New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 06:20 PM

Urdu Section ( 20 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔33)

13 جنوری،2026

کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے

وہ فقر جس میں ہے بے پردہ روحِ قرآنی

سائنس نے ہیکل انسانی کے ارتقاء کی منزلیں تو دریافت کرلیں اور تدریجی تغیر کے عالم گیر قانون کاپتہ لگالیا، لیکن وہ یہ بتانے سے یکسر قاصر ہے کہ ارتقاء کی یہ زنجیر ہیکل انسانی کی کڑی تک پہنچ کر کہاں چلی جاتی ہے، اور اس کے بعد ارتقاء کے منازل باقی رہتے ہیں یا نہیں۔صوفیہ کاکہناہے کہ بلاشبہ انسانیت کے مرتبہ پر پہنچنے کے بعد ارتقاء جسمی توختم ہوجاتاہے، لیکن اس کے بعد ارتقا ء روحانی کاسلسلہ شروع ہوتاہے اور فکر و ادراک کی بے پناہ قوت پیکر انسانی میں اگلی کڑی تک ابھرنے کی جستجو بیدار کردیتی ہے۔ یہ اگلی کڑی روحانی ہے،جسمانی نہیں۔ اس میں ایک ایسا تخلیقی اصول Creative Principle کار فرما ہے جس کے سہارے انسان زمان و مکان کی تسخیر کرتاہے اور اس منشاء الہٰی کو پورا کرتاہوا کہ۔

اورجو کچھ آسمانوں میں ہے او رجو کچھ زمین میں ہے اس کو اس نے اپنی طرف سے تمہارا مسخر کردیا۔

ارتفاع روحانی کی طرف بڑھتا ہے۔ ان ارتقاعی امکانات کااحساس اقبال کے مذہبی وجدان نے اس طرح کیاتھا۔

عروج آدم خاکی کے منتظر ہیں تمام

یہ کہکشاں یہ ستارے، یہ نیلگوں افلاک

شیخ نصیرالدین چراغ دہلویؒ اپنی مجلس میں روحانی جہدوسعی کے الامتناہی امکانات کو اکثر لیکن اجمالاً بیان کرتے تھے۔ حضرت گیسودرازؒنے نہایت دلکش انداز میں اس پر گفتگو کی ہے اور بتایاہے کہ انسان ارتقاع روحانی کی راہ پر کس طرح گامزن ہوسکتاہے۔ قرآن پاک کے اس اعلان پر مشایخ چشت کامحکم ایمان تھا: جو لو گ تم میں سے ایمان لائے اورجن لوگوں نے علم حق حاصل کیا سواللہ تعالیٰ ان کے مدارج کو ترقی دیتاہے اور ارتقاع بخشتا ہے۔مشایخ چشت نے اللہ کی مخلوق کو’ارتفاع روحانی‘ کی راہ دکھانے میں خود بڑی بڑی صعوبتیں برداشت کیں۔بقول حالی۔

سرخ رو آفاق میں وہ رہنما مینار ہیں

روشنی سے جن کی ملاحوں کے بیڑے پار ہیں

23/ربیع الثانی 803ھ کو گلبرگہ میں حضرت محبوب الہٰیؒ کے عرس میں شرکت کے لیے درگاہ میں کثیر ہجوم تھا۔ جب لوگ رخصت ہونے لگے تو حضرت گیسودرازؒ نے مجمع کو خطاب کیا اور فرمایا: ”عجیب ناز بچہ است ایں اجتماع دنیا وافتراق او، وآں عزوجلّ او، وآں فقر وغنائے او، ناگاہ چندگاہے ویا چندروز ے دیا یک ساعتے جمع از آدمیاں برکارے اتفاق کردند، چوں آں کارہا تمام رسید ہریکے بہ محل متفرق۔“

یہ دنیا کا اجتماع اور جدا ہونا، اس کے اندررہ کر عزت وذلت اور فقر وغنا سے ہم کنار ہونا، یہ سب عجب تماشا معلوم ہوتاہے۔یکایک چند روز یا چند ساعت کے لیے لوگ کسی کام پرمتفق ہوتے ہیں پھر جب وہ کام ختم ہوجاتاہے تو پھر سب اپنی اپنی جگہ پر چلے جاتے ہیں!

