New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 05:02 PM

Urdu Section ( 11 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

Tarikh-e-Ridda Part- 10 (تاریخ ردّہ حصہ ( 10

 

خورشید احمد فارق

بُطاح 1؎ سے خالد بن ولید  کے ہَراول دستے بھیجنے کا ذکر

(1؎ سلمیٰ اور آجاکے شمال مشرق میں قید کے قریب نجد کا ایک کارواں اسٹیشن  مدینہ سے بصرہ کی راہ پر)

جب خالد بن ولید بُطاح سے چل کر بنو یمّم کے علاقہ  میں داخل ہوئے تو انہوں نے دو سو سواروں  پر مشتمل  ہراول دستے  مَعن بن عَدِی عَجلائی 2؎ کی  قیادت میں بھیجے (2؎ صحابی، جنگ یمامہ میں مارے گئے ۔ اسیتعاب 1/271) اور ان کی رہبری کےلئے فُرات  بن حَیان  عِجلیٰ 1؎  (1؎ صحابی ، رہبری  کے فن میں  بڑے ہوشیار تھے ۔ اصابہ 3/ 201)  کو مامور کیا، دو جاسوس  بھی مقرر کئے ایک مِکنف بن زید الخیل طائی اور دوسرا  ان کا بھائی،  واقدی : خالد رضی اللہ عنہ   جب عِرض 2؎ (2؎ عِرض کمسرعین مہملہ ، وادی  یمامہ  اس میں برساتی پانی بہتا تھا اور یہ شمال سے جنوب  کی طرف پھیلی ہوئی تھی،  اس کے زیر ین حصہ میں یمامہ واقع تھا ۔ معجم البلدان 6/146۔147) پہنچے تو انہوں نے  دو سو سواروں پر مشتمل چند ٹولیاں  بھیجیں او رکہا کہ جو  ملے اس کو پکڑ لو، یہ ٹولیاں  روانہ ہوئیں اور مُجّاعہ بن  مَرارہ حَنَفی کو اس کے تئیس ہم قوموں کی ہمراہی  میں پکڑ لیا، یہ لوگ  ایک نُمیری عرب  کے تعاقب میں نکلے تھے جس نے ان کے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا، ان کو خالد رضی اللہ عنہ کی پیش قدمی کا علم نہ تھا، ٹولیوں کو انہوں نے بتایا کہ ہمارا تعلق بنو حنیفہ  سے ہے، مسلمان سمجھ رہے تھے کہ یہ مُسیلمہ  کی طرف سے خالد رضی اللہ عنہ  کے پاس بھیجے ہوئے سفیر ہیں، جب  صبح ہوئی اور پسماندہ  فوج آگئی تو یہ ہراول  ٹولیاں  مُجّاعہ اور اس کے ساتھیوں  کو خالد رضی اللہ عنہ  کے پاس لے کر آئیں ، وہ بھی سمجھے تھے کہ یہ مُسیلمہ  کے قاصد ہیں،  انہوں نے پوچھا : ‘‘ تمہاری مُسیلمہ  کے بارےمیں کیا رائے ہے؟’’  مُجَّاعہ : بخدا میں ایک نُمَیری عرب کے تعاقب میں نکلا تھا جس نے ہمارا ایک آدمی مار ڈالا تھا ، مجھے مُسیلمہ  سے کوئی عقیدت  یا قربت  نہیں ہے،  میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  جاکر اسلام قبول  کرچکا ہوں اور ا س پر بدستور قائم ہوں۔’’ خالد رضی اللہ عنہ  نے مُجّاعہ کے ساتھیوں  کو ایک ایک کرکے قتل کرانا شروع کیا، جب ساریہ بن مسیلمہ  بن عامر 3؎  (3؎ متن میں اسی طرح ہے لیکن ہونا  چاہئے ساریہ عمر و الحنفی جیسا کہ ابن حجرنے تصریح کی ہے۔ اصابہ 3/363 و 2/107) کی باری آئی تو اس نے کہا : ‘‘ خالد ! تم اہل یمامہ کے ساتھ بُرا کرو یا بھلا ، مُجَّاعہ کو نہ مارنا کیونکہ وہ جنگ  ہویا صلح  دونوں حالتوں میں تمہارے کام آئے گا ’’۔ مُجَّاعہ  ذی اثر آدمی تھا، خالد رضی اللہ عنہ  نے اس کو قتل نہیں  کیا، خود ساریہ  اور اس کی باتیں ان کو اتنی  پسند آئیں  کہ اس کی جان بھی بخش دی، لیکن  انہوں نے دونوں  کے بیڑیاں  ڈلوادیں ، خالد رضی اللہ عنہ  مُجَّاعہ  کو وقتاً فوقتاً  بلا کر اس سے باتیں  کیا کرتے، اور وہ خیال  کرتا کہ اس کو قتل کردیں گے ، ایک گفتگو کے دوران مُجَّاعہ نے کہا : ‘‘  ابن مغیرہ !میں مسلمان ہوں  ، میں نے اپنا مذہب نہیں چھوڑا  ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے ملا تھا اور  مسلمان  ہوکر لوٹا میں لڑنے کے لئے نہیں نکلا تھا ’’۔

اس نے نمیری عرب  کے تعاقب  کی بات  پھر دہرائی  ، خالد : قتل  اور ترکِ قتل کے درمیان  ایک منزل ہے اور وہ ہے قید،  میں تم کو اس وقت تک قید رکھوں گا جب تک آنے والی جنگ  کا فیصلہ  نہ ہوجائے ،’’خالد رضی اللہ عنہ  نے مجَّاعہ کواپنی بیوی  اُمّ متمم 1؎ (1؎ زیادہ مشہور یہ ہے کہ اس کا نام امّ متمم تھا۔) کے حوالہ کردیا ، جس سے مالک بن نُوَ یرہ کو قتل کرکے انہوں نے شادی  کرلی تھی ، اُم متمم  کو انہوں نے تاکید  کردی  ‘‘ مُجَّاعہ  کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں ’’ مُجَّاعہ  نے خیال کیاکہ مجھے  قید میں  رکھنے  سے خالد رضی اللہ عنہ  کامقصد یہ ہے کہ آنے والی جنگ میں مجھ سے مشورہ لیں   اور بنو حنیف  کے حالات معلوم کریں ، اس نے خالد رضی اللہ عنہ  سے کہا : ‘‘جس  کو تم سے اندیشہ  ہوگا وہ کیا آج او رکیا کل  تم سے برابر ڈرتارہے گا اور جس کو تم سے بھلائی  کی امید  ہوگی کیا آج او رکیا کل ہر وقت  تم سے بھلائی ہی کی توقع  رکھے گا، مجھے تم سے  امید  ہو کر ان کےہاتھ پر وفاداری اسلام کی بیعت  کرچکا ہوں ، پھر وطن  لوٹا اور بدستور اسلام پر قائم  ہوں، اگر ایک جھوٹے مدعی  نے ہماری  قوم میں سراٹھایا تو خدا کے اس  قول  کے بموجب کہ  لاَ تزِرُ وَاِز رَۃ وِزرَا ُٔ خریٰ 2؎ (2؎ کسی بے گناہ سے دوسرے کے گناہ  پر مواخذہ  نہیں کیا جاسکتا ) ۔ اس کی ہم پر کیا ذمہ داری  ہے؟ تم نے میرے ساتھیوں کے مارنے میں بڑی عجلت  کی ، جلدی  میں اکثر کام غلط ہوتے ہیں ‘‘خالد : ‘‘ تم نے  وہ مذہب چھوڑ دیا ہے جو کل  اختیار کیا تھا،  تم جیسے چوٹی  کے معزز آدمی کا اس کذاب کی نبوت  پر رضا مندی اور سکوت جب کہ تم کو میری پیش قدمی کاعلم بھی ہوچکا تھا ، اس کی نبوت تسلیم کرنے کے برابر ہے، تم نے وہ روش کیوں اختیار کی جس پر تمہاری  گرفت ہوئی ، تم نے بنو حنیفہ کو اسلام کا وفادار رکھنے کےلئے دوسروں کی طرح  تقریریں کیوں نہیں  کیں،ثمامہ بن اُثال اور عُمیر یشکُری نے کیں، اگر تم کہو کہ مجھے  بنو حنیفہ  کی طرف سے اندیشہ  تھا تو تم میرے پاس کیوں نہ چلے آئے ، یا تم نے مجھے  خط کیوں نہیں لکھا یا میرے پاس کوئی قاصد کیوں نہ بھیجا  ، حالانکہ  تم کو اہل بزُاخہ سے میری جنگ اور اُن  کی شکست فاش کا حال معلوم تھا او ریہ بھی  کہ میں فوج  کے ساتھ تمہاری طرف بڑھا  آرہا ہوں ۔’’

مُجَّاعہ:ابن مغیرہ ، اگر تم میری یہ لغرشیں معاف کردو تو بہتر ہے۔’’ خالد رضی اللہ عنہ : میں نے تمہاری  جان بخشی  کی لیکن مُسیلمہ  کے بارے میں تمہاری خاموشی سے ہنوز  میرے دل میں تمہاری  طرف سے  شبہ ہے   ( اور میں تم کو گرفتار رکھوں گا)؟ مُجّاعہ : تم  نے میری  جان بخش دی تو اب مجھے  قید کا خوف نہیں ہے۔’’ خالد رضی اللہ عنہ  جب کہیں پڑا  ؤ  ڈالتے تو مُجّاعہ کو بلاتے  اور ا س کے ساتھ کھانا کھاتے او رباتیں  کرتے، ایک دن انہوں نے  مُجّاعہ سے پوچھا : ‘‘ یاد ہو تو بتاؤ مُسیلمہ  تم کو کیسی  وحی سنایا کرتا تھا؟ ’’ مُجَّاعہ  نے اس کی مزعومہ  وحی کو کچھ  رجزیہ آیتیں سُنائیں ۔ خالد رضی اللہ عنہ  نے  ہاتھ  پر ہاتھ مار کر حقارت آمیز انداز سےکہا : ‘‘ مسلمانو! سننا وزا دشمن خدا کی وحی جس سے وہ قرآن کا مقابلہ  کرتا ہے۔’’ پھر مُجَّاعہ سے مخاطب  ہوکر : تم سمجھ دار اور  معزّز آدمی ہو کلام اللہ سنو اور پھر دشمن خدا کا کلام  دیکھو جس سے وہ قرآن کا مقابلہ کرتا ہے ، یہ کہہ کر خالد رضی اللہ عنہ  نے مُجّاعہ کو سَبحّ آسْمَ رَبَّکَ الأ  علےٰ ، پڑھ کر سنائی ، مُجَّاعہ : ایک لکھا پڑھا بحریئی عرب مُسیلمہ  کا بڑا  مقرب تھا، وہ ہمارے  پاس آتا او رکہتا : ‘‘ تمہارا بُرا ہو یمامہ والو! تمہارا لیڈر بخدا کذّاب ہے، میرا  خیال ہے کہ تم اس سے میرے تقریب کو دیکھتے ہوئے اس کے بارےمیں میری رائے کو غلط بیانی پر محمول  نہیں کروگے، بخد ا وہ دروغ باف اور باطل فروش ہے۔’’ خالد رضی اللہ عنہ : ‘‘اُس بحرینی  نے  کیا کیا؟ مُجّاعہ : وہ بھاگ گیا ، وہ برابر مُسیلمہ  کے جھوٹ  او رباطل کا پردہ چاک کرتا تھا، اس کو اندیشہ  تھا کہیں مسیلمہ اس کو مارنہ  ڈالے اس لئے وہ بھاگ کر نجد چلا گیا ۔’’خالد رضی اللہ عنہ : اس مقرب کی باتوں  سے بھی بنو حنیفہ کی آنکھیں  نہ کھُلیں  ،اس  جنیث  کی دروغ بافیا ں  سناؤ ’’۔مُجَّاعہ : أخرج لکم حِنطۃً  ذُرَۃَ ورَ طباً و تمراً 1؎ ۔ (1؎ خدا نے تمہارے لئے گیہوں   ،مکئی ، سبزی او رکھجور  پیدا کی۔) خالد رضی اللہ عنہ : ‘‘ اور تم ا س کلام کو منزل من  اللہ سمجھتے  رہے ؟’’ مُجّاعہ : اگر حق نہ سمجھتے  تو د س ہزار  سے زیادہ  جا نباز جن سے کل تمہارا  مقابلہ ہوگا ، اس کے جھنڈے  تلے  جمع نہ ہوجاتے ’’ خالد رضی اللہ عنہ : خدا ان کو ٹھکانے  لگائے گا اور اپنے دین کا بول بالا کرے گا ان کی لڑائی دراصل  خدا اور اس کے دین سے ہے۔’’

اُمَوی ( ابن اسحاق) کی کتاب ( المغازی) میں ہے: پھر خالد رضی اللہ عنہ  روانہ ہوئے اور یمامہ  کی ایک وادی  میں اپنا خیمہ لگایا، بنو حنیفہ  مسیلمہ  کے ساتھ مسلمانوں کا مقابلہ کرنے نکل آئے، عبید اللہ  بن عبداللہ بن  عتبہ 2؎ : ( 2؎ مدنی، تابعی، فقیہ ، محدث ، مفتی  ، شاعر 94ھ کے لگ بھگ انتقال  ہوا۔ تہذیب التہذیب 7/23۔24) جب خالد رضی اللہ عنہ  یمامہ  کےقریب پہنچے اور عَقربا 3؎ ( 3؎ یمامہ کے سرے پر ایک کارواں اسٹیشن  ۔ یہاں مسیلمہ خیمہ زن تھا، یمامہ  کے کھیت اور باغ عقرباء  کے عقب میں تھے ۔ معجم البلدان 6/193۔194)۔ میں  پڑاؤ ڈالنے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے ہر اول دستے آگے   بھیج دیئے  انہوں نے واپس آکر خبر دی کہ مسیلمہ  اور اس کی فوج پہلے ہی  سے عَقربا میں خیمہ زن  ہے،خالد رضی اللہ عنہ  نے اپنے مشیروں  سے صلاح کی کہ آیا یمامہ  کی طرف پیش قدمی کریں یا خود  بھی عَقربا ،جاکر خیمہ لگائیں، طے پایا کہ عقرباء جاکر اتر ے ، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پہلے خالد رضی اللہ عنہ  نے عقرباء میں اپنا کیمپ لگایا اور پھر مسیلمہ  نے ، اور ایک قول یہ ہے کہ دونوں بیک  وقت وہاں فروکش ہوئے۔’’  راویوں کا بیان ہے کہ مسلمان برابر  رَجّال  بن عُنفُو ہ کے بارے میں پوچھ گچھ کررہے تھے،  عَقرباء پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ وہ مسیلمہ کی ہراول  فوج کا سالار  ہے، انہوں نے اس کو خوب لعنت ملامت کی، جب خالد رضی اللہ عنہ اپنا کیمپ  لگا چکے اور بنو حنیفہ  نے اپنی صفیں درست کرلیں تو خالد رضی اللہ عنہ اپنی صفوں  کی طرف گئے اور زید رضی اللہ عنہ بن خطّاب کو اپنا جھنڈا دے کر آگے بڑھا دیا اور انصار کا جھنڈا ثابت  بن قیس بن شمَّاس  ( لیڈر انصار) کے حوالہ کیا،وہ اس کو لے کر بڑھ گئے ، اپنے میمنہ پر ابو حُذیفہ 1؎ (1؎ بدری صحابی، جنگ یمامہ  مارے گئے ۔ استیعاب 2/634۔635)بن عُتبہ  بن رَبیعہ  کو اور میسرہ پر شجاع بن دہب2؎ (2؎ بدری صحابی  ، جنگ یمامہ  میں مارے گئے اصابہ 2/128) اور گھوڑا فوج پر برا ء بن مالک 3؎ کو مقرر کیا، (3؎ صحابی اور جنگ  یمامہ کے ایک ہیر و، عمر فاروق رضی اللہ عنہ  کے آخری عہد میں تُستَر کی جنگ میں شہید ہوئے ، اصابہ 1/143) پھر بَرا ء  کو ہٹاکر ان کی جگہ  اُسامہ بن زید 4؎ کو مامور کیا (4؎ دیکھئے فٹ نوٹ 1،13)( اسٹیل ) کی ہیں ،  صبح ٹھنڈی  تھی،  ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں ٹوٹ نہ جائیں اس لئے ہم نے مناسب  سمجھا کہ تم سے لڑنے تک ان کو گرما لیں، عنقریب تم کو معلوم  ہوجائے گا کہ ہم بزدل ہیں یا بہادر ’’۔

سخت لڑائی ہوئی ، دونوں فریق  پامردی سے ڈٹے رہے ، اُن کے  بہت سے  لوگ مرے او ربہت سے گھائل  ہوئے،مسلمانوں  میں پہلے مالک  بن أوس 1؎ (1؎ متن میں مالک بن آزور ہے جو غلط ہے، مالک انصاری صحابی تھے ۔استیعاب 1/245) ( نبو ر عُورا 2؎ والے ) (2؎ متن میں زغُورا ء بغین  معجمہ  ، زعوراء بعین مہملہ مالک کے ایک دادا کا نام تھا )تھے جن کو مُحکم بن طفیل  نے مارا،  قرآن خواں صحابہ  کو دشمن  نے برُی  طرح گھیر  لیا،  معدودے  چند کو چھوڑ  کر وہ سب  کے سب  کھیت رہے ، دونوں فریق کئی بار  پسپا ہوئے ، مسلمان مشرکوں  کے اور مشرک مسلمانوں  کے کیمپ  میں کئی دفعہ گھس  آئے، جب  مسلمان اپنا  کیمپ چھوڑ کر پسپا ہوئے  او ربنو حنیفہ  اس میں گھس پڑے  تو انہوں نے چاہا کہ مُجَّاعہ کو لے جائیں  لیکن چونکہ اُس  کے بیڑیاں  پڑی  تھیں اور  مسلمانوں کی ترکتازی بھی برابر  جاری تھی، وہ لے جانے  میں کامیاب نہ ہوئے ، جوابی  حملہ کر کے مسلمان پھر کیمپ پر قابض ہوئے تو وہ  کہتے ہوئے مُجّاعہ  کو قتل کرنے  جھپٹے : ‘‘ قتل کردو دشمن خدا کو ، یہ  اُن کا سرغنہ  ہے،اگر بنو حنیفہ  کی اس تک رسائی  ہوگئی تو وہ اس  کو اٹھالے جائیں گے’’ ۔ مسلمانوں نے مُجَّاعہ پر تلوار سونتی تو خالد رضی اللہ عنہ  کی بیوی  اُم مُتمم  کو بنو حنیفہ سے بچایا تھا، جب خالد رضی اللہ عنہ  نے مُجَّاعہ کو اُم مُتمم  کے حوالہ کر کے اس کے ساتھ اچھے برتاؤ  کی تاکید کی تھی تو مُجَّاعہ   نے اُم مُتمم سے کہا  تھا ‘  ‘‘ کیا تم عہد کرتی ہو کہ اگر میری طرف کے لوگ فتحیاب ہوں تو تم  میری پناہ  میں رہوگی او راگر تم لوگ فتحیاب  ہوں تو تم مجھے اپنی پناہ  میں لوگی؟’’ اُم مُتمم نے یہ عہد کرلیاتھا۔

