New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 06:36 PM

Urdu Section ( 23 Dec 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔6)

17دسمبر،2025

سلسلہ خواجگان، قادریہ سلسلہ، کبروی سلسلہ، سہروردیہ سلسلہ اور چشتیہ سلسلہ جس طرح منظم ہوئے اس کی تفصیل علیحدہ مضمون کامطالبہ کرتی ہے۔بغداد، بخارا، نیشاپور، چشت، جام، سہر ورد وغیرہ میں خانقاہیں، زاویے،رباط قائم ہوئے اور روحانی زندگی کی نئی قدروں نے ان کے سایہ میں پرورش پائی۔ تصوف کے مختلف سلسلوں کی تاریخ جو ایشیا، افریقہ اور وسط ایشیا میں پھیلے، متعدد فرانسیسی، جرمن اور انگریز مستشرقین نے ترتیب دی ہے اور کم پھیلے دوسو سلسلوں اور ان کی شاخوں کاذکر کیا ہے۔ ٹریمنگھم (J.S.Trimingham) نے The Sufi Orders in Islam شائع کی تھی۔جزویات اور تفصیلات کی تلاش میں یہ کتابیں قابل قدر ہیں، لیکن ان عوامل واسباب کے تجزیے سے یکسر محروم ہیں جن کے ذریعہ دینی جذبات کو پیداکرنے اور اسلامی معاشرے میں زندگی کی نئی لہر پیدا کرنے کاکام ان سلسلوں نے انجام دیا۔

ہندوستان میں سلسلوں کی تنظیم مختلف اوقات میں ہوئی۔ یہ سلاسل مختلف حالات میں یہاں پہنچے اور مختلف مقامات پرانہوں نے اپنے اثر و نفوذ کے نقوش چھوڑ ے۔ان تمام سلاسل میں چشتیہ سلسلہ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ یہ کسی خاص مقام تک محدود نہیں۔بلکہ پورے ہندوستان میں پھیلا۔حضرت سید اشرف جہانگیر سمنانیؒ اور بعض مشایخ نے ان اسباب پرروشنی ڈالی ہے جن کی وجہ سے سہروردی سلسلہ خاص علاقوں میں محدود ہوکر رہ گیا۔گو دونوں سلسلوں کی خانقاہوں کی اساس ’عوارف المعارف‘ تھی ہندوستان کی فضا میں روحانی زندگی کو منظم کرنے کاجو احساس اوریہاں کے سماجی افکار ورجحانات پر جو گہری نظر چشتیہ سلسلہ کی تھی، وہ کسی دوسرے سلسلہ میں نظر نہیں آئی۔ اس کی اساس حضرت محبوب الہٰی کا وہ جملہ ہے جوصبح کے وقت ہندو ؤں کوبتوں کی پوجامیں مصرو ف دیکھ کر فرمایاتھا:”ہر قوم راست راہے، دینے و قبلگاہے“۔

ہندوستان میں یہ وسیع النظری اور مختلف طریقہ ہائے فکر کے ساتھ coexistance کامعاملہ جب سماجی زندگی میں بروئے کار آیا تو چشتیہ سلسلہ کی ترقی او رمقبولیت کے وسیع میدان پیداکردیے۔امیر خسروؒ نے ’نہہ سپہر‘ میں تمام ان علوم کو جو قبل اسلام سے متعلق تھے اپنی تاریخ شخصیت کا جز وبنالیا اور اعلان کیا۔

نیست ہنود ارچہ کہ دیندار چوما

ہست بسے جائے باقرار چوما

حضرت خواجہ معین الدین حسن سجزیؒ نے پرتھوی راج کے زما نہ میں اجمیر میں، جو راجپوتوں کا سیاسی مرکز اورمذہبی گڑھ تھا، سلسلہ کی داغ بیل ڈالی۔ اپنے اصولوں کی سچائی پرپختہ ایمان، اپنے کردار وعمل کی ہمہ گیر افادیت پر مکمل بھروسہ او رانسانیت سے بے پناہ محبت نے ان کو ایک ایسی فضا میں کام کرنے کی جرأت او رہمت دلائی جہاں۔ بقول البرونی۔۔کوئی غیر مذہب کاآدمی یا نیچے طبقہ سے متعلق فرد بیٹھ جاتا تو زمین دھوئی جاتی تھی۔خواجہ اجمیر یؒ نے انسانی سماج کو تمام طبقاتی تقسیم سے بلند کرنے کی کوشش کی اور’انسانیت‘ کو اپنی جہدوسعی کامرکز بنایا۔انہوں نے تلقین کی کہ انسان کو دریاجیسی سخاوت، آفتاب جیسی شفقت اور زمین کی سی تواضع پیدا کرنی چاہئے۔ان کی فیض بخشیاں اپنے اور پرائے کا امتیاز نہیں کرتیں۔خالق کائنات نے اپنی رحمت و شفقت کے دروازے جس طرح ہرکس وناکس کے لیے کھول دینے ہیں، انسان کو ان صفات خداوندی کو اپنی زندگی میں مشعل راہ بنا نا چاہیے۔ اللہ نے انسان بنایا، اور انسان نے خود اپنے وجودکو پستی میں گرادیا۔

حضرت خواجہ اجمیریؒ اور ان کے سلسلہ کے مشایخ کی کوششوں کی نوعیت اس وقت واضح ہوگی جب بھکتی تحریک او راس کے مشہور مفکرین،کبیر، نانک، دادو، پیا، سین وغیرہ کی زندگیوں میں ان خانقہی اثرات کی نشاندہی کی جائے گی جن کے باعث تین عظیم الشان تبدیلیاں ہندو فکر میں پیدا ہوئیں۔

(1) انسان یہ حیثیت ایک ہے،

(2) اللہ سے تعلق کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں،

(3) انسان کی خدمت میں انسانی فلاح کاراز ہے۔

یہ تینوں تصورات مشایخ چشت کی تعلیم وتربیت کی صدائے بازگشت ہیں۔ ان بھگتوں کی کتابوں میں فارسی اور عربی کی اصطلاحات اس ات کی شاہد ہی کہ فکر کے سوتے کہاں ہیں۔

P.M. Currieکی ایک انگریزی تنصنیف The Shrine and Cult of Muin al-Din Chishti of Ajmer میں خواجہ اجمیریؒ کے حالات کو جس غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے،وہ بے حد افسوسناک ہے۔ ابتدائی تذکروں او رملفوظات میں خواجہ اجمیریؒ کی زندگی کی تفصیلات نہ پاکر اس کو ان کی شخصیت کے اثرات پر شبہ پیداہوا۔ اگر سلسلو ں کے نظام اور مشایخ کے نظام اصلاح وترتیب سے اس کو آگہی ہوتی تو اس طرح کے شکوک اس کے ذہن میں پیدا نہ ہوتے۔

خواجہ اجمیریؒ ے اپنے سلسلہ کاایک مرکز راجپوتانہ کے ایک گاؤں سوال میں قائم کیا اور دوسرا دارالسلطنت دہلی میں۔ خواجہ قطب الدین بختیارکاکیؒ اور شیخ حمیدالدین ناگوریؒ کی زندگیاں خاص طور پراس نقطہ نظر سے مطالعہ کے لائق ہیں کہ چشتہ سلسلہ کے اصول کس طرح شہروں اور دیہاتوں میں ایک زندہ حقیقت بنا کر پیش کیے گئے اور پیش کیے جاسکتے ہیں۔شیخ ناگوریؒ ایک بیگھہ زمین کی کاشت کرتے تھے اور اسی پر ان کی گذر اوقات تھی۔ بیوی سوت کا کات کر کپڑا بنا دیتی تھیں۔ گھر میں ہندوی بولی جاتی تھی۔ ایلتشمش نے جاگیر کا فرمان بھیجا تو قبول کرنے سے انکارکریا اور سلسلہ کی تاریخ میں ’سلطان التارکین‘ کہلائے، اور اسی غربت کی زندگی میں روشنی کامینارہ بنے۔راجپوتانہ میں سلسلہ کی ترویج واشاعت کا کام دیتے رہے۔ قطب صاحبؒ نے دربار سے کوئی تعلق نہ رکھا، لیکن دہلی کی سماج اور ثقافتی زندگی پر اتنا گہرا اثر ڈالا کہ قطب مینار،حوض شمسی او راولیاء مسجد میں ان کی روحانی عظمت کے نفوش نظرآنے لگے۔ ان کے مرید ین میں سب سے ممتاز شخصیت حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کی تھی۔ انہوں نے سلسلہ کو صحیح نفوذ وشاعت کیلئے موثر قدم اٹھائے۔ قرآن پاک کی تعلیم کو صحیح دینی فکر بیدارکرنے کیلئے لازمی قرار دے کر بے شمار حافظ قرآن پیدا کیے۔ ان کی خانقاہ کلام ربّانی کی تلادت سے گونجتی رہتی تھی۔ انہوں نے شیخ نظام الدین اولیاؒ کو بھی حفظ قرآن کی ہدایت کی۔انہوں نے سلسلوں کے کام اور خلفاء کی ذہنی تربیت کے لیے قرآن پاک،’تمہید ات‘’،عوارف‘ کو ضروری قرار دیا۔(جاری)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-6/d/138123

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..