New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 04:59 PM

Urdu Section ( 26 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔39)

20 جنوری،2026

نظامت خلافت

مکتوبات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے یہاں خلافت کا نہایت مکمل او رمضبوط نظام تھا۔ ہر کس و ناکس کو غلاظت نہیں دی جاتی تھی۔ اس کے لیے چنداصول مقرر تھے جن کی پابندی لازم تھی۔خلافت میں احتیاط کی وجہ یہ بھی تھی کہ نااہل لوگوں کے ہاتھ میں یہ کام پہنچنے کی صورت میں گمراہی اورضلالت پھیل جانے کااندیشہ تھا، جس کو وہ جابجا ظاہر بھی کرتے تھے۔خلافت سے متعلق ان کے اصول یہ تھے۔

(1) خلافت دینے کامقصد اشاعتِ اسلام کے لیے جدوجہد ہے۔

(2) خلافت جس شخص کو دی جائے اس کے تفصیلی حالات مرکز کو لکھے جائیں تاکہ اس کی صلاحیت اوراہلیت کااندازہ ہوسکے۔

(3) صرف اہل علم کو خلافت دی جائے۔ اس لئے کہ

”درصحبت اوضلالت رواج نخواہد گرفت“۔

(4) خلافت کی دوقسمیں کی جائیں: خلافت ربانی اور خلافت سلوک۔

”اول ہر کہ حیثیت فقر اء داشتہ باشد باید فرمود من غیر امتیاز بین ان یکون عالما اوجاھلا۔امام قسم ثانی کہ مثال بنو یسند برومہر بکنند ایں قسم مخصوصاً بہ اہل علم دارند۔“

(5) بیعت کرنے کے بعدفوراً اجازت بیعت نہ دی جائے۔

عورتوں کی بیعت کے متعلق

شیخ نظام الدین صاحبؒ کو دکن میں جو صورت حال پیش آئی تھی اس کے متعلق وہ اپنے پیرو مرشد سے ہدایت او رمشورہ طلب کرتے تھے۔ چنانچہ جب عورتوں کو سلسلہ میں داخل کرنے کامسئلہ درپیش ہوا تو شیخ نظام الدینؒ نے اپنے شیخ کو لکھا۔ جواب میں حکم ہوا کہ بیعت کیا جاسکتاہے، لیکن ان کی خلوت سے بچا جائے اوربراہِ راست ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت نہ کیا جائے، چونکہ مس اجنبیہ حرام ہے۔

”برادرمن! زنان رابیعت کنید، اما باز نان جو اناں خلوتہائے طویلہ کہ موجب فتنہ مردم بشود نکنید، دور صحبت اولیٰ وقت بیعت دامنے بزدست پیچیدہ دست بر دست اودارند کہ مس اجنبیہ حرام است۔“

اس مشروط اجازت نامہ کی رو سے شاہ صاحبؒ نے عورتوں کو بھی اصلاح باطن سے محروم نہ رکھا، لیکن شیخ نظام الدینؒ نے اس کے بعد بھی عورتوں کو داخل سلسلہ کرنے میں تامل کیا۔ اس پر آپ ؒ نے لکھا: شمادر بیعت کردن باعورات چرااہمال می ورزید؟ اگر جوان اندواگر پیراگر حسین اندوا گر قبیح ہمہ را بجائے محرمات پند اشتہ کلمہ حق بگوش ایشا ں باید رسانید۔“

چنانچہ اکثرمکتوبات میں یہی ہدایت ہوتی ہے کہ عورتوں کاداخلہ کیوں روکا جائے؟ فیض عام ہوناچاہئے او رہر شخص کو مستفید ہونے کا موقع ملنا چاہیے۔ صرف اتنی احتیاط لازم ہے کہ ان کو محرمات سمجھاجائے۔

اتباع شریعت کی تلقین

صوفیائے کرام کے متعلق اکثر یہ غلط خیال کیاجاتا ہے کہ وہ احکام شریعت کی زیادہ پابندی نہیں کرتے تھے۔یہ خیال جہل پرمبنی ہے اور حد درجہ غلط اور گمراہ کن ہے۔ حضرات صوفیاء شریعت پرنہ صرف عمل کرتے تھے، بلکہ روحانی ترقی کیلئے اسے ازبس ضروری تصو ر کرتے تھے۔ان کاعقیدہ راسخ یہ تھاکہ شریعت سے ہٹ کر روحانی ترقی کے لیے جو کوشش کی جائے گی وہ نقش برآب ثابت ہوگی۔چنانچہ صوفیاء متاخرین میں حضرت شاہ کلیم اللہ صاحبؒ نے بھی اس حقیقت کو بار بار دہرایا ہے، اورجادہ شریعت پر چلنے کی تلقین فرمائی ہے۔جگہ جگہ ارشاد ہوتاہے:

