خلیق احمد نظامی
(حصہ۔52)
3 فروری،2026
کالے صاحب،جن سے غالب کو بڑا تعلق تھا، شاہ فخر صاحبؒ کے پوتے تھے۔ پنجاب اوردکن میں چشتی خانقاہیں ان ہی کی جہدوسعی سے وجود میں آئیں۔ خدمت خلق کے جذبہ کا یہ عالم تھاکہ حج کے لیے روانہ ہوے۔جہاز پر سوار ہونے لگے تو ایک بڑھیا آگے بڑھی اور عرض کیا: ”مجھے لڑکی شادی کرنی ہے اور حال یہ ہے کہ گھر میں فاقہ ہوتے ہیں،یہ کام کیسے انجام دوں؟“ شاہ فخر صاحبؒ نے فوراً اپنا سامان اتار لیا او ر جو کچھ زادِ راہ تھا اس میں بڑھیا کے حوالہ کرکے دہلی واپس آگئے۔

خواجہ میردردؒ (1784-1720ء) جام معرفت سے سرشار تصوف کے مسلم الثبوت استاد تھے۔ ان کا حقیقی مقام تصوف تھا، شاعر ی نہیں۔ ان کی شاعری میں تصوف کاسر جوش ملتاہے۔ فن موسیقی کے ماہر تھے۔ اپنے والد خواجہ ناصر عندلیبؒ کے سجادہ پربیٹھ کر تصوف کارنگ بہت گہرا اور والہانہ ہوگیا تھا۔ انہوں نے اپنے شعروں میں بقول صاحب ’آب حیات‘:”تلواروں کی آبداری نشتروں میں بھردی ہے۔“ان کا علمی شاہکار ’علم الکتاب‘ ہے، جس میں تصوف کے بنیادی افکار، سلسلہ نقشبندیہ کی مرکزی حیثیت،وحدت الوجود، وحدت الشہود وغیرہ مباحث پرجس انداز سے گفتگو کی ہے، وہ دہلی میں لکھی گئی کسی کتاب میں نہیں ملتی۔ اس میں تشریح ہے ان کے اس شعر کی۔
ارض وسما کہا ں تری وسعت کو پاسکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
مرزا مظہر جان جاناں ؒ اپنے زمانہ میں نقشبندیہ سلسلہ کے سب سے مشہور او رمقبول بزرگ تھے۔ ان کے فارسی اشعار میں جذبات واحساسات کی ایک دنیا سمٹ آئی ہے۔ ان کے ’خریطہ جواہر‘ نے، جس میں انہوں نے فارسی اشعار کا انتخاب پیش کیاہے، بقول غالب ہندوستان میں فارسی شاعری کاذوق زندہ کیا۔ وہ سید نور محمد بدایونیؒ کے حلقہ مریدین میں شامل تھے اور مدتوں ان کے آستانہ سے وابستہ رہے تھے۔ پھر تقریباً 35سال مسندِ ارشادوتربیت کو رونق بخشی۔نعیم اللہ بہرائچی کا بیان ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں جاتا تھا کہ تقریباً سوطالبان حق کو توجہ نہ دیتے ہوں۔ دہلی اور روہیل کھنڈ میں ان کے مریدین کی کثیر تعداد تھی۔ بیرونی حملو ں او راندرنی بدامنی نے ان کو پریشان کردیا تھا، لیکن ان کے اصلاحی پروگرام میں کبھی فرق نہ آیا۔ ان کی وسیع مشربی کا یہ حال تھا کہ بڑی تعداد میں ہندو ان کے معتقد تھے۔ آخر عمر میں وہ اپنے ایک ہندو معتقد رام کیول کے مکان میں رہنے لگے تھے۔ وہ وید کوالہامی کتاب مانتے تھے اور جن اکابر اس میں ذکر ہے ان کا پیغمبر تسلیم کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی وسیع المشربی سے ہندو مسلم ارتباط کو مضبوط کرنے کے لیے سماجی، جذباتی اور فکری تینوں قوتوں کا استعمال کیا۔مزاج بے حد نازک تھا، اتنانازک کہ بے اختیار مولانااقبال سہیل کا یہ مصرع زبان پرآجائے۔
نازک ہے مزاج حسن بہت،سجدو ں سے بھی برہم ہوتا ہے
مزاج کے خلاف کوئی بات ہوتی تو مغل بادشاہ پر بھی غصہ کااظہار کردیتے۔ رضائی پر ٹیڑھے ڈورے پڑجاتے تو رات بھرجاگ کر گزاردیتے۔ پانی پی کرکوئی کٹورا ٹیڑھا رکھ دیتا تو سر میں درد ہوجاتا۔اسی نازک مزاجی کی پیدااور وہ جذبہ تھا جو انسانی رشتوں میں کسی طرح کی بدمزگی کو برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ انہوں نے ہندو مسلمانوں کو قریب لانے کے لیے صرف وید کو الہامی کتاب ہی قرا ر نہیں دیا۔بلکہ ان کی بہت سی رسوم کی بھی ایسی توجیہ کی جن سے اعتراضات کا وزن کم ہوگیا۔ انیسویں صدی میں ان کے خلیفہ حضرت شاہ غلام علیؒ کی خانقاہ اس زمانہ کی سب سے مشہور ومعروف خانقاہ تھی۔ ان کے ایک ہزار کے قریب خلیفہ اور لاکھوں مرید تھے اور مرید بھی اس مرتبہ کے کہ ان کی علمیت او ربزرگی کاشہرہ مصرو شام تک پھیلا ہوا تھا۔ سرسید کا بیان ہے:
”میں نے حضرت کی خانقاہ میں اپنی آنکھ سے روم وشام اور بغداد ومصر وچین اورحبش کے لوگوں کو دیکھا ہے کہ حاضر ہوکر بیعت کی اور خدمت خانقاہ کو سعادت ابدی سمجھے، اور قریب قریب کے شہروں کا مثل ہندوستان وپنجاب اور افغانستان کا تو کچھ ذکر نہیں کہ ٹڈی دل کی طرح امڈ ے تھے۔“
ان کے ایک مشہور خلیفہ مولانا خالد کردیؒ تھے۔ ا ن کا مزار دمشق میں مرجع خلائق ہے۔ایک قصیدہ میں اپنے مرشد کے متعلق لکھتے ہیں۔
امام اولیاء سیاح بیدائے خدا بینی
ندیمِ کبریا سیاحِ دریائے خدادانی
امین قدس عبداللہ، شہ کز التفاتِ او
دہد سنگ سیہ خاصیت لعل بدخشانی
ان کے بعد شاہ ابوسعیدؒ، شاہ احمد سعیدؒ نے ا ن کی جلائی ہوئی شمع کو روشن رکھا۔انگریزوں کی مخالفت کا یہ عالم تھا کہ سرسید نے، جوشاہ غلام علیؒ کے مرید تھے، انگریزی ملازمت اختیار کرنے کے بعد جب نذر پیش کی تو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ 1857ء کے ہنگامہ رستاخیز نے اس بزم کو اس طرح برہم کیا کہ۔
یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گز گو شہئ بساط
دامان باغبان وکف گلفروش ہے
یا صبح دم جو دیکھیے آکر توبزم میں
نے دو سرور وسوز، نہ جوش وخروش ہے
ایلتتمش کی بنائی ہوئی دلّی اور ا س کے اکابر صوفیہ کی روایات تاریخ کے دھند لکوں میں کہیں دور غائب ہوگئیں۔
1857ء سے پہلے کی دہلی علماء ومشایخ کااجتماعی
دہلی اسلامی ہند کی ابتداسے صوفیاء او رعلما ء کو مرکزرہی ہے۔دجلہ و فرات سے علم وعرفان کوجو موجیں اٹھی ہیں وہ جمنا ہی کے کناروں سے آکر ٹکرائی ہیں۔بغدا د وبخارا سے جو علمی وروحانی قافلے چلے ہیں وہ یہیں آکر ٹھہرے ہیں۔ اس کی رونق کا یہ عالم تھا کہ چپہ چپہ پر خانقاہیں تھیں، قدم قدم پر مدرسے تھے، کوچہ کوچہ میں مسجدیں تھیں، دور دور سے شایقین علم وفضل یہاں آکر جمع ہوتے تھے، تشتگان معرفت اپنی روحانی پیاس بجھانے کے لیے بڑی بڑی تکلیفیں برداشت کرتے تھے او ریہاں پہنچتے تھے۔ ہندوستان کا یہ دارالسلطنت ’رشک بغداد وغیرت مصر‘ بناہوا تھا۔یہاں کے شاعر اس طرح اس کی عظمت اوربلندی کا اعلان کرتے تھے۔(جاری)
--------------------
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-50 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-51 تصوف اور صوفیہ
URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-52/d/138779
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism