New Age Islam
Sat Mar 14 2026, 03:59 PM

Urdu Section ( 16 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-59 تصوف اور صوفیہ

 

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔59)

10 فروری،2026

حضرت شاہ سید احمد شہیدؒ

حضرت شاہ سید احمد صاحبؒ اس زمانہ کے نہایت مشہور او رعظیم المرتبت بزرگ تھے۔ان کے فیضان صحبت اور ارشاد وہدایت سے ہزاروں نے استفادہ کیا۔مولوی محمد یعقوب صاحب ؒ فرمایا کرتے تھے کہ ”شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کی توجہ کی تاثیر مثل ہلکے سے مینہ کے ہوتی ہے جس کی چھوٹی چھوٹی بوندیں ہوتی ہیں اور سید صاحب کی تاثیر مثل لوہاروں کی پھکنی کے اثر کرتی ہے جو فوارہ کی طرح قلب پرپڑتی ہے“۔حقیقت یہ ہے کہ ان کی تلقین وارشاد نے مجاہدوں کی ایک ایسی جماعت پیدا کردی جس کے دل احیاء ملت کے لیے بے چین او ربے قرار رہتے تھے۔ سید صاحبؒ کے متعلق اس زمانہ میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔اس لیے ان کے متعلق خود کچھ لکھنے کے بجائے مناسب معلوم ہوتاہے کہ ایک معاصر کی رائے نقل کردی جائے۔ سرسید احمد خاں، جنہوں نے سید صاحب کو خود دیکھا تھا، او رجنہوں نے اپنی کتاب ’آثار الصناوید‘ ان کی شہادت کے 15 سال بعد لکھی تھی، آپ کے متعلق لکھتے ہیں:

”جناب ہدایت انتساب زہدہ واصلان درگاہ سید احمد صاحب طاب ثر اہ و جعل الجنۃ مشواہ سادات عظام اور مشایخ کرام سے تھے۔ وطن آپ کا اصلی بریلی۔اوایل حال میں شوق طالب علمی میں وطن  سے داردشاہ جہاں آبادہوکر حضرت بابرکت مولانا عبدالقادر علیہ الرحمہ کی خدمت میں سراسر افادت میں حاضر ہوکر مسجداکبر آبادی میں فروکش ہوئے اور صرف ونحو میں فی الجملہ سواد حاصل کیا۔ از بسکہ ذوق درویشی او ر مسکینی طینت میں پڑی ہوئی تھی۔اکثر خدمت مسجد اور اس مقام کے واردو ں خصوصاً درویشان پاک طینت کی جو دور دراز سے تحصیل علم باطنی کے شوق میں جناب مولانا عبدالقادر صاحب مغفور موصوف کی خدمت میں حاضر رہتے خاطرداری اور سر انجام مہام سمجھے ہوئے تھے او راس زمانہ میں بھی اپنے اوقات کوطاعات وعبادات میں ایسا مصروف کیا تھاکہ جو لوگ صرف اسی امر کے واسطے کنج نشین اور گوشہ گزیں تھے ان سے بھی اس طرح خاطر مجموع اور حضور قلب سے ظہور میں نہ آتے تھے۔ اکثر مولانا ئے مغفور رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ اس بزرگ کے احوال سے آثار کمال ظاہر ہوتے ہیں۔ او رمادہ اس سعادت منش کا ترقی مدارج علیا کا قابل نظر آتا ہے۔ اسی اثنا ء میں سرگردہ علمائے اسوہئ بلغائے عظام، جامع کمالات صوری ومعنوی خادم حدیث شریف نبوی مولانا بالفضل اولانا مولوی شاہ عبدالعزیز دہلوی علیہ الرحمۃ سے بیعت کا ارادہ کیا۔ جب ان کی خدمت میں گئے مولانا ممدوح نے، جو ان کے حالات سے واقف تھے، فرمایا کہ اگر چہ حق بل وعلانے اس صاف باطن کو اختیار طریقہ رشدوہدایت کے باب میں واسطے کامحتاج نہیں رکھا اور وسیلہکانیاز مند نہیں کیا، لیکن اہل ظاہر کے نزدیک ہر چیز کے لیے ایک سبب ضروری ہے، رفع حجت عوام کے واسطے کچھ مضائقہ نہیں۔ پھر آپ نے مولائے موصوف سے بیعت کی۔بعد چندمدت کے سفر اختیار کیا۔اوراطراف وجوانب میں خداشناسان پاک باطن سے فیض حاصل کرنے میں سرگرم رہے۔از بس کہ مقامات عالی روز بروز کھلتے جاتے تھے اور مراتب علیا آناً فاناً ترقی میں تھے۔ اس دولت بے زوال سے اہل ظاہر کو آگاہی ہوچکی اور ہر طرف سے لوگوں نے ہجوم کیا اور کسی نے بیعت کی او رکسی نے روائے حاجات سے سوال کرنا شروع کیا۔چونکہ اخفائے حال اور استرا حوال منظور تھا، خیال میں یہ آیا کہ اگر اہل دنیا کے لباس سے ملنبس ہوکر علم باطنی کی تحصیل کی جاوے تویہ ہجوم عوام کا جمعیت اوقات میں خلل انداز نہ ہوگا۔ اس خیال سے ٹونک کی طرف تشریف لے گئے اور نواب امیر خاں کی رفاقت میں بسر کی اور از بس کہ شجاعت اور جوانمردی سادات صحیح النسب کاجوہر ہے اس اثناء میں تردداتِ عظیمہ آپ سے ظہور میں آئے اور ہا ایں ہمہ تلاش اہل باطن کی روز شب پیش نہاد تھی، اور اکثروں کو ہدایت کی راہ بھی آپ ترک دنیا کرکے پھرشاہ جہاں آباد میں تشریف لائے او رمسجد اکبرآبادی میں وارد ہوئے۔اس اثناء میں مولانا عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہوچکاتھا او رمولوی محمد اسمٰعیل رحمۃ اللہ علیہ قائم مقام علوم رسمی کے درس وتدریس میں مصروف تھے او راہل باطن کی طرف چند اں ملتفت نہ ہوتے تھے۔ جب اس دفعہ آپ کے تشریف لانے سے مردم شہر میں ایک غلغہ پڑگیا تھا اور طالب فیض باطن کے کثرت سے ہجوم کرنے لگے، ایک بار مولوی صاحب نے باتفاق مولوی عبدالحی رحمۃ الہ علیہ کے آپ کی خدمت میں جاکر عرض کیا کہ ہم کو نماز حضور قلب سے کبھی میسر نہ ہوئی، اگرآپ کی ہدایت سے یہ امر حاصل ہوجائے تو عین مدعا ہے۔حضرت نے کشف باطن سے معلوم کیا کہ یہ بطریق امتحان اس طرح سے کہتے ہیں۔تبسم کیا اور فرمایا کہ مولانا آج شب کو اس حجرہ میں تشریف لاؤ، شاید یہ بات ظہور میں آجائے۔ ان کو زیادہ استعجاب ہوا اور شب کو دونوں صاف تشریف لے گئے۔ او رآپ نے اپنے ساتھ ان کو نماز میں کھڑا کیا۔ اور جب نماز پڑھواچکے فرمایا کہ اب جداجدانیت باندھ کر دورکعت علٰیحدہ پڑھو۔یہ جب کھڑے ہوئے تو اس طرح استغراق ہواکہ ان دونوں صاحبوں کی انہیں دورکعت میں شب بسر ہوگئی۔ جب یہ فیض باطن مشاہدہ کیا صبح کودونوں صاحبوں نے بیعت کی، اور یہاں تک آپ کی کفش برداری میں حاضر رہے کہ آپ کی کفش برداری کو فخرسمجھتے تھے۔چند روز کے بعد آپ نے فرمایا کہ مولانا امشیت الہٰی میں یہ ہے کہ تم کو تکمیل اس علم کی اور تتمیم ان مراتب کی سفر میں حاصل ہو۔ ان کو ہمراہ لے کر مکہ معظمہ کا سفر کیا او رراہ میں قریب ایک ہزار آدمی کے اپنے ہمراہ لے کر حج ادا کیا، اوروہاں سے پھر ہندوستان کی طرف تشریف لائے اور آپ جو ترویج رسوم شرعیہ اور امر بالمعروف بہت کرتے منہیات کا رواج ان کے قدوم کی برکت سے اکثر اطراف سے اٹھ گیا۔ طرفہ یہ ہے کہ شہر کلکتہ میں جب تک آپ نے تشریف رکھی شراب مطلق نہ بکنے پائی او رکلال خانہ بندرہا۔ اوراس نواح میں آپ کے مریدوں کی کثرت لکھو ک سے گزرگئی۔اورآپ کے اکثر خلفاء کو قطب اور اوتار کامرتبہ حاصل ہوا اورجو کہ ازروئے کشف باطن کے معلوم ہوگیا تھا کہ آپ کو معہ اکثر مومنین پاک اعتقاد کے سعادت شہادت حاصل ہونے والی ہے۔ مولانا اسمٰعیلؒ او رمولانا عبدالحیؒ کو اجازت ہوئی کہ اطراف ہندوستان میں وعظ کہو اور بیشتر جہاد او رفضیلت شہادت بیان کرو۔ ہر چند یہ اس کامنشانہ جانتے تھے لیکن مرید باخلاص تھے اور فرمان بجالائے۔ ان کے وعظ سے لکھوک مردم شاہراہِ ہدایت پر آئے اور شوق ماھر الحق دل میں جم گیا او رجہاں کی فضیلت ذہنوں میں بیٹھ گئی اور خود بخود چاہنے لگے کہ اگر جان ومال راہِ الہٰی میں صرف ہوتو عین سعادت ہے۔(جاری)

------------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-50 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-51 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-52 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-53 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-54 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-55 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-56 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-57 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-58 تصوف اور صوفیہ

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-59/d/138868

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

 

 

Loading..

Loading..