خلیق احمد نظامی
(حصہ۔60)
11 فروری،2026
ہیبت حق است ایں ازخلق نیست
لیکن حضرت کوجوکہ ترویج اسلام منظور تھی قبول نہ کیا۔کئی سال تک یہی سلسلہ یوں ہی چلا گیا او رمولوی مولانا عبدالحی علیہ الرحمہ نے بیماری بدنی سے سفر آخرت اختیار کیا۔بعد اس کہ جو کہ قوم افاغنہ بندہ اورنہایت طامع ہیں،سکھوں کے اغوا سے آپ سے منحرف ہوگئے۔ اور عین معرکہ جنگ میں آپ سے دغا کی۔از بس کہ مشیت الہٰی میں دولت شہادت آپ کے نصیب میں تھی قریب بالاکوٹ کے حضرت نے معہ مولوی محمد اسمٰعیل او راکثر مومنین صاف اعتقاد کے شہادت پائی۔انا اللہ وانا الیہ راجعون۔حضرت کی شہادت کو چودہ پندرہ برس کاعرصہ گذرتا ہے۔“
شاہ فداحسین صاحبؒ
شاہ فدا حسین صاحبؒ کااصلی نام خواجہ نجیب الدین تھا۔ وہ رسول شاہی سلسلہ کے بڑے برگزیدہ بزرگ تھے۔رسول شاہی سلسلہ رسول شاہ سے شروع ہوتاہے۔ وہ خاندان سہروردیہ سے متعلق تھے۔

شاہ فدا حسین صاحبؒ نے بانی سلسلہ رسول شاہی کے عزیز ترین مرید اور خلیفہ شاہ محمد حنیف سے بیعت کی تھی۔ ان ہی سے تمام درسی کتابیں پڑھیں۔ جب تحصیل پوری ہوگئی تو مرشد کے حکم سے کل کتابیں کنویں میں ڈال دیں۔ وہ خاص کر حقائق ومعارف میں بڑی دستگاہ رکھتے تھے۔’نصوص الحکم‘، ’فتوحات مکیہ‘ اور شیخ اکبرؒ کی دیگر تصانیف بہت خوبی سے پڑھا تے تھے۔”مگر وضع یہ تھی کہ چار ابروکاصفایا کیے، ایک غرقی باندھے اور سارے بدن پر بھبوت ملے بیٹھے رہتے تھے۔جب حجرہ سے باہر نکلتے تو تہمد گھٹنوں تک لپیٹ لیتے اور سر پرایک مثلث رومال باندھ لیتے تھے۔ایک بار اکبر شاہ نے ان کے پاس آنا چاہا مگر انہوں نے ملنے سے انکار کردیا۔“
سرسید کہتے تھے کہ وہ نہایت خوش بیان اور خوش تقریر تھے۔”جب میرے والد کا انتقال ہوا تو میری والدہ کو جو ان کی بھتیجی تھیں، اپنے پاس بلاکر ایسی عمدہ تقریر کی کہ اب تک اس کا اثر میرے دل سے نہیں بھولا۔ دلّی میں ان کے دیکھنے والے اب تک موجود ہیں۔وہ آخر عمر میں الور چلے گئے اور 1843 ء میں وہاں انتقال کیا اور وہیں رسول شاہیو ں کے تکیہ میں جو چمیلی باغ کہلاتا تھا ان کا ڈھیر ہے“۔
شاہ صاحبؒ نہایت توکل اور عسرت کی زندگی بسر کرتے تھے۔زمین پرسوتے اور اینٹ سرہانے رکھتے تھے۔اخلاق نہایت اعلیٰ تھا۔ خاکساری طبیعت میں بہت تھی، ان کی ذات سے رسول شاہی سلسلہ کو بہت ترقی ہوئی۔ ہزاروں نے ان سے فیض حاصل کیا۔ ان کے خلفاء تبت، سراندیپ، مشہد وغیرہ میں موجود تھے۔بعض تذکرہ نویسوں نے شاہ صاحبؒ کے مذہبی خیالات پراعتراض کیے ہیں او رلکھا ہے کہ شاہ عبدالعزیز صاحبؒ نے ان سے اس سلسلہ میں مناظرہ کیا تھا۔ حاجی امداد اللہ صاحبؒ نے ان سب باتوں کی تردید کی ہے اور شاہ صاحب کو صاحب باطن بتایا ہے۔
شاہ فداحسینؒ کبھی کبھی شعر بھی کہتے تھے۔ مثنوی ’بن موسر‘ اُن کی طبع زاد ہے جو آپ کے معتقدین نے جمع کی ہے۔ چند شعر ملاحظہ ہوں۔
مرا جزدیدن دیدار وجہ اللہ کار ے نیست دردنیا
شفاعت رابجزذات رسول اللہ یارے نیست درعقبیٰ
۔۔۔۔۔۔۔۔
خویشتن را خود عیاں فرمودہ
صورتے از جسم و جاں بنمود ہ
کل نفس واحدّ فرمودہ
واحد فی کلّ نفس بودہ
۔۔۔۔۔۔۔
اگر بخلوت دل یک زمانہ بنشینی
درون کعبہ دل صورت خدابینی
نسبت طاعت بخود عصیاں بود
نسبت عصیاں بخود عرفاں بود
۔۔۔۔۔۔۔۔
عین ذات تو بود وحدت وجود
ایں صفاتِ تو بود وحدت شہود
غیر وحدت نیست کثرت را وجود
غیر کثر ت نیست وحدت را شہود
۔۔۔۔۔
1857ء سے قبل کی علمی دنیاکاذکر کرنا شاہ ولی اللہ صاحبؒ کے خاندان کاذکر ہے۔اس خاندان نے علوم دینی کی وہ عظیم الشان خدمت کی ہے جس کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ مولانانذیر احمد دہلویؒ نے اپنے ترجمہ القرآن کے شروع میں نہایت صحیح لکھا ہے”انہوں (شاہ ولی اللہؒ) نے اور ان کے خاندان نے ہند میں اسلام کی قریب قریب واپسی ہی خدمتیں کیں جیسی عرب میں قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے، یعنی اصحاب نے، تابعین نے اور تبع تابعین نے اور ائمہ مجتہدین نے کی تھیں۔میرا خیال تو یہ ہے کہ ہندوستان میں اسلام جتنا کچھ بھی ہے او رجیسا کچھ بھی ہے اسی خاندان عالی شان کا طفیل ہے۔ ان بزرگوں نے اسلام کی اشاعت میں کیا جو دین حق کادلدادہ، قوم کا مصلح، ہمدرد وخیر خواہ کرسکتا ہے۔دین کی کتابوں کے درس دیئے، ترجمہ کئے وعظ کہے، تصنیفیں کیں۔“
اس خاندان نے مذہب کاعظمت ووقار قائم کیا۔ عوام میں صحیح مذہبی جذبات پیداکیے اور ان کو کتاب وحدیث سے روشناس کرایا۔ شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے فارسی میں قرآن پاک کا ترجمہ کیا۔ ان کے بیٹے شاہ عبدالقادرؒ او رشاہ رفیع الدینؒ نے قرآن کریم کے اردو میں ترجمہ کیے۔شاہ عبدالحیؒ (شاہ عبدالعزیزصاحبؒ کے داماد) نے لغات القرآن لکھی۔ مولانا محمد اسحاق (شاہ عبدالعزیزؒ کے نواسہ) نے مشکوٰۃ کاہندی میں ترجمہ کیا۔غرض اس طرح سے علوم دینی کو پھیلایا گیا، عوام میں کتاب وحدیث سے استفادہ حاصل کرنے کی صلاحیت پید اکی گئی۔ شاہ عبدالعزیز صاحبؒ نقلی علوم کے ماہر تھے۔شاہ رفیع الدین صاحبؒعقلی مسائل کی تحقیق یں یدطولیٰ رکھتے تھے۔کشفی معاملات میں شاہ عبدالقادر صاحبؒ ممتاز تھے۔ ان تینوں صلاحیتوں نے مل کر ایک طوفانی دور میں سرمایہ ملت کی نگہبانی کی۔(جاری)
-------------------
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-50 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-51 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-52 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-53 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-54 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-55 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-56 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-57 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-58 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-59 تصوف اور صوفیہ
URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-60/d/138879
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism