New Age Islam
Sat Mar 14 2026, 03:59 PM

Urdu Section ( 14 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-57 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔57)

8 فروری،2026

’’اہل دربار رخصت ہوئے تو زبدۃ الواصلین قدوۃ السالکین حضرت شاہ غلام نصیرالدین، (عرف میاں کالے صاحب) ملاقات کے لیے تشریف لے آئے۔ معرفت و حقایق کے دفتر کھلے۔‘‘

جب شاہی خاندان میں کسی کو تعویذ وغیرہ کی ضرورت ہوتی تو کالے صاحب سے رجوع کیا جاتا۔ ۳۱ جولائی ۱۸۴۶؁ء کی اطلاع ہے :

’’نواب تاج محل بیگم صاحبہ کو آثارِ حمل ظاہر ہوئے اس لیے میاں کالے صاحب پیرزادہ حفاظتِ حمل کا تعویذ دینے کی غرض سے قلعہ معلی میں تشریف لے گئے۔‘‘

بہادر شاہ پر کالے صاحب کا اتنا اثر تھا کہ اُن کی سفارش سے جو فقیر بارگاہِ سلطانی میں باریاب ہوتے تھے اُن پر خاص خسروانہ التفات و اکرام کا اظہار ہوتا تھا۔ ۷ جولائی ۱۸۴۶؁ء کی خبر مظہر ہے :

’’جو درویش حضرت میاں کالے صاحب کے ذریعہ سے بادشاہ تک پہنچا […] حضرت بادشاہ سلامت نے اُسے دو اشرفیاں عنایت کی اور نہایت عزت و احترام سے رخصت کیا۔‘‘

شاہی خاندان کی بیگمات اور دیگر افراد بھی شاہ صاحب کی سفارش کے ذریعہ اپنے وظیفہ میں اضافہ کرواتے تھے۔ ۴ ستمبر ۱۸۴۶؁ء کی خبر ہے :

’’حضرت شاہ نصیرالدین عرف کالے میاں صاحب کے صحیفہ کے جواب میں بادشاہ سلامت خلداللہ ملکہ نے تحریر فرمایا کہ عدمِ گنجائش کی وجہ سے نواب مستغنی بیگم کا کوئی جدید وظیفہ جاری نہ ہوسکا۔‘‘

بہادرشاہ کے روزنامچہ کے مطالعہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت کالے صاحبؒ کا بادشاہ کی جانب سے کچھ وظیفہ مقرر تھا۔ یہ چیز خواجگانِ چشت کے مسلک کے منافی تھی۔ اس سلسلہ کے بزرگوں نے انتہائی عسرت اور تنگی کے باوجود بھی کسی بادشاہ یا امیر سے کوئی وظیفہ یا جاگیر قبول نہیں فرمائی۔ ۳۰ ستمبر ۱۸۴۶ء کی خبر ہے :

’’موضع شمع پور باؤلی کی آمدنی میں سے مبلغ پانچ سو روپیہ حضرت شاہ غلام نصیرالدین صاحب عرف کالے صاحب کو مرحمت فرمائے اور ارشاد کیا کہ اس آمدنی میں سے ہمیشہ پانچ سو روپیہ انشاء اللہ قبل از طلب حاضرِ خدمت ہو جایا کریں گے۔ عرض کیا گیا کہ حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں ایک ہزار پانچ سو روپیہ من جملہ چار ہزار روپیہ سالانہ کے بھیجے گئے تھے۔ حضرت شاہ صاحب نے یہ روپیہ واپس کرکے فرمایا کہ تمام روپیہ یکمشت آنا چاہیے۔ اس طرح ٹکڑے ٹکڑے کرکے نہ آنا چاہیے۔‘‘

پھر ایک دوسری اطلاع ہے :

’’حکیم احسن خاں بہادر سے ارشاد ہوا کہ پیرزادہ حضرت شاہ غلام نصیرالدین صاحب عرف کالے صاحب کو نواب زینت محل بیگم صاحبہ کی معرفت چار ہزار روپیہ بھیج دیا جائے۔‘‘

بادشاہ تقاریب وغیرہ کے موقعوں پر کالے صاحب کو خرچ دیتے تھے۔ ۲ اپریل ۱۸۴۷ء کی اطلاع ہے :

’’کار پردازاں خلافت کو حکم دیا گیا کہ حضرت میاں کالے صاحب نبیرہ حضرت مولانا فخرالدینؒ کی صاحبزادی کی شادی ہے۔ دس ہزار روپئے ان کے خرچ کے لیے عطا کیے جائیں۔‘‘

دو مہینے ابھی نہیں گزرنے پائے کہ پھر ایک شادی میں روپئے بھیجے جاتے ہیں۔ ۴ جون ۱۸۴۷ء کی اطلاع ہے :’’محبوب علی خاں خواجہ سرا سے فرمایا کہ ہمیں فی الحال میاں کالے صاحب کے صاحبزادے کی شادی کے لیے چار ہزار روپئے کی […] ضرورت ہے۔‘‘

حضرت کالے صاحبؒ کا بادشاہ سے یہ میل جول چشتیہ سلسلہ کی روایات کے بالکل برعکس تھا۔ بزرگانِ چشت نے کبھی اس قسم کے تعلقات اور جاگیرداری کو روا نہیں رکھا۔ اُن کا یقین تھا کہ اس طرح سے نہ صرف تملق اور دربارداری کی عادتیں پرورش پاتی ہیں، بلکہ روحانی ترقی میں سخت رکاوٹیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ ’انفاس العارفین‘ میں شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے لکھا ہے :’’دربعض ملفوظاتِ خواجگان چشتیہ مذکور است کہ ہر کہ نامِ او در دیوانِ بادشاہ نوشتہ شد نامِ او از دیوان حقِ سبحانہ بر می آرند۔‘‘

خواجہ نصیر ؒ

   خواجہ نصیرؒ (۱۷۷۵ء-۱۸۵۴ء) خواجہ میر درد کے نواسے تھے۔ خواجہ درد (۱۷۱۹ء-۱۷۷۶ء) بڑے زبردست صوفی اور شاعر تھے۔ انہوں نے ’اسرارالصلوٰۃ‘، ’وارداتِ درد‘، ’علم الکتاب‘ وغیرہ کتابیں لکھی تھیں۔ خواجہ نصیرؒ کے متعلق سرسید نے لکھا ہے کہ بچپن ہی میں خواجہ درد سے بیعت کی تھی۔ اور جب سن دس سال کا ہوا تو خواجہ درد نے وفات پائی۔ سنین کے اعتبار سے یہ غلط معلوم ہوتا ہے۔ خواجہ نصیر کا سنہ پیدائش ۱۱۸۹ھ/۱۷۷۵ء ہے اور خواجہ درد نے ۱۱۹۰ھ/۱۷۷۶ء میں وفات پائی۔

خواجہ نصیرؒ ریاضیات اور موسیقی کے ماہر تھے۔ حساب میں ایک رسالہ بھی لکھا تھا۔۸۱

خواجہ نصیرؒ نے باطنی کمالات خواجہ دردؒ کے چھوٹے بھائی میر اثرؒ سے حاصل کیے تھے۔ میر اثرؒ بڑے صاحبِ نسبت بزرگ تھے۔ ’تذکرہ میر حسن‘ میں اُن کے متعلق لکھا ہے :

’’درویشے است مؤقر، صاحب سخنے است مؤثر، عالم و فاضل مرتبہ قدرش بغایت بلند و گوہر صدرش نہایت ارجمند، در خدمتِ برادر بزرگوارِ خود گوشہ نشینی اختیار کردہ و قدم برجادۂ بزرگانِ خود نہادہ بسرمی برد۔‘‘

ایسے بزرگ کے فیضِ صحبت سے خواجہ نصیرؒ نے فائدہ اٹھایا تھا۔ ان کے وصال کے بعد وہ خود ہی اُن کے سجادہ پر متمکن ہوئے۔

خواجہ دردؒ کا سلسلہ بالکل نیا تھا۔ اُن کے والد خواجہ میر محمد ناصر عندلیبؒ (المتوفی ۱۷۵۹ء) خواجہ بہاء الدین نقشبندؒ کے سلسلہ سے تھے۔ ابتدائی زمانہ میں مغل فوج میں ملازم تھے۔ یکایک انہوں نے فوج کی ملازمت چھوڑ دی تھی اور گوشہ نشین ہوگئے تھے اور ایک نیا سلسلہ ’طریقۂ محمدی‘ جاری کیا تھا۔ اپنے خیالات کی تشریح میں ’نالۂ عندلیب‘ کتاب لکھی اور اس سلسلہ میں سب سے پہلے اپنے بیٹے میر درد کو داخل کیا۔

خواجہ نصیرؒ نے سجادہ پر بیٹھ کر اس سلسلہ کو بڑی رونق بخشی۔ ان میں انتہائی استغنا اور دنیا سے بے تعلقی کا جذبہ تھا۔ قدرت کی طرف سے نہایت صابر و شاکر طبیعت ودیعت کی گئی تھی۔ طبیعت میں سوز و گداز بہت تھا۔ کبھی کبھی شعر بھی کہہ لیتے تھے۔ رنجؔ تخلص فرماتے تھے۔ سرسید نے اُن کے چند اشعار منتخب کیے ہیں۔ دو شعر ملاحظہ ہوں   ؎(جاری)

-------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-50 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-51 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-52 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-53 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-54 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-55 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-56 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-57/d/138849

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..