New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 01:30 AM

Urdu Section ( 22 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

Tarikh-e-Ridda Part- 12 (تاریخ ردّہ حصہ ( 12

 

خورشید احمد فارق

وحشی رضی اللہ عنہ 2؎ : (2؎ دیکھئے  فٹ نوٹ ) باغ میں دونوں فریق لڑائی میں مشغول تھے  تو میں نے مُسلمہ کو دیکھا جسے میں پہچانتا نہ تھا ، ایک طرف سے میں نے حملہ کرنا چاہا ،دوسری  طرف سے ایک انصاری  نے ، خوب نشانہ درست کرکے میں نے اس پر چھوٹا نیز ہ مارا ، انصاری نے بھی اسی وقت حملہ کیا ، اس لئے خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم دونوں  میں سے کس نے اس کو قتل کیا ، البتہ راہب  گھر کے چھت سے میں نے ایک عورت کو کہتے سنا  کہ مُسلمہ  کو ایک حبشی  غلام نے مارا ہے۔

اَبُو الحُو یرث 1؎ : (1؎ عبدالرحمٰن بن معاویہ انصاری تابعی 30 ھ ہجری کے لگ بھگ انتقال ہوا ، تہذیب التہذیب 6/ 272۔273) اس باب میں میں نے  کسی کو شک کرتے نہیں دیکھا  کہ عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ 2؎ (2؎ اُحدی صحابی 63ھ میں وفات پائی ۔ اصابہ 2/ 312۔313)  نے مُسیلمہ  پر تلوار کا وار کیا اور حبشی رضی اللہ عنہ  نے چھوٹا نیزہ پھینکا  ، اس لئے دونوں  ہی اس کےقتل میں شریک ہیں ۔ عمر و بن یحییٰ مازنی 3؎ (3؎ انصاری تابعی 140 ھ میں وفات پائی ، تہذیب التہذیب 8/118۔119) نے عبداللہ بن زید کو کہتے سنا کہ میں مسیلمہ  کا قاتل ہوں ، معاویہ بن ابی سفیان  کا دعویٰ ہے کہ اس کاقاتل  میں ہوں ۔

عبداللہ بن زید کی ماں اُم عُمارہ نسیبہ 4؎ (4؎ متن میں نسبہ) کعب کی صاحبزادی کہتی ہیں کہ  مسیلمہ  کو میرے  لڑکے عبداللہ نے قتل کیا، یہ خاتون یمامہ کی جنگ میں موجود تھیں، اس میں اُن کا ہاتھ بھی  کٹاتھا، اس کا قصہ  یہ ہے کہ ان کے صا حبزادے  حبیب  بن یزید عُمان میں عمر وبن عاص ( گورنر عمان)  کے ساتھ تھے ، جب عمر رضی اللہ عنہ  کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کی خبر  ہوئی تو وہ براہ یمامہ مدینہ روانہ ہوگئے ، مُسیلمہ  کو یہ بات معلوم  ہوئی تو اُس نے عمر وکا راستہ گھیر  لیا ،  لیکن وہ پہلے ہی نکل گئے، حبیب  بن یزید  اور عبداللہ بن وہب  اسلمیٰ عمر د کے عَقَبی دستے  میں تھے، ان کو مسیلمہ نے پکڑ لیا، اور اپنے نبی ہونے کی شہادت طلب کی ، اَسلمیٰ  نے دے دی، پھر بھی مسیلمہ  نے اُن  کے بیڑیاں ڈلوادیں  حبیب رضی اللہ عنہ  سےاپنی نبوت  کے بارے میں مسیلمہ  نے پوچھا تو انہوں نے  کہا : ‘‘ میں نہیں سنتا  کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔’’ نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت دے دیتے ، وہ حبیب کےہر بہانہ پر اُن  کا ایک عضو کٹوا دیتا حتٰی کہ ان کے دونوں  ہاتھ کندھوں تک کاٹ ڈالے گئے اور دونوں  پیرکولھو ں تک ، پھر ان کو آگ میں جلا دیا گیا ، ان تکلیفوں کے باوجود  حبیب نے مسیلمہ  کی نبوت کا اقرار  نہیں کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی نبوت کا اعتراف  کرتے رہے ،  جب مُسیلمہ کے خلاف خالد بن ولید رضی اللہ عنہ  کی مہم تیار  ہوئی تو اُم عمارہ  ( حبیب کی ماں) ابو بکر رضی اللہ عنہ  صدیق  سے ملیں اور ان سے خالد رضی اللہ عنہ کی مہم پر جانے کی اجازت مانگی،ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  نے کہا :تم جیسی بی بی کو روکا نہیں جاسکتا لڑائی میں تمہاری  جرأت و شجاعت سےمیں خوب واقف  ہوں، خدا  کا نام لے کر چلی جاؤ ’’۔ اُم عُمارہ  کا اپنے پوتے عَبادبن تمہم بن زید  کی سندپر بیان  ہے کہ جب مسلمان یمامہ پہنچے اور بنو حنیفہ  سے لڑائی ہوئی تو انصار نے مخلص مسلمان  مانگے جو  ان کو مل گئے ، پھر گھمسان  کی جنگ ہوئی اور ہم دشمن کو دباتے ہوئے باغ میں گھس پڑے اور وہاں گھنٹہ  بھر دشمن کے ساتھ خون کی ہولی  کھیلتے  رہے خدا گواہ  ہے بیٹے میں نے بنو حنیفہ  جیسے نڈر اور ان کی طرح جان کی بے دریغ  بازی لگانے والے لوگ کبھی نہیں  دیکھے، میں دشمن  خدا مسیلمہ  کی ٹوہ میں تھی، میں نے عہد  کیا تھا کہ اگر وہ نظر پڑا تو اس کو مار ڈالو ں گی یا خود مرجاؤں گی  ، دونوں  طرف  کے بہادر گتھے ہوئے تھے، زبانیں  بالکل بند تھیں اور تلوار وں  کی کھٹا کھٹ  کے سوا کوئی آواز نہ سنائی دیتی تھی کہ مجھے مسیلمہ  نظر پڑا میں اس کی طرف جارہی تھی کہ ایک حنفی میرے سامنے  آیا اور تلورا  سے میرا ہاتھ کاٹ دیا، خدا گواہ  ہے میں قطعاً اس کی پرواہ نہ کی ، سیدھی اس بد معاش  کے پاس پہنچی  اور اس کو زمین پر ڈھیر پایا، میرا لڑکا عبداللہ اس کو قتل کر چکا تھا ، دوسری  روایت  کی رو سے : میرا لڑکا تلوار کو اپنے کپڑوں سے پونچھ رہا تھا ۔’’ میں نےپوچھا کیا تم نے مسیلمہ کو قتل کردیا تو اس نے کہا : ‘‘ہاں اماں۔’’ میں نے سجدہ کرکے خدا کا شکر ادا کیا ۔ اس طرح  خد ا نے بنوحنیفہ کی جڑیں کاٹ دیں، جنگ کے بعد میں  جب کیمپ پہنچی تو خاد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک عرب طبیب لے کر میرے پاس آئے ، جس نے کھولتےہوئے  تیل سے میرا علاج  کیا، خدا گواہ ہے مجھے جتنی  تکلیف  اس علاج سے ہوئی، ہاتھ کٹنے  سے بھی نہ ہوئی ، خالد رضی اللہ عنہ  میری بڑی دیکھ بھال  کرتے تھے،  اُن کا برتاؤ ہمارے 1؎ (1؎ انصار مراد ہیں) ساتھ عمدہ تھا ، ہمارے حقوق  کا خیال رکھتے تھے اور ہمارے حق  میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کی وصیت پوری کرتے تھے ۔ عَبَّاد : ‘‘وادی’’ اس جنگ میں مسلمان  تو بہت  زیادہ زخمی ہوئے ۔’’  اُم عُمارہ : ‘‘ بیٹے اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پیر کئی بار اُکھڑ گئے ( اور دشمن نے پیچھے سے ان کو خوب مارا) جب دشمن  خدا قتل ہوا اس وقت مسلمان تو بہت زندہ تھے وہ سب کے سب زخمی تھے، میرے  سارے بھائی ایسے گھائل ہوئے کہ ہل  نہ سکتے تھے، مالک بن بَخاّر  کے دس سے اوپر جوانوں  کو میں نے دیکھا  کہ بُری  طرح کراہ  رہے ہیں اور ساری رات ان کو آگ سے سینکا جارہا ہے، جنگ  کے بعد مسلمانوں   نے یمامہ میں پندرہ دن قیام کیا، اتنے  زیادہ لوگ زخمی ہوئے کہ نماز جماعت میں خالد رضی اللہ عنہ  کے ساتھ بس چند آدمی  ہوتے تھے، وجہ یہ کہ دشمن  رنگروٹوں  کی طرف سے حملہ کی، وہ بھاگے تو باقی  مسلمانوں میں بھی بھگدڑ پڑ گئی ، دشمن نے پُشتی  حملوں سے ان کو خوب  زخمی کیا، پھر بھی اس دن قبیلہ طیٔ  کے جوانوں نے خوب بہادری دکھائی ، میں دیکھتی  تھی عَدِی  بن حاتم  ( اُن کے لیڈر) للکار للکار کر اُن کو صبر او رپامردی  کی تلقین کررہے ہیں ، وہ اور زید الخیل 2؎ (2؎ طائی ، صحابی 9ھ میں مسلمان ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو زید الخیر کا لقب دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے وفات  پائی، استیعاب 1/193)  کے دونوں لڑکے ( مِکنفَ  اور حُریث ) بھی غیر معمولی دلیری  سے لڑے۔

محمد بن یحییٰ بن حِبّان3؎: (3؎  مدینہ  کے تابعی محدث فقیہ اور مفتی ، 121ھ میں انتقال ہوا ۔ تہذیب التہذیب 9/507۔508): ‘‘ یمامہ  کی لڑائی  میں اُم عُمارہ کے گیارہ زخم لگے جن میں کچھ تلوار کے تھے اور کچھ نیزے کے ، اس  کے علاوہ ان کا ایک ہاتھ بھی کٹ گیا، خلیفہ  ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کو لوگوں نے ان کی عیادت  اور مزاج پرسی  کو جاتے کئی بار دیکھا ۔

جنگ یمامہ میں کعب بن عَجرہ 1؎ (1؎ مدنی صحابی ، 51 ھ کے لگ بھگ انتقال ہوا، اصابہ 3/ 297۔298) نے بھی غیر معمولی  شجاعت و جرأت کا مظاہرہ کیا مسلمان تیسری  بار شکست کھا کر کیمپ سے پرے جاچکے تھے، یہ کعب بن  عَجرہ  ہی تھے جنہوں نے اس نازک  وقت پر للکار کرکہا : ‘‘ انصار  مدد: خدا اور رسول سے ڈرو،’’ یہ نعرے لگاتے وہ مُحکم کے پاس پہنچ گے، مُحکم  نے تلوار کا بے خطا وار  کرکے کعب کا ہاتھ اڑادیا ، لیکن  کعب رضی اللہ عنہ  نے خدا گواہ  ہے، اس کی مطلق پرواہ نہ کی اور سیدھے  ہاتھ سے تلوار  چلاتے رہے ، اُن  کے اُلٹے ہاتھ سے خون  جاری تھا  اسی حال  میں لڑتے لڑتے وہ باغ  کے دروازے  پر پہنچ گئے او رپھر اس میں داخل   ہوگئے، حاجب بن زید تمیم  اَشہلی  2؎ (2؎ انصاری صحابی، اِصابہ 1/373) یہ نعرے مارتے  بڑھے : ‘‘ اوس مدد! اشہل مدد! اس پرثابت بن ہزَّال 3؎  نے کہا :(3؎ انصاری صحابی ۔ اِصابہ /197) ‘‘ انصار مدد، انصار مدد، کا نعرہ لگاؤ ’’۔ یہ زیادہ  جامع ہے، کیونکہ انصار میں  اَوس اور اشہل  دونوں شامل ہیں، حاجب نے اب یہ نعرہ  لگانا شروع کیا، بنو  حنیفہ چاروں  طرف سے ان پر پل پڑے لیکن جلد  ہی ان کو ہٹنا پڑا، ان کے دو سپاہیوں  کو کعب رضی اللہ عنہ نے قتل کردیا اور پھر خود بھی مارے گئے،  ان کی جگہ عُمیر بن اَوس 4؎ نے لےلی،(4؎ انصار صحابی، استیعاب 2/425) بنو حنیفہ  نے ان کو گھیر لیا اور قتل کردیا۔

ابو عَفیل اَزرقی 5؎ (5؎  متن  میں اسی طرح  ہے لیکن ہمارے خیال میں ابو عقیل بَلَوی ہوناچاہئے، ازرقی نسبت  کا کوئی عقیل  استیعاب  یا اضایہ میں نہیں ملا، ابوعقیل بَلَوی  بدری صحابی  تھے اور حلیفِ  انصار ، نام عبداللہ  بن عبدالرحمٰن  تھا، استیعاب ، 2/672 و اضابہ 4/136) حلیف انصار اور بدری صحابی جنگ یمامہ میں لڑنے نکلنے والوں  کی اولین ٹولی میں تھے،  ان کے ایک تیر دل اور کندھوں کے وسط میں لگا،  اس سے کسی  عُضو رئیس  کو گزند نہیں پہنچا ، لیکن  جب تیر  نکالیا گیا تو ان کے جسم کااُلٹا حصہ ناکارہ ہوگیا،  صبح کا وقت تھا، لوگ ان کو گھسیٹ  کر کیمپ  میں لے گئے ، جب لڑائی  خوب گرم ہوئی اور مسلمان  پسپا  ہوکر  کیمپ  سے جہاں، ابو عَقیل پڑے تھے ، پرے بھاگ گئے  تو انہوں نے  مَعن  بن عَدِی 1؎ کو زور زور سے کہتے سُنا : (1؎ باری صحابی ، انصار کے تعلق تھا، استیعاب 1/271) انصار مدد! انصار مدد! خدا سے ڈرو ! خدا سے ڈرو! اور دشمن  پرپلٹ کر حملہ کرو ۔’’ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ یہ آواز سنکر اَبو عَقیل اپنی قوم انصار کے پاس  جانے کے لئے اٹھے،  میں پوچھا : ‘‘ ابو عَقیل  کیا بات ہے ، اب تم لڑائی  کے طلب کے نہیں ہو۔’’

ابو عَقیل :‘‘ ابھی منادی  نے آواز لگائی ہے۔’’ میں نے  کہا :‘‘ وہ تو انصار کو مدد کےلئے بلارہا تھا نہ کہ زخمیوں کو ۔’’ ابو عَقیل : ‘‘ میں بھی تو انصار ی ہوں میں ان کی دعوت  رد نہیں کرسکتا چاہے مجھے گھسیٹ گھسیٹ کر ہی جانا پڑے، ابن عمر  کہتے ہیں کہ ابو عَقیل  نے کمر باندھی  اور سیدھے ہاتھ تلوار لی اور یہ نعرہ لگایا: ‘‘ انصار  مدد! انصار مدد! پلٹ کر حملہ کرو، جیسا حُنین 2؎ میں کیا تھا  (2؎ مکہ کے مضافات میں یہ سمت طائف ایک وادی، یہاں 8 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے قبائل  ہوازن  کو شکست دی تھی): ‘‘نعرہ سن کر سارے انصاری یکجا ہوگئے اور باقی مسلمانوں  کو اپنی اوٹ  میں لے کر لڑنے بڑھ گئے ، اور ایسا جان توڑ حملہ  کیا کہ بنو حنیفہ  کے پیر اکھڑ گئے او ردبتے ہوئے پیچھے  ہٹتے رہے ، حتیٰ کہ  باغ میں گھس گئے ،وہاں ددنوں  فریق پھر گتھے  اور تلواریں  کھٹکنےلگیں، میں ابو عقیل کو دیکھا کہ ان کا اُلٹا زخمی  ہاتھ شانہ  سے کٹ کر زمین پر گرچکا ہے ان کے چودہ زخم لگے اور ہر ایک  کسی عَضوِ رئیس پر، دشمن خدا مُسیلمہ  بھی قتل ہوا ( عبداللہ ) بن  عمر کہتے ہیں کہ میں ابو عَقیل  کے پاس  جا کھڑا ہوا ، وہ زمین پر پڑے جان توڑ رہے تھے ، میں نےآوازدی: ‘‘ ابو عَقیل ’’ انہوں نے لڑ کھڑاتی آواز سے کہا : ‘‘ ہاں’’ پھر پوچھا : ‘‘کون ہارا؟’’ میں نے اونچی آواز  سے کہا : ‘‘ خوش ہو جاؤ، دشمن خدا مارا گیا ۔’’ ابو عقیل  نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھاکر خدا کا شکریہ ادا کیا اور جان دے دی۔’’

مُجَّاعہ بن مرارہ  نے ایک دن مَعن بن عدی 1؎ کا تذکرہ کیا،(1؎ دیکھئے فٹ نوٹ نمبر 1 ۔107)وہ  مَعن کا پرانا دوست  تھا او رجب  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سےملنے آیا تھا تو مَعن ہی کے ساتھ ٹھہرا تھا ، جن دنوں  یمامہ کا ایک وفد جس میں مُجَّاعہ موجود تھا، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کے پاس آیا ہوا تھا، وہ ( ابوبکر رضی اللہ عنہ) مزارِ شہیداء پر فاتحہ پڑھنے اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت کے ساتھ  گئے، مُجاعہ کہتا ہے کہ  میں بھی اُن  کے ساتھ تھا ، سب لوگ ستّر شہیدوں کی قبروں پر آئے ، میں نے کہا : ‘‘ رسول اللہ کے خلیفہ میں نے ان سے زیادہ کسی قوم کو تلوار وں کے نیچے  ثابت قدم اور سچی لگن سے جوابی حملہ  کرتےنہیں دیکھا،  ان میں ایک شخص  تھا، جس  سے میرے پرُانے تعلقات  تھے ۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ :’’ تمہاری مراد مَعن  بن عَدی  سے معلوم  ہوتی ہے ۔ ‘‘ مُجَّاعہ : ‘‘  جی ہاں ’’ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کو مَعن  سےمیری دوستی عَدِی کا علم تھا، کہنے لگے : ‘‘ معن پر خدا کی رحمت  صالح  آدمی تھے ، اب سُنا و اپنا قصہ ۔ ‘‘ میں نے کہا : ’’ وہ سین میرے  سامنے ہے  جب میں بیڑیوں میں جکڑا خالد رضی اللہ عنہ  کے خیمہ  میں پڑا تھا اور مسلمان نواح مدینہ کے عربوں کے ساتھ  اس بُری طرح پسپا  ہوئے کہ مجھے توقع نہ تھی کہ  وہ بھی صورت حال پر قابو پا سکیں گے ، اُن کی شکست  سے میں افسردہ تھا ۔ ‘‘ ابو صدیق رضی اللہ عنہ ’’  کیا واقعی  افسردہ تھے ؟‘‘ مُجَّاعہ :’’ جی ہیں، بالکل سچ کہتا ہوں ’’۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ : ‘‘الحمد اللہ علیٰ ذٰلک ،’’ مُجَّاعہ : ہاں تو میں نے مَعن بن عَدِی کو دیکھا کہ وہ بھگدڑ کے بعد پلٹے  ، اُن کے سر سے ایک لال کپڑا بندھا ہوا تھا، تلوار کندھے پر تھی جس سے خون ٹپک رہا تھا اور وہ یہ نعرہ لگارہے تھے ، ‘‘انصار پلٹ کر سچا حملہ کرو! انصار پلٹ کر سچا حملہ کرو! نعرہ سن کر انصار  پلٹ آئے  اور پھر وہ معرکہ ہوا جس میں وہ  چٹان  کی طرح جمے  رہے اور بالآخر دشمن کو تباہ کرکے چھوڑا ، وہ منظر بھی میرے سامنے ہے جب میں خاد بن ولید رضی اللہ عنہ  کے ساتھ گشت کرتا ہوا، بنو حنیفہ  کے خاص  مقتولوں کو ان سے رو شناس کرا رہا تھا او رمجھے انصار ی جانبازوں کی لاشیں  ہر جگہ نظر آرہی تھی ۔’’ یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ ان کی داڑھی  آنسوؤں سے تر ہوگئی ۔

ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ 1؎: (1؎ دیکھئے فٹ نوٹ 1۔9) ظہر کے وقت  میں باغ میں داخل ہوا، جنگ  گرم ہوئی، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ  نے مؤذن کو اذان  کا حکم دیا، اس نے باغ کی دیوار سےاذان دی، لوگ بُری طرح مار دھاڑ میں لگے ہوئے تھے، یہ سلسلہ بعد عصر ختم ہوا ، کئی گھنٹے  تک جنگ ہوتی رہی، فتح پاکر خالد رضی اللہ عنہ نے ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کی، اس کے بعد خالد رضی اللہ عنہ نے چند لوگ میدان جنگ میں پڑے زخمی  مسلمانوں کو پانی پلانے  پر مامور کئے ، اُن  میں ایک میں بھی تھا،  ہمارا گذر بدری صحابی ابو عَقیل انصاری  کے پاس ہوا ، ان کے پندرہ زخم لگے تھے ، انہوں نے  مجھ سے پانی مانگا ، میں نے پلایا تو ان کے ہر زخم سے پانی بہ نکلا، پھر ان کا دم نکل گیا، اس کےبعد میں بِشر  بن عبداللہ 2؎ (2؎ انصاری صحابی ۔اضابہ1/152) کے پاس  سے گذرا، وہ انتڑیوں میں بیٹھے تھے جو ان کے پیٹ سے باہر نکل پڑی تھیں، انہوں نے مجھ سے پانی مانگا  ، میں نے دیا، پانی پی کر وہ بھی موت  کی نیند  سو گئے، عامر بن ثابت عِجلا نی 3؎ (3؎ انصاری صحابی ، استیعاب 2/ 450)کے پاس سے گذرا تو ان کے برابر ایک زخمی حنفی پڑا تھا، میں نے عامر کو پانی پلایا تو حنفی نے بھی منت کر کے پانی مانگا میں نے کہا: پانی تو کیا دوں گا البتہ تیرا خاتمہ کئے دیتا ہوں ۔ ‘‘ حنفی’’: بہتر ہے لیکن میرے ایک سوال کاجواب دے دو، اس نے تمہارا کچھ نہ بگڑے گا۔ ‘‘ میں نے پوچھا: کیا سوال ہے؟’’ تو اس نے کہا : ابو ثُمامہ ( مسیلمہ ) کاکیا رہا؟‘‘ میں نے کہا :’’ اسے قتل کردیا گیا ’’۔ حنفی : ‘‘ وہ نبی تھا لیکن اس کی فوج  نے اس  کو گنوا دیا ’’۔ یہ سُن کر میں نے حنفی  کی گردن اُڑادی۔’’

محمود بن لَبیدِ 1؎انصاری (1؎ عہد نبوی میں پیدا ہوئے ، 96 ھ میں وفات پائی، استیعاب 1/ 263) : ‘‘ جب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے یمامہ کےبہت سےلوگ قتل کردیئے تو انہوں نے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک کردیا، اتنے صحابہ  مقتول و مجروح ہوئے کہ مسلمانوں  کے ایک گروہ  کی رائے ہوئی کہ ہم لڑائی اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک بنو حنیفہ کو بالکل ختم نہ کر دیں  یا خود ختم نہ ہوجائیں، جو مسلمان بچے وہ زخموں سے چور تھے ، جب شام ہوئی تو مُجَّاعہ نے اپنے ہموطنوں کو خفیہ پیغام بھیجا کہ وہ مع عورتوں ،بچوں اور غلاموں  کے ہتھیاروں سے مسلح ہوکر صبح سویرے مشرق کی طرف رُخ کرکے قلعوں  کی چھتوں  پر کھڑے  ہوجائیں اور میرے اگلے حکم کا انتظار کریں، خالدبن ولید رضی اللہ عنہ اور مسلمان رات میں اپنے مقتولوں  کو دفنانے میں لگ گئے ، دفنا کر لوٹے تو زخمیوں کو سینکنے میں مشغول ہوگئے، صبح کو خالد رضی اللہ عنہ نے مُجَّاعہ  کو بلایا جو بیڑیوں میں جکڑ بندتھا، اس کو ساتھ  لے کر مسیلمہ   کی لاش دیکھنے  نکلے، ان کا گذر ایک خوش رُو وجیہ شخص کی لاش کے پاس سے ہوا تو خالد رضی اللہ عنہ نے مُجَّاعہ سے پوچھا: کیا  یہ وہی ہے ( یعنی مُسیلمہ) ؟ ‘‘ مُجَّاعہ’’: نہیں بخدا یہ اس سے زیادہ  معزّز آدمی ہے یہ محکم بن طُفیل  ہے۔’’ اس کے بعد مُجَّاعہ نے کہا : جس کی تم کو تلاش ہے وہ بھاری بھرکم توندل آدمی ہے ،پیالہ کی طرح اُبھری ناف والا، جس کے پیٹ اور پیٹھ  پر خوب بال ہیں اور وہ ایک آنکھ بند رکھتا تھا ، دوسرے قول کے مطابق مُجَّاعہ نےیہ الفاظ  کہے:‘‘ اُس کے بڑے بڑے پیر ہیں ، رنگ پیلا ناک چپٹی اور نکیلی  ہے۔’’ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ  کے حکم سے دشمن کے مقتولوں  کا معائنہ کیا گیا، خبیث مُسیلمہ کی لاش مل گئی، خالد رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے، خدا کابہت بہت شکر ادا کیا اور مُسیلمہ  کو اس کنوئیں  میں پھکوا دیا جس کا وہ پانی پیاکرتا تھا، جب رات ہوگئی تو ہم نے کھجور کی جلتی ٹہنیاں لیں اور ان کی روشنی میں اپنے سارے مقتولوں کو بغیر  نہلائے  یا کپڑے اتارے دفن کردیا، ان پر نماز بھی نہ پڑھی، بنو حنیفہ  کے مقتولوں کو پڑا رہنے دیا، جب مُجَّاعہ نے صلح کرلی تو اہل یمامہ نے ان کو کنوؤں  میں ڈال دیا، خالد رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ بنو حنیفہ  کے صرف ناکارہ اور چھوٹے لوگ رہ گئے ہیں، جب وہ مسیلمہ  کی لاش کے پاس  کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا : ‘‘ مُجَّاعہ  یہ ہے وہ تمہارا لیڈر جس نے تمہاری  مٹی خراب  کی، تمہارے ہم قوموں  سے زیادہ احمق  لوگ میں نے نہیں دیکھے ۔ ‘‘مُجَّاعہ’’ درست ہے لیکن  تم یہ نہ سمجھنا کہ بنو حنیفہ  سے تمہاری  جنگ ختم ہوچکی  ، اگر چہ تم نے ان  کے لیڈر کو مار دیا ہے ، بخدا  تم سے لڑنے اُن کے اگلے دستے ہی آئے ہیں، ان کا سوادِ اعظم  اور بیشتر خاندانی لوگ قلعوں میں موجود  ہیں، نظر اٹھا کر دیکھو۔’’‘‘ تم پر خدا کی لعنت  کیا بک رہے ہو۔’’ یہ کہتے ہوئے خالد رضی اللہ عنہ  نے سر اٹھایا ’’ ۔ مُجَّاعہ : ‘‘خدا کی قسم  میں ٹھیک کہہ رہا ہوں ۔’’ خالد رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ قلعوں  کی چھتوں پر ایک جم غفیر ہتھیار  لئے موجود ہے،وہ بہت پریشان  ہوئے لیکن  انہوں نے دل مضبوط کیا او رمردانہ وار للکار  کر کہا۔‘‘ خدا  کے فدائیو!  گھوڑوں پر ’’ انہوں نے اپنے ہتھیار منگوائے ، جھنڈا افسر سے کہا کہ اپنا جھنڈا لیکر آگے جائے،مسلمان بنو حنیفہ  سے مزید لڑائی نہ چاہتے تھے، وہ جنگ  سے اُکتا گئے تھے، ان کی بڑی تعداد ماری جاچکی تھی، جو زندہ بچے ان میں بیشتر  زخمی تھے  ، مُجَّاعہ : ‘‘مرد آدمی میں تمہارا خیر اندیش ہوں، تمہیں اور دوسرے  فریق  کو جنگ کی چکی پیس چکی ہے، آؤ میں اپنی قوم کی طرف سے صلح کرتا ہوں ۔’’پرُانے آزمودہ کار مسلمانوں کی موت نے خالد رضی اللہ عنہ  کے ہاتھ  کمزور کردیئے تھے ، اس کے علاوہ گھوڑے اور بار برداری کے جانور چارہ کی قلت  سے لاغر ہوگئے تھے،  اس لئے وہ چاہتے تھے کہ صلح ہوجائے،  صلح  ہوگئی، جس کے مطابق  قرار پایا کہ بنو حنیفہ  کاسارا سونا ، چاندی، زر ہیں، مویشی  اور آدھے قیدی مسلمانوں کو دے دیئے جائیں ، صلح  کے بعد مُجَّاعہ نے خالد سے کہاں: ‘‘ میں چاہتا ہوں  کہ اکابر قوم کے پاس جاکر یہ قرار داد پیش کروں ۔’’ خالد رضی اللہ عنہ نے جانے کی اجازت دے دی، مُجَّاعہ  نے واپس آکر بتایا کہ بنو حنیفہ نے قرار داد منظور کرلی ہے۔

جب  خالد رضی اللہ عنہ  پریہ بات واضح  ہوئی تو مُجَّاعہ کے علاوہ کوئی قیدی نہیں ہے، تو انہوں نے کہا : ‘‘ تمہارا بُرا ہو مُجّاعہ ،تم نے ایک دن میں دو بار مجھے دھوکا دیا ۔’’  مُجَّاعہ : کیا کیوں میری قوم کا معاملہ  ہے، میں ایسا  کرنے پر مجبور تھا، عورتوں نے مجھ پر دباؤ ڈالا اور اپیل کی ’’۔ مُجَّاعہ نے ایک حنفی  عورت کے یہ شعر پڑھ کر سُنائے :

مُسیلمۃ لم تبقَ إلا النساء              سبا یا لذی اظُفَّ والحافِر

وطفلُ تُر شحَّہ أمہ                        حقیر متی یَربُ 1؎  یُستأ جَر(1؎ متن میں یدع ہے جس سےکوئی صحیح مفہوم نہیں نکلتا )

مسیلمہ  دشمن  کے فاتح سواروں  کی قید کے        لئے بس عورتیں زندہ رہ گئی ہیں

اور ایسے حقیر و یتیم بچے جن  کی پرورش کا باران کی ماؤں  پر آپڑا ہے اور جو بڑھ کر بس مزدور بن سکتے ہیں

فأ الرجال فأ ودَی بھم                      حوادثُ من دھرنا العاثر

رہے مرد تو ان کو حوادثات          دہر تباہ  کر چکے ہیں۔

فلیت أباک قضی نَحبہ 2؎  (2؎ متن میں : مضی حیضہ )            ولیتک قد کنت 3؎ فی الغابر (3؎ متن میں لم تک )

اے کاش تمہارا باپ تمہاری پیدائش سے پہلے ہی مر گیا ، کاش تم پچھلے زمانہ میں ہوئے ہوتے

فَمُجَّا عۃَ الخیر فاُ نظُر لنا    فلیس لنا الیوم من ناظر

سواک فأناعلی حالۃ         تْروّ عُنا ھَّزّۃ1؎ اطائر (1؎ متن میں : مُرّہ)

اچھے مُجَّاعہ ہماری مدد کرو               آج تمہارے سوا ہماراکوئی پرسانِ حال نہیں

آج  ہم پر ایسا خوف طاری ہے کہ      پرندہ کی آہٹ تک سے ہم ڈر جاتے ہیں

مُجَّاعہ : اِن  حالات میں میرے  لئے ناگریز  تھا کہ میں وہی کروں جو میں نے کیا ۔’’

کہا جاتا ہے کہ مُجَّاعہ اپنی قوم کے پاس قرار دادِ صلح لے کر گیا تو رات تھی جب وہ قلعہ یمامہ کے دروازہ  پر پہنچا تو ایک عورت کو مذکورہ  بالا اشعار پڑھتے سُنا عورت کے نزدیک آکر مجَّاعہ نے کہا : ‘‘ تیرا منہ پھوٹے، خاموش رہ، مجَّاعہ میں ہوں پھر وہ قلعہ میں داخل ہوا  ، وہاں عورتوں اور بچوں کے علاوہ کوئی نہ تھا ، مجَّاعہ نے ان سے کہا کہ مسلحَ ہوکر قلعہ  کی فصیل  اور میدانوں میں جمع ہوجائیں، ایک حنفی  سَلمہ  بن عُمیر نے تقریر کی اور بنو حنیفہ کو صلح کی توثیق  سے روکا اور خالد بن ولید سے لڑائی  جاری رکھنے کی اپیل  کرتے ہوئے کہا کہ  ‘‘ ہمارا قلعہ بہت مستحکم ہے ، غذا  کی بھی ہمارے پاس کوئی کمی نہیں، مسلمانوں  کا ستھراؤ ہوچکا ہے، ان کے باقی لوگ زخمی ہیں، مُجَّاعہ کا مشورہ  مت مانو،صلح کرنے سے اس کامقصد خالد کی قید سے رہائی پانا ہے۔’’  جوابی تقریر  کرتے ہوئے مجّاعہ نے کہا : بھائیو! میری بات سنو اور سَلمہ  کی رائے پر عمل نہ کرو مجھے ڈر ہے کہیں تم پر وہ مصیبت نہ آجائے جس کا شُر حبیل بن سَلمہ 2؎  (2؎ پہلے اسی اندیشہ کی نسبت محکم بن طفیل کی طرف کی گئی ہے دیکھئے ) نے اندیشہ ظاہر کیا  تھا،یعنی  یہ کہ تمہاری عورتیں پکڑی جائیں اور مسلمان زبردستی  ان سے ہم بسترہوں ۔’’ بنو حنیفہ  نے مُجَّاعہ کا کہا مانا اور صلح کی توثیق کردی ۔

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/khurshid-ahmad-fariq/tarikh-e-ridda-part--12--(تاریخ-ردّہ-حصہ-(-12/d/98685

 

Loading..

Loading..