New Age Islam
Sat Apr 04 2026, 06:09 AM

Urdu Section ( 21 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-64 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔64)

15 فروری،2026

مولانا سیدنذیر حسین صاحبؒ کے ذریعہ سے اہل حدیث کے سلسلہ کو بڑی ترقی ہوئی۔ آپ کے شاگردوں کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ مولوی بشیرالدین صاحب نے لکھا ہے”سارے ہندوستان اورنیز ہندوستان کے باہر بھی یمن، نجد، سنوس، اندلس، افغانستان، کشمیر، خراساں، کاشغر، برما، جاوا تک آپ کے ہزارہا شاگرد پھیلے  ہوئے ہیں“۔ہندوستان میں تو ان کے شاگردوں نے گوشہ گوشہ میں پھیل کر اپنے طریقہ کی اشاعت کی۔

مولانا کا یہ معمول تھا کہ روزانہ نمازِ فجر کے بعد مولانا عبدالقادر صاحبؒ کے ترجمہ قرآن کے دوتین رکوع سب کو پڑھایا کرتے تھے۔ ا س کے بعد حدیث شریف کا درس شرو ع ہوتا تھا۔

مولانا نے چند رسالے اپنی تصانیف میں چھوڑے ہیں۔ ’معارالحق’،’واقعۃ الفتوی’،’واقعۃ البلوی’، ’ثبوت الحق الحقیق‘،’فلاح الولی باتباع النبی‘،’ابطال عمل المولد‘ وغیرہ۔

مولانا کا اخلاق بہت اچھا تھا۔ سارے شہر میں ان کی عزت تھی۔ لوگ میاں صاحب کہتے تھے او ران سے بڑی عقیدت رکھتے تھے۔ 1320ھ/ 1902ء میں آپ کا وصال فرمایا اور رشیدی پورہ کے قبرستان میں سپرد خاک کیے گئے۔ ان کی سوانح ’الحیاۃ بعد المماۃ‘ او ر’حسرت العالم بوفاۃ محدث العالم‘ ہیں۔

مولوی محبوب علی صاحبؒ

مولوی محبوب علی صاحبؒ علم حدیث وفقہ کے بڑے جید عالم تھے۔ شاہ عبدالعزیز صاحبؒ سے تحصیل علم کیا تھا،اور ان کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔مسائل جزویہ پر مہارت تھی۔ 1271ھ / 1854ء میں وصال فرمایا اورچونسٹھ کھمبا بیرون ترکمان دروازہ سپرد خاک کیے گئے۔

مولوی نصیر الدین صاحبؒ

مولوی نصیرالدین صاحبؒ مولانا شاہ محمد اسحاق صاحبؒ کے شاگرد تھے۔ علوم دینی میں کافی مہارت رکھتے تھے۔مرجع عوام وخواص تھے۔ بادشاہ کا تقریب حاصل تھا۔لیکن اعلائے کلمہ الحق نہایت بے باک تھے۔ جب بالا کوٹ کے تاریخی مقام پر سید صاحبؒ شہید ہوگئے تو ان کی جماعت کے باقی ماندہ لوگوں نے آپ ہی سے بیعت کی تھی۔

مولوی نصیر الدین صاحبؒ میں اگر ایک مجاہدانہ اور سرفروشانہ جذبہ کار فرماتھا تو دوسری طرف عبادت کایہ عالم تھاکہ چہرہئ مبارک پر کثرت گریہ سے سیاہ نشان پڑگئے تھے۔ ان کا اخلاق نہایت وسیع تھا۔ مریدوں اور شاگردوں تک سے انتہائی اخلاق سے پیش آتے تھے۔

ایک مرتبہ حاجی امداد اللہ صاحبؒ کے والد ماجد علیل ہوئے او رحاجی صاحبؒ کو تیمارداری کے لیے وطن طلب کیا گیا۔ حاجی صاحبؒ مولاناؒ سے اجازت لینے کے لئے گئے۔ جب حاجی صاحبؒ چلنے لگے تو مولاناؒ مدرسہ شاہ محمد اسحٰقؒ سے ان کے مکان تک جوکافی دور تھا رخصت کرنے کے لیے آئے۔ حاجی صاحبؒ نے ہر چندروکا، لیکن قبول نہیں کیا۔ جب واپسی جانے لگے تو حاجی صاحبؒ بپاس ادب پہنچانے کے لیے مدرسہ تک آئے۔ حاجی صاحبؒ جب واپس ہونے لگے تو مولانا پھران کو رخصت کرنے کے لیے مکان تک آئے۔ تین مرتبہ اسی طرح ہوا تو حاجی صاحب اس مجسمہ اخلاق کے قدمو ں پر گر پڑے۔

