New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 04:57 PM

Urdu Section ( 2 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔46)

28 جنوری،2026

دہلی میں ٹھہر کر سانس لینے اور اپنا روحانی سرمایہ منظم کرنے کے بعد صوفی سلسلے اس قابل ہوئے کہ ملک کے مختلف حصوں میں پہنچ کر تصوف کے اداروں کی داغ بیل ڈالیں۔ صدیوں تک تصوف کی تحریک کادل دہلی میں دھڑکتارہااور یہاں فکر کے سانچے دھلتے رہے۔’گلزار برار‘ کے مصنف کا بیان ہے کہ شیخ نظام الدین اولیاؒ نے سات سو خلفاء ملک کے مختلف حصو ں میں بھیجے تھے۔دہلی کے روحانی سفیروں کی یہ جماعت جو عشق الہٰی میں غرق اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار تھی، ملک کے مختلف حصوں میں پھیل گئی۔ اس زمانہ میں چشتیہ سلسلہ کو کل ہند حیثیت حاصل ہوگئی اور تصوف کی تحریک ایک عوامی تحریک بن گئی۔شیخ نظام الدین اولیاؒ نے ایک دن اپنے مرید اور اس دور کے مشہور مؤرخ ضیاء الدین برنی کو بتلایا تھا کہ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ تصوف کی تعلیم ہر کان تک پہنچا دی جائے اور انسانی زندگیوں میں تبدیلی لائی جائے، تاکہ اخلاق وانسانیت کے اعلیٰ مقاصد پورے ہوسکیں۔

دہلی کی تاریخ میں تصوف کے نشوونما کا دوسرا اہم دور اس وقت آیا جب حضرت خواجہ باقی باللہؒ نے اکبر کے آخری زمانہ میں مسندِ ارشاد بچھائی۔ انہوں نے نقشبندی سلسلہ کا پودا کابل سے لاکر دہلی کی سرزمین میں نصب کیا۔حضرت شاہ غلام علیؒ کے زمانہ میں نقشبندی سلسلہ کی شاخیں ترکستان، شام اور عراق تک پھیل گئیں۔ نقشبندی سلسلہ ہندوستان کا پہلا روحانی سلسلہ تھا جو بیرون ہندبھی مقبول ہوا، اور اس نے افغانستان سے ترکی تک روحانی اصلاح وتربیت کاایک نظام قائم کردیا۔

دہلی میں قادری، شطاری،مغربی سلسلوں کی چند خانقاہیں ضرور قائم ہوئی،لیکن قادری سلسلہ کا فروغ لاہور میں اور شطاری سلسلہ کاگوالیار او رمانڈہ میں ہوا۔ مغربی سلسلہ کو گجرات کی آب وہوا راس آئی، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی سلسلہ کی نمائندگی دہلی میں نہ رہی ہو۔

سلسلوں کی تنظیم سے قطع نظریہ حقیقت بھی قابل ذکر ہے کہ تصوف کا سارافکر ی سرمایہ جو ہندوستان سے باہر وجود میں آیا تھا دہلی کے دور اوّل میں ہی یہاں پہنچ گیا، اور یہاں سے ملک کے مختلف حصوں میں منتقل ہوا۔ قطب صاحبؒ کا وطن اوش تھا جو پروفیسر میسی نیو(Massignon) کی تحقیق کے مطابق حلاجی فکر کااہم مرکز تھا۔قطب صاحبؒ کی زندگی او ران کے فکری رجحانات کے خاموش اشاروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وحدت وجود فکر کاان پرغلبہ تھا۔دہلی میں نظریہ وحدت الوجود حلاج منصور او رپھر شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ کی تصانیف کے ذریعہ پہنچایا۔ اپنشد بقول مولانا ابوالکلام آزاد نظریہ وحدت وجود کا سب سے پہلا منبع ومخرج تھا۔ ہندوستان کی فضا اس نظریہ کو راس آگئی او رمسعود بک کے دیوان ”نورالعین“ نے اس کو دہلی کی خانقاہو میں پہنچادیا۔پھر شیخ شہاب الدین سہروردیؒ کی ’عوارف المعارف‘ کی بنیاد پرخانقہی نظام کی بنیادیں استوار کی گئیں۔ شیخ اکبر ابن عربیؒ کی کتابیں ’فتوحات مکیہ‘ اور ’فصوص الحکم‘ ملتان ہوتی ہوئی دہلی پہنچیں اورفیروز شاہ تغلق کے مشہور مدرسہ فیروزی کے نصاب میں شامل کرلی گئیں۔مطہر نے لکھا ہے۔

کتابے زہر فن بنزویک من

نہادہ چو گنجینہ گوہری

زعرفان عوارف وز وجدان فصوص

ز وعظ ونصائح کتاب سری

’مثنوی مولانا روم‘ کادہلی میں آغاز شیخ نصیرالدین چراغ دہلویؒ سے ہوا۔ حضرت محبوب الہٰیؒ کی وجہ سے تصوف کی جن کتابوں کارواج ہوا ان کے نام معاصر مؤرخ ضیاء الدین برنی نے دیے ہیں۔ ان میں ’قوت القلوب‘، احیاء العلوم‘، ’کیمیا ئے سعادت‘، ’عوارف المعارف‘، ’کشف المحجوب‘،’شرح تعارف‘، ’رسالہ قشیریہ‘، ’مرصاد العباد‘،’مکتوبات عین القضاۃ‘وغیرہ خاص طور پرقابل ذکر ہیں۔تصوف کی تعلیم، اس کے متقدمین مشایخ کے حالات زندگی، مختلف روحانی تصورات کے مصادرو مقبولیت اور عام مطالعہ نے دہلی میں تصوف کی تعلیم کو فروغ دیا۔ پھر ملفوظات جمع کرنے کی روایت کی ابتداء حضرت محبوب الہٰیؒ کی خانقاہ سے ہوئی اور ’فوائد الفؤاد‘ کی تدوین نے مختلف صوفی سلسلوں اور خانوادوں کے مشایخ کی تعلیم کی اشاعت کاایک نیا ذریعہ پیدا کردیا، جو دہلی سے سفر کرتا ہوا بنگال، دکن، گجرات، مالوہ ہر جگہ پہنچا، اور تصوف کی ترویج واشاعت میں نئی توانائی پیدا ہوگئی۔تصوف سے متعلق لاتعداد کتابیں دہلی میں لکھی گئیں، جن میں سے اکثر نے ملک میں رواج پایا۔ اس لٹریچر میں سب سے ممتاز تصنیف خواجہ میر دردؒ کی ’علم الکتاب‘ ہے،مولانا حکیم سید عبدالحی مرحوم نے ’گل رعنا‘ میں صحیح لکھا ہے کہ اگر درد کے علم وفضل کا صحیح اندازہ کرنا ہوتو علم الکتاب کامطالعہ کرناچاہیے۔فکر کی گہرائی،طبیعت کے سوز وگداز،مطالعہ کی وسعت،دینی لٹریچر پرمجتہد انہ نظرنے مل کر’علم الکتاب‘ کو تصوف کے لٹریچر میں ایک عظیم الشان شاہکار کی حیثیت دے دی ہے۔ ہندوستان میں متصوفانہ فکر کے نشوونما کے وسیع پس منظر میں اس کتاب کاجائزہ اب تک نہیں لیا گیا۔

دہلی میں سلاسل کی تنظیم اور تصوف کے بنیادی تصورات کی تدوین کا ہلکا ساخاکہ پیش کرنے کے بعد چند اکابر مشایخ کی زندگیوں او ران کے کارناموں پرایک طائرانہ نظرڈالی جاسکتی ہے۔ظاہر ہے کہ ایک مقابلہ میں سب کا اکابر کی سوانح اورتعلیم کااحاطہ کرناجو ئے شیرلانے سے کم نہیں۔ یہاں ان چند مشایخ کے تذکرہ پراکتفاکیا گیا ہے جن کے اثرات آج تک دلّی کی زندگی پراثرانداز نظرآتے ہیں۔

دہلی کے مشایخ کا تذکرہ یوں تو صوفیہ کے ہر تذکرہ میں ملتا ہے، ’سیرالاولیاء‘ سے لے کر ’تکملہ سیرالاولیاء‘ تک اور ’اخبار لاخیار‘ سے لے کر ’تذکرہ ئ اولیا ئے ہند‘ تک، لیکن مخصوص اولیائے دہلی کا حال لکھنے کا خیال محمد حبیب اللہ بن شیخ جہاں اکبرآبادی سے پہلے غالباً کسی کو نہیں آیا۔ انہوں نے 1728 ء میں یہ تذکرہ ’ذکر جمیع الاولیاء دہلی‘ کے نام سے مرتب کردیا۔ حبیب اللہ اس کام کے لیے بے حد موزوں تھے۔فروغ سیر کے زمانہ میں وہ دہلی کے مزارات کے مہتمم رہے تھے۔ اس سے پہلے وہ زیب النساء کی ملازمت میں تھے، اور ’فتاوائے عالمگیری‘ کا ترجمہ ان کے ذمہ کیا گیا تھا۔(جاری)

--------------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-46/d/138680

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..