New Age Islam
Sat Mar 14 2026, 02:28 PM

Urdu Section ( 15 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-58 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔58)

9 فروری،2026

مولانا یوسف علی صاحبؒ

مولوی یوسف علی صاحبؒ خواجہ نصیرؒ کے خلیفہ او رسجادہ نشین تھے۔ان کا اخلاق نہایت وسیع تھا۔ ان کی صحبت میں ایسی دلکشی تھی کہ سینکڑوں آدمی ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ ان کے زمانہ میں خواجہ دردؒ کے سلسلہ کوبہت فروغ ہوا۔

شاہ غیاث الدین صاحبؒ

شاہ غیاث الدین صاحبؒ چشتیہ سلسلہ کے بزرگ تھے اور خواجہ کمہاری والے کہہ کر مشہور تھے۔ خواجہ مودودچشتیؒ سے آپ کاسلسلہ نسب ملتاہے۔آپ اخلاق محمد ی کا جیتا جاگتا نمونہ تھے۔دن رات عبادت میں مصروف رہتے تھے۔ آپ کے رشد وہدایت سے سینکڑوں نے استفادہ کیا۔ سرسید نے لکھا ہے”مرید ان بااخلاص کو آپ کی ذات بابرکات سے ارشاد او رہدایت اور رہبری سبیل سعادت ایسا ہوا کہ کم کسی سے متصور ہے۔“

1244ھ/ 1828ء میں وصال فرمایا۔ مزار آپ کا ملتانی ڈھانڈہ میں ہے جوبستی قدم شریف او رپہاڑ گنج کے درمیان ہے۔

شاہ صابر بخش صاحبؒ

شاہ صابر بخش صاحبؒ چشتیہ صابر یہ سلسلہ کے بڑے برگزیدہ بزرگ تھے۔ ان کے والد شاہ نصیر الدین صاحبؒ اپنے والد شاہ غلام سادات صاحب چشتیؒ کی حیات میں وصال فرماگئے۔ اس لئے شاہ غلام ساداتؒ کے بعد آپ ہی سجادہ نشین ہوئے۔

شاہ سادات صاحب چشتی (المتوفی 1210ھ/ 1795ء) بڑے ذی مرتبت بزرگ تھے۔ وہ شاہ محمد نصیرؒ کے خلیفہ تھے، جنہوں نے شیخ محمد چشتی سے خلافت حاصل کی تھی۔ مؤخرالذکر شیخ ابراہیم رامپوریؒ کے عزیز مرید اور خلیفہ تھے۔ اس بنا پر شاہ صابر بخشؒ جس سجادہ پرجلوہ افروز ہوئے وہ نہایت برگزیدہ بزرگوں کامسند تھا۔

شاہ صابر صاحبؒ عبادت وطاعت میں بے نظیر تھے۔سخاوت اورغرباپروری کاجذبہ ان میں کوٹ کوٹ کربھرا ہوا تھا۔ مصنف ’انوارالعاشقین‘ نے لکھاہے:”آپ کے زمان فیض نشان میں آپ کی خانقاہ میں بہت درویش او رطالب علم رہتے تھے۔ صدہا آدمیوں کو کھانا ملتا تھا او ربہت بزرگوں نے آپ سے فیض حاصل کیا“۔

1237ھ/1821ء میں 63 سال کی عمر میں وصال فرمایا۔ اپنی خانقاہ میں، جو روشن الدولہ کی سنہری مسجد قاضی واڑہ (فیض بازار) کے مقابل واقع تھی، مدفون ہوئے۔آپ کے مزار پر ایک کتبہ بہادر شاہ ثانی نے نصب کرایا۔ فیض بازار میں آپ کی خانقاہ مشہور ہے او ریہ مقام صابر بخش کی بانفچیی کہلاتا ہے۔خانقاہ کے پاس ایک مسافر خانہ نواب میر محبوب علی خاں بہادر شاہ دکن کی جانب سے 1320ھ/1902ء میں بنوایا تھا۔

میر محمدی صاحبؒ

میر محمدیؒ (المتوفی 1242ھ/1826ء) حضرت شاہ فخرالدین صاحبؒ کے عزیز مرید اور خلیفہ تھے۔مولوی بشیر الدین نے آپ کا اصلی نام مولانا امام الدین بتایا ہے۔مصنف ’مزارات اولیاء دہلی‘ نے آپ کا نام عمادالدین لکھا ہے۔ میری محمدیؒ نے شاہی خاندان کے افراد خصوصیت سے عقیدت رکھتے تھے۔ اورہر وقت ان کا جھمگٹا ان کی خانقاہ میں لگارہتا تھا۔ ’شجر ۃ الانوار‘ میں لکھا ہے:”میر محمدی صاحب کہ یکے از خلفا ئے حضرت مولانا انددارشاد ورہنمائی عباد دریں شہر بخو بیہا مصروف اندوبا صاف عمائد موصوف بسیار ازاہل شہرو شہزادبامرید میر صاحب اند، کشف وکرامات آں سید پاک درمیان مرید ان ایشاں ہویداست۔“

’بہادر شاہ کے روزنامچہ‘ سے معلوم ہوتاہے کہ بادشاہ ان کی خدمت میں حاضر ہواکہ کرتا تھا او رنہایت دھوم دھام سے بادشاہ کی سواری ان کی خانقاہ میں پہنچتی تھی۔لکھا ہے:”حضور بادشاہ ایک دن میر محمدی صاحب کے گھر تشریف لے گئے۔ توپ خانہ انگریزی وبادشاہی سے حسب معمول سلامی کی توپیں چھوڑی گئیں۔“

بہادر شاہ کی میر صاحبؒ سے یہ عقیدت وصال کے بعد جاری رہی۔ وہ برابر ان کے عرس میں شرکت کرتاتھا۔’روزنامچہ‘ میں لکھا  ہے:

”بقرعید کے دن حضرت میر محمدی صاحبؒ مرحوم کا عرس منعقد ہوتا تھا۔ بادشاہ سلامت عرس میں شرکت کی غرض سے تشریف لے گئے۔ختم میں شریک ہوئے اور تبرک لے کر واپس آئے۔“

شہزادے خاص طور سے آپ کے عقیدت مند تھے۔اکثر آپ کے مرید تھے۔مرزا سلیم خلف اکبر شاہ ثانی آپ کا مرید او رمعتقد تھا۔مرزا خجستہ بخت نے وصال کے بعد میر صاحب کا جانشیں ہونے کا دعویٰ کیا۔ آپ نے 1242ھ/1826ء کو وصال فرمایا۔ مرزا سلیم شاہزادے نے فرطِ عقیدت سے آپ کو اپنے مکان کے صحن میں ہی دفن کیا جو اب میر محمدی کی خانقاہ کے نام سے مشہور ہے اور چتلی قبر کے متصل واقع ہے۔

مولانامحمد حیاتؒ

مولانامحمد حیاتؒ پنجاب کے رہنے والے تھے۔وہاں سے دہلی چلے آئے تھے اور شاہ صابر بخشؒ کی خانقاہ میں معقول ومنقول کا درس دیا کرتے تھے۔ ان کے علمی تبحر اور زہدوتقدس کا بہت شہرہ تھا۔ دور دور سے طلباء تحصیل علم کے لیے ان کے مدرسہ میں آتے تھے۔آپ کے طلباء اکثرنہایت اعلیٰ پائے کے عالم او ربلند مرتبہ فاضل ہوتے تھے۔ بعض تو ان میں یگانہ عصر شمار ہوئے۔ خصوصاً حافظ عبدالرحمن گونا بینا تھے،لیکن بقول سرسید ”کوئی علم عقلیہ اور نقلیہ ایسا نہیں کہ اس کو محققانہ نہ جانتے ہوں۔”ہیئت اور علم ہندسہ بے تکلف پڑھاتے تھے۔ جب مولانا حیاتؒ نے ایسے باکمال شاگرد پیدا کردیے تو خود اصلاح باطن اور ذکر واشغال کی طرف متوجہ ہوئے۔پاک پٹن میں شاہ محمد سلیمان صاحبؒ کے پاس گئے۔ ان سے بہت سے کمالات باطنی کا اکتساب کیا۔کچھ عرصہ بعد شاہ جہاں آباد واپس آگئے۔ اس دوران میں شاہ صابر بخش صاحب وصال فرما گئے۔چنانچہ اب ان کی خانقاہ میں مقیم ہونے کے بجائے قلعہ کے قریب ایک مسجد میں سکونت اختیار کرلی۔ آپ کی وہاں موجودگی سے مسجد بے حد آباد اوربارونق ہوگئی۔ سرسید نے لکھا ہے”ایسی آباد ہوگئی کہ اب اس کو باعتبار کثرتِ عبادات اور وفورِ طاعات خیرالمساجد اور افضل المعابد کہنا چاہئے۔“(جاری)

--------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-50 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-51 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-52 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-53 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-54 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-55 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-56 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-57 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-58/d/138862

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..