مولانا آخون شیر محمدؒ

مولانا آخون شیر محمدؒ افغانستان کے رہنے والے تھے۔ تحصیل علم کے لیے دہلی آگئے تھے۔شاہ عبدالقادر صاحبؒ کے تلمیذ رشید اور شاہ محمد اسمٰعیل صاحبؒ کے ہم سبق تھے۔توکل وقناعت کا یہ عالم تھاکہ ایک نیمہ میں گذر اوقات کرتے تھے۔ حکم غلام حسن خاں کے مکان پر قیام رہتا تھا، اور وہیں شب وروز درس وتدریس میں مشغول رہتے تھے۔ فیض باطن شاہ غلام علیؒ سے حاصل کیا تھا۔ آخر عمرمیں درس وتدریس کاسلسلہ بند کردیا تھا اور صرف قرآن پاک کامطالعہ کرتے رہتے تھے۔ آپ اپنے شاگردوں کو تقویٰ کی خاص ہدایت فرمایا کرتے تھے۔ جو کوئی آپ کی مجلس میں غیبت کرتا اس پرجرمانہ کیا جاتا تھا۔

آخر عمر میں ہندوستان کو دارالحرب خیال کرکے یہاں کی سکونت کومکر وہ تصور کرنے لگے تھے۔اور حرمین شریفین کی طرف چل دیئے تھے۔ لیکن ابھی ملتان تک ہی پہنچے تھے کہ داعیئ اجل کو لبیک کہا۔

آپ کے صدہا خلفا تھے۔میری طالب علی المشتہر بہ مولوی عبدالغفار، سید عبداللہ مغربی، ملا پیر محمد، ملاگل محمد، مولوی محمد جان، محمد عظیمؒ، شیخ خلیل الرحمن وغیرہ خاص طور پرمشہور ہیں۔

ان علماء کے علاوہ اس زمانہ میں دلّی میں اوربہت سے بزرگ تھے جن کے علمی، تبحر اور تقدس نے دلّی کو رشک بغداد ومصر بنادیا تھا۔ملک کے گوشہ گوشہ سے شمع علم کے پروانے دلّی میں جمع ہوتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ سلطنت کی تجہیز وتکفین کے آخری منازل طے ہورہے تھے۔علمی دنیا میں رونق آرہی تھی۔ مولوی عبدالخالق صاحب کے علم وفضل، تقویٰ ودیانت کا تمام ملک میں شہرہ تھا۔ مولانا کریم صاحب، مولانافضل امام صاحب، مولانا فضل حق صاحب، مولانانورالحسن صاحب، مولوی کرامت علی صاحب، مفتی رحمت علی خاں عرف میر لال، مولوی امان علی، مولوی محمد جان، حاجی محمد، ملاسرفراز اپنے اپنے فن میں یگانہ تھے۔ ان کی موجودگی نے دلّی کو زوال کے زمانہ میں وہ عظمت وشوکت بخشی تھی کہ ہندوستان کی عزت وشہرت کو چارچاند لگ گئے تھے۔ سارے ملک کاادبی مرکز دلّی تھی۔ یہاں علم وعرفان کی پیاس بجھانے والے یہ جید علماء اپنے اپنے فن میں وحید عصر او ریگانہ روزگار تھے۔

مذہبی اور روحانی دنیا کے قطع نظر سینکڑوں شعراء حفاظ، اطبا، دہلی میں موجود تھے۔ مومن وغالب کی دلّی غدر سے پہلے ہی کی دلّی تھی۔ قاری قادر بخش، حافظ احمد، قاری محمدبیگ کی دلکش قرأت غدر سے پہلے ہی دلّی کے منبر ومحراب نے سنی تھی۔ اب تو۔

لے کے داغ آئے گا سینہ پہ بہت اے سیاح

دیکھ اس شہر کے کھنڈروں میں نہ جاناہرگز

(جاری)

----------------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-50 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-51 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-52 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-53 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-54 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-55 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-56 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-57 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-58 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-59 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-60 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-61 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-62 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-63 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-64/d/138946

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..