New Age Islam
Tue Mar 03 2026, 11:55 AM

Urdu Section ( 10 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-53 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔53)

4 فروری،2026

حضرت دہلی کنفِ دین و داد

جنت عدن است کہ آباد باد

ہست چو ذاتِ ارم اندر صفات

حرسھا الہ عن الحادثات

ملک ز دروازہئ او فتح یاب

سیزدہ دروازہ و صد فتح یاب

نام بلندش رہِ بالا گرفت

تا بہ ختن شد رہِ یغما گرفت

گر شنود قصہ ایں بوستاں

مکّہ شود طائف ہندوستاں

انیسویں صدی میں جب کہ سلطنت پرنزع کاعالم طاری تھا اور زوال وانحطاط کے آثار ہر طرف نمایاں تھے، دہلی اپنی دیرینہ شان و شوکت کو خیر باد کہہ چکنے کے باوجود انتہائی با رونق تھی۔ابھی کچھ نقوش باقی تھے جن سے ’کاروانِ رفتہ‘ کی عظمت وشوکت کا اندازہ ہوتا تھا۔ اس زمانہ میں بھی اگر کسی نے یہاں کے علماء سے دہلی کی حالت کے متعلق سوال کرلیا تو بے اختیار کہہ اٹھے۔

ان البلاد امای وھی سیدہ

و انھا ذرہ والکل کالصدف

دوسرے شہر لونڈیاں ہیں او ردلّی ملکہ۔ یہ موتی ہے او رباقی سب سیپیاں۔او راس میں واقعی کوئی مبالغہ بھی نہ تھا۔ یہاں اب بھی علم وعرفان کے ایسے چشمے ابل رہے تھے جن سے ہندوستان ہی نہیں، بلکہ بیرون ہند بھی مستفیض ہورہا تھا۔تعجب کی بات ہے کہ اسلامی ہند نے اپنے زوال او رانحطاط کے زمانہ میں دنیا کے مسلمانوں کو مشعل راہ دکھائی۔ ایک ایسے نازک دور میں جب کہ تمام دنیائے اسلام حدیث وسنت کوبھول چکی تھی،دہلی ہی نے اس کو بھولا ہوا سبق یاددلایا، جس کا اعتراف مصر کے مشہور فاضل علامہ رشید رضا نے اس طرح کیا:

”ہمارے ہندوستانی بھائیوں میں جو علماء ہیں اگر حدیث کے علوم کے ساتھ ان کی توجہ نہ ہوتی، تو مشرقی ممالک سے یہ علم ختم ہوچکا ہوتا، کیونکہ مصر، شام، عراق، حجاز میں دسویں صدی ہجری سے یہ علم ختم ہوچکا ہوتا، کیونکہ مصر، شام، عراق،حجاز میں دسویں صدی ہجری سے یہ علم ضعف کا شکار ہوچکا تھا اور چودہویں صدی کے اوائل تک ضعف کی آخری منزل پر پہنچ گیا تھا۔“

چند نفوس قدسیہ کی موجودگی نے دہلی کو تمام ممالک اسلامیہ کی توجہ کا مرکز بنادیا۔غلام علی صاحبؒ کی خانقاہ میں شام، مصر، چین اور حبش کے لوگوں کو جھمگٹے لگے رہتے تھے، تو دوسری طرف شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کے خرمن کمال کے خوشہ چیں ملک کے گو شہ گوشہ میں پھیل گئے تھے اور علوم دینی کا چرچا کررہے تھے۔سلطنت دم توڑ رہی تھی، سیاسی زوال وپستی کی آخری منزلیں طے ہورہی تھیں، لیکن’ذہنی شعور‘ ابھی مردہ نہ ہوا تھا۔ کچھ بیدار مغزانسان تجدید واحیاء کے نئے راستے تلاش کررہے تھے۔ وہ اس سیاسی زوال کو مذہبی او رذہنی زوال کا پیش خیمہ بنانا نہیں چاہتے تھے۔اللہ کے یہ فرماں بردار بندے حوادث کا مقابلہ کررہے تھے اور ملت کو مذہبی انتشار اور ذہنی تنزل سے بچانے میں مصروف تھے۔ ان کی کوششوں کا نتیجہ تھاکہ سلطنت کا جاہ وجلال ختم ہونے کے بعد بھی مذہب کی رونق کم نہ ہوئی۔ مذہب میں لوگوں کی دلچسپی اسی طرح برقرار رہی۔ مسجدوں کی وہی شان تھی۔رمضان کے مہینے میں چھوٹی چھوٹی مسجدوں کاتو کچھذکر ہی نہیں۔ وہاں جتنی جگہ تراویح ہوتی تھی اس کی تعداد حضرت شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کی زبانی سن کر حیرت ہوتی ہے۔ 1857 ء کے ہنگامہ نے یک دم دہلی کی بساط الٹ دی۔ پرانی مجلسیں درہم برہم ہوگئیں ،علمی ومذہبی محفلیں سرد پڑگئیں، گھر کے گھربے تو روبے چراغ ہوگئے۔ بقول غالب۔

یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشہئ بساط

دامان باغبان وکف گلفروش ہے

یا صبح دم جو دیکھئے آکر تو بزم میں

نے وہ سرور وسوز، نہ جوش وخروش ہے

مسجدیں مسمار ہوگئیں، خانقاہیں تباہ وبرباد ہوگئیں، مدرسوں میں کھیتی ہونے لگی۔ مسجد اکبر آبادی ایسی تباہ وبرباد ی ہوئی کہ نام ونشان تک باقی نہ رہا۔ مدرسہ رحیمیہ جہاں سے ولی اللہی حکمت کا چشمہ ابلا تھا او رجہاں شاہ عبدالعزیزؒ او رشاہ محمد اسحاقؒ نے قرآن وحدیث کے درس دیئے تھے وہاں ’مدرسہ رائے بہادر لالہ رام کشن داس‘ کا تختہ لگ گیا۔”میاں کالے صاحب مغفور کا گھر اس طرح تباہ ہواکہ جیسے جھاڑودے دی۔ کاغذکا پرزا، سونے کاتار، پشمینہ کا بال باقی نہ رہا۔شیخ کلیم اللہ جہاں آبادیؒ کا مقبرہ اجڑ گیا۔ کیا اچھے گاؤں کی آبادی تھی۔ ان کی اولاد کے لوگ تمام اس موضع میں سکونت پذیر تھے۔اب ایک جنگل ہے اور میدان میں قبر۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔“

بڑے بڑے گھرانے تباہ و برباد ہوگئے۔ عزت وناموس کا بچانا محال نظرآنے لگا۔ جب مصائب ناقابل برداشت ہوگئے تو بڑے بڑے بزرگ او رعالم دہلی چھوڑ نے پرمجبور ہوگئے۔ میاں کالے صاحبؒ کے بیٹے میاں نظام الدین نے حیدرآباد کا رخ کیا۔اور شاہ فخرالدینؒ کی خانقاہ سونی پڑ گئی۔ شاہ احمد سعید صاحب مجددیؒ نے حرمین شریفین کی راہ لی۔ او رشاہ غلام علی صاحبؒ کی خانقاہ کا چراغ گل ہوگیا۔ہرطرف حسرت او رمایوسی چھا گئی۔جو اس ہنگامہ داروگیر سے بچے وہ ’کافور وکفن‘ کی تمنا کرنے لگے۔ زندگی وبال معلوم ہونے لگی۔ جب کسی نے ان گذشتہ محفلوں کاذکر چھیڑا تو بے اختیار وں کو پکڑ کرکہنے لگے۔

تذکرہ دلّی مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑ

نہ سنا جائے گاہم سے یہ فسانہ ہرگز

اس مضمون میں ہم 1857 ء سے پہلے کے ان مشایخ وعلماء کا ذکر کریں گے جنہوں نے اس طوفانی دور میں اسلامی سوسائٹی کوابتری او رانتشار سے بچایا او رحدیث وقرآن کا وہ چرچا کیا کہ مذہب سیاسی زوال کے خطرناک اثرات سے بچ گیا۔ اس زمانہ میں علما ء وصوفیاء کی کوشش تھی کہ عوام کو سنت و شریعت کا پابند بنایاجائے۔ وہ اسی میں مسلمانوں کے مرض کا علاج اور آئندہ ترقی کا راز پاتے تھے۔چنانچہ خانقاہوں میں شریعت وسنت کی تلقین ہوتی تھی او رمدرسوں میں حدیث وکتابت کادرس۔(جاری)

-------------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-50 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-51 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-52 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-53/d/138793

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..