New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 04:52 PM

Urdu Section ( 21 Dec 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمدنظامی

(حصہ ۔4)

15دسمبر،2025

اس زمانہ میں ذات صفات ، خلق قرآن ، معجزات ومعراج ،غرض ہر مسئلہ پرشک و شبہ کی راہیں کھل گئیں ،اور قرآن کاطرز استدلال جوفطرت انسانی کوبراہ راست مخاطب کرتاہے فلسفانہ موشفافیوں میں الجھ کر رہ گیا۔ اس دور کے صو فیہ نے جن میں حضرت بایزید بسطامیؒ (م 874ء) ،حضرت ذولنون المصریؒ (م 854ء ) ، حضرت جنید بغدادیؒ (م910ء ) شامل ہیں ، اس صورت حال کامقابلہ کیا اور اعلان کیا۔

سپاہ تازہ برانگیز م از ولایت عشق

کہ درحرم خطرے از بغاوتِ خرد است

ان کی کوشش تھی کہ جذبات عشق کی پرورش کی جائے تاکہ ان حالات کامقابلہ ممکن ہوسکے۔ ایک حالیہ تصنیف Ronald de Sousa کی The Rationality of Emotion میں جذبات و احساسات کی تعمیر ی اور تکوینی امکانات پر بہت دلچسپ روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس د ور کے صوفیہ نے عقل کی پیداکی ہوئی اضطرابی کیفیت کا مقابلہ کرنے کے لیے احساسات وجذبات کی دنیا کو بیدار او ربتایا۔

مہر ومہ ومشتری چند نفس کا فروغ

عشق سے ہے پائیدار تیری خود کا وجود

یہ عشق پیکر انسانی میں وہ جذبہ پیداکرنے کے مترادف تھاجس کے بغیر انسان راز کائنات کو نہیں سمجھ سکتا ، اوربقول اقبال دل مصطفی بھی ہے اور دم مصطفی بھی۔ اسی کی تربیت اور سوز وساز سے و ہ شخصیت بنتی ہے جو خالق کائنات سے سرگو شیاں کرتی ہے۔

فلسفہ کے پیداکئے ہوئے ذہنی انتشار سے ابھی چھٹکارا نہیں ملا تھا کہ فقہی تشدد نے نئے مسائل پیدا کردیئے ۔ائمیہ اربعہ نے دینی فکر کو جس طرح منظم کیا تھا اور اسلامی نظام حیات کا پورا نقشہ بنادیا تھا، اس سے اجتماعی زندگی میں بڑی توانائی پیدا ہوگئی تھی ۔لیکن ان ائمہ کے بعد باب اجتہاد بندکردیا گیا اور فقہی استدلال کی جگہ مذہبی حیلہ بازی نے لے لی۔ ان اماموں کی فکر میں یہ تنگی اور تعصب نہیں تھا۔

ہارون الرشید نے جب یہ چاہا کہ مؤطا امام مالک کو خانہ کعبہ میں آویزاں کردیا جائے اور تمام مسلمانوں کوفقہی احکام میں اس کی پیروی پر مجبور کردیا جائے ، تو امام صاحبؒ اس خیال کو پسند نہیں کیا، بلکہ تنبیہ فرمائی کہ ایسا نہ کرو، خود صحابہ فروع میں مختلف ہیں، او روہ ممالک اسلامیہ میں پھیل چکے ہیں اور ان میں سے ہر شخص راہِ صواب پر ہے ۔لیکن یہ صورت حال بعد کو قائم نہیں رہی او رفقہی مجادلو ں نے زور پکڑا، تو صوفیہ نے یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ۔

در کنز وہدایہ نتواں دید خدا را

آئینہ دل ببیں کہ کتابے بہ ازیں نیست

اس دور کے صوفیہ نے ،جن میں شیخ ابوطالب مکیؒ (م 996ء) ، شیخ ابو نصر سراجؒ (م 988ء) شیخ ابوعبدالرحمنؒ( م 1021ء) خاص طور پر قابل ذکر ہیں، فکر سے زیادہ جذبات کی اصلاح وتربیت کی طر ف توجہ کی۔ ساتھ ہی ساتھ تصوف کی اصطلاحات کو بھی وضع کیا تاکہ جذبات کو اپنے محور بھی مل جائیں ۔شیخ ابوطالب مکیؒ کی ‘ قوت القلوب’ تصوف کی حقیقت،صوفیہ کے مقصد ومنہاج اور اصلاحِ باطن پر وہ عظیم الشان کتاب ہے، جس کو حضرت محبوب الہٰیؒ بے حد پسند کرتے تھے اورجس کو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے علم تصوف پربہترین تصنیف قرار دیا ہے ، او رلکھا ہے کہ تاریخ اسلام میں اس کی دوسری مثال نہیں ۔امام قشیریؒ (م 1072ء) اور امام غزالیؒ (م 1111ء) نے اس سے رو شنی حاصل کی اور اس پراپنی عالمانہ کاوشوں کی بنیاد رکھی ہے۔

جب فکر کی راہیں ہماور ہوئیں اور جذبات کی اصلاح وتربیت کا سامان فراہم ہوگیا تو صوفیہ کے گروہ وجود میں آئے اور انفرادیت سے اجتماعیت کی طرف قدم بڑھنے شروع ہوگئے۔ شیخ علی ہجویری داتا گنج بخشؒ (م 1072ء) نے ‘کشف المحجوب’ میں بارہ گروہوں کاذکر کیا ہے۔ یہ گروہ مثلاً طیفوریہ، نوریہ، قصاریہ وغیرہ مشاہیر مشایخ کے نام پر قائم ہوئے تھے۔ مشایخ متقدمین کے نام سے وابستگی کے ساتھ ان گروہو ں کا وجود میں آنا سلسلوں کی تنظیم وتشکیل کیلئے راہ ہموار کرنے کے مترادف تھا۔

گیارویں صدی میں امام قشیریؒ (م 1072ء) ،شیخ عبدالقادر انصاریؒ (م 1088ء) ،شیخ ابوسعید ابوالخیرؒ(م 1049ء) ، شیخ ابونعیم اصفہانی (م 1038ء) نے تصوف کے مختلف نظریات اور مختلف گروہوں کے افکار کو ایک کڑی میں پرونے کی کوشش کی۔ شیخ ابونعیمؒ کی ‘حلیۃ الاولیاء’ اور امام قشیریؒ کے ‘رسالہ’ نے اصطلاحات کے وضع کرنے میں عظیم الشان خدمات انجام دیں ۔شیخ ابوسعید ابوالخیرؒ نے ، جو بو علی سینا اور البیرونی کے ہم عصر تھے ، راہِ سلوک کی نشاندہی کی، اس کے اخلاقی نظام کو خدمت خلق سے ہم آہنگ کیا، اور اس کے افکار کی ترویج کے لیے موثر ذرائع استعمال کیے۔ ہندوستان میں شیخ نظام الدین اولیاؒء ان کی فکر اور اخلاق اصولوں سے بے حد متاثر نظرآتے ہیں۔

بارویں صدی میں قدم اور آگے بڑھا۔ مشایخ کی زندگیوں کو مشعل ہدایت بنایا گیا، اور تصوف کی فکر کو فلسفہ کی زد سے بچا کر عشق ومعرفت کے تصورات میں سمودیا گیا۔ اصطلاحات کابیش بہاذخیرہ مختلف بزرگوں نے مختلف حالات میں وضع کیا تھا۔ امام غزالیؒ نے اس سارے علمی اور فکری سرمایہ کو ایک منظم شکل دے کر ایک فکری نظام میں ڈھال دیا۔ ابن خلدون نے ان کے متعلق صحیح لکھا ہے کہ انہوں نے تصوف کو ایک فن، ایک نظام، ایک فکری پیکر کی شکل دی ۔ پھر انہوں نے اخلاقی جدوجہد کو تصوف کی تعلیم اور مقصد کامرکزی نقطہ بنا کر وہ روح پھونکی جس نے تصوف کو انفرادی اصلاح وتربیت کے محدوددائروں سے نکال کر ایک عوامی تحریک میں بدل دیا۔ اورجو افکار وتصورات تصوف کی بنیاد بن گئے تھے ، ان کو ایک متحرک فلسفہ حیات بناکر آگے بڑھے۔ حضرت شیخ عبدالقادر گیلانیؒ کے مواعظ نے اصلاح وتربیت کا ایک نیا باب کھولا ۔ انہوں نے ہزاروں انسانوں کے ہجوم کوبیک وقت خطاب کیا۔ اس طرح تصوف کی تعلیم حجروں اور زاویوں سے نکل کر کھلے میدان میں پہنچ گئی ۔حضرت شیخ گیلانیؒ سے پہلے کسی صوفی بزرگ نے عرفان وسلوک کی گفتگو میں اس طرح عوام سے خطاب نہیں کیا تھا ۔‘فتوح الغیب’ ، ‘غنیہ الطالبین’ اور ‘الفتح الربانی’ میں ایک حساس مذہبی فکر انسان کی اصلاح وتربیت کی راہیں تلاش کرتی نظرآتی ہے۔حضرت شیخ عبدالقادر گیلانیؒ نے تصوف کی تحریک کواجتماعی مقصدیت بخشی، اس کادائرہ عمل عوامی بنایااور اس فقر کو جس میں‘ بے پردہ ہوروح قرآنی’ اپنی کوششوں کامقصد قرار دیا۔(جاری)

------------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-4/d/138091

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..