ہے۔دیوالی کی طرح اس موقع پر پٹاخے پھوڑنا ، سڑکوں پر کھلے عام اجتماعی  شکل میں گاڑیوں  میں ریس  لگانا، موٹر سائیکلوں پر کرتب دکھانا ، بلا جواز  سڑکوں پر نعرے  لگانا، شور مچانا، شہری قوانین کو توڑنا، ساری رات شہر کے مختلف علاقوں میں گاڑیوں سے دندناتے پھرنا اور ٹھٹھہ کرنا اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑانا ہے۔

حضرت علی کرم تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ‘‘ جب شعبان کی پندرہویں  شب آجائے تو اس رات کو قیام کیا کرو اور دن میں روزہ  رکھو کہ رب تبارک و تعالیٰ غروب آفتاب سے آسمان دنیا پر خاص تجلی فرماتا ہے کہ ہے کوئی بخشش چاہنے والا کہ اسے بخشش دوں؟ کوئی روزی طلب کرنے والا ہے کہ اسے روزی دوں؟ ہے کوئی مبتلا  کہ اسے عافیت دوں؟ ہے کوئی ایسا؟ کوئی ایسا، ؟ اور یہ اس وقت تک فرماتا ہے کہ فجر  طلوع ہوجائے ۔’’ ( بیہقی)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے شب برأت  کا یہ انعام خداوندی مذکورہ  خرافات سے حاصل نہیں ہوسکتا ۔ شب برأت میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے، اس کی واضح تعلیم اس حدیث پاک میں مذکور ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ا س موقع پر بقیع ( قبرستان) میں جاکر مردوں کے لیے مغفرت کی دعا  بھی کیا کرتے تھے ، لہٰذا  اس سنت پر ہم بھی متانت سے عمل کر سکتے ہیں۔ مذہبی عبادت کے نام پر مذکورہ  خرافات  کا ارتکاب کرنا ایک طرح  سے دہرا جرم ہے۔ اپنے نفس اور آوارگی کی تسکین کے لیے  کسی بھی  طرح  کے غیر شرعی فعل کا ارتکاب کرنا تو ایک جرم ہے ہی، مزید مذہبی عبادت کے نام سے اگر اسے کیا جائے تو یہ اس سے بھی بڑا جرم ہے۔ اس سے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اسلام کی پرُ امن شبیہ کو بھی  بٹا لگ رہا ہے۔

ان حالات میں علمائے دین پر مسلم معاشرے کی مذہبی اصلاحات کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے ۔ علمائے  دین کو چاہئے کہ مسلکی جذبے سے اوپر اٹھ کر اسلام کی اصل شبیہ  کے تحفظ اور  اس کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے مسلم سماج میں مذہبی اصلاحات کی باقاعدہ تحریک چلائیں ۔ اس مذہبی  اصلاح کی تحریک کے لئے دو مؤثر پلیٹ فارم ہوسکتے ہیں : (1) جمعہ کا خطاب (2) مذہبی جلسے ۔ جمعہ کے دن مسلم معاشرے کا تقریباً ہر خاص وعام ، تعلیم یافتہ اور بے پڑھا لکھا ،پنج وقتہ نمازی او ربے نمازی ، جمعہ کی نماز کے لیے مسجد میں آتا ہے۔ اور نماز سے قبل 15 سے 20 منٹ کا جو اردو میں خطاب ہوتا ہے، اسے توجہ  سے  سنا جاتا ہے ۔ یہ مذہبی  اصلاحات کا بہت مؤثر اور کارگر پلیٹ فارم ہے۔ علمائے کرام اگر سنجیدگی  سے اس طرف متوجہ  ہوجائیں تو شب برأت   سے متعلق ہی نہیں  کسی بھی شعبے سے خرافات کا خاتمہ  ہوسکتا ہے۔ اس کام کے لئے الگ سے  انہیں وقت ، طاقت اور پیسے خرچ کرنے کی ضرورت  نہیں، بس انہیں سنجیدگی سے مسلم عوام کو صحیح  تعلیمات سے واقف کرانا ہے۔ شب برأت کی آمد سے چار جمعے قبل اگر ہندوستان بالخصوص دہلی کی ہر مسجد  سے مسلم بچوں کو شب برأت میں ان غیر شرعی امور کے ارتکاب سے بچنے کی تلقین کی جائے، انہیں اللہ کا خود دلا یا جائے، شہری قوانین کی پابندیوں  کی اہمیت کو بتایا جائے اور مسلمانوں کی عزت و وقار کی طرف انہیں متوجہ کیا جائے تو ان خرافات میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے۔ ہندوستان کے گوشے گوشے  میں ہونے والے مذہبی اجلاس سے بھی  یہی کام لیا جاسکتا ہے ، کیونکہ ملک  بھر میں شب برأت  سے قبل مدارس کے سالانہ  دستار بندی  کے اجلاس  منعقد ہوتے ہیں ۔ علما کی یہ منصبی  ذمہ داری  ہے، اس لیے ہر حال میں انہیں  ان امور کی طرف متوجہ  ہونا چاہئے ۔ جو لوگ بے ہنگم  چیخ و پکار اور لا یعنی  موضوعات پر مبنی تقریروں سے ان دونوں پلیٹ فارم کو ضائع کررہے ہیں،  اراکین مساجد اور منتظمین  جلسہ کو چاہئے کہ علما اور ائمہ  کی توجہات ان امور کی طرف مبذول کرائیں ۔

13 جون، 2014  بشکریہ : انقلاب، نئی دہلی 

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/khushtar-noorani/ulema-should-pay-attention-to-religious-reform-of-the-society-معاشرے-کی-مذہبی-اصلاح-کے-لئے-علما-متوجہ-ہوں/d/87496


Loading..

Loading..