New Age Islam
Sat Apr 04 2026, 04:37 AM

Urdu Section ( 28 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-71 تصوف اور صوفیہ

 

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔71)

22 فروری،2026

شیخ اکبرؒ کے حالات

560ھ مطابق 1164ء کو شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ اسپین کے مشہور شہرمرسیہ میں پیدا ہوئے۔

زندگی گفت کہ درخاک تپیدم ہمہ عمر

تا ازیں گنبدِ دیرینہ درے پیدا شد

یہ زمانہ وہ تھاجب اسپین اپنے عروج شباب کا دو ختم کرچکا تھا۔ ہر طرف ابتری اورطوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی۔ شیخ اکبرؒ کا خاندان مذہبی تقدس کی وجہ سے مشہو رتھا۔ ان کے والد ماجد علی بن الحاتمیؒ اور دوچچا صوفی مشرب او رپاکیزہ خصلت کے بزرگ تھے۔ مرسیہ میں لوگ ان کی بڑی عزت اور احترام کرتے تھے۔ شیخ ابوبکرؒ سے قرآن وحدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعدا شبیلیہ چلے گئے،او روہاں مشاہیر صوفیاء کی صحبت سے مستفیض ہوئے۔ اشبیلیہ سے شیخ اکبرؒ کو کچھ ایسی دلچسپی ہوگئی کہ اسی کو اپنا مستقر بنالیا۔ لیکن مساعد حالات نے وہاں زیادہ قیام کاموقع نہ دیا۔ اسپین کے ہر گوشہ میں شیخ اکبرؒ پہنچے اور وہاں کے حالات کابغور مطالعہ کیا۔ قرطبہ میں ابن رشد سے ملاقات ہوئی۔ 598 ھ/ 1201ء میں شیخ اکبرؒ نے مغرب کو خیر باد کہا اور مشرق کی راہ لی۔ مصر، حجاز، بغداد، ایشائے کو چک ہر ہر جگہ گئے۔ لیکن ان کے نظریا ت میں کچھ ایسی ندرت اور سختی تھی کہ کسی جگہ لوگوں نے ان کو چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ عمرکا بیشتر حصہ اسی مسافرانہ حالت میں گزرا۔ یہاں تک کہ 638ھ/ 1240ء میں جان جان آفرین کے سپرد کردی۔ پروفیسر محمدحبیب نے لکھا ہے:

”ان کی زندگی ایک طویل سفر تھی۔ جنوبی اسپین سے شمالی افریقہ کے کنارے کنارے مکہ تک، مکہ سے ترکی اناطولیہ میں قونیہ تک، او رپھر وہاں سے واپس دمشق تک۔دمشق ان کی آخری منزل تھی، جہاں وہ مدفون ہیں۔“

شیخ اکبرؒ کے مخالفین نے ان کی تصویر کچھ ایسے رنگوں میں کھینچی ہے کہ یہ محسوس ہوتاہے کہ شیخ پر ہمیشہ سُکر کا عالم طاری رہتاتھا۔ دنیا و مافیہا سے وہ کوئی تعلق نہ رکھتے تھے۔ شریعت وسنت سے بے اعتنائی ان کا شعار تھا۔ یہ خیال انتہائی غلط او رگمراہ کن ہے۔شیخ اکبرؒ کامرتبہ بہ حیثیت ایک عالم حدیث کے بہت بلند ہے۔انہوں نے ملّت کی شیر ازہ بندی اور احیاءِ دین کے لیے جو عظیم الشان خدمات انجام دی ہیں اور اسلامی تاریخ میں آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔مسلمانوں کی پریشاں حالی کو دیکھ کر جس کا یہ حال ہوگیا ہو۔

کتبتُ کتابی والدموع تسیل

ومالی ألیٰ ما أرتصیہ سبیل

أرید أری دین النبی محمد

یقام ودین المبطلین یزول

میں اپنا خط لکھ رہا ہوں او رآنسو بہہ رہے ہیں اورمیرے بس میں نہیں کہ ان کو راضی کروں چاہتاہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو دیکھو ں کہ وہ بلند کیا جائے اورجھوٹوں کا دین مٹ جائے اس کے قلب وجگر کے اضطراب کااندازہ کون کرسکتا ہے!شیخ اکبرؒ کے متعلق امام ذہنی کا یہ قول یاد رکھنے کا ہے:

”انہ کان عالما بالاثار والسنن، قوی المشار کتہ فی العلوم، وقولی فیہ انہ یجوز ان یکون من اولیا ء اللہ الذین احتذبھم الحق الی جنابہ عندالموت وختموابالحسنی۔“

وہ آثار واحادیث کے عالم تھے او رعلوم میں انہیں محکم دستگاہ حاصل تھی۔ میرا قول ان کی نسبت یہ ہے کہ کچھ عجب نہیں کہ وہ ان اولیاء اللہ میں سے ہوں جن کو جاذبہئ الہٰی اپنی طرف کھنچ لیتاہے اور ان کا خاتمہ بخیر ہوتا ہے۔

شیخ کی تصانیف

شیخ اکبرؒ، اکثیر التصانیف بزرگ تھے۔انہوں نے اپنی تصانیف کا ایک بیشتر بہا ذخیرہ چھوڑا تھا۔ مولانا جامیؒ نے ان کی تصانیف کی تعداد 500 بتائی ہے۔بروکلمان (Brockelmann) نے ان کی ڈیڑھ سو ایسی تصانیف کی فہرست دی ہے جو اب بھی دستیاب ہیں۔ شیخ کی ان سب کتابوں میں ”فوص الحکم‘ اور’فتوحات مکیہ‘ کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ شیخ کے نظریات او رعقائد کا نچوڑ ان ہی کتابوں میں ملتاہے۔

شیخ اکبرؒ کے فلسفہ کا مرکزی نقطہ وحدت الوجود ہے۔ مختصر اً اس کے معنی ہیں کہ خدا کے سوا کائنات میں کوئی چیز موجود ہی نہیں، یا یہ کہ جو کچھ موجود ہے سب خدا ہی ہے۔ اہل ظاہر کے نزدیک خدا سلسلہ کائنات سے بالکل لگ ایک جداگانہ ذات ہے۔ صوفیاء کے نزدیک خدا سلسلہئ کائنات سے الگ نہیں۔

باوحدت حق زکثرت خلق چہ باک

صد جائے اگر گرہ زنی رشتہ یکیست

دھاگے میں جو گرہیں لگادی جاتی ہیں، ان کاوجود اگر چہ دھاگے سے ممتاز نظرآتاہے لیکن فی الواقع دھاگے کے سوا گرہ گوئی زائد چیز نہیں، صرف صورت بدل گئی ہے۔

شیخ اکبرؒ تصنیفات ہندوستان میں

شیخ اکبرؒ کی تصنیفات ہندوستان میں کب اور کس ذریعہ سے پہنچیں؟اس سوال کے جواب میں مندرجہ ذیل اُمور پرغور کرنا ہے۔

(1) شیخ کے خیالات اور تصنیفات کے ہندوستان میں پہنچنے کے کیا کیاذریعے ہوسکتے تھے؟

(2) شیخ اکبرؒ کا نام اور ان کی تصانیف کے حوالے ہندوستان کے مذہبی لٹریچر میں کب سے ملتے ہیں؟

(3)شیخْ کے نظریات کا باقاعدہ اثرکب سے اور کن تصانیف میں محسوس ہوتاہے؟

شیخ محی الدین ابن عربیؒ کی امام فخرالدین رازیؒ سے بعض اہم نظریات پرخط وکتابت ہوئی تھی۔امام رازیؒ کے متعلق ہمیں یہ معلوم ہے کہ سلطا ن شہاب الدین محمد غوری کے دربار میں ان کا قریبی تعلق تھا، اور سلطان کے ہمراہ وہ ہندوستان میں شیخ اکبرؒ کا نام ان کی تصانیف پہنچ گئی ہوں! لیکن یہ صرف قیاس ہے۔شیخ اکبرؒ کے نظریات او ران کے نام کے ہندوستان میں پہنچنے کاحوالہ سب سے پہلے شیخ صدرالدین عارف سہروردیؒ کے ذکر میں ملتاہے۔’سیرالعارفین‘میں لکھا ہے:(جاری)

-----------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-50 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-51 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-52 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-53 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-54 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-55 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-56 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-57 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-58 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-59 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-60 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-61 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-62 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-63 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-64 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-65 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-66 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-67 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-68 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-69 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-70 تصوف اور صوفیہ

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-71/d/139045

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

 

 

Loading..

Loading..