ان جملوں کے پیچھے ایک خاموش تمنا نظرآتی ہے کہ عرس کی تقریب کسی مستقبل تحریک کی بنیاد بنے۔

حضرت شاہ کلیم اللہ دہلوی

آج سے تقریباً ڈھائی سوسال پہلے کاذکر ہے کہ دہلی میں ایک نہایت عظیم المرتبت بزرگ حضرت شاہ کلیم اللہ چشتیؒ رہتے تھے۔ شاہ جہاں آباد، بازار خانم میں ان کی خانقاہ تھی۔ خانقاہ کیا تھی، علم ومعرفت کا سرچشمہ تھا۔ہزاروں تشنگان معرفت اپنی روحانی پیاس بجھانے کے لیے آتے تھے۔ شایقین علم وفضل ان کے حلقہ تلامذہ میں شامل ہونا باعث فخر و مباہات تصور کرتے تھے۔آزاد بلگرامی نے لکھاہے: ”امرا وفقرا حلقہ اعتقاد درگوش واشتند وبہ مطالب دینی ودنیوی کامیابی اندو ختند۔“

شاہ صاحبؒ کے علمی اور روحانی دونوں مراتب نہایت بلند تھے۔لوگ ان کی بڑی عزت اوراحترام کرتے تھے۔ مصنف ’مآثر الکرام‘ کابیان ہے:

”درعلوم عقلی ونقلی پایہ بلند ودرحقایق ومعارف رتبہ ارجمند داشت“۔

شاہ صاحبؒ نے رشد وہدایت کی شمع ایسے زمانہ میں روشن کی جب کہ ہندوستان کے مسلمان ایک نہایت نازک دور سے گزر رہے تھے۔ سلطنت مغلیہ کا آفتاب غروب ہوا چاہتا تھا۔معاشرہ پر انحطاطی رنگ چھا رہا تھا۔زندگی ’سکردوام‘ میں تبدیل ہورہی تھی۔ہر شخص ایک گونہ بے خودی کے عالم میں مست وخراب تھا۔دلی کی عظمت روز بروز گھٹ رہی تھی۔ صوبوں میں نوابیاں اور خود مختاریاں قائم ہورہی تھیں۔مرہٹوں کاسیلاب طوفان بلاخیز کی طرح امنڈتاچلا آرہا تھا۔ مسلمانوں کا جاہ وجلال جواب دے رہا تھا۔مذہب کی روح ختم ہوچکی تھی۔ او راگر کچھ باقی رہ گیا تھا تو اوبام کا تاروپود۔ شاہ صاحبؒ نے تنزل اور انحطاط کے اس دور میں احیاء ملت او راعلاء کلمۃ الحق کے لیے جو کوششیں کیں وہ اسلامی ہند کی تاریخ میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ وہ حالات کی نامساعد ت کو پہچانتے تھے، زمانہ کی رفتار کو دیکھتے تھے، لیکن ہمت نہ ہارتے تھے،اور پکارپکار کرکہتے تھے: ”دراعلائے کلمۃ الحق باشید وجان ومال خود صرف ایں کار کنبد۔“

شاہ صاحبؒ کی تبلیغی مساعی کاپتہ ان کے مکتوبات سے چلتا ہے، لیکن افسوس ہے اس حیثیت سے ان کے مکتوبات کا اب تک مطالعہ نہیں کیا گیا۔ او ریہ ہی وجہ ہے کہ شاہ صاحبؒ کی تبلیغی مساعی سے لوگ پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ اس مضمون میں شاہ صاحبؒ کی تبلیغی کوششوں او ران کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر ان کے مکتوبات کی روشنی میں بحث کی جائے گی۔

مختصر حالات

شاہ کلیم اللہ صاحبؒ 24جمادی الثانی 1060ھ مطابق 1650ء کو پیدا ہوئے تھے۔ خود ایک مکتوب میں فرماتے ہیں:”بست وچہارم جمادی الثانی مولد فقیر است وتاریخ تولد فقیر غنی است“۔

علوم ظاہر ی کی تکمیل دہلی میں فرمائی۔ اس کے بعد عازم حج ہوئے۔مدینہ منورہ میں حضرت شیخ یحییٰ مدنیؒ سے ملاقات ہوئی۔ شیخ کے تقدس اور علم وفضل سے شاہ صاحبؒ اس قدر متاثر ہوئے کہ فوراً ان کے حلقہ مریدین میں شامل ہوگئے۔ کچھ عرصہ قیام کے بعد شاہ کلیم اللہ صاحبؒ دہلی واپس تشریف لائے او ربازار خانم میں اپنا مسکن بنایا اورسلسلہ درس وتدریس شروع کردیا۔ رفتہ رفتہ امراء وفقراء سب آپ کے گرویدہ ہوگئے او رآپ کے درس میں شریک ہونے لگے۔(جاری)

------------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-33/d/138511

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..