New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 04:52 PM

Urdu Section ( 16 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔29)

9 جنوری،2026

 حضرت گیسودرازؒ

عصرِ حاضر کا ایک مشہور دیدہ ور مورخ اور ماہر عمرانیات آرنلڈ ٹائن بی(Arnold Toynbee) اپنی کتاب An Historian's Approach to Religion (مذہب مؤرخ کی نظر میں) لکھتا ہے کہ تاریخِ امم نے مذاہبِ عالم کی افادیت اور اُن کے اثر و نفوذ کے جائزے کے لیے ایک مؤثر عملی پیمانہ بنا لیا ہے۔ اور وہ ہے مصیبت اور معصیت میں انسان کی دستگیری کی صلاحیت۔ لکھتا ہے :

"All the living religions are going to be put to a searching practical test 'by their fruits you shall know them.' (Math. vii 20) The practical test of a religion, always and everywhere, is its success or failure in helping human souls to respond to the challenges of suffering and sin."

ہندوستان میں چشتیہ سلسلہ کی ساری تعلیم اور اصلاح و تربیت کا پورا نظام اس عالمی معیار پر نہ صرف پورا اترتا ہے، بلکہ ایک ایسے لائحۂ عمل کی نشاندہی بھی کرتا ہے جس میں انسانیت کی فوز و فلاح کا راز مضمر ہے۔ اس نے اخلاقِ انسانی کی اعلیٰ قدروں کی حفاظت کی ہے اور ’آدم گری‘ کو اپنی جہد وسعی کا محور بناکر انفرادی اور اجتماعی زندگی کو سنوارنے کا سلیقہ سکھایا ہے۔ اور کہا ہے    ؎

یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی

اخوّت کی جہاں گیری، محبت کی فراوانی

اس برصغیر کا شاید ہی کوئی ایسا گوشہ ہو جہاں چشتیہ سلسلہ کا اثر یا اس کے مشایخ نہ پہنچے ہوں۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ہندوستان میں صوفیہ و مشایخ مسلمانوں کے سیاسی اقتدار کے قیام کے بعد آنے شروع ہوئے۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ دہلی، بدایوں، اجمیر، قنوج، بنارس وغیرہ میں مسلمانوں کی نوآبادیاں ان علاقوں پر حکومت قائم ہونے سے پہلے وجود میں آگئی تھیں۔ حضرت خواجہ اجمیریؒؒ پرتھوی راج کے عہد میں اجمیر آکر بس گئے تھے۔ اسی طرح حضرت گیسودرازؒ کے اجداد دہلی میں اس وقت آئے تھے جب شہاب الدین غوری کی فوجیں یہاں نہیں پہنچی تھیں۔ یہ خاموش روحانی اعلان تھا اس بات کا کہ سلسلہ کی نشر و اشاعت سلطنت کے سایہ میں نہیں، بلکہ اپنی اخلاقی اور روحانی قوت کی بنا پر ہوگی۔ فقر کی نگہبانی دلِ دردمند کرے گا اور محبت اقلیم دل کو فتح کرے گی   ؎

نہ محتاجِ سلطاں، نہ مرعوبِ سلطاں

محبت ہے آزادی و بے نیازی

حضرت گیسودرازؒ کو چشتیہ سلسلہ کی تاریخ میں جو عظمت اور اہمیت حاصل ہے وہ محتاجِ بیان نہیں۔ عہدِ جہانگیری کے ایک تذکرہ نویس محمد غوثی شطاریؒ نے لکھا ہے کہ چراغ دہلیؒ کے سلسلہ کو آفتاب کی طرح فروغ ان ہی کی ذات سے ہوا۔ چشتیہ سلسلہ میں ان کا مقام اور ان کے کام کی نوعیت کا اندازہ لگانے کے لیے بعض حقائق پر نظر ہونی ضروری ہے۔

(۱) اللہ تعالیٰ نے ان کو ۱۰۵ سال کی طویل عمر عطا فرمائی تھی۔ چشتیہ سلسلہ میں کسی دوسرے بزرگ کی اتنی عمر نہیں ہوئی، گو خواجہ قطب صاحبؒ کو چھوڑ کر سب مشایخ کی عمریں طویل ہوئی تھیں۔ کوئی انسانی تحریک وقت کی رفتار پر اپنا نقش نہیں چھوڑ سکتی جب تک اس کے داعی کو کام کرنے کی اتنی مہلت نہ ملے کہ وہ انسانی زندگیوں کو اپنی تعلیم کے سانچے میں کامیابی کے ساتھ ڈھال سکے۔ یہی سبب تھا کہ ان کے اندازِ اصلاح و تربیت نے ایک امتیازی رنگ اختیار کرلیا۔ اور شیخ محدثؒ کو لکھنا پڑا کہ :

’’او را میانِ مشایخِ چشت مشربے خاص و در بیانِ اسرارِ حقیقت طریقے مخصوص است۔‘‘ ۱

اس سے مطلب یہ نہ تھا کہ انہوں نے چشتیہ سلسلہ کے بنیادی فکری نظام سے ہٹ کر کوئی روش نکالی تھی، بلکہ اپنے مسلک و روش پر طویل عرصہ تک کام کرتے رہنے کے باعث ان کے نظام میں ایک انفرادی شان پیدا ہوگئی تھی۔

(۲) حضرت گیسودرازؒ کو ایک ایسے دور میں کام کرنا پڑا تھا جب افکار و نظریات کا زبردست تصادم ملک میں برپا تھا۔ محمد بن تغلق کے عہد میں امام ابن تیمیہؒ کے اثرات ہندوستان پہنچے اور تصوف کی پوری تحریک ان کی زد میں آگئی۔ سلطان ان نظریات سے اس قدر متأثر ہوا کہ بھرے دربار میں امام ابن تیمیہؒ کے نمائندے مولانا عبدالعزیز اردبیلیؒ کے پیر چوم لیے۔ ان کے نظریات کے زیرِاثر اس نے صوفیہ کے خلاف بعض اقدام کیے۔ ان کے لباس پر نکتہ چینی کی، ان کے تصورِ ولایت کو باطل ٹھہرایا، خانقہی نظام کو شبہ کی نظر سے دیکھا۔ دہلی کے بہت سے صوفیہ کو جبراً گجرات، دکن، کشمیر بھیج کر سلسلہ کی خانقاہوں کو بے نور و بے چراغ کردیا۔ حضرت گیسودرازؒ کے مرشد حضرت چراغ دہلویؒ نے اپنی خانقاہ میں سلطان کی مداخلت کو قبول کرنے سے صاف انکار کردیا۔ ان کی دینی غیرت نے یہ گوارا نہ کیا کہ جس جگہ ان کے شیخ ان کو بٹھا گئے ہیں، اس کو سلطان کے کہنے سے چھوڑ دیں۔ سلطان کا غیظ و غضب ایک طرف تھا اور ان کا عزم و استقلال دوسری طرف   ؎

خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی

نہیں ہے سنجر و طغرل سے کم شکوہِ فقیر

کتنے طوفان آئے اور گزر گئے لیکن ان کو اپنی جگہ سے نہ ہٹا سکے۔

ان کے مصائب کا حال جب دکن میں مولانا برہان الدین غریبؒ نے سنا تو اُن پر گریہ طاری ہوگیا۔ اس زمانہ میں حضرت گیسودرازؒ اپنے شیخ کی خدمت میں تھے، اور جب حضرت چراغ دہلویؒ کو محمد بن تغلق نے سندھ طلب کیا تو حضرت گیسودرازؒ ہی کو کچھ ہدایات دے کر وہ رخصت ہوئے۔حضرت چراغ دہلویؒ نے اس نئے فکری سیلاب کے خلاف بندھ باندھے، اور جہاں ضروری سمجھا، وہاں اصلاح بھی کی۔ انہوں نے یہ اعلان کرکے کہ   ؎

مشربِ پیر حجت نمی شود

دلیل از کتاب و سنت می باید

تصوف کی تحریک کو ایک ایسی محفوظ سطح پر پہنچا دیا جہاں کوئی موجِ حوادث نہیں پہنچ سکتی تھی۔  (جاری)

------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-29/d/138460

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..