عِکرِ مہ 1؎ دین ( ابی جہل): (1؎ 8ھ میں فتح کے بعد مسلمان ہوئے ، 11ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے قبائل  کا محصل زکاۃ  مقرر کیا، ابو صدیق رضی اللہ عنہ  کے زمانہ میں رِدّہ بغاوتیں  فرد کرنے میں اہم خدمت  انجام دی، شام کی ایک لڑائی میں مارے گئے 12ھ استیعاب 2/56) بنو حنفیہ  نے حملہ  میں پہل کی اور غالب رہے، خالد رضی اللہ عنہ  بن ولید اپنے تخت  پر تھے، بنو حنیفہ  ان کے پاس پہنچ گئے ، خالد رضی اللہ عنہ  نے تلوار سونتی  اور حملہ آوروں  پر ایسے ٹوٹے  کہ ان کو پیچھے  ہٹنا پڑا خالد رضی اللہ عنہ نے اُن کے بہت  سے سپاہی مار ڈالے، بنو حنیفہ نے پھر حملہ کیا اور خالد رضی اللہ عنہ کے شامیانہ  میں داخل  ہوئے تو اُن  کے ایک سپاہی نے اُم مُتمم کو قتل  کرنا چاہا   اور اس پر تلوار  اٹھائی  تو اس نے مُجَّاعہ کی پناہ  لی، مُجَّاعہ  نے حملہ آورووں  پر لعن طعن  کی او رکہا : ‘‘ مردوں کو چھوڑ کر تم عورتوں پر ہاتھ صاف کرنے آئے ہو، جاؤ  مردوں  سے لڑو۔’’  حملہ آور لوٹ گئے ، اس دن ثابت  بن قیس رضی اللہ عنہ  جن کے ہاتھ  میں انصار کا جھنڈا تھاکہتے : مسلمانو!  بڑے شرم کی بات ہے کہ تم بار بار پسپا  ہورہے رہو ۔’’ بھرتی  کی ساری فوج میں بھگدڑ پڑگئی اور بنو حنیفہ  نے سورماؤں  کو دبالیا ، زید بن خطّاب رضی اللہ  عنہ جن کے پاس خالد بن ولید رضی اللہ عنہ 2؎ کا جھنڈا تھا، (2؎ یعنی مہاجرین  قریش کا) کہتے: ‘‘ رنگروٹ بھاگے سو بھاگے ، سورما  بھی آج سورما  نہیں رہے،  مالک میں اپنے ساتھیوں  کے فرار  پر تجھ  سے معذرت خواہ ہوں اور مُسیلمہ   نیز مُحکم  بن طفیل  کے مذہب  سےاظہار  بیزاری  کرتا ہوں ۔’’  وہ جھنڈا لے کر بھاگے اور دشمن کی  صف میں گھس گئے ، تلوار  سے لڑے  او رمارے گئے  ، رحمہ اللہ ۔جھنڈا گر پڑا ، اس کو سالم 3؎ (3؎ بدری صحابی) مولی اَبی حُذیفہ 4؎ (4؎ صحابی اور معزز قریشی، جنگ یمامہ  میں قتل ہوئے)  نے اٹھالیا، فوج کے لوگوں  نے کہا : ‘‘ ہمیں  اندیشہ ہے کہ بنو حنیفہ  سامنے سے ہم پر ٹوٹ پڑیں گے۔’’ اس پر سالم رضی اللہ عنہ بولے: اگر میں  حافظ قرآن ہوکر  ایسا کرنے دوں توتف ہے مجھ پر !’’ انصار نے ثابت بن قیس کو للکار کر کہا : ‘‘ خوب مضبوط تھامے رہنا جھنڈا ،گرنے نہ پائے ، فوج کادم خم اسی پر موقوف ہے۔’’  سالم مولی  ابی حذیفہ  جن کے ہاتھ  میں مہاجرین  کاجھنڈا  تھا آگے  بڑھے  اور نصف  پنڈلی گڈھا  کھودا اور ایسا ہی ایک گڑھا ثابت بن قیس  نے اپنے لئے بنایا ، دونوں نے اپنے اپنے جھنڈے  مضبوط تھام  لئے، اسلامی فوج بنو  حنیفہ  کے دھاووں  سے جدھر  منہ اٹھتا بھاگ  جاتی،  لیکن سالم رضی اللہ عنہ  اور ثابت رضی اللہ عنہ چٹان کی طرح جمے رہے،  پہلے سالم رضی اللہ عنہ  شہید ہوئے پھر ابو حُذیفہ رضی اللہ عنہ  کے پیر کے پاس،  سالم کے قتل کے بعد دیر  تک جھنڈا پڑا رہا ، کسی نے اس کو نہیں اٹھایا ، پھر یزید بن قیس 1؎ ایک بدری  صحابی بڑھے اور اسے اٹھایا، (1؎ متن میں  اسی طرح ہے، ابن حجرنے  ان کا نام زید بن  اُقیش دیا ہے، ابن اسحاق نے زید بن قیس اور زُہری نے یزید بن قیس ۔ اصابہ 1/566) وہ بھی  مارے گئے، پھر حَکم رضی اللہ عنہ بن سعید  بن عاص رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھایا وہ گھنٹوں  لڑے اور جھنڈا  گرنے نہ دیا،  پھر وہ بھی شہید ہوئے۔

وحشی رضی اللہ عنہ 3؎ ( 3؎ حرب حبشی، تلوار  بازی میں کمال  کی مہارت تھی، جنگ  احد میں انہی کے ہاتھ سے رسول اللہ کےچچا  حمزہ رضی اللہ عنہ مارے گئے تھے ، عثمان غنی کی خلافت میں بمقام  حمص  وفات پائی ۔ اصابہ 3/ 631): بنو حنفیہ  سے ہمارا  بڑا ہی سخت مقابلہ  ہوا، انہوں نے  ہماری فوج  کے تین بار پیر  اکھیڑ دیئے ، چوتھی بار مسلمانوں  نے جوابی  حملہ کیا،  خدا کی عنایت  ہمارے  شامل  حال رہی، مسلمانوں  کے پیر جمے رہے  ، انہوں نے تلواروں  کے سامنے  منہ نہ موڑ ا ،دونوں  فریقوں  کی تلواریں  ایسی پڑتیں  کہ ان میں سے مجھے چنگاریاں  نکلتی نظر آتیں  اور گھنٹوں  کی سی آواز   یں بلند  ہوتیں، آخر کار  خدا نے ہماری یاد ری کی،  بنو حنیفہ  کو شکست  ہوئی اور مُسیلمہ مارا گیا، اس دن میں نے  اتنی تلوار چلائی کہ دشمن کے خون  سے میری تلوار کا دستہ رنگ گیا۔’’

( عبداللہ ) ابن عمر رضی اللہ عنہ : ‘‘ میں نے عَّمار  ببن یاسِر 1؎ کو دیکھا کہ وہ ایک چٹان پر چڑھ گئے اور چیخ رہے ہیں : (1؎ بدری صحابی،  جنگ صفین  میں مارے گئے ، 37ھ) ‘‘ مسلمانو! کیا جنت  سےبھاگ رہے ہو؟ میں عَّمار بن یاسِر ہوں، آؤ  میرے پاس ۔’’ میں نے دیکھا کہ ان کا ایک کان کٹ گیا ہے ( اور  کنپٹی کے نیچے) لٹک رہا ہے۔’’

شریک فَزاری2؎ (2؎ دیکھئے فٹ نوٹ 1، 70): جب ہمارا مقابلہ ہوا تو  دونوں  فریقوں نے جس صبر اور پامردی  کامظاہرہ کیا اس کی نظیر نہیں ملتی ، تلوار  کے  وار ہوتے لیکن  قدم ذرا اپنی جگہ سے نہ ہٹتے  ، پرانے  آزمودہ کار مخلص مسلمان  آگے بڑھتے  اور مار دیئے جاتے ، دشمن کی تلوار  دیر تک ہمیں کاٹتی رہی ، ہم  بھاگ گئے   ، ہم تین بار پسپا ہوئے اور بنو حنیفہ صرف ایک  بار ، جب ہم نے ان کو ایسا دبا یا کہ وہ باغ  یعنی باغ ِ موت میں پناہ لینے  پر مجبور ہوگئے۔’’

رافع 3؎ بن خُدَیج (3؎ دیکھئے فٹ نوٹ 2،67) : ہم دنَیت 4؎ (4؎ متن میں نییت  بالیا، بدل البار، انصار کی شاخ: عمر و بن  مالک بن آوس معجم البلدان 8/464)  کے نوّے آدمی جنگ  یمامہ میں شریک  تھے، ہمارا  مقابلہ ایک ایسے  دشمن سے ہوا جو ہتھیار  وں  کے سامنے منہ نہ موڑ تاتھا، سب ملا کر چار ہزار مسلمان  تھے ، اور اتنی یا اس کے لگ بھگ بنو حنیفہ کی فوج بھی تھی  ، مقابلہ ہوا تو بڑی  شد و مد سے ہمارے اور ان کے درمیان تلوار یں چلنے لگیں ، ہاتھ  اور سر اُڑنے لگے اور فریقین  کے  ایسے گہرے زخم  لگے جیسے زندگی بھر  میں نے نہ دیکھے تھے میں عَبَّا د بن  بِشر 5؎  (5؎ بدری صحابی  جنگ یمامہ میں شہید  ہوئے ۔ اصابہ 8/464) کو دیکھتا جو اس زور سے وار کرتے کہ اُن  کی تلوار ہنسئے کی طرح مڑ جاتی تھی، اس کو گھٹنے پر رکھ کر وہ سیدھا کرتے، اس اثناء میں کوئی  حنفی  ان کے سامنے آتا اور جب وہ تلوار کے کئی وار ایک دوسرے  پر کر لیتے تو عَبَّاد اس کے کندھے پرتلوار  کا ایک بھرپور ہاتھ مارتے جس سے ان کا پھیپھڑا کھل جاتا، عَبَّاد آگے  بڑھ جاتے  میں اس مجرح حَنِفی  کے پاس سے گزرتا، وہ آخری سانسیں لیتا ہوتا ، میں اس کو ٹھکانے لگادیتا ، پھر میں عَبَّاد  کو دیکھتا  کہ چار وں طرف تلواریں ان  پر پڑریں  ہیں ، ان کا پیٹ  پھاڑ دیا جاتا ہے اور بے جان گر پڑتے ہیں  بنو حنیفہ  خار کھائے ان کے قتل پر تلے ہوئے تھے کیونکہ انہوں نے ان کے بہت سے جوان مار ڈالے تھے ، میں نے اپنے  نَبِیت کے ساتھیوں کو آواز دی اور عبَّاد کے اِرد گرِد کھڑے ہوکر ان کے قاتلوں  کو مارنے لگے ، لاشوں  کے ڈھیر لگ گئے یہ دیکھ کر میں  نے کہا : ‘‘ خدا تم  کو جہنم رسید کرے۔’’

 ضمرہ بن سعید مازِنی 1؎ (1؎ انصاری  ، تابعی ، تہذیب  التہذیب 4/461): جیسی بنو حنیفہ نے مسلمانوں کو زک دی ویسی کی دشمن نے نہیں دی تھی، وہ قاتل  موت لے کر ان کے سامنے آئے  اور ایسی تلوار یں جن کو تیر اور نیزوں سے پہلے انہوں نے سونت  لیا تھا ، مسلمانوں  نے پامردی سے ان کا مقا بلہ کیا لیکن  حقیقت یہ ہے کہ اس دن پرانے آزمودہ کار ضحابہ  نے عزّت بچالی، عَبَّاد بن بِشر للکارنے اور تلوار کے جوہر دکھاتے حالانکہ زخموں سے ان کا جسم چور تھا، وہ خارشی چیتے کی طرح مچلتے پھرتے  اور  کسی حنفی  سے جو بپھرے اونٹ  کی طرح آپے سے باہر ہوتا مقابل ہوتے تو وہ  کہتا : ‘‘ آجا خزرجی! کیا تو سمجھتا  ہے کہ ہم ویسے  ہی ہیں جیسے وہ لوگ جن سے پہلے تیرا سابقہ  پڑا تھا؟ یہ سن کر عَبَّاد اس کی طرف بڑھتے  لیکن قبل اس کے کہ وہ  حملہ  کریں حنفی تلوار  کا وار کر دیتا ، جس سے خود اس کی تلوار ٹوٹ جاتی ، اور عَبَّاد کا بال بیکا  نہ ہوتا،  عَبَّاد  وار کرکے اس کے پیر کاٹ ڈالتے اور آگے بڑھ جاتے ، وہ بمشکل گھٹنوں  کے بل اٹھتا اور پکار تا : ‘‘ شریف زادے  میرا خاتمہ کرتا جا!’’ عَبَّاد لوٹ پڑتے اور اس کا سراتار دیتے، پھر کوئی  دوسرا حنفی  پہلے کی جگہ لے لیتا اور دونوں گھوم پھر کر ایک دوسرے  پر حملے  کرتے اور عبّاد جن جسم زخموں سے چھلنی  ہوتا،تلوار کا ایسا وار کرتے کہ اس کاپھیپھڑا نکل پڑتا او رکہتے ‘‘ لے میرا یہ وار میں ہوں ابن وَقش 1؎! (1؎ عبَّاد کے دادا۔)  ‘‘ پھر وہ بنو حنیفہ  کو کاٹتے اور ان کے ٹکڑے کرتے آگے بڑھ جاتے ، یہ مشہور  تھا کہ اُس دن عبَّاد رضی اللہ عنہ نے دشمن  کے بیس  سے زیادہ آدمی مارے اور بہت سوں کو زخمی کیا، ایک عمر رسید ہ حنفی  نے مجھے بتایا کہ میرے قبیلہ  کے لوگوں کو عبَّاد یا وہیں ، جب وہ کوئی زخم دیکھتے  ہیں تو کہتے ہیں ، ‘‘ یہ مُجرب قوم عبَّاد بن بِشر کالگا یا ہوا ہے۔’’

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/khurshid-ahmad-fariq/tarikh-e-ridda-part--10--(تاریخ-ردّہ-حصہ-(-10/d/98523

 

Loading..

Loading..