New Age Islam
Tue Mar 03 2026, 08:24 AM

Urdu Section ( 11 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-54 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔54)

5 فروری،2026

حضرت شاہ غلام علی صاحبؒ

حضرت شاہ غلام علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ (۱۷۴۳ء-۱۸۲۴ء) کی خانقاہ اس  زمانہ میں دلّی کی سب سے زیادہ شاندار خانقاہ تھی۔ شاہ صاحبؒ نقشبندیہ مجددیہ سلسلہ کے مشہور بزرگ حضرت مرزا مظہر جانِ جاناںؒ کے عزیز مرید اور خلیفہ تھے۔ علم و فضل، زہد و ورع میں یکتائے عصر اور یگانۂ روزگار تھے۔ ان کی خانقاہ بقول حالی ’’دین دار مسلمانوں کا ملجا و ماویٰ تھی‘‘۔ اُن کے ایک ہزار کے قریب خلیفہ اور لاکھوں مرید تھے۔اور مرید بھی اس مرتبہ کے کہ ان کی علمیت و فضیلت کے شہرہ سے مصر و ہندوستان گونج رہا تھا۔۱دور دور سے لوگ شاہ صاحبؒ کی خدمت میں عقیدت و ارادت کی نذر لے کر حاضر ہوتے تھے۔ سرسید کابیان ہے:

’’میں نے حضرت کی خانقاہ میں اپنی آنکھ سے روم و شام اور بغداد اور مصر اور چین اور حبش کے لوگوں کو دیکھا ہے کہ حاضر ہوکر بیعت کی اور خدمتِ خانقاہ کو سعادتِ ابدی سمجھے اور قریب قریب کے شہروں کا مثل ہندوستان اور پنجاب اور افغانستان کا تو کچھ ذکر نہیں کہ ٹڈی دل کی طرح امڈے تھے۔‘‘

غلام محی الدین قصوری نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ شاہ صاحبؒ خود فرمانے لگے کہ ’’ہمارا فیض دور دور پہنچ گیا ہے۔ حضرت مکہ معظمہ میں ہمارا حلقہ بیٹھتا ہے۔ حضرت مدینہ منورہ میں ہمارا حلقہ بیٹھتا ہے۔ بغداد شریف، روم و مغرب میں ہمارا حلقہ جاری ہے۔‘‘

شاہ صاحبؒ کی خانقاہ میں بڑی رونق رہتی تھی۔ پانچ پانچ سو فقیر ان کی خانقاہ میں ہوتا تھا اور وہ اُن کے کھانے اور پہننے کا بندوبست کرتے تھے۔ توکل کا یہ عالم تھا کہ کوئی نواب یا رئیس جاگیر پیش کرتا تو قبول نہ کرتے، بلکہ جواب میں فرما دیتے اللہ تعالیٰ کے وعدے ہماری جاگیریں ہیں۔ ایک مرتبہ امیر محمد خاں والیٔ ٹونک نے وظیفہ قبول کرنے کی درخواست کی۔ مولانا رؤف احمد، مصنف ’جواہر علویہ‘ کو حکم ہوا کہ جواب میں یہ شعر لکھ دو  ؎

ما آبروے فقر و قناعت نمی بریم

با میر خاں بگو کہ روزی مقرر است

قناعت اس قدر تھی کہ زبان پر شیخ ابنِ یمین کے یہ شعر رہتے تھے   ؎

نانِ جویں و خرقۂ پشمین و آب شور

سیپارۂ کلام و حدیث پیمبری

ہم نسخۂ دو چار ز علمیکہ نافع است

در دیں نہ لغو بو علی و ژاژ عنصری

تاریک کلبۂ کہ پیٔ روشنیٔ آں

بیہودہ منتے نبرد شمعِ خاوری

با یکدو آشنا کہ نیرزد بہ نیم جو

در پیش چشم ہمت او ملکِ سنجری

ایں آں سعادت است کہ حسرت برو برد

جویائے تخت قیصر و ملک سکندری

شاہ صاحبؒ حدیث کے بڑے زبردست عالم تھے۔ انہوں نے حدیث کی سند امام المحدثین حاجی محمد افضل صاحبؒ سے جو مرزا مظہر جان جاناںؒ کے بھی استاد تھے، حاصل کی تھی۔ وہ خود نہایت پابندی سے فجر اور ظہر کے بعد طلباء کو تفسیر و حدیث کا درس دیتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ تین کتابیں ایسی ہیں جن کی نظیر نہیں۔ کلام اللہ، بخاری اور مثنوی مولانا رومؒ۔

شاہ غلام علی صاحب کو اتباعِ سنت و شریعت کا خاص خیال رہتا تھا۔ وہ اپنے مریدوں اور مخلصوں کو برابر نماز کی تاکید فرماتے رہتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ نماز تمام عبادات کی جامع اور تمام طاعتوں پر حاوی ہے۔ خلاف شرع و سنت لوگوں سے وہ بہت خفا ہوتے تھے اور اپنی مجلس میں ان کا آنا تک گوارہ نہ فرماتے تھے۔ غرض شاہ صاحب نے اپنی عمر شریعت و سنت کی تلقین میں بسر کی۔ جب وصال کا وقت آیا تو وصیت نامہ میں بھی سنتِ نبویؐ پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی۔ رسولِ مقبولؐ سے ان کو عشق تھا۔ زبان پر نام آتا کہ ایک کیفیت طاری ہوجاتی۔ رسولِ پاکؐ سے ان کی عقیدت اور اتباع سنت کا عالم دیکھ کر سرسید بے اختیار پکار اٹھتے ہیں: ’’اور میں تو اس بات پر عاشق ہوں کہ باوجود اتنی آزادی اور از خود رفتگی کے سرِمو احکامِ شریعت سے تجاوز نہ تھا اور جو کام تھا وہ بہ اتباعِ سنت تھا۔‘‘

شاہ صاحبؒ سے آخری زمانہ میں جو فیض جاری ہوا وہ عدیم النظیر تھا۔ ان کے مریدین کا جال تمام عالمِ اسلام میں پھیل گیا تھا۔ ہندوستان میں کوئی مقام ایسا نہیں تھا جہاں ان کے مرید و عقیدت مند نہ ہوں۔ ان کے مشہور خلیفہ شیخ خالد کردیؒ نے ان کی شان میں ایک قصیدہ لکھا ہے جس کے چند شعر یہ ہیں   ؎

امامِ اولیا سیاحِ بیدائے خدا بینی

ندیمِ کبریا سیّاح دریائے خدا دانی

مہیں رہنما یاں شمع جمعِ اولیائے دیں

دلیلِ پیشوایاں قبلۂ اعیانِ روحانی

چراغِ آفرینش، مہر برج دانش و بینش

کلیدِ گنجِ حکمتِ محرمِ اسرارِ سبحانی

امینِ قدس عبداللہ شہ کز التفاتِ او

دہد سنگِ سیہ خاصیتِ لعلِ بدخشانی

حضرت شاہ ابوسعیدؒ

حضرت شاہ ابو سعید صاحبؒ (۱۷۸۲ء-۱۸۳۴ء) حضرت شاہ غلام علی صاحبؒ کے مرید اور خلیفہ تھے اور اُن کے بعد سجادہ پر بیٹھے۔ وہ بڑے جید عالم اور بڑے عالی مرتبت بزرگ تھے۔ غلام سرور نے لکھا ہے :’’جامع بود میانِ علومِ ظاہری و باطنی و فقہ و حدیث و تفسیر۔‘‘

علوم ظاہری میں وہ مفتی شرف الدین صاحبؒ دہلوی اور مولانا شاہ رفیع الدین صاحبؒ کے شاگرد تھے۔ اور شاہ عبدالعزیز صاحبؒ اور مولانا سراج احمد صاحبؒ سے فقہ و حدیث کی سند حاصل کی تھی۔کلام اللہ حفظ تھا۔ ’’علم قرأت میں یکتائے روزگار تھے۔ کلام اللہ ایسی خوش آواز اور کمال قرأت سے پڑھتے کہ لوگ دور دور سے سننے آتے تھے۔‘‘(جاری)

------------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-50 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-51 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-52 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-53 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-54/d/138802

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..