(1) ”برنہج شریعت بایدرفت۔“

(2) ”ظاہر اموافق شریعت تو اندنگاہ داشت“۔

(3) ”ہمہ داخلان طریقت راتا کید نمایند کہ ظاہر بہ شریعت آراستہ دارند وباطن بعشق مولی پیراستہ ساز ند۔“

جو شریعت پرنہیں چلتا وہ گمراہ ہے او رطریقت وحقیقت کے منازل کبھی طے نہ کرسکے گا۔ارشاد ہوتاہے:”آنچہ درشریعت راسخ نیست ناقص است، بلکہ طریقت وحقیقت اومعلوم کہ حقیقتے ندارد۔ مردآں است کہ جامع باشد میاں شریعت وطریقت وحقیقت۔“

وہ شریعت کو معیار سمجھتے تھے او رکہتے تھے کہ اسی سے کسی شخص کی روحانی بلندی وپستی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ارشاد ہوتاہے:”اے بردار! درتفاوت مراتب فقراء اگر امر وز خواہی کہ دریا بی بجانب شریعت اونگاہ کن کہ شریعت معیار است، عیار فقر برشریعت روشن می گردو“۔

اسی مکتوب میں آگے چل کر دہ اس طرح سمجھاتے ہیں کہ اگر کسی شیخ کے دس صاحب کمال مرید ہوں او رہر ایک اپنی علیحدہ وضع رکھتا ہو اور شیخ کو ہر ایک متعلق حسن ظن ہو اور عوام بھی اچھا سمجھتے ہوں اور تم یہ معلوم کرنا چاہو کہ کون شخص ان میں قیامت کے دن سب سے افضل ہوگا تویہ دیکھو کہ ان دس آدمیوں میں سے کون شریعت کے ساتھ آراستہ ہے۔اگر خدانے چاہاتو قیامت کے دن یہی شخص سب سے بلند مرتبہ ہوگا۔“

شریعت، طریقت اور حقیقت کا باہمی تعلق اس طرح بیان فرماتے ہیں:”مینار حقیقت طریقت است، ومینار طریقت شریعت، آنکہ درچشم اوجمال شریعت بیش بود طریقت و حقیقت اواتم واکمل بود، علامتِ وصول بدرجہ حقیقت ایں است کہ روز بروز آناًفاناً سالک را درشریعت قدم راسخ گردو“۔

آگے چل کر وہ ان صوفیا ء خام کی مذمت کرتے ہیں جنہوں نے شریعت کو ترک کردیا اور نہایت سختی کے ساتھ فرماتے ہیں:

”ایں ملحدا ں کہ شریعت را از دست دادہ کلام لاطائل ملحدانہ بسبب گدائی ولقمہئ چرب نمودہ بہ متشرعان طعنہ بے حقیقیتی میر نند تعزیر کرونی اند کہ ہمہ توحید ایشاں بے معنی است و بے لطفے قالے است بے حال، زنہا ر درصحبت ہم چنیں حمقاء نحواہند نشست۔“

اصلاح دولت منداں

شیخ نظام الدین صاحبؒ جب دکن بھیجے گئے توبہت جلد آپ مرجع خلائق بن گئے۔ امیر وغریب سب آپ کی خانقاہ میں حاضر ہونے لگے۔ جب دولتمند وں کا ہجوم بڑھا تو آپ کو اس سے تکلیف ہوئی۔ مکتوبات سے اندازہ ہوتاہے کہ آپ متواتر اس ماحول سے دل براشتگی اور تنگی کا اظہار کرتے تھے، لیکن شاہ کلیم اللہ صاحب ہر بار ان کو لکھتے تھے کہ ان لوگوں کو بھی نظرانداز نہ کرو۔ احیائے ملت اور ترویج سلسلہ کے لیے جب کوششیں ہوں گی تو سوسائٹی کے کسی حصہ کونظر انداز نہیں کیا جائے گا۔(جاری)

---------------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-39/d/138591

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..