خلیق احمد نظامی
(حصہ۔74)
25 فروری،2026
ہندوستان میں شیخ اکبرؒ کے نظریات اور کتابوں کے سلسلہ میں مشایخ کی احتیاط
ہندوستان کے مشایخ اورصوفیاء نے شیخ اکبرؒ کے نظریات اور تصنیفات کابڑا پرُجوش خیرمقدم کیا تھا۔ چشتیہ سلسلہ کے مشایخ کا وحدت وجود پرایمان تھا۔لیکن اس تمام عقیدت اور ارادت کے باوجود وہ عوام کو اس کے مطالعہ کی دعوت دینا سخت ناپسند کرتے تھے۔ا ن کاخیال تھاکہ وحدت الوجود کی کل گفتگو اس قدر نازک ہے کہ عوام اس کو پوری طرح نہیں سمجھ سکتے اور ایسی صورت میں گمراہی او ربے دینی کاپیدا ہوجانالازمی امر ہے۔شاہ نور محمد صاحب مہارویؒ، جن کا وحدت الوجود پر ایمان راسخ تھا، فرمایا کرتے تھے:”براممِ ماضیہ کہ حوادث واقع می شدند محض برائے اظہار وحدت وجود“۔

چنانچہ اس خیال کے پیش نظر مشایخ نے جواحتیاطیں برتیں وہ یہ تھیں۔
(1) مشایخ نے اس مسئلہ پر(یعنی وحدت وجود پر) گفتگو کی سخت ممانعت کردی تھی۔ شاہ کلیم اللہ صاحب شاہ جہاں آبادیؒ ایک مکتوب میں اپنے خلیفہ شیخ نظام الدین اورنگ آبادیؒ کو ہدایت کرتے ہیں:
”مسئلہ وحدت وجود راپیش ہر آشنا بے گانہ نخواہیدبرزبان آورد۔“
حافظ محمدعلی صاحب خیر آبادیؒ ا س معاملہ میں اتنی سختی برتتے تھے کہ وحدت وجود پرگفتگو کو ’الحاد وزندقہ“ کہاکرتے تھے۔ یادرہے کہ وحدت الوجود پر ان کاایمان کامل تھا۔
(2) ہر کس وناکس کو شیخ اکبرؒ کی کتابوں کے مطالعہ کی اجازت نہ ملتی تھی۔ خیال کیاجاتاتھا کہ جب تک ’فصوص الحکم‘ کی قرأت کسی صاحب نظر بزرگ کے سامنیب نہ کی جائے اس کا سمجھنا دشوار ہے۔محمد غوثیؒ کے ایک بیان سے ایسا معلوم ہوتاہے کہ ’فصوص الحکم‘ کو پڑھانے کے لیے باقاعدہ سند حاصل کی جاتی تھی۔ خواجہ محمد سلیمان تونسویؒ نے اپنے ایک مرید کو’فصوص الحکم‘ کا در س اپنا حجرہ ہند کراکردیاتھا۔
(3) ’فصو ص الحکم‘ کی زیادہ تر شرحیں عربی میں لکھی گئی ہیں۔میرے خیال میں علماء ومشایخ نے عربی کا انتخاب بھی مصلحتاً کیا تھا۔ وہ عوام کو اس نازک گفتگو میں شریک کرنا نہیں چاہتے تھے۔ شاہ فخرالدین صاحب دہلویؒ نے ’فصوص‘ کی شرح فارسی میں اسی لیے نہیں لکھی کہ عوام اس کو ٹھیک طرح نہ سمجھ سکیں گے، پھرغلط فہمی پیدا ہوگی۔
(4) مشایخ ’فصوص الحکم‘ کادرس دینے سے اس لیے بھی گریز کرتے تھے کہ ان کی نظرمیں ’فصوص‘ کا معاملہ دماغ سے نہیں، دل سے تھا۔ اس کو مطالعہ کرنا ایک کیفیت کو اپنے اوپر طاری کرنا تھا۔
خواجہ یعقوب بن خواجہ بن خواجگیؒ (798ھ/1396ء) کا طرزعمل اس کو پوری طرح واضح کرتاہے۔’گلزار‘ میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ قاضی کمال الدین نے خواجہ سے ’فصوص الحکم‘ کا درس دینے کی درخواست کی۔ فرمایا: ”اس کے واسطے پڑھانے والے، پڑھنے والے یا شاہ وقت، تینوں میں اس ایک کو اپنی جان دینی پڑتی ہے“۔
میرا خیال ہے کہ شیخ اکبرؒ کی کتابیں جو ہندوستان میں ’مثنوی رومی‘ اور تصانیف حضرت امام غزالیؒ کی طرح ہر کس وناکس کے مطالعہ میں نہیں رہیں، اس کی وجہ زیادہ تر علماء ومشایخ کی یہ پابندیاں ہی تھیں۔انہوں نے شیخ اکبرؒ کے فلسفہ وحدت الوجود کو عوام کی فہم سے بالاتر سمجھ کر ان کو اس میں شریک نہیں کیا۔ خو د وہ اپنے لیے وحدت الوجود پراعتقاد کوایمان کالازمی جزوسمجھتے تھے، لیکن عوام کے لیے اس کو سم قاتل۔
مسئلہ وحدت الوجود پرعوام سے گفتگو
ان تمام پابندیوں کے باوجود بعض مشایخ اور صوفیاء نے شیخ اکبرؒ کے نظریات اور مسئلہ وحدت الوجود پرعوام سے گفتگو کرنی شروع کردی۔ سب سے پہلے ہندوستان میں جس بزرگ نے وحدت الوجود کو عام گفتگو کا مبحث بنایا وہ مسعود بک تھے۔ یہ فیروز شاہ تغلق کازمانہ تھا۔عوام کو اس گفتگو میں شریک کرنے کا نتیجہ یہ ہواکہ ’اناالحق‘ کی صدا ئیں بلند ہونے لگیں۔ سلطان فیروز تغلق نے ’فتوحات فیروزشاہی‘ میں ایسے چند لوگوں کاذکرکیاہے۔ایک شخص احمدبہاری کے متعلق لکھاہے:”وطائفہ از بہاء اور اخدامی گفتند“۔
پھر گجرات کے ایک شخص کے متعلق لکھاہے: کلمہ اناالحق فی گفت“ جاہل انسانوں سے ان صداؤں کااندیشہ تھاجس کی وجہ سے مشایخ اسلام نے مسئلہ وحدت وجود پربحث کرنے کی ممانعت کی تھی۔ ان حالات میں اسلامی سوسائٹی کاشیرازہ منتشر ہوجانا لازمی امر تھا۔ اسلامی سوسائٹی کی اساس وبنیاد شریعت ہے۔
پھرکچھ عرصہ کے بعد حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہیؒ کادور شروع ہوا۔انہوں نے بھی شیخ اکبرؒ کے نظریات پربرسرِ عام گفتگو کی۔اپنے مکتوبات میں حالانکہ انہوں نے یہ لکھا ہے کہ اس مسئلہ کے لکھنے کا سبب مسلمانوں کی غفلت تھی، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ا س کا اثر عوام پر کچھ اچھا نہ پڑا۔ خود شیخ گنگوہیؒ بڑے عظیم المرتبت بزرگ تھے۔ انہوں نے سینکڑوں گمراہوں کا سدّ بات کیا اور وحدت الوجود پرعوام میں گفتگو سے جو خرابیاں پیدا ہوسکتی تھیں ان کا بھی ازالہ کیا۔لیکن ان کے بعد ایک عوام مذہبی انتشار پیدا ہوگیا۔شیخ اکبرؒ کی کتابیں مشایخ کے ہاتھ سے نکل عوام تک پہنچ گئیں۔ محمد غوثیؒ نے دولت خاں لودی کے لڑکے کا واقعہ لکھاہے کہ وہ شیخ اکبرؒ کی ایک عبادت کامفہوم سمجھنے کے لی سید احمد افغان کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔
شیخ امان اللہ پانی پتیؒ دوسرے عظیم المرتبت بزرگ ہیں جنہوں نے شیخ اکبرؒ کے نظریات پر عوام سے گفتگو کی۔انہوں نے اسرارِ حقیقت کو فاش کرنے کابیڑا اٹھایا تھا۔’گلزارابرار‘ کامصنف لکھتا ہے:
”وحدت جوود کے بارے میں آپ کی تحقیقات سے شیخ محی الدین ابن عربیؒ کا زمانہ یادآتا تھا۔ فصوص اور فتوحات وغیرہ کتب صوفیہ کی تمام مشکلات بآسانی بیان فرمایا کرتے تھے۔“
شیخ پانی پتیؒ پر’مشرب توحید‘ اس طر ح غالب تھا کہ ان کی صحبت میں پہنچ کر ان کے نظریات سے متاثر نہ ہونا تقریباً نا ممکن تھا۔ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ کے والد ماجد شیخ سیف الدین صاحبؒ جب ان کی خدمت میں پہنچے تھے تو
”عالم از دست بدوست وہمہ اوست“
کے نعرے لگانے لگے تھے۔
پھرشاہ محب اللہ الہٰ آبادیؒ کی خانقاہ وحدت الوجود کے نعروں کے گونج اٹھی۔اورنگ زیب نے ان کے بعض رسائل (مثلاً ’کتاب تسویہ‘) کو عوام کے لیے مضر سمجھ کر ضائع کرادیا تھا۔(جاری)
-----------------
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-50 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-51 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-52 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-53 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-54 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-55 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-56 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-57 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-58 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-59 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-60 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-61 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-62 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-63 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-64 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-65 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-66 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-67 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-68 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-69 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-70 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-71 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-72 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-73 تصوف اور صوفیہ
URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-74/d/139096
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism