خلیق احمد نظامی
(حصہ۔34)
14 جنوری،2026
شاہ صاحبؒ کو توکل او رقناعت کی بے پناہ دولت ملی تھی۔ وہ عسرت اور تنگی میں دن گزارتے تھے، لیکن کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرتے تھے۔’تکملہ سیرالاولیاء‘ کا بیان ہے کہ ”شیخ کی ملکیت میں لے دے کے کل ایک حویلی تھی، جس کاماہوار کرایہ 8 روپیہ آتا تھا۔شیخؒ اسی سے گزر اوقات کرتے تھے“۔

بعض مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ قحط یا دیگر غیر معمولی حالات کے باعث اس مختصر سی آمدنی میں گزر اوقات نہ ہوسکی اور وہ قرض دار ہوگئے۔ ایک مکتوب میں شاہ نظام الدین اورنگ آبادیؒ کو لکھتے ہیں:
”دریں سالہا کہ از جنگی باراں صورت قحط دریں ملک شدہ بود۔ وبانہ دہ نفرسواء مہمان گذاری می شد، گاہ بیگاہے قرض دارمی شدم۔“
لیکن اس کے باوجود شاہ صاحبؒ نے کسی بادشاہ سے کچھ قبول نہیں کیا۔ ان کی شان استغنا اور خودداری کسی کے آگے دستِ سوال دراز کرنے کی اجازت نہ دیتی تھی۔ ان کے سلسلہ کے کسی بزرگ نے اسے روانہ رکھا تھا۔ فرخ سیرت نے بہت کوشش کی شاہ صاحبؒ کوبیت المال سے کچھ دے دیا جائے لیکن انہوں نے ہربار انکار کردیا۔ ’تکملہ سیرالاولیاء‘ میں لکھا ہے:”بادشاہ فرخ سیر بار ہا الحاح نمود کہ حضرت از بیت المال چیز ے قبول فرمانید۔ ایشاں جواب دادند کہ حاجت نیست۔ ہاز عرض کرو کہ حویلی از بہرنزول درمعرض افتد۔ فرمودندبہ ایں نیز حاجت نیست۔ باز عرض نمود اگر اجازت باشد بندہ درخدمت آمدہ سعادت دارین بہ قدم بوسی حاصل نمودہ باشد۔ فرمودند کہ توظلِ الہٰی ہستی، در سایہ آں ذات ہمیشہ بہ دعا گوئی مشغول ام۔ بہ آں نیز حاجت نیست، بلکہ بندہ راتصدیع خواہدرسید۔“
بادشاہ فرخ سیر نے بارہا اصرار کیا کہ حضرت بیت المال سے کچھ قبول فرمالیں جواب دیا کہ ضرورت نہیں ہے۔پھربادشاہ نے کہاکہ اچھا، اپنے رہنے کے لیے ایک حویلی ہی قبول کرلیجئے۔ ارشاد ہوا، اس کی بھی ضرورت نہیں ہے۔بادشاہ نے پھر عرض کیا اگر اجازت ہوتو خاکسار خدمت والا میں حاضر ہوکر شرف قدم بوسی ہی حاصل کرلیا کرے۔ فرمایا: آپ ظل الہٰی ہیں۔آپ کے زیرسایہ میں ہمیشہ دعاگوئی میں مشغول ہوں اس کی حاجت نہیں ہے،بلکہ بندہ کو اس سے تکلیف ہوگی۔
شاہ صاحبؒ نہایت حلیم الطبع اور خوش مزاج انسان تھے۔ جب کوئی شخص جس کو ان کی ناراضگی کا خیال ہوتا معذرت کا خط لکھتا تو اس انداز میں جواب دیتے کہ مومن کے اس شعر کی جیتی جاگتی تصویر بن جاتے۔
نارسائی سے دم رُکے تو رُکے
میں کسی سے خفا نہیں ہوتا
وہ دشمنوں اور مخالفوں سے بھی کبھی ناراض نہ ہوتے تھے۔بلکہ حضرت محبوب الہٰیؒ کی طرح اشعار ان کی زبان پر رہتے تھے۔
ہر کہ مارا رنج دارد راحتش بسیار باد
ہرکہ مارا یار نبود ایزد او را یار باد
آخر عمر میں شاہ صاحبؒ کو نقرس اور وجع المفاصل کے امراض لاحق ہوگئے تھے۔ ایک خط میں جو تقریباً 78-79 سال کی عمر میں لکھا گیا ہے، فرماتے ہیں:
”آزار نفرس ووجع المفاصل بافراط شدہ کہ دست چپ وزانوئے پائے راست ہر دوپا آما سیدہ اندو چہار ماہ است کہ صاحبِ فراشم دریں روز لنگ لنگا ں باستعانت چندے از اندروں بخانہ میتو انم رفت، نماز بہ تیمم نشستہ درمی خوانم۔“
نقرس او رگٹھیا کی تکلیف حد کو پہنچ گئی ہے، بایاں ہاتھ اور سیدھے پاؤں کا گٹھنا اور دونوں پیر سوجے ہوئے ہیں۔ چار مہینوں سے بستر پر پڑا ہواہوں۔ ان دنوں میں بعض لوگوں کی مدد سے لنگڑا تا لنگڑا تا گھر سے باہر جاسکتا ہوں۔نماز تیمم سے بیٹھ کر پڑھتا ہوں۔“
لیکن ان تکالیف کے باوجود اعلاء کلمۃ الحق میں مصروف رہے۔ اسی حالت میں وہ اپنے خلیفہ شیخ نظام الدین اورنگ آبادیؒ کو خطوط لکھتے تھے اور ضروری ہدایت دیتے تھے۔ شاہ صاحبؒ نے 24ربیع الاول 1142ھ کو وصال فرمایا۔ جامع مسجد اور قلعہ کے درمیان آپ کا مزار پرانوار ہے۔غلام سرور نے ان اشعار سے تاریخ وفات نکالی ہے۔
کلیم اللہ چو از فضلِ الہی
ز دنیا شد بخلدِ جاودانی
دو تاریخست بہر سالِ وصلش
برآید مدعا از وے چوخوانی
یکے موسی، ثانی کاشف دیں
دگر عرفاں دیں موسی ثانی
کلیم اللہ چشتی مبارک
بگو ترحیل آں شیخ زمانی
تصانیف
شاہ کلیم اللہ صاحبؒ بڑے پایہ کے بزرگ ہونے کے ساتھ بڑے جید عالم بھی تھے۔ انہوں نے تصانیف کا ایک بیش بہا ذخیرہ چھوڑا ہے، جن سے ان کے تبحر علمی کا اندازہ ہوتاہے۔ کلام پاک کی نہایت اعلی تفسیر انہوں نے عربی زبان میں لکھی۔ اس کے علاوہ تصوف پرمختلف کتابیں سپرد قلم فرمائیں، مثلاً ’عشرہئ کاملہ‘، ’سواء لسبیل‘، ’کشکول‘، ’مرقع‘۔شاہ صاحبؒ نے ایک کتاب’ردِ روافض‘ بھی تصنیف فرمائی تھی۔
شاہ صاحبؒ کی ان تمام تصانیف میں ’کشکول کلیمی‘ کو سب سے زیادہ شہرت او رمقبولیت حاصل ہوئی۔صوفیاء متاخرین اسے اپنا دستور العمل سمجھتے تھے۔ خود شاہ صاحبؒ نے کشکول کے شروع میں فرمایا ہے: ”یہ ایک ایسا کشکول ہے جس کو نوالے لطیفہ ربانی کو طاقت بخشتے ہیں، نفس ناطقہ کو قوت دیتے ہیں، اور مجازی اسلام کے پیکر میں ایمان حقیقی کی روح پھونک دیتے ہیں۔طبیعت کے مردہ لوگوں کو ابدی زندگی عطا فرماتے ہیں اور خواہشات نفسیاتی کے بیماروں کو رحمانی شفادیتے ہیں“۔
شاہ صاحبؒ کے مکتوبات سے معلوم ہوتاہے کہ وہ اپنے خاص مریدین کواصلاح نفس اور روحانی ترقی کے لیے کشکول کے مطالعہ کی ہدایت فرماتے تھے۔ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
”شماصحبت بادر یافتہ اند۔دو کشکولے ومرقع آنجا موجود اند، ہر طالب ر ا موافق حوصلہ آں بہ نیابت ذکرے وشغلے بفر مانبد۔“(جاری)
-----------------
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ
URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-34/d/138521
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism