New Age Islam
Tue May 28 2024, 07:58 PM

Urdu Section ( 26 Oct 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

An Essay On Fundamentalism تشدد کی تعبیر

خورشید انور

22 اکتوبر، 2013

وہابی اسلام سعودی عرب حکومت کی سیاسی نظریہ ہے۔ پورے اسکولی نصاب میں اس نظریے کی تشہیر شامل ہیں۔ سعودی عرب میں پبلک اسکولوں کی تعداد تقریبا پچیس ہزار ہے،

جن میں پچاس لاکھ سے اوپر طالب علم تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ فاروق مسجد ، ٹیکساس ( امریکہ ) سے برآمد ایک دسویں کلاس کی کتاب ' سائنس آف توحید ' میں درج ہے کہ غیر - مسلمو ں یا غیر وہابی مسلمو ں کے ساتھ رہنا اسلام کے خلاف ہے۔ اسی لیے اللہ کا حکم ہے کہ صرف مسلمانوں ( وہابی مسلمانوں ) کے درمیان اٹھو  بیٹھو۔ یہ تو محض ایک جھلک ہے۔ ذرا سعودی عرب کے وزارت تعلیم کی طرف سے منظور وہاں نصاب میں موجود کچھ مثالوں کو دیکھیں تو تصویر اور صاف ہو جائے گی۔

'' مسلمان جو بین المذاہب ابلاغ میں پڑتے ہیں ان کو بھی غیر مذہب ماننا چاہئے۔ صوفی اور شیعہ عقیدے کو بھی اسی زمرے میں رکھنا  چاہئے۔ جو مسلم کوئی اور مذہب اپنا لے اسے قتل کر دیا جانا چاہئے۔ ایک مسلمان کے لیے جائز ہے کہ اس کا خون بہا دے اور اس کی جائیداد پر قبضہ کر لے. ''

'' جو سنی مسلم وہابی نظریہ میں یقین نہیں رکھتے ان کی مذمت کرنی چاہئے اور انہیں نفرت کی نظر سے دیکھنا چاہئے اور ان کو مشرک نسل کی پیداوار ماننا چاہئے۔ مسلمانوں پر زور ڈالو کہ عیسائی، یہودی ، مشرک، اور غیر وہابی مسلموں سمیت تمام بیوفائی کرنے والوں سے نفرت کرنی چاہئے۔ نہ تو کسی غیر مسلم یا وہابی عقیدہ پر یقین نہ رکھنے والے مسلم سے میل جول کرو نہ ہی عزت کرو۔

'' جہاد کے ذریعہ اسلام پھیلانا ' مذہبی فرض ' ہے۔ ایک سچے مسلمان کا فرض ہے کہ اللہ کے نام پر جہاد کے لئے تیار رہے۔ تمام شہریوں اور حکومت کا بھی یہی فرض ہے۔ فوجی تربیت عقیدے میں موجود ہے اور اسے لاگو کیا جانا چاہئے۔ جنگ کے لئے اسلحے رکھنا ضروری ہے۔ بہتر تو یہ ہو کہ مخصوص فوجی گاڑیاں ، ٹینک ، راکٹ ، لڑاکا طیارے اور وہ دیگر سامان جو جدید جنگ میں ضروری ہوتے ہیں ان کی فیکٹریاں لگائی جائیں۔ ''

ذرا نظر ڈالے کہ ابتدائی تعلیم میں جن بچوں کو پڑھایا جائے کہ اسلام ( وہابی ) کے علاوہ ہر مذہب غلط راستے پر ہے۔ اور پھر امتحان میں سوال ہو، خالی جگہ کو پر کریں '' ... کے علاوہ ہر مذہب غلط راستے پر ہے۔ جو مسلمان نہیں ہے وہ مرنے کے بعد ... میں جائے گا.'' ظاہر ہے کہ پہلے ان بچوں کو غیر اسلامی کون ہے یہ بتایا جا چکا ہے۔ اس میں غیر وہابی سنی ، شیعہ سمیت تمام مذہب شامل ہیں۔

ایک مارچ، 2002 کو عین الیقین نامی میگزین نے آن لائن سعودی عرب کے راج شاہی خاندان کے وہابیت کو دنیا بھر میں پھیلانے کے تعلیمی پروگرام کے بارے میں رپورٹ دی۔ اس میں بتایا گیا کہ کنگ فہد اربوں سعودی ریال وہابی اسلامی اداروں اور اس نظریہ کی تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں۔ سعودی عرب سے باہر مغربی ممالک میں 210 اسلامی مرکز ، 500 مساجد ، 202 کالج اور 2000 اسکول ایشیا ، آسٹریلیا اور شمالی امریکہ میں انہی کورس کے ساتھ کھولے ہیں ، جن میں وہی تعلیم دی جائے گی جو سعودی عرب کے پبلک اسکولوں میں دی جاتی ہے۔ مطلب جہادی تعلیم، نفرت کی تعلیم، دہشت  گردی کی تعلیم۔

عین الیقین نے جو ملک گنائے ان میں جنوبی ایشیا، افریقہ، یورپ اور امریکہ سمیت اسی ملکوں کا ذکر ہے.۔سعودی عرب میں تو وہابیت سیاسی نظریہ ہی ہے اور قوم ایک وہابی متحدہ ، لیکن اس ناسور دنیا بھر میں پھیلے اس کے لئے مدینہ میں واقع اسلامی یونیورسٹی میں پچاسی نشستیں غیر ملکی طالب علموں کے لئے مخصوص ہیں اور اس میں تقریبا ایک سو چالیس ممالک کے پانچ ہزار طالب علم رجسٹرڈ ہیں ۔

سعودی عرب کے وزیر تعلیم فیصل بن عبداللہ بن محمد السعود نے زہریلی تعلیم کا راج فاش ہونے کے بعد 2005 میں نصاب میں بہتری لانے کی بات کی لیکن آج تک اس پر کوئی عمل نہیں ہوا۔ اتنا ہی نہیں، اسی سال یعنی 2005 میں ایک استاد کو یہودیوں ، شیعہ مسلموں، غیروہابی سنیوں کو بھی انسان بتانے کے جرم میں عوامی طور پر ساڑھے سات سو کوڑے اور قید کی سزا ہوئی۔ بعد میں بین الاقوامی دباؤ میں قید کی سزا معاف کی گئی۔

کون سی تعلیم ہے یہ ؟ کیا مقصد ہے اس تعلیم کا؟ کیا بن رہے ہیں یہاں سے نام نہاد تعلیم حاصل کرنے والے؟

ایران کے پروفیسر مرتضی متتری کے الفاظ میں، ان وہابیوں کو نہ اسلام کی سمجھ ہے نہ قرآن کی۔ لہذا ان کا مکمل تعلیم خونی کھیل ہی سکھا سکتا ہے۔ '' وہابیوں کا عقیدہ  ہے کہ اللہ کے دو پہلو ہیں۔ پہلا اس کا تصور ، جس میں داخل ہونے کی اجازت کسی کو نہیں۔ اللہ سے وابستہ عبادت اور تصور ( اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ جیسے سنی خلیفہ یا شیعہ امامت ) دو بالکل الگ الگ چیزیں ہیں۔ تصور تک آکر وہابیت باقی اسلام سے دور ہو جاتی ہے۔

یہ قرآن کے خلاف ہے کہ آپ خالق ( اللہ ) اور مخلوق ( انسان ) میں مخلوق کی عظمت کو نہ مانیں۔ خدا نے آدم کے سامنے فرشتوں تک کو سجدہ کرنے کو کہا اور وہابی اسے درکنار کرتے ہیں۔ اس طرح سے آپ انسان کو اشرف المخلوقات ( مخلوقات میں بہترین ) سے گرا کر صرف جانور بنا دیتے ہیں۔ جو لوگ انسان کی برتری کو ہی درکنار کرتے ہیں ان سے توقع کرنا کہ انسانی خون کی کوئی قیمت ہوگی، بیکار ہی ہے۔

نفرت پھیلانے کا دوسرا ذریعہ ہے دیگر اسلامی عقائد کو مسترد کرنا۔ اسی تعلیم کے مطابق مزاروں اور قبروں پر جانا بھی اسلام

کے خلاف ہے۔ پورے سعودی کورس میں شروع سے ہی بچوں کو یہ تعلیم دی جاتی ہے۔ اس سے فوراً اسلامی سلسلہ کے تمام غیر وہابی فرقہ اسلام سے باہر ہو جاتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، وہابی ایسا قدم اٹھا کر خود قرآن کو جھٹلاتے ہیں۔

سورہ الکہف میں صاف آیا ہے کہ '' اللہ کا وعدہ سچ ہے یہ بتانے کے لئے عمارت بناؤ '' ( قرآن 18:21 ). ایسی تسلیم ہے کہ قیامت کے دن اس میں سے ہی مردے نکل کر آئیں گے۔ لیکن انسانیت کے دشمن وہابی مزاروں پر جانے والوں کو قتل کرتے ہیں اور مزار توڑنے کی باقاعدہ مہم چلا رہے ہیں۔ شیعہ اپنے اماموں کے لئے زیارت ( فلسفہ ) کرنے عراق، سعودی عرب ، ایران سمیت دیگر ممالک بھی جاتے ہیں۔ سعودی عرب میں اب اس پر روک لگا دی گئی ہے۔

گزشتہ کچھ برسوں سے وہابیوں نے سلسلہ وار طریقے سے صوفی سنتوں ، شیعہ کمیونٹی، احمدیہ مسلم اور غیر وہابی سنی عقیدہ والے علامتوں پر حملے شروع کئے۔ ان کے حملے صرف ان علامتوں پر نہیں ہوئے، مکہ واقع کعبہ کے پیچھے کے حصہ کو بھی انہوں نے تباہ کر دیا۔ وہاں پر بڑے  بڑے ہوٹل اور شاپنگ مال بنانے شروع کئے۔ ان میں پیرس ہلٹن کا شاپنگ مال بنیادی توجہ کا مرکز ہے۔ کعبہ کے علاوہ مدینہ منورہ میں انہوں نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان اور ساتھیوں کی مزاریں اور قبریں توڑنی شروع کیں۔ ان میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم  کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہ، ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی مزارے اور مساجد اہم ہیں۔

صوفی مزاروں پر حملے تمام حدو ں کو پار کر گئے۔ مالی میں 333 صوفی سنتوں کی مزاروں والے مشہور سائٹ کو وہابیوں نے منہدم کر دیا۔ 1988 میں یونیسکو سے عالمی وراثت کے طور پر تسلیم شدہ سدھی  یحییٰ مسجد بھی ان وہابی حملوں کی بھینٹ چڑھ گئی۔ لیبیا میں پچاس صوفی مزاروں کو ان وہابیوں نے ایک ساتھ اڑا دیا۔ صومالیہ میں شاید ہی صوفی سنتوں کا کوئی مزار بچا ہو جو الشباب کے حملوں کا شکار نہ ہوا ہو۔ پاکستان میں بابا فرید ، بابا بللےشاه ، حضرت داتا  گنج بخش سمیت کئی مزاروں پر مسلسل وہابی طالبانی حملے ہوئے۔

سعودی عرب کی حمایت میں یہ حملے القاعدہ اور اس کے اتحادی تنظیم انجام دیتے آئے ہیں۔ وہابیت پوری طرح سے فسطائی نظریات میں ڈھل چکی ہے جو اس زمین سے محبت کا نام مٹا دینا چاہتی ہے۔ ذرا ایک نظر دیکھیں کہ وہابیت کا اسلام جو کر رہا ہے اس کے برعکس وہ صوفی مت کیسا پیغام دے رہا ہے۔

نظام الدین اولیاء کے بارے میں مشہور ہے کہ بادشاہ علاء الدین خلجی نے ان سے اسلام کی تبلیغ کرنے کے لئے کشمیر جانے کو کہا۔ نظام الدین کا جواب تھا کہ میں محبت کا پیغام دیتا ہوں ، میرے لئے ممکن نہیں کہ اسلام کی تبلیغ کرنے کشمیر جاؤں۔ اس کے بعد علاء الدین نے امیر خسرو کے ذریعہ نظام الدین کو دربار طلب کیا۔ نظام الدین نے پیغام بھیجا کہ جو صوفی اقتدار کے نزدیک ہے وہ ایمان کھو بیٹھتا ہے۔ علاء الدین نے کہلوایا کہ میں خود آ رہا ہوں۔ نظام الدین نے کہا ، میری خانقاہ میں آنے پر کسی کو روک نہیں، مگر میری خانقاہ کے دو دروازے ہیں۔ جس وقت ایک دروازے سے بادشاہ کے قدم میری خانقاہ  میں پڑیں گے ، اسی وقت دوسرے دروازے سے میں نکل جاؤنگا۔

بابا بللے شاہ ۔محبت کا پیغام دینے والے اس صوفی کو کون نہیں جانتا۔ ذرا دیکھئے کیا ہے مذہب ان کی نظر میں. '' ہوری کھیلونگی کہہ کر بسم اللہ / نام نبی کی رتن چڑھی ، بوند پڑی الا اللہ / رنگ  رنگيلی اوہی كھلاوے ، جوسہیلی ہووے فنا فی اللہ/ ہوری کھیلونگی کہہ کر بسم اللہ / الستو بربیكم پيتم بولے، سبھ سكھيا نے گھونگھٹ کھولے ؟ کالو بلا ہی یوں کر بولے ، لا الہ الا اللہ / ہوری کھیلونگی کہہ کر بسم اللہ ۔''

وارث شاہ کی ہیر آج بھی محبت کا پیغام بنی ہوئی ہے۔ ستار کا ایجاد کرنے والے امیر خسرو فرماتے ہیں :'' کافر عشكم مسلمانی مرا درکار نيست / ہر رگ  من کے تار گشتا حاجت جننار نيست '' ( عشق کا کافر ہوں مسلمان ہونا میری ضرورت نہیں۔ میری ہر رگ تار بن چکی ہے مجھے جنیؤوں کی بھی ضرورت نہیں )۔

وہابی مت نےلگ بھگ گزشتہ دو دہائیوں میں نہ صرف معصوم انسانوں کا خون بہایا ہے بلکہ محبت کا بھی خون کیا ہے۔ اس براعظم میں نظام الدین اولیاء ، معین الدین چشتی ، امیر خسرو ، وارث شاہ، بللےشاه ، بابا فرید جیسے صوفی سنتوں نے نیکی کی کٹرزنجیرے توڑتے ہوئے صرف اور صرف محبت کا پیغام پھیلایا تھا۔ وہابی تحریک ان سنتوں کی مزاروں کو روندتا ہوا ان کے محبت کے پیغام کا بھی گلا گھونٹ رہا ہے۔ اور اس کے لئے سعودی عرب بے پناہ دولت خرچ کر رہا ہے۔

جو ملک اپنے اسکولوں میں نفرت کی تعلیم دے گا، وہاں سے نکلنے والی نظریے اور اس نظریے کے کیریئر ایسے تعلیمی اداروں سے نکلنے والے طالب علم کیا گل کھلا سکتے ہیں اس کا اندازہ افریقہ، عرب ممالک ، جنوبی ایشیا اور یہاں تک کہ مغربی ممالک میں چل رہے خونی کھیل سے لگایا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب جیسے ملک اور دارالعلوم جیسے تعلیمی اداروں کا یہ اتحاد آج ساری دنیا کو بارود کے ڈھیر پر  بیٹھا چکا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ بارود کے ڈھیر کو آگ لگے ، ان وہابیوں اور ان کے نظریات کو احساس شکل دینے والے القاعدہ اور ان کے اتحادی تنظیموں کا مکمل خاتمہ وقت کی مانگ ہے۔

22 اکتوبر، 2013 بشکریہ: ہندی روز نامہ جنستّا

URL for Hindi article: https://newageislam.com/hindi-section/an-essay-fundamentalism-/d/14111

URL for this article:  https://newageislam.com/urdu-section/an-essay-fundamentalism-/d/14154


Loading..

Loading..