New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 06:23 PM

Urdu Section ( 3 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔47)

29 جنوری،2026

دہلی کے گورنر محمد یار خاں کی شرکت میں انہوں نے لغت کی کئی کتابیں مرتب کی تھیں۔’قاموس‘ پرحاشیہ بھی لکھا تھا۔ بعدکو محمد شاہ کے دربار سے منسلک ہوگئے۔ غالباً یہ کتاب اب تک طبع نہیں ہوئی۔کتاب کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ اس نوعیت کی کوئی کتاب موجود نہ تھی، اس لیے اس طرف متوجہ ہوناپڑا۔اس کتاب کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس میں مشایخ کے مزارات کی نشاندہی بڑی احتیاط او رتحقیق سے کی گئی ہے۔

 

محمد بولاق چشتی کی ’مطلوب الطالبین‘ اور’روضہ اقطاب‘،سرسید کی ’آثار الصنادید‘، بشیرالدین کے ’واقعات دارالحکومت دہلی‘، خواجہ حسن نظامی کے ’بائیس خواجہ کی چوکھٹ‘ اور دیگر کتب میں دہلی کے مشایخ کا ذکر مختلف نقطہ ہائے نظرسے کیا گیا ہے۔مولوی محمد شاہ عالم فریدی نے بھی 1911 ء میں ’مزارات اولیاءِ دہلی‘ کے نا م سے دوجلدیں شائع کی تھیں،لیکن دہلی کے صوفیہ ومشایخ کا مکمل تذکرہ اب تک کسی تذکرہ نویس کی راہ دیکھ رہاہے۔

دہلی میں بعض صوفیہ دہلی سے پہلے آگئے تھے۔اس ضمن میں سید محمد گیسودرازؒ کے اجداد خاص طور پرقابل ذکر ہیں۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں، اس لیے کہ ترکوں کی فتوحات سے پہلے اجمیر، بدایوں، قنوج وغیرہ میں مسلمان نوآباد یاں وجود میں آگئی تھیں۔

دورِ اول کے اکابر صوفیہ میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ،قاضی حمیدالدین ناگوریؒ، شیخ نظام الدین ابوالمؤیدؒ، شیخ موئینہ دوزؒ، اور شیخ بدرالدین غزنویؒ خاص شہرت کے مالک تھے۔قطب صاحبؒ اور قاضی حمیدالدین ناگوریؒ دونوں دوست تھے، اور ان کا طرز زندگی بھی یکساں تھا۔قطب الدینؒ پراستغراق کا عالم طاری رہتاتھا۔ جب حاضر ین کاہجوم ہوجاتا تو ان کواطلاع کی جاتی۔ مجمع میں تشریف لاتے اورسورہئ فاتحہ پڑھوا کر حاضرین کو رخصت کردیتے۔ کچھ ایسا ہی حال قاضی صاحبؒ کا بھی تھا۔ ان کے مرشد نے وصیت کی تھی:

”نظارہ وانتظامی باید کرد۔“

اس کامفہوم تو وہ خو د نہ سمجھ سکے تھے، لیکن رویت الہٰی کے انتظار میں ہمیشہ اپنی آنکھیں بند رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ مولانا شرف الدینؒ کی عیادت کو گئے۔ انہوں نے ملنے سے انکار کردیاکہ جو خدا کو معشوق کہے، اس کا چہرہ کیونکر دکھوں؟ کسی شخص نے آنکھیں بند رکھنے کا سبب پوچھ لیا، توقاضی صاحبؒ نے فرمایا:

”دو چشم ندارم کہ ایں عالم رابہ بینم“

قطب صاحبؒ نے کوئی کتاب نہیں لکھی، لیکن قاضی حمید الدین ناگوریؒ کا سوز ِ دروں ان کی تصانیف میں چمک اٹھا۔

قطب صاحبؒ کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ایک بار خواجہ اجمیریؒ دہلی تشریف لائے تو شیخ الاسلام دہلی نے شکایت کی کہ ان کی مقبولیت نے سارے چراغ بے نور کردیے ہیں۔ خواجہ اجمیریؒ نے ان کو اپنے ساتھ اجمیر لے جانے کا فیصلہ کرلیا۔ جب یہ دونوں بزرگ روانہ ہوئے تو دہلی میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔ میر خورد ے نے لکھا ہے:

”درتمام شہر دہلی شور افتاد، ہمہ اہل شہر مع سلطان شمس الدین ونبال برآمد ندوہر جاشیخ قطب الدینؒ قدم می گذاشت خلائق خاک آں زمین بہ تبرک برمی داشت۔“

اس بات سے تمام شہر دہلی میں ایک شور برپا ہوگیا۔ تمام اہالیان شہر مع سلطان شمس الدین ان کے پیچھے روانہ ہوئے۔جہاں شیخ قطب الدینؒ قدم رکھتے تھے لوگ اس زمین کی خاک تبرک کے طورپر اٹھا کر رکھ لیتے تھے۔

خواجہ اجمیریؒ نے جب سلطان اور عوام کو یکساں رنجیدہ پایا تو قطب الدین صاحبؒ کو دہلی ہی میں قیام کاحکم دیا۔ اور خواجہ اجمیر واپس ہوگئے۔ابن بطوطہ کابیان ہے کہ قطب صاحبؒ مقروض لوگوں او رلڑکیوں کی شادی کے لیے پریشان والدین کی خاص طور پر مدد کرتے تھے۔

قطب صاحبؒ خواجہ احمدجامؒ کے کلام سے بہت متاثر تھے۔ جام اوش سے کچھ فاصلہ پرتصوف کا اہم مرکز تھا۔ اس سے تھوڑی ہی دور چشت تھا۔اس طرح تصوف کے سارے رجحانات جام پراثر انداز ہوئے تھے۔خواجہ احمدجامؒ اکبر کی ماں حمیدہ بانو کے جداعلیٰ تھے، اور اکبر کا نام ان ہی کے روحانی اشاروں پر، جس کاذکرگلبدن بیگم نے ہمایوں نامہ میں کیاہے، رکھا گیا تھا۔ وحدت وجود ان کے لیے ایک نظریہ نہیں،بلکہ جذبہ تھا۔قطب صاحبؒ نے شیخ علی سکریؒ کی خانقاہ میں احمد جام کی یہ غزل سنی۔

کشتگان خنجر تسلیم را

ہرزماں از غیب جانے دیگر است

اس میں خود ان کو اپنی زندگی کی کیفیت نظرآگئی۔چار رات دن کیف و وجد کا عالم طاری رہا، پھر جان جان آفریں کے سپرد کردی۔ جامی نے احمد جام سے ہی متاثر ہوکر کہا تھا۔

یک بار میرد ہرکسے

بیچارہ جامی بارہا

حسن دہلوی نے اس واقعہ کاذکر کرتے ہوئے اس زمین میں ایک غزل لکھی ہے جس کا ہر شعر سوز وگداز میں ڈوبا ہواہے۔ دوشعر سنتے چلے:

عالمے پرُ شُدز خاموشیئ من

بے زباناں را زبانے دیگر است

درد و راحت در جہاں بسیار بود

دردِ تو راحت رسانے دیگر است

قطب صاحبؒ کی زندگی او ران کی موت تاریخ تصوف میں یادگار بن گئیں،اور عشق وآشفتگی عشق کی مثال ان سے قائم ہوئی۔

قاضی حمیدالدین ناگوریؒ اپنے علمی تبحر میں یگانہ روزگار سمجھے جاتے تھے۔تصوف کی مشہور کتاب’روح الارواح‘ ان کو ازبرباد تھی۔انہوں نے ہی دہلی میں اس کو رواج دیا۔ ان کی تصانیف ’لوائح‘ اور ’طوالع الشموس‘ بہت مقبول ہوئیں۔ ان کی تصنیفات کے متعلق شیخ نظام الدین اولیاؒ ایک بزرگ کاقول نقل فرمایا کرتے تھے کہ وہ علم وحکمت کا خزانہ ہیں۔ بابا فرید گنج شکرؒ سے ان کی خط وکتابت رہتی تھی۔ایک بار ان کو یہ رباعی لکھ کر بھیجی جس کو پڑھ کر ان پرایک کیفیت طاری ہوگئی۔

آں عقل کجا کہ در کمالِ تو رسد

آں روح کجا کہ در جلال تو رسد

گیرم کہ تو پردہ بر گرفتی ز جمال

آں دیدہ کجا کہ در جمال تو رسد

(جاری)

------------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-47/d/138697

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..