New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 06:36 PM

Urdu Section ( 25 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔38)

19 جنوری،2026

”اما خوب معلوم نشد کہ اوقات گرامی بکد ام توزیع مصروف است، آیا برنگ طالب علماں یا درویشاں یا نہ ایشاں“۔

پابندیئ اوقات نہ کرنے والے کے متعلق صاف صاف لکھ دیتے ہیں:”ضبطِ اوقات آنکہ ندارد خسرو والدنیا و الاخر ۃ است۔“

سرگرمی کار اور مشغولیت کی برابر تاکید رہتی ہے۔ایک جگہ فرماتے ہیں:”شمادر کار خود سرگرم ترباشید کہ بیچ کس برشما شائق تتواند بود، مگر آنکہ کارشما بکند۔“

بعض اوقات خود بھی شاہ صاحبؒ اپنے مریدوں کے لیے نظام اوقات متعین فرماتے تھے۔ایک خط میں فجر کی نماز کے بعد سے لے کر رات تک کاانفرادی اورنفلی پروگرام بتانے کے بعد اجتماعی پروگرام کی طرف اس طرح متوجہ کرتے ہیں:

”(۰۰۰) شریعت را احکام باید نمود (۰۰۰) یارانِ اہل علم رادرس تفسیر وحدیث وعبادات وفقہ درمیان ظہر وعصر وبعد از صبح بگوئید واہل شوق کہ اند کے بعلم باشددرس لمعات ولوائح وامثال آں، بہر حال مراتب تمکین بہ از مراتب تلوین است۔“

ذاتی مطالعہ کے لیے حدیث وفقہ، اخلاق وتصوف،میر وتاریخ کی کتابوں کی ہدایت فرماتے ہیں:

(1) ”بمطالعہ کتب حدیث وفقہ وسلوک چوں احیاء وکیمیا وامثال ذلک چوں تواریخ مشایخ پیشین بہتراست۔“

(2) ”دریں نسخہائے سلوک وسیر مشایخ اللہ مطالعہ باید کرد۔خاصہ تذکرۃ الاولیا ء شیخ فریدالدین عطار ونفحات الانس مولانا جامی ومنازل السائرین و رشحات تقشبندیہ وامثال ذلک باقی ماند۔“

شاہ صاحبؒ اپنے مریدوں کے تعلقات کی نگرانی بھی فرماتے تھے۔اگر بربنائے بشریت کوئی جھگڑایا بدمزگی پس میں پیدا ہوجاتی، تو ا س کو جلد سے جلد رفع کرنے کی کوشش اور عفو ودرگذر کی ہدایت فرماتے تھے تاکہ نظام میں خلل واقع نہ ہونے پائے۔

(1)”حقائق میاں اسد اللہ ومیاں ضیاء اللہ بہ تفصیل معلوم شد، شما ہرگز مخالف باہردوعزیز نحواہید کردو شما متوجہ کار خود باشید۔“

(2) ”میاں اسداللہ ومیاں ضیاء الدین برادران شمار اند، باید کہ بایک دیگر فانی باشند، واگر از یکے خلاف مرضی امر ے شد دیگرے از کرم عفو نماید وبہ محبت زندگانی کنند“۔

شاہ صاحبؒ نے ایک مکتوب میں جس کو خود وہ ’دستور العمل‘ قرار دیتے ہیں، اپنے تعلیمی اصول وضوابط کا پورا خلاصہ پیش کردیا ہے۔ اس دستور العمل کے شروع میں لکھتے ہیں:”اے برادر! ایں نامہ مرا دستور العمل خود شناسید ودر حکم آں احتیاط نمائید کہ فرد گذاشت را دراں مدظل نبا شدد حداوسط از دل بروں نرود۔“

اس کے بعد حسب ذیل اصول بیان فرماتے ہیں:

(1) ایصال خیر کو مقصود قرار دیا جائے۔

(2) ایصال خیر میں اخلاص اور تصحیح نیت سے کام لیا جائے۔

(3) ہجوم خلائق مستوجب شکرالہٰی ہے۔

(4) اگر فتوحات ملیں توآپس میں تقسیم کردیاجائے، ورنہ اس دن کو غنیمت سمجھا جائے جس دن فتوحات میسر نہ آئیں:”آنچہ مفتوح برسد بآں فقیر باہمراہ صرف نمایند، وروزیکہ نرسد آں، روز راغنیمت شمار ید کہ درفقرو فاقہ تاثیر ے عظیم است فہم من فہم۔“

(5)مسئلہ وحدت الوجود کو ہر کس وناکس کے سامنے نہ چھیڑاجائے، بلکہ استعداد واہلیت دیکھنے کے بعد حسب موقع اس پر بحث کی جائے:”مسئلہ وحدت وجود راشائع پیش ہر آشنا بیگانہ نخواہید برزبان آورد۔“

(6) ہندو او رمسلمان دونوں سے تعلقات رکھے جائیں تاکہ غیر مسلم تعلیمات اسلام سے متاثر ہوں اور

”ذکر بخاصیت خود اور ابریقہ اسلام خواہد کشید۔“

(7) مریدو ں میں ادب اوراحترام کاجذبہ پیدا کیا جائے چونکہ ”صحبت انبیاء باصحاب چناں بود۔“

(8) اپنے مریدین سے ’احیائے سنت‘ اور’امانت بدعت‘ کے لیے پوری پوری کوشش کرائی جائے:”ہر کہ از یارانِ خود اذن دہند مبالغہ در احیائے سنت وامانت بدعت خواہد بود“۔

اشاعت سلسلہ کے لیے ہدایات

شاہ صاحبؒ اپنے سلسلہ کی اشاعت کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے تھے۔جگہ جگہ مریدین کوحکم ہوتا ہے:(1)”سعی درشیوع سلسلہ نمایند۔“

(2) جہد بلیغ نمائید کہ مردم درسلک شماداخل شوند وبہ مرتبہ فقر رسند۔“

ایک مکتوب میں ارشاد ہوتاہے:”شمادر اصلاح دل محجوباں بکوشید کہ بعز وصال وقرب رسند وبریاضت ومجاہد ہ وعشق وبے خودی مریداں وطالباں را تربیت کنید کہ تا قیام قیامت برائے ماوشمافواتح پیہم ومتصل برسد۔“

ایک مرتبہ شیخ نظام الدین صاحبؒ نے اپنے پیر ومرشد سے فتوحات قبول کرنے کے متعلق دریافت کیا۔شیخؒ نے اشاعت سلسلہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے جواب دیا کہ اگر فتوحات سے کام میں رکاو ٹ واقع ہوتی ہوتو قبول نہ کرنا بہتر ہے، ورنہ قبول کرلینی چاہئے:

”اے درویش! خدا ئے تعالیٰ شمار ا عقل معاش وعقل معاد ہر دودادہ است۔ آں کنید کہ دراں اجرائے سلسلہ باشد، ماگر فتن وناگرفتن نمی دانیم۔اگر رونق سلسلہ از عدم قبول است عدم قبول بہتر از قبول۔“

ساتھ ہی ساتھ صوفیاء متقدمین کے فتوحات قبول کرنے کو نیک نیتی پر محمول کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”استما لت خاطر معتقدان کردہ اند، والا بضرورت خو د کم کسے قبول کردہ باشد۔“

مرید کی اشاعت سلسلہ کی کوششوں کا جب علم ہوتاہے تو اظہار مسرت کرتے ہیں، دعائیں دیتے ہیں او رکہتے ہیں کہ ارواحِ مشایخ اس کام سے خوش ہوتی ہیں۔ اگر شیخ کی اولاد کو خزانہ بھی دے دیا جائے، تو شیخ کی روح اس قدر خوش نہیں ہوتی جتنی احیاء سلسلہ کی کوششوں سے خوش ہوتی ہے:”پس رحمت خدائے تعالیٰ برشما باد کہ ایں سلسلہ را جاری کردید، شکر اللہ سعبکم، وایں ہمہ افتاد گان حضیض غفلت رابا وجِ حضور رسانید یدو ارواحِ مشایخ باخود خوشنود کردید، بالفرض اکر کسے گنجے بہ اولاد شیخ بہ بخشد آنقدر رضا مندی جناب ایشاں درآں نباشد کہ دراحیاء سلسلہ ایشاں باشد۔ فتند ہروکن من الشا کرین“۔ (جاری)

-------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-38/d/138585

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..