New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 04:54 PM

Urdu Section ( 5 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔48)

30 جنوری،2026

شیخ نظام الدین ابوالمؤیدؒ تذکیر میں بے مثال تھے۔ ان تین بزرگوں نے دور اول میں عشق،علم اور تدکیر کے معیار قائم کیے او رتصوف کے تصورات کو اپنے مخصوص رجحانات کے ذریعہ کچھ اس انداز میں پھیلایاکہ طبعیتیں خود بخود اس کی طرف راغب ہوگئیں۔

بعد کو دہلی میں جن بزرگوں کو خصوصی طور پر مقبولیت حاصل ہوئی ان میں شیخ نجیب الدین متوکلؒ، بی بی فاطمہ سامؒاور شیخ نظام الدین اولیاؒ کے نام سرفہرست آنے ہیں۔ شیخ متوکلؒ۔بابا فرید شکرؒ کے چھوٹے بھائی تھے۔ تقریباً ستر سال انہوں نے دہلی میں اس طرح گذارے تھے کہ کئی کئی دن پورا خاندان نان شبینہ سے محروم رہتاتھا۔چھت پرکسی طرح ایک چھپڑ ڈال لیا تھا، جہاں وہ تنہائی میں عبادت کرلیتے تھے۔جو شخص ان کی صحبت میں پہنچ جاتا، معرفت الہٰی کی جستجو اس کے پیکر خاکی میں بیدار ہوجاتی۔ شیخ نظام الدین اولیاؒ نے ان کی صحبت میں توکل،استغناء او رمجاہدہ کا سبق سیکھا۔ وفات کے بعد ان کو اسی امکان میں سپرد خاک کیا گیا۔

حبیب اللہؒ نے لکھا ہے:

”درختانِ آ اک بانبوہ برمزار متبر کہ اش سایہ افگن است“

مسواک کے درخت کثیر تعداد میں ان کے مزار پرسایہ گستر ہیں۔

حضرت بی بی فاطمہ سامؒ بھی ایک جھونپڑے میں رہتی تھیں۔ ان کی ساری زندگی فقر وفاقہ میں گزری۔ایک کنیز جس کو انہوں نے آزاد کردیا تھا شام کو جوکی دو روٹیاں او رپانی کا ایک کوزہ ان کے مصلے کے پاس رکھ جاتی تھی، لیکن ان کی دردمندی خلق اس کو گوارا نہیں کرتی تھی کہ پڑوس میں کوئی بھوکا موجود ہو اور وہ اپنا پیٹ بھرلیں۔فرمایا کرتی تھیں کہ بھوکے کا پیٹ بھرنا تو وہ روحانی سعادت ہے جو لاکھوں روزوں او رنماز سے بھی میسر نہیں آسکتی:

”بصد ہزار روزہ ونماز نتواں یافت۔“

بی بی فاطمہؒ شعر وادب کاذوق بھی رکھتی تھیں۔بات بات میں شعر ان کی زبان پرآجاتا تھا۔

حضرت بی بی فاطمہ سامؒ اور حضرت شیخ نظام الدین سرزمین میں تصوف کے اس بنیادی تصور کی آبیاری کی کہ حقیقی عبادت خدمت خلق کے مترادف ہے۔مذہب کے اس انقلابی تصور کے امکانات کااحاطہ صرف  وہ ذہن کرسکتاہے جس نے شیخ نظام الدین اولیاؒ کی زندگی کامطالعہ ان کے سماجی اور دینی تصورات بالخصوص طاعت لازمی و طاعت متعدی کی روشنی میں کیا ہو۔ فرمایا کرتے تھے کہ طاعت لازمی سے مراد روزہ، نماز اور دیگر عبادات ہیں۔لیکن طاعتِ متعدی نام ہے مخلوق خدا کی مصیبت میں دست گیری اور دکھ درد میں شرکت کا۔ یہ فرق بیان کرنے کے بعد فرماتے تھے کہ طاعتِ متعدی کا ثواب طاعت لازمی سے کہیں زیادہ ہے۔

شیخ نظام الدین اولیاؒ نے تصوف کو رسمی عبادات کے محدوددائرے سے نکال کر انسانیت کی خدمت اورا س کی فلاح وبہبود کے لیے جہد وسعی کے وسیع میدان میں پہنچادیا۔ ان کے مذہبی احساس وشعور کی پرورش اس بنیادی تصور کے گرد ہوئی تھی کہ اللہ کی ساری مخلوق بلا امتیاز مذہب وملت ایک کنبہ ہے۔ اس کی فلاح وبہبود کے لیے جہد وسعی تمام محدود نظریات اور تعصبات سے بالاتر ہوکر کرنی چاہیے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ واقعہ وہ اکثراپنی مجلسوں میں بیان فرمایا کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کسی کو شریک کیے بغیر کھانا نہ کھاتے تھے۔

بعض اوقات مہمان کی تلاش میں میلوں نکل جاتے تھے۔ایک دن ایک مشرک مہمان تھا، اس کو شریک طعام کرنے میں ان کو تامل ہوا۔ فوراً وحی الہٰی نازل ہوئی:’اے ابراہیم! ہم اس شخص کو جان دے سکتے ہیں، اور تم روٹی نہیں دے سکتے‘؟ ان کی تعلیم کا خلاصہ یہ تھا کہ ربوبیت کے اوصاف اختیار کیے جائیں۔شان ربوبیت یہ ہے کہ بادل جب پانی لے کر اٹھتے ہیں تو امیر وغریب، مسلم وغیر مسلم، سب کو فیضیاب کرتے گزرجاتے ہیں۔ سورج نکلتاہے تو محل اور جھونپڑے میں فرق نہیں کرتا، سب کو یکساں روشنی اور گرمی پہنچا کر مغرب میں غائب ہوجاتاہے۔ زمین کا ہرذی روح کے لیے یکساں کھلارہتا ہے۔ انسان کو ربوبیت کے ان مظاہرے اپنی فکر وکردار کی سمت متعین کرنی چاہئے، اور تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللهِ پرعمل کرناچاہیے۔

حضرت شیخ نظام الدین اولیاؒ نصف صدی سے زیادہ مخلوق کی دلداری کو عبادت کادرجہ دیا۔ ابن بطوطہ نے لکھا ہے کہ دمشق میں ایک وقف تھا جو شکستہ دلوں کی مدد کے لیے تھا۔ حضرت محبوب الہٰی کی ذات خود ایسا وقف بن گئی تھی جو رات دن قلوب انسانی کو راحت پہنچانے اور ان کے دُکھ دود میں ساتھ دینے کے لیے وقف تھی۔حضرت شیخ خود تو روزہ رکھتے تھے، لیکن ان کے لنگر میں دن بھر کھانا تقسیم ہوتا رہتاتھا۔سحری کے وقت جب خواجہ عبدالرحیم کھانے کے لیے کچھ پیش کرتے اور طبیعت کومائل نہ پاکر اصرار کرتے تو فرماتے: ”کتنے لوگ ہیں جو دہلی میں مسجدوں کے گوشوں او ردکانوں کے چبوتروں پر رات بھوکے سوئے ہیں۔ جب ان کا خیال آتاہے تو یہ نوالے حلق میں اٹکنے لگتے ہیں۔“

حضرت محبوب الہٰیؒ فرماتے تھے کہ اللہ تک پہنچنے کا راستہ اس کی مخلوق کی ہمدردی کے کوچے سے ہوکر گذرا ہے۔ جو اللہ سے محبت کرنا چاہے اس کی مخلوق سے محبت کرناسیکھے۔کوئی عبادت، کوئی ریاضت، کوئی مشقت قلوب انسانی کو راحت پہنچانے سے بڑھ کرنہیں ہے۔ انسان اس کو کرہئ ارضی پراللہ کا خلیفہ ہے۔ اس کو خالق کائنات کی طرح اپنی شفقت و رافت کا سایہ ہر انسان پربلاتفریق مذہب وملت رکھناچاہیے۔ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے عالم بالامیں لکھا دیکھا ہے کہ انسانی قلوب کو راحت پہنچانے سے بہتر کوئی عبادت نہیں۔

دل بدست آور کہ حجِ اکبر است

ز ہزاراں کعبہ یک دل بہتر است

شیخ نظام الدین اولیاؒ کے محبوب الہٰی کہلانے کی بنیاد یہ حدیت تھی:

الْخَلْقُ عِيَالُ اللَّهِ فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللَّهِ مَنْ أَحْسَنَ إِلَى عِيَالِ ۔

خدا کی سب مخلوق اس کا کنبہ ہے اور وہ خدا کا سب سے زیادہ محبوب ہے جو اس کی مخلوق کے ساتھ سب سے زیادہ بھلائی کرتاہے۔

فیروز شاہ تغلق نے سب سے پہلے ان کو ’محبوب الہٰی‘ کے لقب سے یاد کیا ہے۔(جاری)

----------------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-48/d/138723

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..