New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 04:56 PM

Urdu Section ( 29 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔42)

23 جنوری،2026

ذاتی حالات

مکتوبات سے شاہ صاحبؒ کے ذاتی حالات، افکار ورجحانات کاپتہ چلتاہے۔ایک خط میں اپنی اولاد کے متعلق لکھتے ہیں:

”سہ فرزند وسہ دختر موجود اند۔ حامد بہ کتب سلوک مشغول است۔ محمد فضل اللہ دوسالہ دواز دہ سیپارہئ قرآن حفظ کردہ۔ محمد احسان اللہ پنج سالہ بمکتب شدہ بخواندن ابجد مشغول است۔اماسہ دختر یکے بخاتہ محمد ہاشم دادیم، بی بی رابعہ نام دارد ودیگر بی بی فخرالنساء بردارزادہئ خود دادیم۔سیوم زینت بی بی مشہور بہ بی بی مصری چہار دہ سالہ است، تا حال جائے منسوب شدہ۔“

ایک پہلے مکتوب میں جو حامد سعید کے بچپن میں لکھا گیاہے، اس طرح ان کی شکایت کرتے ہیں:

”فرزند حامد سعید کہ دریں پریشانی عطا شدہ دہ سالہ است، چنداں دل بخواندن نمی دہد، بہزارمحنت کتاب منشعب درصرف می خواند۔“

شیخ محمد ہاشم کا حال ایک مکتوب میں اپنے مرید کو لکھتے ہیں:

”تفصیل حال مومی الیہ آں است کہ بزرگان ایشاں از شہر ہا اندکہ شہریست دردکن۔شاہ حسن پدر ایشاں مرید شیح عبدالطیف دولت مندانی کہ بادشاہ ہایشا ں اخلاص داشت شدند۔ایشاں را اذن واجازت الہ آباد دادہ رخصت الہ آباد نمود ند۔ اینجا محمد ہاشم بہم رسید چوں بہ ہفت سالگی رسید درگذشتند۔ حالاً خانقاہ دروضہ پدر آنجا است مزار متبرک۔ ایں فرزندبہ تحصیل علم مشغول شدہ بہ دہلی آمدہ۔ ہفت ہشت سال درمدرسہ دہلی مشغول شد تابعضے مردم از ایشا ں فارغ شدند۔ چوں بسیار صالح وفقیر زادہ بود ایں عقد منعقد شد۔“

شاہ صاحبؒ کے ایک لڑکے کے خواجہ محمدکا انتقال ا ن کی زندگی ہی میں ہوگیا تھا۔ انتقال پراپنے مرید کو خط لکھا اور اس طرح سے شروع کیا:

”انااللہ واناالیہ راجعون۔کل نفس ذائقۃالموت۔ واسعبو ابالصّبر والصلوٰۃ۔ مخفی نماند کہ بتاریخ بست و چہارم شہر ربیع الثانی فرزند عزیز خواجہ محمد بہ دارالبقا ر حلت نمود۔ داغ جدائی برسینہ دوبتاں گذاشت۔ انا اللہ وانالیہ راجعون۔ماہمہ صبر نمود یم وشکیبائی ورزیدم۔شماہم مصابرت نمائید۔“

پھرلکھتے ہیں کہ حامد سعید کی درازی عمر کے لیے خدا سے دعا کرو: ”درازیئ عمر کمالیت فرزند عزیز حامد سعید از حضرت واہب العطایا خواہید۔“

شاہ صاحبؒ مذہبی جذبات میں غرق رہتے تھے۔سرکار مدینہ سے والہانہ محبت کا یہ عالم ہے کہ لکھتے ہیں:

”دریں روزباداعیہ زیارت حضرت مدینہ دردل جوش می زند، اگرچہ اسباب آں موجود نیست۔ اما قبل ازیں بے اسباب ایں دولت میسر آمدہ بود۔ اکنوں ہم دل می کشد کہ سروپا برہنہ شدہ جانب مدینہ رواں شدم۔“

بدایوں

اسلامی ہند کے دوراوّل میں

اسلامی دنیا کی سیاسی اور تمدنی تاریخ میں بدایوں کو خاص مقام او راہمیت حاصل ہے۔ صدیوں تک یہ شہر علم وفضل کا مرکز او رتہذیب وتمدن کاگہوارہ رہاہے۔ اس کی خانقاہوں او ر مدرسوں سے رشدہ ہدایت کے جو چشمے اُبلے ہیں، ان سے ملک کا چپہ چپہ اور گوشہ گوشہ سیرات ہواہے۔ صدہا گمگشتگان راہ طریقت نے یہاں آکر روشنی حاصل کی ہے اور ہزار ہا تشنگان علم نے یہاں اپنی پیاس بجھائی ہے۔بغداد، بخارا، یمن، نخشب، مہمرہ،غزنین اور غور کے کتنے برگشتہ قسمت انسانوں نے اس کی خاموش علمی فضا اور روح پرورماحول میں اطمینان او رسکون کا سانس لیاہے۔ مولانا رضی الدین حسن صاحب ’مشار ق الانواز‘ جن کے درس تدریس کی بادشاہت وبخارا تک پھیلی ہوئی تھی، اسی خاک سے اٹھے تھے۔شیخ نظام الدین اولیاؒ جن کا آفتاب ہدایت تقریباً نصف صدی تک اس ملک پر چمکتا رہاہے، بدایوں ہی کے آغوش میں پلے بور بڑھے جتھے۔ طوطی ہندامیر خسروؒ کو اصلاح سخن کے لیے جس درپر سر جھکاناپڑا تھا وہ بدایوں ہی کے ایک بزرگ شہاب مہمرہ کا آستانہ تھا۔ مولانا ضیاء الدین نخشبیؒ جن کی نواسنجیوں نے سارے ہندوستان کو پرشور کردیا تھا، اسی گلشن علم میں محو خواب ہیں۔ سعدیئ ہند خواجہ حسن سنجری اسی شیر از ہند کی پیداوار تھے۔ ہرچند کہ صدیاں گزرچکی ہیں، لیکن آج بھی جب بدایوں کے اس دور اوّل کا خیال آتا ہے توتلقین و ارشاد، تزکیہ نفس، تجلیہ باطن اور شعر وسخن کی ہزار ہا محفلیں تصور میں جگمگا اٹھتی ہیں اور ایسا محسوس ہوتاہے کہ زبان ومکان کی ساری پنہا ئیاں سمٹ گئی ہیں اور ہم اس ماحول میں سانس لے رہے ہیں جس میں علی مولا شیخ جلال الدین تبریزیؒ کے قدموں میں سررکھے زار وقطار رورہے ہیں، اور اپنے گناہوں سے توبہ کررہے ہیں۔ شیخ شاہی موئے تاب حجام سے کہہ کر اپنے جسم سے اتنا خون نکلوارہے ہیں جتنا ان کے دوستوں کا پسینہ دھوپ میں کھڑے رہنے کی وجہ سے نکلا ہے۔ شیخ نظام الدین اولیاؒ تمام دن مدرسہ میں گزارنے کے بعدبھوک کی شدت سے نڈھال اپنی بیوہ ماں کے پاس کھڑے ہیں اور وہ ان کے سرپرہاتھ رکھ کر فرمارہی ہیں: ”نظام الدین! امروز ما مہمان خداایم۔“ پھر یہی نظام الدینؒ اپنی تعلیم کی تکمیل کرچکے ہیں او رعلی مولا اور مولانا علاء الدین اصوفی ؒ ان کے سر پر دستار باندھ رہے ہیں، لیکن شیخ نظام الدینؒ ہیں کہ اپنے اسناد کے قدموں پرگرے جارہے ہیں او رعلی مولا بے اختیار ”ارے مولانا! یہ بڈا ہوسی، ارے مولانا! یہ بڈا ہوسی“ کہہ کر ان کے شاندار مستقبل کی بشارت دے رہے ہیں۔ بدایوں کے نام کے ساتھ ایسی کتنی تصویریں نظر کے سامنے آجاتی ہیں۔

شمالی ہندوستان کے بہت سے دوسرے شہروں کے برخلاف بدایوں ک مسلمانوں کی تاریخ کا آغاز غوریوں کی فتوحات سے نہیں ہوتا۔ اجمیر، بہرائچ، بدایوں، قنوج اور ناگور کو یہ امتیازی خصوصیت حاصل ہے کہ وہاں مسلمانوں کی نوآبادیاں ہندوراجا ؤں کے عہد میں قائم ہوگئی تھیں۔(جاری)

------------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-42/d/138633

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..