خلیق احمدنظامی
(حصہ۔3)
14دسمبر،2025
یہ زمانہ کی ضروریات او رحالات کے اقتضاء کے مطابق نئے انداز واسالیب کو وضع کرنے اور مجتہد انہ عمل کی قوت پر قائم ہے۔ (2) جو چیزمطلوب ہے وہ قلوب انسانی کا اللہ کی طرف رجوع کرناہے، اور یہ مقصد جس طریقہ سے بھی حاصل ہوسکے اس کے اختیار کرنے سے گریز نہیں کرناچاہئے۔(3) انفرادی اصلاح وتربیت کامقصد اجتماعی فلاح وبہود ہے۔

تصوف کے مقصد ومنہاج اور صوفیہ کے طریقہ کار کی حقیقی نوعیت سمجھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ خیال رہا ہے کہ صوفیہ زمان ومکان کے مطالبات سے بے خبر، ماوراءِ زندگی کا تانا بانا بُنتے رہتے تھے۔اس گمراہ کن نظریہ نے اسلامی سماج اورملی مطالبوں کامطالعہ مشایخ کی زندگیوں سے کچھ اس طرح جداکردیا کہ تاریخ اسلام میں ان کی جہدوسعی کی حقیقی نوعیت او راس کے دور رس تنائج کاجائزہ ممکن نہ ہوسکا۔ حقیقت یہ ہے کہ صوفیہ ملت کاضمیر تھے، ایسا ضمیر جو سماج کے ہر غلط قدم پرچونک اٹھتاتھا۔ ان کاہاتھ ملت کی نبض پررہتا تھا۔ وہ صباسے بوئے گل کاسراغ لگاتے تھے او رملت کا اخلاقی مزاج درست رکھنے کے لیے جہد وسعی میں اپنے شب وروز بسر کرتے تھے۔ انہوں نے سماج کی ضرورتوں اور وقت کے تقاضو ں پر ہمیشہ نظر رکھی۔ حضرت شیخ عبدالقادر گیلانیؒ نے ’الفتح الربانی‘ میں ایک جملہ لکھا ہے جس میں وقت او راس کے امکانات کا پورا نقشہ سمٹ آیا ہے۔ فرماتے ہیں:”یادرکھو کہ زمانہ حاملہ عورت ہے،جلد ہی تم کونظر آجائے گا کہ اس سے کیاپیدا ہوتاہے۔“
مطلب یہ تھا کہ اس دنیائے آب وگل میں عمل او رمکانات عمل کا سلسلہ کبھی بندنہیں ہوتا۔ زمانہ کی ہرکروٹ انسان کی جزا وسزا کی ترازو ہاتھ میں لئے ہوئے ظاہر ہوتی ہے۔ جس نے اسباب وعلل سے چشم کی، وہ زندگی کی حقیقتوں کو کبھی نہ سمجھ سکے گا۔
فلسفہ عمرانیات کی روشنی میں دیکھا جائے تو اندازہ ہوگا کہ تصوف کی تحریک جن مختلف منزلوں سے گزر کر تنظیم سلاسل کے دائرہ میں داخل ہوئی ان کو طے کرنا ہر انسانی تحریک کے نشوونما کاناگریز او رلازمی عمل ہے۔
جب کوئی نیا طرز فکر جنم لیتاہے تو سب سے پہلی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ کچھ شخصیتیں ان اصولوں کی جیتی جاگتی تصویربن جائیں جن کو وہ سماج کی حیات اجتماعی میں کار فرمادیکھناچاہتی ہوں۔ وہ اپنے کردار وعمل سے ان کی انفرادیت کانقش قائم کردیں، تاکہ ان کے اندرونی اتصال اور احساسات وعمل کے اتحاد سے وہ قوتیں بیدار ہوجائیں جن سے زندگی کاایک نیا نقشہ ظہور پذیر ہوسکے۔ جب یہ صورت پیدا ہوجاتی ہے تو تحریک بے جان خطوط سے زندہ حقیقت میں تبدیلی ہوجاتی ہے۔ پھر جب تک فکر کی بنیاد نہیں پڑتی تحریک نقش برآب رہتی ہے۔ جب فکر کانظام پوری طرح مدوّن ہوجاتاہے تو تحریک میں وہ قوت بیدار ہوجاتی ہے جو اس کو آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہے اور اس فکر کو عملی جامہ پہناکر انسانی زندگی میں تبدیلی پیداکرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اگرکوئی تحریک وفکر ی اساس پیدانہ کرسکے تو اس کا وجود حقیقت بن سکتا۔پھر نشوونما کی اگلی منز ل تحریک کے اثر ونفوذ کوباضابطہ نظام حیات کی صورت میں عوام تک پہنچانا ہے۔تاریخ عالم شاہد ہے کہ یہ عمرانی منزلیں ہر اس تحریک کو طے کرنا پڑتی ہیں جو انسان کے لیے فکر ونظر کے نئے سانچے بناتی اور اس کو نیا ولولہئ حیات بخشی ہیں۔مثالی زندگیوں، اسائل فکر او رنظام عمل۔۔ ان تین پرتحریکوں کی کامیابی کا انحصار ہوتاہے، بلکہ ان کی حیات معنوی ہی کی رہین منت ہوتی ہے۔ تصوف کی تحریک میں یہ سب منزلیں پوری وضاحت اورصفائی کے ساتھ دیکھی جاسکتی ہیں۔ اور ان ہی کی روشنی میں ان عوامل واثرات کا تجزیہ ممکن ہے جن کے باعث سلاسل وجود میں آئے۔
صوفیہ کی مثالی زندگیوں کی جلوہ گری اور انفرادی جہدوسعی کادور عہد بنی اُمیہ سے شروع ہوا، اور تقریباً ایک صدی حالات کی تبدیلی پر رنج اور توبہ واستغفار میں گزرگئی۔ اورشدت کے ساتھ یہ احساس پیدا ہوا کہ اسوہئ خاتم النبیینؐ کی روشنی میں سیرت وکردار کے نمونے بنائے جائیں۔پھر افکار کے تصادم کادور شروع ہوا اور تصوف کو اپنی مخصوص فکری حیثیت اختیار کرنے تک مختلف انداز ہائے فکر سے نبردآزما ہونا پڑا۔ کبھی فلسفہ سدراہ ہوا، بلکہ فقہی موشگافیاں قدم کو روکنے لگیں۔ بایں ہمہ حالات کے عمل اور ردعمل سے خودبخود ایک فکری سانچہ بنتا گیا۔یہاں تک کہ دسویں اور گیارہویں صدی میں تصوف کی فکر نے ایک واضح علم اور فن کی حیثیت اختیا ر کرلی اورفکر ی سرمایہ بھی اتنا جمع ہوگیا کہ کسی رخ سے بھی اس پر حملہ ہو، اس میں مدافعت کی قوت پیدا ہوگئی۔ اس منزل سے گزرنے کے بعد تنظیم کی ضرورت محسوس ہوئی تاکہ افکار کو عملی جامہ پہنا کر انسانی زندگیوں کو اعلیٰ اخلاقی اور روحانی قدروں کی چاکری میں لگایا جاسکے۔ اس ضرورت نے سلاسل کی تنظیم کی راہ ہموار کی۔ اس اجمال کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔
جب عہد بنی اُمیہ میں خلافت نے ملوکیت کا رنگ اختیار کرنا شروع کیا او ربصرہ اورکوفہ نئی حکومت کے عسکری مرکز بنے، تو اسلام کی حقیقی روح سے سرشار شخصیتیں حسرت کے ساتھ خلافت راشدہ اور عہد رسالت کی طرف دیکھنے لگیں۔حالات کی اس تبدیلی نے ان کے دل ودماغ کا سکون برباد کردیا۔حضرت حسن بصریؒ (م 728ء)،حضرت مالک بن دینارؒ (م 748ء)،حضرت فضیل بن عیاضؒ(م 803ء)، حضرت ابراہیم بن ادہمؒ(م777ء)،حضرت سفیان ثوریؒ(م 778ء)، حضرت حبیب عجمی(م 738ء) نے اپنی زندگیاں توبہ واستغفار میں گزاردیں۔انہوں نے اپنے طرز فکر کوکوئی اجتماعی شکل دینے کی کوشش نہیں کی، لیکن اپنی خاموش زندگیوں سے سیاسی انقلاب کی بنیادی کمزوری کو واضح کردیا۔ یہ جو ء الارض،یہ اقتدار کی ہوس، یہ ملک گیر ی کا جذبہ، اس روح اسلامی سے مطابقت نہیں رکھتاتھا جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیدار کی تھی اور جس کی پاسداری خلفاء راشدین کرتے رہے تھے۔ اس دور میں شیخ عبداللہ بن مبارکؒ (م 798ء) کی کتاب الزہد اورحضرت سفیان ثوریؒ(م 778ء) کے چند رسائل کے علاوہ کتابیں نہیں لکھی گئیں۔ اس زمانہ میں تصانیف کا استعمال اپنے نظریات کی تبلیغ واشاعت کے لیے نہیں کیا گیا۔
ابھی سیاسی تبدیلی کے روح فرسااثرات سے ذہن نجات نہیں پاسکا تھا کہ ایک اور صورت حال رونما ہوگئی۔یونانی فلسفہ کا رواج ہوا اور اس نے مذہب کی جڑوں کو ہلادیا اور اعتقاد یقین کی جگہ شک و انکار کے کانٹے بودئیے۔وضعیت کے دروازے کھل گئے اور اسلامی روح پر اضمحلال طاری ہوگیا۔ حضرت امام غزالیؒ نے ’المفقذ من الضلال‘میں خود اپنے تجربات بیان کیے ہیں کہ کس طرح عقل نے ان کو الحاد وانکار کے کوچوں میں لے جاکرکھڑا کیا تھا۔(جاری)
-------------------
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ
URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-3/d/138066
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism