خلیق احمد نظامی
(حصہ۔69)
20 فروری،2026
ہمچو پیلے دیدہ ہندوستان بخواب
پھر ایک جگہ کہتے ہیں۔
ہمچو پیلم برسرم زن زخم و داغ
تا بینم خواب ہندوستان وباغ
شمس تبریز ؒبھی اسی طرح کہتے ہیں۔
دوش آمد پیلِ مارا باز ہندوستان بیاد
پردہئ شب می،درید او از جنوں تابامداد
ہندوستان میں مختلف مذاہب او رسماجی طبقات میں اتحاد ویگانگت کی فضا پیداکرنے کاکام جس طرح صوفیہ مشایخ نے انجام دیا وہ قرون وسطیٰ کی تاریخ کا ایک اہم اور روشن باب ہے۔ شیخ نصیرالدین چراغ دہلیؒ اپنے مریدوں کو ہدایت فرمایا کرتے تھے:”درویش رامی باید کہ باہمہ خلق چناں باشد کہ بدانندکہ ایں ازاں مااست“۔

انہوں نے اپنی خانقاہوں کے دروازے ہر کس وناکس کے لیے کھول دیے تھے۔جو بھی آتا، خواہ ہندو یا مسلمان،اعلیٰ ذات کا ہویانیچی ذات کا، ان کا دسترخوان ہرایک کیلئے کھلا رہتاتھا۔ حضرت شیخ نظام الدین اولیاؒ کی اپنے مرید ین کو ہدایت تھی کہ ہر شخص کو کھانا دو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ وہ بیان فرمایا کرتے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کایہ معمول تھاکہ بغیر کسی کو شریک طعام کیے کھانا نہ کھاتے تھے۔ایک دن ایک مشرک موجود تھا لیکن اس کو کھانے میں شریک کرنے میں ان کو تامل تھا۔ وحی الہٰی ناز ہوئی کہ ”اے ابراہیم! ہم اس شخص کو جان دے سکتے ہیں اور تو روٹی نہیں دے سکتا“۔
صوفیہ نے جس طرح ماحول سے ہم آہنگی پیدا کی اس کی بہترین مثال حضرت خواجہ اجمیریؒ کے خلیفہ شیخ حمیدالدین ناگوریؒ کی زندگی ہے۔ وہ ناگور کے ایک گاؤں سوال میں رہتے تھے او رکھیتی پرگزراوقات تھی۔ بیوی بالکل راجستھانی کاشتکار کی بیوی کی طرح رہتی تھیں۔ خود دودھ دوہتی اور خود سوت کات کر کپڑا بنتی تھیں۔شیخ گوشت بالکل نہیں کھاتے تھے، سبزیوں پرگزرااوقات تھی۔ کہتے تھے کہ اگر میرے بعد کسی نے میری روح کو ثواب پہنچانے کے لیے گوشت پرفاتحہ دی تو میں قبو ل نہ کروں گا۔ان کے گھر میں ہندوی بولی جاتی تھی۔ ایلتتمش نے ان کو جاگیر دیتی چاہی لیکن انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ایک دن ایک مرید نے کسی ہندو کو آتے دیکھا تو کافر کہہ کراشارہ کیا۔ شیخ کو برامعلوم ہوا۔ او رکہا:”تمہیں کیا معلوم کہ اس کا اندرونی زندگی کسی سے“۔دلنوازی او رمحبت کے اس انداز نے صوفیہ کے جھونپڑوں کو ایک مقناطیسی قوت عطا کردی تھی۔ اجودہن کا سرہنگا، کڑہ کا بہولا، دہلی کی مسماۃ بھوری، احمد آباد کابانک جوگی جیسے افراد اس خاموش سماجی انقلاب کی علامتیں ہیں جس نے ہندوستان میں مختلف مذاہب او رطریقہ ہائے فکر کو قریب آنے کی بشارت دی۔بدایوں کے شادی مقری کاذکر حضرت محبوب الہٰیؒ نے کیا ہے۔ وہ قرآن پاک ساتوں قرأت سے پڑھ سکتاتھا او رنہایت صالح مرد تھا، اور بقول حضرت محبوب الہٰیؒ ”غلا م ہندو بود“۔ مرزا مظہر جان جاناں ؒ کے وہ خطوط جن میں ہندوؤں کی سفارش مسلمان امراء سے کی ہے نظرانداز نہیں کیے جاسکتے۔
فکری سطح پر دیکھا جائے تو حیرت انگیز حقیقتیں سامنے آتی ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے صحیح لکھا ہے کہ دنیا میں وحدت الوجود کے عقیدہ کا سب سے قدیم سرچشمہ ہندستان ہے۔ صوفیہ کی فکر نے اسی مقام پرہندوستانی فکر سے سرگوشیاں کیں۔ اوپانیشد میں وحدت الوجود کے بنیادی تصورات نہایت خوبی سے بیان کئے گئے ہیں۔لیکن جب عملی دنیا میں یہ تصورات آئے تو تصور توحید سے ٹکر ا گئے۔ڈاکٹر رادھا کرشنن نے اوپانیشد کے بنیادی تصور وحدت الوجود کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھاہے کہ:
”اس میں شبہ نہیں کہ اوپانیشد نے فکر ونظر کی
دنیا میں ان خداؤں کی سلطانی برہم کردی تھی،
لیکن عمل کی زندگی میں انہیں نہیں چھیڑا گیا، وہ
بدستور اپنی خدائی مسند وں پرجمے رہے“۔
چنانچہ اوپانیشد کی اعلیٰ فکر نے قریب بلایا لیکن عملی زندگی کی صورت حال میں دور پھینک دیا۔شیخ محی الدین ابن عربیؒ کی ’فتوحات مکیہ‘ اور’فصوص الحکم‘ نے فکری طور پر اوپانیشد کی فکر سے قریب آنے کی راہیں ہموار کیں۔چودھویں او رپندرھویں صدی میں ابن عربیؒ کی کتابیں ہندوستان کی خانقاہوں اور مدرسوں میں پڑھی جارہی تھیں۔ اسی زمانہ میں امام ابن تیمیہؒ کی تحریک ہندوستان پہنچی او رمحمدبن تغلق اس کا زبردست مبلغ بن گیا۔ حضرت چراغ دہلویؒ نے صوفیہ سے متعلق غلط فہمیوں کاازالہ کرنے کے لیے صاف اعلان کیا:”مشرب پیر حجت نمی شود، دلیل از کتاب و حدیث می باید“۔(مشرب پیر حجت نہیں ہوسکتا۔(ہر قول وفعل کا جواز) کتاب او رحدیث سے ہونا چاہئے۔)اور ہندوستان میں تصوف کی تحریک کو بچالیا۔ اکبری دور میں ایک صورت یہ پیش آئی کہ تصور وحدت الوجود فکر کے دائرہ جسے نکل کرعمل کے دائرہ میں داخل ہوگیا او ر وہی کیفیت پیداہوگئی جس کی طرف ڈاکٹر رادھاکرشنن نے اشارہ کیاہے۔حضرت مجددالف ثانیؒ کی ساری تحریک اسی صورت حال کے خلاف تھی جس کو اکبرکی رہنمائی میں ’توحید الہٰی‘ کا نام دے دیا گیا تھا۔ اکبر کی دینی رہبری کوکل 18 ہندوستانیوں نے قبول کیا جس میں ایک ہندو اور 17 مسلمان تھے،جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ ہندوذہن نے بھی اس نئے مذہب کو جو حکومت کے زیر سایہ پروان چڑھنا چاہتا تھا، قبول نہیں کیا او رراجہ مان سنگھ نے اس بات کا صاف اعلان کردیا۔مجددصاحبؒ کانظریہ وحدت الشہود، وحدت الوجود کے خلاف نہیں،بلکہ عملی زندگی میں اس کے مشرکانہ اظہار کے خلاف تھا۔انہوں نے اعلان کیا کہ ہندو اپنے مذہب پرقائم رہیں اور مسلمان اپنے دین پر، اور قرآن کے اس ارشاد پرعمل ہو”لکم دینکم ولی دین“۔مجد د صاحبؒ ہندوستان میں پیغمبروں کے انوار واثرات کو محسوس کرتے تھے او رہندوستان کے ہندوؤں نے ان کی فکر کی بنیاد کو سمجھ لیا تھا، اور ان سے عقیدت اور تعلق کے متعدد واقعات ملتے ہیں۔خود مجددی سلسلہ کی فکر نے وحدت الوجود کی فکر کو تسلیم کیا اور شاہ ولی اللہؒ اور مرزا مظہر جان جاناں ؒ نے اس غلط فہمیوں کو دو رکیا جو اس سلسلہ میں پیدا ہوگئی تھیں۔جب ایک ہندو نے مجدد صاحبؒ کو لکھا کہ رام اوررحیم ایک ہیں، تو انہوں نے اس کی تردید کی او رکہا کہ خالق اور مخلوق ایک نہیں ہوسکتے۔(جاری)
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-50 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-51 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-52 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-53 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-54 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-55 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-56 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-57 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-58 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-59 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-60 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-61 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-62 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-63 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-64 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-65 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-66 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-67 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-68 تصوف اور صوفیہ
URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-69/d/139018
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism