خلیق احمد نظامی
(حصہ۔76)
27 فروری،2026
اسی باطنی تقاضے اور قوت کے زیر اثر صوفیہ کبھی انسان کی تلاش میں ’انسانم آرزدست‘ کی صدابلند کرتے ہوئے نکلتے،کبھی دوسروں کے غموں کا بوجھ اپنے دل پرطاری کرکے بارگاہ خداوندی میں د عائیں کرتے۔ قلوب انسانی کو راحت پہنچانا ان کے لیے عبادت سے بڑھ کرتھا۔ انسان ا ن کی نظروں میں فطرت کاشاہکار، اخلاقی اور روحانی اقدار کا امین اور اس کرہئ ارضی پراللہ کا خلیفہ تھا۔ وہ انسان کو اس کی حقیقی مسند یعنی آدم گری کی مسند پرجلوہ آرا دیکھناچاہتے تھے۔کہتے تھے کہ یہ زمین،یہ آسمان، یہ ستارے، یہ فضائے نیلگوں، یہ روز وشب جو نقش گرجادثات معلوم ہوتے ہیں، سب انسان کے تابع ہیں۔ جیسا کہ خود قرآن پاک میں اعلان فرمایا گیا ہے:
وَ سَخَّرَ لَکُم مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الاَرضِ جَمِیعًا مِّنہُ
او رکچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس کو اللہ نے اپنی طرف سے تمہارا مسخر کردیا۔

جس انسان نے بنی آدم میں اعلیٰ روحانی اور اخلاقی قدروں کا احساس بیدار کرکے انسانیت کی سطح کو بلند کرنے کی کوشش نہیں کی، وہ تخلیق آدم کا مقصد نہیں سمجھا۔انسان کی فلاح اور انسانیت کی بقا کے لیے اس کی جدوجہد خوداس کے ارتفاع روحانی کے لیے راستہ ہموار کرتی ہے۔ وہ اللہ کے بندوں کی خدمت کے ذریعہ اللہ تک پہنچتا ہے۔امیر خسروؒ نے انسانو ں کے بڑھنے اورانسانیت کے گھٹنے پراپنے رنج کا اظہار کیا ہے۔ او رانسان کواپناحقیقی مقام حاصل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے لکھاہے۔
مرتبہ بجو کہ برآنی بہ ماہ
ایسا مرتبہ حاصل کرلے کہ چاند تک پہنچ جائے
خسروؒ کو کیامعلوم تھاکہ ایک دن انسان چاند پر قدم توضرور رکھے گا،لیکن یہ انسانیت کا ارتقا نہ ہوگا بلکہ اس کی محرومیوں کا نیا باب شروع ہوگا۔ وہ انسانیت کو ہلاکت او رتباہی سے بچانے کے بجائے خود اس کی تباہی او ربربادی کا سامان مہیا کرے گا، اور جس شاخ پرخود بیٹھا ہے اسی کو کاٹنا شروع کردے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ صوفیہ کے کاموں کا اصل مرکز ومحور انسان تھا۔ان کا ہاتھ ہمیشہ سماج کی نبض پررہتا تھا۔امام غزالیؒ ہوں یا شیخ عبدالقادر گیلانیؒ، شیح شہاب الدین سہروردیؒ ہوں یا شیخ سعدیؒ، رومیؒ ہوں یا عراقیؒ، ان کی کوشش تھی کہ سماج کا اخلاقی توازن اور اس کی روحانی توانائی کوقائم رکھنے میں کوئی دقیقہ اٹھا کر نہ رکھا جائے۔ تصوف کی بہتر ین کتابوں کا حقیقی پس منظر انسان کی فلاح وبہبود کے پژمردہ پودوں کی آبیاری کے سوا کچھ نہیں۔ شیخ گیلانیؒ نے اپنے مواعظ سے، جن کے کچھ مجموعے آج بھی دستیاب ہیں، معصیت کے سوتے خشک کردیئے تھے۔ یہ کام اسی وقت انجام پاسکتا تھا جب سماج کے حالات پرگہری نظر ہو۔ بابا فرید گنج شکرؒ روزانہ کے حالات معتبر مریدین سے دریافت فرماتے۔ شیخ نظام الدین اولیاؒ ء امیر خسروؒ سے سارے دن کی روئداد رات کو سنتے۔جب شیخ نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے اپنے مرشد سے اجازت چاہی کہ شہر چھوڑ کر کسی ویرانہ میں مصروف عبادت ہوجائیں تو فرمایا: ”نہیں،تمہیں لوگوں ہی کے درمیان رہنا ہوگا او ران کی جفا وقفا سہنی ہوگی“۔پنڈوہ میں شیخ نور قطب عالمؒ، احمد آباد میں شیخ احمد مغربیؒ،دکن میں شیخ برُہان الدین غریبؒ اور سید محمد گیسودرازؒ کی زندگیاں انسان کی فلاح وبہبود کے لیے جدوجہد میں بسر ہوئیں۔ مشایخ کا خیال تھاکہ جس شخص نے سماج سے اپنا رشتہ توڑا اس نے اپنی روحانی سربلندی کی راہیں بندکرلیں۔اللہ تک پہنچنے کا راستہ اس کی مخلوق کے کوچوں سے ہوکر گزرا ہے۔ جس نے ادھر سے منہ موڑا،منزل پرکبھی نہیں پہنچ سکے گا۔ شیخ سعدیؒ نے ساری صوفی فکر کا خلاصہ ایک شعر میں پیش کردیا ہے۔
طریقت بجز خدمتِ خلق نیست
بہ تسبیح و سجادہ ودلق نیست
قرون وسطیٰ میں سلاطین کی فوجیں اقلیم ودیار کی فتح میں مصرو ف نظرآتی ہیں، تو صوفیہ کی نظریں اقلیم دل کی تسخیر پرجمی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ایک طرف سپہ کی تیغ بازی تھی،دوسری طرف نگاہ کی تیغ بازی۔ایک طرف انسان کے دل توڑے اور دوسری طرف جوڑے جاتے تھے۔بقول اقبال۔
رہے نہ ایبک وغوری کے معرکے باقی
ہمیشہ تازہ وشیریں ہے کلام خسرو
کسی شخص نے بابا فرید شیخ شکرؒ کو چاقو پیش کیا۔فرمایا: ”مجھے چاقو نہیں، مجھے سوئی چاہیے۔ میں کاٹتا نہیں، جوڑتا ہوں“۔ انہوں نے مدت العمر گریبان کا چاک ہویا ٹوٹا ہوا دل، سب کو سیا۔ وہ اللہ کی مخلوق کو ایک رشتہئ الفت میں پرونے او ران میں اتحاد ومحبت پیداکرنے کو اپنی زندگی کااہم ترین فریضہ سمجھ کر انجام دیتے تھے۔ ان کی خاموش زندگیاں زبان حال سے پکارتی تھیں۔
مرا فقر بہتر ہے اسکندری سے
یہ آدم گری ہے، وہ آئینہ سازی
جب ملک کافوردکن سے زرو جواہر کے خزانے او رمال ودولت کے بے پناہ ذخیرے لے کر دہلی آیا تو یہ دولت چبوترہ ناصری پراس طرح سجادی گئی کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔ جب شیخ نظام الدین اولیاؒ ء کو اس کی اطلاع ملی تو فرمایا:”دولت کا صحیح استعمال تو یہ ہے کہ عوام کے فائدے کیلئے استعمال کی جائے“۔ عوام کا مفادان کی نظرمیں سب سے بلند وبالا تھا۔ مورخین نے ایلتتمش کی قشون قاہرہ کی خاک دہلی سے مالوہ تک اڑتی ہوئی دیکھی لیکن شیخ نظام الدین اولیاؒ ء کی مجلس میں جب اس کاذکر آیا تو فرمایا کہ اس کی بخشش حوض شمسی بنانے کی وجہ سے ہوئی کہ اس طرح رچ بس گئے تھے کہ وہ ہر عمل کو اسی پرجانچتے تھے۔ ان کی کوشش تھی کہ انسان اپنے حقیقی مقام کو سمجھے او روہ انسانیت کی بقا اور تحفظ کے لیے اپنی ساری صلاحیتیں صرف کردے۔ انسانیت کے معنی ان کی نظرمیں دوسروں کی خاطراپنی جان کو مصیبت اور اذیت میں ڈالنے کے تھے۔
چیست انسانی؟ تپیدن در غم ہمسائیگاں
از سموم نجد در باغ عدن پژمان شدن
خوار دیدن خویش را از حواریئ ابنائے جنس
در شبستاں تنگ دل ازمحنت زنداں شدن
آتشے قحطے کہ در کنعان بسوزو باغ وکشت
برفراز تخت مصر از تاب آں بریاں شدن
(جاری)
----------------
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-50 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-51 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-52 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-53 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-54 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-55 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-56 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-57 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-58 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-59 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-60 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-61 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-62 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-63 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-64 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-65 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-66 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-67 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-68 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-69 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-70 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-71 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-72 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-73 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-74 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-75 تصوف اور صوفیہ
URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-76/d/139126
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism