New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 06:21 PM

Urdu Section ( 28 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔41)

22 جنوری،2026

سماع

چشتیہ سلسلہ میں سماع کاہمیشہ رواج رہاہے۔مشایخ چشت ا س کو ’روحانی غذا‘سے تعبیر کرتے تھے او رباوجود علما ء ظاہر کی مخالفت کے انہوں نے اسے کبھی ترک نہیں کیا۔ لیکن اس ضمن میں ان کے چند نہایت سخت اصول اور قواعد تھے جن کی پابندی لازمی طور سے کی جاتی تھی۔ ہر کس وناکس محفل سماع میں شریک نہیں ہوسکتا تھا۔قواعد کی پابندی کا یہ عالم تھا کہ ایک بار محفل سماع میں حضرت امیر خسروؒ نے ہاتھ اونچے کرکے رقص کرنا شروع کردیا۔ سلطان المشایخؒ نے فوراً ٹوکا اور فرمایا: ”تمہارا تعلق دنیا سے ہے، تمہیں اس کی اجازت نہیں۔“

رفتہ رفتہ صوفیاء نے ان قواعد وضوابط کو چھوڑنا شروع کردیا۔ محفل سماع ہوتی تھی،لیکن وہ روح اور جذبہ غائب تھا جس کے بغیر صوفیاء متقدمین اس کو جائز بھی نہیں سمجھتے تھے۔شاہ کلیم اللہ صاحبؒ نے جب یہ حال دیکھا تو سماع کو کم کرنے کی کوشش کی۔فرماتے ہیں:

”امر وزقدرراگ مشایخ نمی شنا سندو آداب را رعایت نمی کنند۔“

وہ اس کو ”ہائے ہوئے سماع“ کہتے ہیں، او ر جگہ جگہ اس کو کم کرنے کی تلقین فرماتے ہیں:

”اے برادر! کثرت سماع ہم خوب ندارم،بلکہ تعین ہر روز ہم نیا مدہ۔“

وہ ہدایت کرتے تھے کہ سماع کے بجائے مراقبہ میں وقت صرف کیا جائے:

”حلقہ مراقبہ وسیع از حلقہ سماع باید کرد۔“

اکثر مکتوبات (مکتوبات 13،97،ص 103،12) میں مراقبہ ہی کی ہدایت ہے۔ وہ زمانہ کی حالت کو دیکھ رہے تھے، اس لیے ڈرتے تھے کہ کہیں سماع کی شکل مسخ ہوکر نہ رہ جائے۔فی نفسہ وہ اس کے مخالف نہیں تھے۔ انہوں نے اپنے مکتوبات میں اپنے پیرومرشد حضرت یحییٰ مدنیؒ کا وہ خط نقل کیاہے جو انہوں نے اورنگ زیبؒ کے نام سماع کے متعلق لکھا تھا:

”از جانب شیخ یحییٰ سلام برسد، از آنجا کہ سماع قوت صالحا نست منع کردن را ہم وجہے ندارد۔ والسلام۔“

لیکن حالات نے مجبور کردیا کہ وہ اس معاملہ میں سختی سے کام لیں۔خود وہ نہایت سخت اصول برتتے تھے۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ اگر مجلس سماع منعقد کروتو:

”مجلس سرودبطورمامی کنند۔“

یہ زمانہ تھا جب مشایخ نقشبند کے اثرات بہت پھیل رہے تھے۔ بادشاہوں پران کااثر تھا، او روہ ان کی رائے کی عزت کرتے تھے۔ شاہ صاحبؒ نے اس خیال سے کہ کہیں کوئی ناگوار صورت پیدا نہ ہو، اس امرکی کوشش کی کہ جہاں مشایخ نقشبند کااثر ہو وہاں سماع کو بند رکھا جائے۔ ایک مرتبہ جب کہ بادشاہ دکن میں تھا، مشایخ سرہند حج سے واپسی پر اس کے پاس پہنچے۔شیخ کلیم اللہ صاحبؒ کو معلوم ہوا تو مرید کو خط لکھا کہ اس زمانہ میں مجلس سماع کو موقوف رکھنا۔بادشاہ کے ساتھ علماءِ سرہند ہیں۔

’تاہیجان مخالفان نشود۔‘

خاندان تیموریہ کے متعلق

سب جانتے ہیں جہانگیر او را س کے بعد کے سلاطین مغلیہ پر سلسلہ نقشبندیہ کے بزرگوں کا بہت اثر تھا۔ اس کی ابتداء شیخ مجد الف ثانیؒ کے تجدیدی کارناموں سے ہوتی ہے۔خواجہ محمد معصومؒ، شاہ سیف الدینؒ اور دیگر بزرگانِ نقشبندکا جس قدر ان بادشاہوں پر اثر تھا وہ محتاج بیان نہیں۔شاہ کلیم اللہ صاحبؒ نے اس کاذکر بعض مکتوبات میں فرمایا ہے،لیکن وہ اس اثرات کی ابتدا جہانگیر سے نہیں،بلکہ تیمور سے بتاتے ہیں:

(1) ”دریں ز ماں بادشاہ ہندوستان کہ آز اولادِامیر تیمور اندبطریق حضرات نقشبندیہ بغاوت آشنا اند، زیرا کہ امیر تیمور بحضرت خواجہ بہا ء الدین نقشبندؒ ارادت تمام بود۔“

(2) ”امروز طریقہ نقشبند یہ بسبب آنکہ انقیا د دارند بسیار شائع است۔“

خاندان آصفیہ پراثرات

جس زمانہ میں شیخ نظام الدین صاحبؒ دکن بھیجے گئے تھے، اس زمانہ میں نواب غازی الدین خاں وہاں موجود تھے۔ چنانچہ شیخؒ کے تقدس کاشہرہ بن کر انہوں نے شیخؒ کواپنے یہاں مدعو کیا۔شیخؒ نے اپنے بزرگوں کے مسلک پر عمل کرتے ہوئے جانے سے انکار کردیا۔ پیرومرشد کو جب معلوم ہوا تو خط لکھا:

”مرقوم کہ غازی الدین خاں طلب ملاقات کرو،نرفتم۔خوب کردید کہ نرلتید۔اگر اور افتادرخدمت فقراء بودے خود می آمد خود آرائی کرد۔“

معلوم ایسا ہوتاہے کہ اس کے بعد انکا ر کے بعد بھی غازی الدین خاں نے اصرار کیا۔ پیر کو معلوم ہوا تو لکھا:

”اے درویش! بدانکہ رفتن بخانہ دولت منداں یمن ندارد(۰۰۰) من رخصت ایں معنی نہ دادہ ام ونخواہم داد۔ واگر اور انفس وشیطان یاورنیست پس چرابہ خدمت شما نمی آید؟ می دانند کہ پیش فقراء بادشاہاں رفتہ اندد سعادت دانستہ اند۔ غازی الدین خاں نوکراست از نوکران بادشاہ، اگر احیاناً وبہ فقیر نوشت، من اجازت نامہ نخواہم نوشت۔“

مکتوبات میں غازی الدین خاں اور شیخ نظام الدینؒ کے متعلق اس سے زیادہ معلومات نہیں ملتی۔لیکن اغلب یہ ہے کہ وہ بعد کو حاضر ہوئے اوراپنے عقیدت مندانہ جذبات کو برقرار رکھا۔

آصفیہ خاندان نے دوکتابیں ’احسن الشما ئل‘ اور ’مناقب فخریہ‘ اس سلسلہ کے بزرگوں کے حالات میں لکھیں۔’مناقب فخریہ‘ سے پتہ چلتاہے کہ غازی الدین خاں کے بعد بھی عقیدت مندی کا سلسلہ جاری رہا۔ میرا خیال ہے کہ نظام الملک آصف جاہ اول جن کی تعریف آزاد نے ان الفاظ میں کی ہے:

”امیر ے بایں جلالت شان میر مسندامارت قدم نگداشتہ اختر طالع ایں صاحب اقبال از آغاز عمر تا انجام برمدارج ترقی صعود نمود(۰۰۰) سادات وعلماء ومشایخ دیارِ عرب ومادراء النہر وخراسان وعجم وعراق وہند آواز ہ قدردانی استماع یافتہ روبدکن آوردند۔“

شیخ نظام الدینؒ کے حلقہ مریدین میں شامل تھے۔(جاری)

--------------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-41/d/138617

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..