New Age Islam
Sat Apr 04 2026, 07:43 AM

Urdu Section ( 20 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-63 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔63)

14 فروری،2026

 انہوں نے مسلمانوں میں جو روح پھونک دی تھی اس کے مظاہرے ان کی شہادت کے بعد تک ہوتے رہے۔ سرسید کا بیان ہے :

’’اس واقعہ کو (یعنی شہادت کو) چودہ پندرہ برس گزرتے ہیں اور چونکہ یہ طریقہ آخرالزماں میں بنیاد ڈالا ہوا ان حضرات کا ہے اب تک اس سنت کی پیروی عباداللہ نے ہاتھ سے نہیں دی۔ اور ہر سال مجاہدین اوحانِ مختلفہ سے بہ نیت جہاد اُسی نواح کی طرف راہی ہوا کرتے ہیں، اور اس امرِ نیک کا ثواب آپ کی روح مطہر کو پہنچتا رہتا ہے۔‘‘۱۲۹

مولانا محمد اسحاق صاحبؒ

مولانا محمد اسحاقؒ شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کے نواسے تھے اور ان ہی کی خدمت میں علمِ حدیث حاصل کیا تھا۔ بیس (۲۰) سال تک حدیث کا درس شاہ صاحبؒ کے سامنے بیٹھ کر نئے طلباء کو دیا۔۱۳۰ اتباعِ سنت کا خاص خیال رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے علم و عمل دونوں عنایت فرمائے تھے۔ ۱۸۲۴؁ء میں جب شاہ عبدالعزیزؒ نے وصال فرمایا تو اپنا مدرسہ مولانا اسحٰق صاحبؒ ہی کے سپرد کیا، اور وہی خلیفہ مقرر ہوئے۔ دہلی میں ان کی بڑی عزت اور احترام تھا۔ بادشاہ تک اُن کا احترام کرتا تھا۔ حاجی امداداللہ صاحبؒ سے روایت ہے کہ مولانا عشرہ محرم کے دن بادشاہ کے پاس تشریف لے گئے۔ بادشاہ سونے کے کڑے پہنے ہوئے تھا، آستین سے بند کرلئے اور جب تک مولانا بیٹھے رہے مودب بیٹھا رہا۔۱۳۱

کچھ عرصہ بعد چند قبیلوں کے ساتھ حج کو چلے گئے اور پھر تشریف لاکر اپنے مواعظ و نصائح سے خلقِ خدا کو راہِ ہدایت دکھانے لگے۔ دوسری بار پھر معہ قبائل حج کے لیے روانہ ہوئے اور مکہ معظمہ میں ہی وطن اختیار کرلیا۔ ہندوستان سے جو لوگ حج کے لیے جاتے تھے وہ ان کی خدمت میں بھی حاضر ہوتے تھے اور وہ ان کی بڑی خاطر مدارات کرتے تھے۔ دلّی سے جدا ہوکر ۶ سال تک مکہ معظمہ رہے۔ ۱۸۴۶؁ء میں وصال فرمایا۔

مولانا محمد یعقوبؒ

مولانا محمد اسحاقؒ کے چھوٹے بھائی تھے۔ علم و فضل، قناعت و استغناء میں بے نظیر تھے۔ کوئی ہدیہ یا تحفہ قبول نہ کرتے تھے۔ شاہ اسحٰق صاحبؒ کے ساتھ ہندوستان سے ہجرت کی اور مکہ معظمہ میں وطن اختیار کیا۔

نواب قطب الدین خاںؒ

نواب قطب الدین خاں صاحبؒ اپنے زمانہ کے متبحر عالم تھے۔ فقہ و حدیث کی تعلیم حضرت شاہ محمد اسحاق صاحبؒ سے حاصل کی تھی۔ اتباعِ شریعت کا بے حد خیال رہتا تھا۔ وضع لباس میں بالکل اپنے استاد کے مشابہ تھے۔۱۳۲ علم و فضل، زہد و ورع سب کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کو عنایت کیا تھا۔ ان کے بزرگ دربارشاہی میں تقرب رکھتے تھے۔ خود اُن کو بارگاہِ سلطانی میں بڑا مرتبہ اور عزت حاصل تھی۔ ۶ نومبر ۱۸۴۶؁ء کی خبر ہے:

’’نواب غلام محی الدین خاں بہادر کی تقریب ماتم میں اُن کے صاحبزادے مفخرالاسلام نواب محمد قطب الدین خاں بہادر کو خلعت شش پارچہ اور ان کے چھوٹے بھائی کو خلعت سہ پارچہ بادشاہ سلامت کی طرف سے عطا کیا گیا۔‘‘۱۳۳

