خلیق احمد نظامی
(حصہ۔32)
12 جنوری،2026
حضرت محبوب الہٰیؒ اپنی مجلسوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کاایک واقعہ بیان کرتے تھے کہ وہ بغیر مہمان کو شریک کیے کبھی تنہا کھانا نہ کھاتے تھے۔بعض اوقات مہمان کی تلاش میں دو ر تک نکل جاتے۔ایک بار ایک مشرک شریک طعام ہوا۔انہیں اس کوکھانا کھلانے میں تامل تھا۔وحی نازل ہوئی:”اے ابراہیم! ہم اس شخص کو جان دے سکتے ہیں، اور تو روٹی نہیں دے سکتا“۔جب شانِ ربوبیت رزق کی تقسیم میں کوئی تفریق پسند نہیں کرتی تو پھر انسانی رشتے کیوں تنگ دلی اور تنگ نظری کا شکارہوں۔اقبال نے اس اشعار میں چشتیہ سلسلہ کے اس مسلک کی ترجمانی کردی ہے۔

حرفِ بد را لب آوردن خطا است
کافر ومومن ہمہ خلق خدا است
آدمیت احترام آدمی
باخبر شو از مقام آدمی
بندہئ عشق از خدا گیرد طریق
می شود برکافر مومن شفیق
(6) بنی نوع انسان سے ہمدردی کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ سیرت سازی کا کام جو حقیقت میں ’آدم گری‘ ہے، پورے خلوص اور انہماک سے انجام دیا جائے۔ وہ بڑے رنج کے ساتھ یہ محسوس کرتے تھے کہ انسان بڑھتے او رانسانیت گھٹتی جاتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ساری صلاحیتیں اس کام میں اس طرح لگادیں کہ ان کی خاموش زندگیاں بھی پکار اٹھیں۔
مرا فقر بہتر ہے اسکندری سے
یہ آدم گری ہے، وہ آئینہ سازی
حضرت گیسودرازؒ کی 105 سالہ زندگی اس مسلک پر عمل پر گزری۔انہوں نے ’آدم گری‘ کا کام جس طرح انجام دیا وہ ہندوستان کی مذہبی اور روحانی تاریخ کا ایک شاندار باب ہے۔
چشتیہ سلسلہ کے مشایخ کی ہدایت تھی کہ انسان کو نیک وبد سب کے ساتھ نیکی کرنی چاہئے۔انتقام کا جذبہ سماجی تعلقات کی جڑیں کاٹ دیتاہے۔بُرا کہنا بُرا ہے۔ بُرا چاہنا اس سے بھی زیادہ بُرا۔حضرت محبوب الہٰیؒ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی میری راہ میں ایک کانٹا رکھے اور میں اس کے جواب میں ایک دوسرا کانٹا رکھ دوں تودو کانٹے ہوگئے۔ اس طرح انسانی زندگی میں کانٹے ہی کانٹے ہوجائیں گے۔ انسا ن کو بُرا ئی کا بدلہ بھلائی سے دینا چاہیے۔ اس طرح انتقامی جذبے سرد پڑجاتے ہیں او ریگانگت کی فضا پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ اکثر شیخ ابوسعید ابوالخیرؒ کے یہ اشعار پڑھا کرتے تھے۔
ہر کہ مارا یار نبود ایزد اورا یار باد
وانکہ مارا رنجہ دارد راحتش بسیار باد
ہر کہ اُو در راہِ ما خارے نہد از دشمنی
ہر گلے کز باغ عمرش بشفگد بے خار باد
جو شخص کانٹے بچھانے والے کو دعا دے کہ اس کی زندگی میں جوپھول کھلے وہ بے خار ہو، اس کی وسعت قلب کا اندازہ لگانامشکل ہے۔ حضرت گیسودرازؒ کے مرشدحضرت چراغ دہلویؒ نے چشتیہ سلسلہ کے اس اخلاقی اصول پر اپنی زندگی میں عمل کرکے دکھادیا تھا۔ ایک قلندر دوپہر کو کسی طرح موقعہ پاکر ان کے حجرہ میں گھس گیا اور چاقو سے ہاتھوں پروار کرنے شروع کیے، یہاں تک کہ ان کی انگلیاں اس طرح زخمی ہوگئیں کہ پھر تمام عمر اپنے ہاتھ سے قلم نہ پکڑسکے،لیکن قلندر کورویپے او رگھوڑادے کر شہر سے نکل جانے کی ہدایت کی مبادا کوئی اس کا انتقام لینے کی کوشش کرے۔اخلاق کے اس معیار نے چشتی مشایخ کی زندگیوں میں عجیب دلکشی اور دلنوازی پیدا کردی تھی۔ برونل(Brunel) کا کہناہے کہ سچی محبت جانوروں تک کو متاثر کرتی ہے، انسان تو پھر انسان ہے۔
ان اخلاقی اور سماجی تصورات کے پیچھے مشایخ کا نظریہ عشق بھی کار فرما تھا۔ تصوف میں عشق نہایت جامع لیکن بے حد نازک تصور ہے۔ یہ جذبات کی بو الہوسی نہیں، بلکہ عفتِ قلبونگاہ کا وہ نقطہ عروج ہے جہاں انسان کائنات ہستی کے راز سے واقف ہوکر مقصد حیات کو پورا کرتاہے۔ اس کو فطرت خالق کائنات سے سرگوشیاں کرتی ہے۔ ’حظائرالقدس‘ میں حضرت گیسودرازؒ نے عشق کے اسی تصور کو گفتگو کا موضوع بنایا ہے۔ ع ش ق پر علیحدہ علیحدہ بحث کی ہے۔ تقریباً اسی زمانہ میں محمد امیر ماہ بہرائچی نے ’رسالہ المطلوب فی عشق المجوب‘ لکھا تھا۔ اس میں جذبات کی وہ تپش نہیں جو’حظائر القدس‘ کی جان ہے۔ جب انسان شان ربوبیت سے اپنے فکر وعمل کا آب و رنگ لے کر کائنات ہستی پرنظر ڈالتاہے تو اس کو ہر طرف Cosmic کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ ’اسما ء الا سرار‘ میں عشق کی ہمہ گیری کواس طرح بیان کرتے ہیں:
”تشنیدہئ گرعشق نبودے فلک نہ گرویدے، وگر عشق نبود ے دریا نہ شوریدے ، وگر عشق نبودے باراں نبار یدے،اگر عشق نبودے سبزہ نہ روئیدے۔۔۔“
اسی طرح چلے جاتے ہیں تاآنکہ پکاراٹھتے ہیں:
”گر عشق نبودے جمال اللہ را کسے نہ دیدے“
ان کے نزدیک عشق ایک ایسی قوت ہے جس سے اس دنیا کا نظام اور عالم روحانی کی کشش اورکشمکش وابستہ ہے۔ جس دل میں عشق الہٰی کی چنگاری فروزاں ہوجائے وہ اپنے رب کی پوری مخلوق پر شفقت او ر محبت کے سوا کسی دوسرے تعلق کو روا رکھ ہی نہیں سکتا۔’حظائیر القدس‘کے بعض حصے پڑھ کو توبے اختیار اقبال کے یہ اشعار زبان پرآجاتے ہیں۔
مرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ
عشق ہے اصل حیات، موت ہے اس پرحرام
عشق دم جبرئیل، عشق دل مصطفی
عشق خدا کا رسول، عشق خدا کا کلام
عشق کے مضمراب سے نغمہ تار حیات
عشق سے نورِ حیات، عشق سے نارِ حیات
یہ عشق بے اختیار اقبال کی زبان سے کہلوادیتاہے۔
اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہوتو مرد مسلماں بھی کافر وزندیق
مشایخ چشت نے روحانی دنیا میں نظریہ ارتقا ء کی جلوہ گری دکھائی ہے۔ اور بتایاہے۔(جاری)
-----------------
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ
URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-32/d/138491
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism