New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 06:35 PM

Urdu Section ( 24 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔37)

18 جنوری،2026

احیائے دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کی فضیلت کو وہ کہہ کر ذہن نشین کراتے ہیں کہ یہ موجب رضائے الہٰی ہے اور انبیاء کا خصوصی کام ہے: ”دیں بات جہاد نمایند وایں کارسہل نہ انگار ندومنتشر اً در امعمورہئ عالم سازند کہ رضائے الہٰی دریں است واصلاح مفاسد ہ فرزندانِ آدم نمایند کہ انبیاء معبوث برائے ہمیں کار بودہ اند۔“

ایک مکتوب میں اس کو ”کار بزرگ“ کہتے ہیں۔”شمار کا بزرگ ایصال فیض واعلا ء کلمۃ اللہ فرمودہ ام ہم دریں کار گرم آمدید۔“

شاہ صاحبؒ کے اس اصرار پیہم او رکوشش مسلسل نے مریدوں میں ایک نئی روح پھونک دی۔شیخ نظام الدین صاحبؒ نے اپنے پیرومرشد کی ہدایات پر عمل کیا اور بہت جلد کامیابی حاصل کی۔ جب شیخ نظام الدینؒ کا ایک مرید نور محمد ان کا خط لے کر دہلی آیا تو شاہ کلیم اللہ صاحبؒ نے سب کیفیت دریافت فرمائی۔شیخ نظام الدینؒ کی تبلیغ مساعی کو بنظر استحسان دیکھا اوراس مضمون کا ایک خط بھیجا:

”مطالعہ فرمانید امروز کہ 6/محرم الحرام 1113ھ مرقوم می گردو کہ میاں نور محمد خادم شمار کہ از اولاد حضرت مخدوم بہاؤ الدین زکریاؒ کتابت شما آوردہ اند(۰۰۰) الحمد اللہ والمنتہ دراعلاء کلمۃ اللہ سعی موفور مبذول است۔ مرقوم بود کہ درحین وضع اعلاء بیشتر اسب بہ نسبت آن وضع۔’اے برادر! بہر حال مقصود ایصال فیض فقرِ محمدی است بعالمیان، بہر وضع کہ بیشتر ایں کارسرانجام یابد باید کرد۔“

شیخ نظام الدین صاحبؒ کی تبلیغی کوششوں کانتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے گردیدہئ اسلام ہوگئے۔ بعض اپنے قبیلہ کے ڈر سے اپنے اسلام کااظہار نہیں کرتے تھے، لیکن دل سے مسلمان ہوچکے تھے۔شاہ کلیم اللہ صاحبؒ ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں:”ودیگر مرقوم بودبہیہ دیارام و ہندوہائے دیگر بسیار درربقہ اسلام در آمدہ اند،امابا مردم قبیلہ پوشیدہ می مانند۔“

ساتھ ہی ساتھ اس چیز کوبھی پسند نہیں کرتے کہ کوئی شخص مسلمان ہونے کے بعد اپنے مسلمان ہونے کو مخفی رکھے، مبادابعد موت اس کے ساتھ و ہ معاملہ کیاجائے جو غیر مسلموں کے ساتھ کیا جاتاہے:”برادرمن! اہتمام نمایند کہ آہستہ آہستہ ایں امرجلیل ازبطوں بظہورانجامد کہ موت درعقب اسب مبادااحکام اسلام بعداز رحلت بجا نیار ند ومسلمانان حقیقت را بسو ز انند، دیا رام اگر خطے می نویسد خطے نوشتہ خواہد شد۔“

اس مکتوب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شاہ صاحب کی تبلیغی مساعی کس حد تک دکن میں کامیاب ہوئی تھیں۔ اس خط میں دیا رام کا ذکر ہے۔یہ شخص بھی ان لوگوں میں تھاجنہوں نے اسلام قبول کرلیاتھا، لیکن قبیلہ کے ڈر سے اس کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ایک دوسرے خط سے پتہ چلتا ہے کہ دیار ام کااسلامی نام شاہ صاحب نے فیض اللہ رکھا تھا۔”بہ دیارام یعنی شیخ فیض اللہ اگر کتاب می نویسد جواب می نویسم۔“

معلوم ہوتاہے کہ دیا رام نے اس خوف سے کہ کہیں اس کے مسلمان ہونے کااظہار نہ ہوجائے خطوط بہت کم لکھے۔شاہ کلیم اللہ صاحبؒ ایک خط کے جواب میں لکھتے ہیں:”محبت اطوار خواجہ دیارام از یادِ حق بہ آرام تمام باشند، قبل ازیں نمیقہ ارسال ایں طرف نمودہ بودند۔یکے از دوستان شاہ نظام الحق والدین رسانید، وازیں طرف مکررجواب رفتہ۔ قاصداں نامہ برراچہ تواں کرد۔“

دیارام کو درود کی مواظبت اور چند کتب سلوک کے مطالعہ کی تاکید شیخ نظام الدین صاحبؒ کے ذریعہ اس طرح فرماتے ہیں:

”درجواب بدیارام نوشتہ آمد کہ مواظبت بہ درودنبی صلی اللہ علیہ وسلم بسیار نمایند کہ سرمایہئ ہر سعادت ایں است۔ دیگر مطالعہ کتب سلوک وتواریخ چوں نفحات وتذکرۃ الا ولیا، ورسائل حقائق چوں لمعات وشرح لمعات ولوائح وشر ح آں در مطالعہ داشتہ باشند، امااحد ے ازبیگانگا ں مطلع نشود“۔

شاہ صاحبؒ نظام تعلیم وتربیت

شاہ کلیم اللہ صاحبؒ نے اپنے مریدوں کی اصلاح وتربیت کے لیے ایک نہایت مکمل نظام قائم کیا تھا۔ انہوں نے اپنے ان تمام مریدوں کی جن کو تبلیغی واصلاحی کام پر مامور کیا تھا نہایت سختی سے نگرانی کی۔ وہ ان سے بار بار معلوم کرتے رہتے تھے:”کجا تا بکجا ترقی کردہ اند“۔

وہ خود دہلی میں رہتے تھے،لیکن دکن کا نظام تعلیم وتربیت ان کے زیر ہدایت کام کررہا تھا۔ معمولی معمولی معاملات پرمرکز سے ہدایات روانہ کرتے تھے۔مریدوں کا حال یہ تھاکہ بغیر ان کی اجازت کوئی قدم نہ اٹھاتے تھے۔ ایک خط میں خود نظام الدین صاحبؒ کو لکھتے ہیں:

”رحمت خدائے تعالیٰ برشماباد کہ بے اجازت قدم برند ارند، کسیکہ بدولتے رسید ہمیں ادب رسید۔“

خطوط کے معاملہ میں نہایت باقاعدگی برتتے تھے۔ خط میں دیر ہوجاتی تو شاق گذرتا۔انتظار میں رہتے او رلکھتے:(1)”درایصال نامجات تسامح نور زندالمکتوب نصف الملا قات است۔“

(2) ”عذر نوشتن کتابت از طرف ما اگر باشد مقبول است ومسموع، و از طرف شمانا مقبول ونامسموع۔“

(3)”مکتوب محبت اسلوب مدتہا است کہ نرسید چشم نگراں است“

(4) ”مکتوبے پے درپے نوشتہ باشند چشم انتظار دررہ مکتوب شما است“

(5)”مکتوب شمامدتے است کہ دیدہ راسر ورنہ بخشیدہ۔“

وہ چاہتے تھے کہ مرید جو خط بھیجیں وہ محض رسمی نہ ہوں، بلکہ اس میں اپنے پورے حالات وواردات اور تقسیم اوقات کی بابت لکھیں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کن کن مشاغل میں ان کاوقت صرف ہوتاہے اوراپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں کس حد تک سرگرم ہیں۔ شاہ صاحبؒ کے نزدیک ان کے اصلاحی نظام کی کامیابی کا انحصار اس پر تھا کہ مریدو ں کی پوری نگرانی کی جائے، اور ان کی خلوت وجلوت کا پورا پروگرام مرتب کیا جائے۔ وہ ضبط اوقات او رپابندی اصول کادرس دیتے رہتے تھے۔اکثر مکتوبات میں اپنے مریدوں سے نظام اوقات دریافت فرماتے ہیں۔ او رمعلوم ہونے پر اپنے اطمینان کااظہار فرماتے ہیں: (1) ”تقسیم اوقات وتوزیع مراتب خلوت وجلوت ہمہ معلوم شد۔“

(2) ”تقسیم اوقات معلوم شد۔“

اگر کوئی خلیفہ اپنے پروگرام کے متعلق نہ لکھتا تو شاہ صاحب خود دریافت فرماتے: (جاری)

-----------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-37/d/138570

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..