نواب صاحب چوتھے دن اپنے استاد کی پیروی میں مجلسِ وعظ منعقد کرتے تھے۔ آپ نے بہت سے رسائل اردو میں لکھے ہیں۔ ان میں بعض نہایت اہم مسائل کو سمجھایا ہے۔ سرسید نے لکھا ہے کہ ’’ان رسالوں سے خلق کو بہت فائدہ ہوا کہ ضروریاتِ دین سے ہر شخص مطلع اور آگاہ ہوگیا۔‘‘۱۳۴ انہوں نے مشکوٰۃ شریف کا ترجمہ ’مظاہرالحق‘ کے نام سے اردو میں کیا۔ اس ترجمہ کی زبان بہت سلیس اور شستہ ہے۔ وہ ہمیشہ رواجِ دین اور تقویتِ شرع کے لیے ساعی رہتے تھے۔

مولانا مملوک علی صاحبؒ

مولانا مملوک علی صاحبؒ دلّی کے مشاہیر علماء میں سے تھے۔ معقول و منقول میں استعداد کامل رکھتے تھے۔ فقہ پر خاص طور سے عبور تھا۔ وہ مولانا رشیدالدین صاحبؒ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے اور مولانا مرحومؒ کے بعد وہی مدرسہ شاہ جہاں آباد کی مدرسی پر مامور ہوئے۔ آپ کے فیض سے تمام ہندوستان نے استفادہ کیا۔ آپ کے شاگرد بڑے مرتبہ کے عالم ہوئے۔ مولانا عاشق الٰہی صاحب مرحومؒ نے خوب لکھا ہے :

’’مولانا مملوک علی صاحبؒ جنہوں نے درسیات کا اکثر حصہ ماہتابِ ہند حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب قدس سرہ کے ارشد تلامذہ حضرت مولانا رشیدالدین خاں صاحب سے پڑھا تھا، فلک علم کے نیریں امام حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی و قاسم الخیرات حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی اور مولانا محمد مظہر صاحب صدرالمدرسین مظاہرالعلوم جیسی مقدس و مشہور ہستیوں کے استاد تھے کہ ان سب حضرات نے علومِ دینیہ و فنونِ ادبیہ کی پیاس اسی بحرِزخار کے آب و دہن سے بجھائی اور ہر چہار جانب سے پریشان ہوکر اسی آستانہ پر شفا و تسکین پائی تھی‘‘۔۱۳۵مولانا کو درسیات وغیرہ کی کتابوں پر اس قدر عبور تھا کہ اکثر زبانی یاد تھیں۔ حافظہ کا یہ عالم تھا کہ سرسید لکھتے ہیں :’’اگر فرض کرو کہ ان تمام کتابوں سے گنجینۂ عالم خالی ہوجائے تو اُن کی لوح حافظہ سے پھر نقل اُن کی ممکن ہے۔‘‘۱۳۶

مولانا کا اخلاق نہایت وسیع تھا۔ سرسید لکھتے ہیں: ’’ان سب کمال و فضیلت پر خلق و حلم احاطۂ تقریر سے افزوں ہے۔‘‘۱۳۷ مولانا نے ۱۲۶۷؁ھ/ ۱۸۵۱؁ء کو وصال فرمایا۔ آپ کا مزار مقبرہ شاہ ولی اللہ میں ہے۔۱۳۸ آپ کے صاحبزادے مولوی محمد یعقوب صاحبؒ (المتوفی ۱۳۰۲؁ھ/ ۱۸۸۵؁ء) نے مدرسۃ العلوم دیوبند کے ابتدائی دور میں صدر مدرسی کی خدمات انجام دیں۔ آپ کی صاحبزادی بی مبارک النساء مولانا خلیل احمد صاحبؒ کی والدہ تھیں۔۱۳۹

سیّد نذیر حسین صاحب محدث دہلویؒ

سید نذیر حسین صاحبؒ (۱۸۱۵؁ء-۱۹۰۲؁ء) حدیث کے مشہور عالم تھے۔ انہوں نے مولوی عبدالخالقؒ، شاہ عبدالقادرؒ اور شاہ رفیع الدینؒ سے استفادہ کیا تھا۔ حدیث و تفسیر شاہ محمد اسحاقؒ سے پڑھی تھی۔ تیرہ برس تک اُن کی خدمت میں رہ کر فیوض و برکات حاصل کیے تھے۔سرسید لکھتے ہیں: ’’مولوی صاحب بہت صاحبِ استعداد ہیں۔ خصوصاً فقہ میں ایسی استعداد کامل بہم پہنچائی ہے کہ اپنے نظائر و اقران سے گوئے سبقت لے گئے ہیں۔‘‘۱۴۰ (جاری)

-----------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-50 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-51 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-52 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-53 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-54 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-55 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-56 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-57 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-58 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-59 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-60 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-61 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-62 تصوف اور صوفیہ

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-63/d/138930

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..