خلیق احمد نظامی
(حصہ۔77)
28 فروری،2026
انسانیت کیا ہے؟ ہمسایوں کے غم میں جلنے کا نام، عدن کے باغ میں ہوتے ہوئے سمومِ نجد کے جھونکوں کی تپش کو محسوس کرنا/ دوسرے انسانوں کی ذلت و خواری دیکھ کر خود اپنے آپ کو ذلیل و خوار سمجھنے لگنا،
باغ میں ہوتے ہوئے قیدخانہ کی محنت کے تصور سے دل کا پریشان ہوجانا/تخت مصر پر ہوتے ہوئے کنعان کی اس آگ کی تپش کو محسوس کرنا جس نے چمنوں اور باغوں کو جلا ڈالا۔
آدمیت کا یہی معیار شاہ محمد سلیمان تونسویؒ کے سامنے تھا جب انہوں نے نہایت درد سے فرمایا تھا ’’آدمی شدن بسیار مشکل است‘‘۔۱۲
صوفیہ نے اسی مشکل کام پر اپنی صلاحیتوں کو لگا دیا تھا۔

صوفیہ کے سماجی نظریات اور روابط کی اساس یہ دو اصول تھے جن کے گرد اُن کے فکر و عمل کی ساری دنیا تعمیر ہوئی تھی :
— تَخْلُقّوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ — اَلْخَلْقُ عَیَالُ اللّٰہِ
تَخْلُقّوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ کے معنی یہ ہیں کہ سب انسانی رشتے شانِ ربوبیت سے رنگ و بو حاصل کریں۔ جس طرح اللہ کی ربوبیت سب انسانوں بلکہ پوری کائناتِ ہستی کو بلا کسی تفریق و امتیاز اپنی فیض رسانیوں سے مالامال کرتی ہے اسی طرح انسانوں کو اپنے مادی وسائل ہی نہیں بلکہ دل و دماغ کی ساری صلاحیتیں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے عام کردینی چاہئیں۔ سورج نکلتا ہے تو محل اور جھونپڑے یکساں طور پر اس سے روشنی اور گرمی پاتے ہیں۔ زمین کا آغوش ہر وقت ہر ذی روح کے لیے کھلا رہتا ہے۔ اس کے دامن میں شاہ و گدا، عابد و عاصی، عارف و عامی، سب ہی کو یکساں امان ملتی ہے۔ بادل اٹھتے ہیں تو امیر و غریب، ہندو اور مسلمان سب کا دامنِ مراد بھر دیتے ہیں۔ دریاؤں کا سیلِ کرم کسی کی تشنہ لبی سے چشم پوشی نہیں کرتا۔ نظامِ ربوبیت کے یہ تمام مظاہر انسان کو اس کے فرائض سے آگاہ کرتے ہیں۔ نیابت خداوندی کا مقصد بھی یہی ہے۔ نظامِ ربوبیت سب کے لیے یکساں ہے۔ اس کے افادہ اور فیضان میں کبھی کوئی فرق نہیں ہوتا، اور نہ کبھی سنت اللہ میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒؒ فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو دریا جیسی سخاوت، آفتاب جیسی شفقت اور زمین جیسی تواضع پیدا کرنی چاہیے۔۱۳
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم نے ’رحمۃ للعالمین‘ کہا ہے:
وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃَ لِلَّعَالَمِیْنَ۱۴
اللہ نے اپنی ربوبیت اور رسول کی رحمت کے دائرے ایک رکھے ہیں۔ وہ خود رب العالمین ہے اور اس کا رسول رحمۃ للعالمین۔ جس طرح اللہ کی ربوبیت ہر ذی روح کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اسی طرح رسول کی رحمت کا دائرہ بھی پھیلا ہوا ہے۔ جس طرح ربوبیت نے افادہ و فیضان کے دروازے سب کے لیے یکساں کھول دیے ہیں اسی طرح رسول کو بھی ساری مخلوق کے لیے رحمت بناکر بھیجا گیا ہے۔ داراشکوہ نے ایک بار صابریہ سلسلہ کے مشہور بزرگ حضرت شاہ محب اللہ الٰہ آبادیؒ سے دریافت کیا کہ کیا مسلمان حکومت ہندو اور مسلمان میں فرق کرسکتی ہے؟ جواب میں فرمایا : ’’نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین بناکر بھیجا گیا تھا، اور سنتِ رسول یہی ہے کہ فیضانِ عام رہے اور رحمت و شفقت کے دروازے کسی ذی روح کے لیے بند نہ ہوں‘‘۔
’اَلْخَلْقُ عَیَالُ اللّٰہِ‘کا مفہوم یہ ہے کہ سب انسانوں کو ایک برادری اور کنبہ سمجھا جائے۔ مصنوعی حدبندیوں اور قیود سے بالاتر ہوکر انسانیت کی سطح پر روابط و تعلقات قائم کیے جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث جو ’سننِ ابو داؤد‘ میں نقل ہوئی ہے صوفیہ نقل کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر شب میں اپنے رب سے جو سرگوشیاں اور دعاء و مناجات کرتے تھے اس میں ایک فقرہ یہ تھا :أَنَا شَھِیْدٌ أَنَّ الْعِبَادَ کُلَّھُمْ اِخْوَۃٌ۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سب بندے بھائی بھائی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں سارے انسان ایک کنبہ کی مانند تھے۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ یہ حدیث نقل فرمایا کرتے تھے کہ اَلْخَلْقُ عَیَالُ اللّٰہِ فَأَحَبُّ الْخَلْقَ اِلیٰ مِنْ أَحسَن اِلٰی عَیَالِہٖ۔۱۵صوفیہ اسی سنت رسول پر عمل کرتے ہوئے انسانی کنبہ کی وحدت کا سبق دیتے تھے۔ ملفوظات میں ایک اعرابی کا ذکر ہے کہ وہ دعا مانگا کرتا تھا کہ اے اللہ! تو مجھ پر رحم فرما اور محمد رسول اللہ پر، اور ہم دونوں کے ساتھ کسی پر رحم نہ فرما۔ رسول اللہؐ نے سنا تو فرمایا کہ تو نے ایک وسیع چیز کو محدود کیسے کردیا؟ خدا کی رحمت عام ہے۔ ایسی دعا نہیں کرنی چاہیے۔۱۶شیخ نظام الدین اولیاءؒ اس تصور کی وضاحت کے لیے ایک واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام بغیر کسی کو کھانے میں شریک کیے کھانا نہ کھاتے تھے۔ ایک دن ایک مشرک ان کے ساتھ تھا۔ اس کو شریک طعام کرنے میں ان کو تأمل ہوا۔ فوراً وحی الٰہی نازل ہوئی : ’’اے ابراہیم! ہم اس شخص کو جان دے سکتے ہیں اور تو روٹی نہیں دے سکتا۔‘‘ اس ایک حکایت میں غیرمسلموں سے تعلق اور روابط کا وہ سبق ہے جس سے صوفیہ نے اپنے انسانی روابط کو تقویت بخشی تھی۔
انسانی برادری کو ایک رشتۂ الفت میں پرونا اور سماج کے مختلف عناصر میں شگفتہ تعلقات پیدا کرنا صوفیہ کے نزدیک ایک اہم دینی فریضہ تھا، جو کارِ نبوت کی مسلسل اور نہ ختم ہونے والی ذمہ داری تھی۔ وہ کہتے تھے کہ حیاتِ معنوی اللہ کے بندوں کے ساتھ حسنِ معاملہ کا برتاؤ کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ ایک دن شیخ نظام الدین اولیاءؒ نے فرمایا :’’اتنے علماء اور دانش ور (دنیا میں) ہو گزرے ہیں۔ کون جانتا ہے کہ کہاں گئے اور کیا تھے۔ شہرت جو باقی رہتی ہے وہ حسنِ معاملہ کے باعث ہوتی ہے اور یہ ہی حیات معنوی ہے‘‘۔
جس نے اللہ کی مخلوق سے حسنِ معاملہ کا برتاؤ کیا اس کا نقش جریدۂ عالم پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہوگیا۔
جن مشایخ کے سماجی نظریات کی بنیاد ان اصولوں پر ہو اُن کے فکر و عمل کی بلندیوں، انسانی ہمدردی کی وسعتوں، اور خدمتِ خلق کے جذبے کی بے پایانی کا اندازہ لگانے کے لیے ہمیں دوسرے پیمانے وضع کرنے ہوں گے۔ بھوکوں کے تصور سے جن کے حلق میں نوالے اٹکتے ہوں، جن کے دل دوسروں کے دکھ درد کو سن کر غم سے بوجھل ہوجائیں، ان کو عام پیمانوں سے نہیں ناپا جاسکتا۔ ان ہی نظریات کی پیداوار ان کا تصورِ عبادت تھا۔ انہوں نے خدمتِ خلق کو عبادت سے اونچا درجہ دیا تھا۔
شیخ جمال الدین ہانسویؒ نے اعلان کیا کہ صوفی کا مقصد کثرتِ صلوٰۃ و صوم سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ یہ صرف خلق خدا کی حاجت روائی سے حاصل ہوتا ہے۔ اس انقلابی تصور نے سماجی زندگی کے تعینات کا رخ بدل دیا۔ (جاری)
------------------
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-50 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-51 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-52 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-53 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-54 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-55 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-56 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-57 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-58 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-59 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-60 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-61 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-62 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-63 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-64 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-65 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-66 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-67 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-68 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-69 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-70 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-71 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-72 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-73 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-74 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-75 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-76 تصوف اور صوفیہ
URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-77/d/139140
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism