New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 04:53 PM

Urdu Section ( 25 Dec 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔8)

19دسمبر،2025

خواجہ معین الدین چشتیؒ کانام زبان پر آتے ہی ایک ایسے ’مرکز انسانیت‘ کا تصور ذہن میں جگمگا اٹھتاہے جس کی مجلس سے انسان دوستی اور دردمندی خلق کے سوتے اُبلتے تھے اور سماج کے جس گوشہ میں یہ نکلتے تھے محبت وخلوص کی ایک نئی دنیا وجود میں آجاتی تھی۔سا ت سو سال سے زائد بیت چکے ہیں، لیکن آج بھی فضاؤں میں ان کے پیغام محبت کی گونج باقی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے۔

سالہا گوش جہاں زمزمہ زا خواہد بود

زیں نواہا کہ دریں گنبد گردوں نودہ است

بادشاہ اور فقیر، عالم اور جاہل، صوفی اورجوگی، مرد اور عورت، ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی، شہری اور دیہاتی سب ہی نے ان کی یاد تازہ رکھا ہے اور خراج عقیدت پیش کیا ہے۔شہنشاہ اکبرنے پاپیادہ ان کے آستانہ پرحاضری دی ہے تو شاہزادی جہاں آرا نے اپنی پلکوں سے مزار کی صفائی کی ہے۔کتنے ہی تشنگان معرفت ہیں جنہوں نے درگاہ کے روح پرور ماحول میں تزکیہ باطن کا سامان تلاش کیا ہے۔ان عقیدت مندوں کی تعداد کا تو اندازہ بھی لگانا مشکل ہے جن کو زمانہ کی تپش اورحالات کے بے رحمی نے جب عاجز او ربے بس کردیا تو اس آستانہ نے اپنے دامن ان کے لیے اس طرح کھول دیئے جیسے پیاسے کو پکارے کسی دریا کا خروش۔

اس عالمگیر عقیدت اور ارادت کا راز خواجہ اجمیریؒ کی وہ زندگی ہے جس کا ایک ایک لمحہ مظلوم او ربے کس انسانوں کی دردمندی میں بسر ہوتاتھا اور ان کا وہ پیغام محبت ہے جو انسانی سماج کو ایک برادری سمجھ کر ایک رشتہ الفت میں پرونا چاہتاتھا۔ایسے محب انسانیت کی یاد سے آج بھی ہماری قومی زندگی کی گزرگاہیں روشن ہیں۔

خواجہ معین الدین چشتیؒ 1143ء کے لگ بھگ سجستان میں پیدا ہوئے تھے۔ اسی نسبت سے وہ سجزی کہلاتے ہیں۔ گوبعض لاپرواہ کاتبوں نے ایک نقطہ کو ذرا ہٹا کر سجزی کا سنجری بنادیا ہے اور یہ غلط فہمی عام ہوگئی ہے۔ان کے والد ماجد خواجہ غیاث الدین حسن کے پاس ایک پن چکّی اور باغ تھا۔خواجہ اجمیریؒ کی عمر پندرہ سال کی ہوگی کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اب اس کے صدمہ سے دل نہیں ٹھہراتھاکہ ترکان غز کے حملوں نے سجستان میں ایک قیامت برپا کردی۔ وہاں کے شاداب اور زرخیز علاقے بنجراور ویران ہوگئے۔ ان حالات نے خواجہ اجمیریؒ کے دل اور دماغ پراثر کیا۔ دنیوی مال اوردولت سے ایک گونہ نفرت پیدا ہوگئی اور وہ اپنی پوری جائداد کو محتاجوں میں تقسیم کرکے اس طرح اٹھ کھڑے ہوئے گویا کچھ رکھتے ہی نہ تھے۔مولانا جمالی نے سولہویں صدی کے شروع میں جب سجستان کادورہ کیا اور وہاں ان کے حالات کی تحقیق کی، تو معلوم ہواکہ دنیا سے دل سرد ہوجانے کا باعث ایک مجذوب ابراہیم قندوزیؒ تھے، جو ایک دن اتفاقیہ ان کے باغ میں آنکلے تھے اور ان کی نظرکیمیا اثر نے خواجہ صاحبؒ کی زندگی کی کایا پلٹ دی تھی۔ بہرحال وطن کو خیر باد کہا تو سمر قند اور بخارا کے علمی مرکزوں نے دامن کو کھینچ لیا۔کچھ عرصہ تحصیل علم میں مصروف رہے قرآن پاک حفظ کیا اور اس زمانہ کے بعض مشاہیر علماء کی خدمت میں حاضری دی، اور جو دامن دنیوی مال ومتاع سے خالی کرچکے تھے، اس کو علم کی دولت سے بھرلیا۔لیکن یہ دولت بھی کسی اعلیٰ مقصد کی چاکری میں لگانی تھی۔چنانچہ ایک ایسے مرشد کی تلاش ہوئی جو ان کی شخصیت کا رُخ متعین کرسکے۔عراق جاتے ہوئے نیشا پورکے ایک قصبہ ہرون سے گزرہوا۔ یہاں خواجہ عثمانؒ کی بزرگی کا شہرہ کانوں تک پہنچا۔ان کی مجلس میں حاضر ہوئے تو ایسا محسوس کیاگویا روزِ اول سے ان ہی کی تلاش میں پھر رہے تھے۔ فوراً ان کے دامن تربیت سے وابستہ ہوگئے اور دن رات ان کی خدمت میں رہنے لگے۔ مرشد سفر پرجاتے۔تو ان کا سامان سرپررکھ کر چلتے، جب کہیں قیام کرتے تو ان کے آرام وآسائش کی فکر میں لگ جاتے۔ 20 سال تک اسی طرح شب وروز ان کی خدمت کرتے رہے۔مرشد کی اس طویل صحبت نے سونے پرسہاگے کا کام کیا اور ان کی ساری روحانی صلاحیتوں کو جلا مل گئی۔اب خواجہ عثمان ہرونیؒنے اپنے سفر بند کردیئے،لیکن مرید کو تنہا سفر کرنے کی ہدایت کی۔چنانچہ خواجہ اجمیریؒ اس زمانے کے تقریباً ہر بڑے علمی اور تہذیبی مرکز میں پہنچے اور وہاں کے حالات کاجائزہ لیا۔شیخ نجم الدین کبریؒ اور شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے اخذ فیض کیا۔ سمرقند، بخارا، بغداد، نیشا پور، تبریز، اوش، اصفہان، سبزدرہ، مہنہ، خرقان اور استرآباد کے علما، ومشایخ کی مجلسوں میں پہنچے۔وہاں کے لوگوں فکری رجحانات اور سماجی کردار کو سمجھا او رایک ایسے سماج کے ذہنی ابتری اور اخلاقی انتشار کااندازہ لگایا جو چند ہی سال بعد منگولوں کے ہاتھوں تہ و بالاہونے والا تھا۔

انسانی سیرت او رکردار کا یہ عظیم لشان معمار اب خوداپنی سیرت کی تعمیر سے فارغ ہوچکا تھااور وقت آگیا تھاکہ اپنی پوری صلاحیتیں معاشرہ کی اصلاح میں لگادے۔ایک روحانی اشارے نے ان کا رُخ ہندوستان کی طرف پھیر دیا اورانہوں نے راجستھا ن کے سب سے مشہور شہر اجمیر میں ڈیرہ ڈالا۔ یہ پرتھوی راج کا عہد حکومت تھا۔ ذات پات کے امتیاز ات نے سماج زندگی میں ایک ابتری اور انتشار پیدا کررکھا تھا۔ خواجہ صاحبؒ نے سب کو اخوت اور محبت کاپیغام سنایا۔ایک طرف نیچی ذات کے لوگوں میں خودی اور خودداری کا جذبہ بیدار کیا تو دوسری طرف اعلیٰ ذات کے لوگوں کو اپنی انسان دوستی سے ایسا گرویدہ بنالیا کہ وہ انتہا ئے عقیدت میں اپنے آپ کو حسینی برہمن کہنے لگے۔

خواجہ اجمیریؒ کی زندگی بہت سادہ لیکن انتہائی دلکش تھی۔ وہ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں پھٹی ہوئی دھوتی میں لپٹے ہوئے بیٹھے رہتے تھے۔دھوتی کہیں سے پھٹ جاتی تو جوکپڑا بھی میسر آتا اس کا پیوند لگا لیتے۔ پانچ مثقال سے زیادہ وزن کی روٹی کبھی افطار میں میسر نہ آتی لیکن نظر کی تاثیر کا یہ عالم رہاکہ جس کی طرف دیکھ لیا معصیت کے سوتے اس کی زندگی میں خشک ہوگئے اور وہ ان کاحلقہ بگوش بن گیا۔ اقبال نے سچ کہاہے۔

نہیں فقر وسلطنت میں کوئی امتیاز ایسا

یہ سپہ کی تیغ بازی وہ نگہ کی تیغ بازی

لیکن اس نگاہ کی تیغ بازی کے پیچھے ان کا وہ دل درد مند تھاجو ہر مصیبت زدہ کی تکلیف پرتڑپ اٹھتا تھا۔

خواجہ اجمیریؒ کا خیال تھا کہ انسانی سماج میں فوزو کامرانی، خوشی اور خوشحالی کاانحصار صرف اس پر ہے کہ انسان برائی کا بدلہ بھلائی سے دینے کی ہمت اور طاقت پیدا کرے۔ خود ان کی زندگی اس اصول کی آئینہ دار تھی۔ ایک شخص ایذا پہنچانے کی نیت سے چھری لے کر آیا، انہوں نے خندہ پیشانی سے اس کو اپنے پاس بٹھالیا اور فرمایا:”جس ارادہ سے آئے ہو اس کو پورا کرو“۔ یہ جملہ سننا تھا کہ اس شخص پر ایک کیفیت سی طاری ہوگئی۔(جاری)

19دسمبر،2025، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-8/d/138162

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..