خلیق احمد نظامی
(حصہ۔24)
4 جنوری،2026
چہ بندی دل دریں دنیائے تاری
کہ یکدم نیست بروئے استواری
ضیاء نخشبیؒ از وے بیندیش
مدارش استواری دل ازیں بیش
’چہل ناموس‘ کے شروع میں بھی ایک طویل نظم میں ان ہی جذبات کا اظہار کیا او رلکھا ہے۔
درکس امروز صفائی مجوئے
از خود و از غیر وفائی مجوئے
آخر نخشبیؒ میں مایوسی اور قنوطیت کے یہ جذبات کیوں پیدا ہوئے؟ اس سوال کا جواب نخشبیؒ کی زندگی سے زیادہ اس عہد کے حالات گردوپیش میں ملتاہے۔
نخشبیؒ کی تصانیف عہد تغلق سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ زمانہ وہ تھا جب مسلمانوں کی زندگی کے ہر شعبہ پر مایوسی ور قنوطیت کا رنگ چھا گیا تھا۔ سیاسی میدان میں اگر محمد بن تغلق نے یہ اعلان کیا تھا کہ:

”ملک مامریض گشت“
تو دوسری طرف حضرت شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلویؒ نے غمگین لہجہ میں فرمایا تھا:
”امروز شیخی کاربازی بچگاں شد۔“
ما کر اشعر وغزل گویم چوں درعہد ما
شاہد موزوں وممدوح زر افشاں نماند
حقیقت یہ ہے کہ جس طرح نباتاتی دنیا بہار وخزاں کے دور سے گزرتی ہے، با لکل اسی طرح انسانی سوسائٹی پر بھی مختلف کیفیتیں طاری ہوتی ہیں۔ ایک دور آتاہے جب زندگی کے ہر شعبہ میں تروتازگی، شگفتگی، خوشی او رمسرت ہی کارفرما ہوتی ہے۔ یہ قوموں کی زندگی میں ’بہار‘ کا زمانہ ہوتاہے۔ خود اعتمادی وبلندی نگاہ ونظر کردار کی خصوصیات بن جاتی ہیں۔ پھر خزاں کے اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ اور یاس و نا امیدی دلوں کو پژ مردہ او را منگوں کو پست کردیتی ہے،یہاں تک کہ فضا ئیں بھی تاریک نظر آنے لگتی ہیں۔ خلجیوں کاعہد اسلامی ہند کی بہارکازمانہ تھا۔ اس عہد میں جس شاعر، مصنف، عالم، شیخ، سپاہی کی زبان سے جو لفظ نکلتاتھا اس میں امید اور زندگی کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔ عہد تغلق میں ہر طرف انحطاطی رنگ چھاگیا اور ہر شخص کی زبان سے نا امید ی اور مایوسی کا اظہار ہونے لگا۔بہر حال جب نخشبیؒ نے اپنے ماحول کی شکایت او رزمانہ کا گلا کیا ہے تو حقیقت میں انہوں نے اپنے زمانہ کے عام رجحانات کی ترجمانی کی ہے۔
شیخ ابوبکر موئے تابؒ او رمولانا نخشبیؒ
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے بدایوں صوفیاء ومشایخ کا مرکز تھا۔ صدہا بزرگ وہاں سکونت پذیر تھے۔ نخشبیؒ کے اگر کسی بزرگ سے تعلقات کا علم ان کی تصانیف سے ہوتاہے تو وہ شیخ ابوبکر موئے تابؒ ہیں۔شیخ موئے تابؒ بدایوں کے مشہور صوفیاء میں تھے۔ حضرت شیخ نظام الدین اولیاؒ نے ’فوائد الفؤاد‘ میں ان کا ذکر کیاہے۔ ایک مرتبہ نخشبیؒ ان کی عیادت کے لیے گئے تو انہوں نے بے ساختہ یہ شعر پڑھا۔
قالب چو غبار است میاں من وتو
آمد گہ آنکہ ازمیاں برخیز د
تبحر علی
ضیاء نخشبیؒ کے تبحر علمی کا اندازہ ان کی تصانیف سے ہوتاہے۔قرآن وحدیث پر ان کی گہری نظر تھی۔ مشایخ کی تصانیف پرپورا عبور تھا۔ اپنی تصانیف میں جگہ جگہ آیاتِ قرآنی، احادیث اور اقوال مشایخ نقل کرتے ہیں۔’سلک السلوک‘ اس اعتبار سے بہت اہم ہے۔ اس میں اقتباسات و اقوال ایسے برمحل پیش کیے گئے ہیں کہ پڑھنے والا نخشبیؒ کی وسعت معلومات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
نخشبیؒ کئی زبانوں پرعبور رکھتے تھے۔ عربی وفارسی پر تو بڑی قدرت تھی۔ سنسکرت کو نہ صرف سمجھ لیتے تھے بلکہ اس کو فارسی میں منتقل بھی کرسکتے تھے۔ غالباً سریانی زبان سے بھی واقفیت رکھتے تھے۔
’چہل ناموس‘ سے ان کی علم طب سے واقفیت کااندازہ ہوتاہے۔ ’تذکرۃ الواصلین‘ سے معلوم ہوتاہے کہ وہ علم موسیقی سے بھی آگاہ تھے۔
نخشبیؒ کی تصانیف
شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ ان کے متعلق لکھتے ہیں:
”تصانیف بسیار دارد“
مولانا نخشبیؒ کی جو کتابیں ہم تک پہنچی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:
(1) طوطی نامہ
(2) شرع دعائے سریانی
(3) چہل ناموس
(4) سلک السلوک
(5) گلریز
(6) لذات النساء
شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے ان کی ایک اور تصنیف ’عشرہ مبشرہ‘ کابھی ذکر کیاہے، لیکن یہ کتاب دستیاب نہیں ہوسکی۔
’طوطی نامہ‘
مولانا نخشبیؒ کی تصانیف میں اس کتاب کو خاص شہرت حاصل ہوئی ہے۔ یہ کم وبیش 550 صفحات پر مشتمل ہے۔ وجہ تالیف کے متعلق دیباچہ میں لکھتے ہیں:”بزرگے بابندہ گفت دریں وقت کتابے مشتمل بر پنجاہ دوحکایت بزرگے از عبارتے بعبارتے بردہ است واز اصطلاح ہندوی بزبان پارسی آوردہ۔ امام اشہب مقال درمضمارِ اطالت دوانیدہ است وسخن را درازی باقصی الغایۃ رسا نیدہ، وقاعدہ ترتیب راذ وقے و قانون ترکیب راشوقے اصلاً مراعات نہ کردہ۔“
نخشبیؒ نے یہ سن کر خود اس کتاب کو شگفتہ فارسی میں منتقل کرنے کاارادہ کرلیا اور 730ھ میں طوطی نامہ لکھ کر مکمل کرلیا۔ ’طوطی نامہ‘کے مآخذ کے متعلق بھی عرض کردینا ضروری ہے۔سنسکرت کی ایک مشہور کتاب ’کوکاسیتی‘ ہے۔ ایک شخص نے اس کا فارسی میں ترجمہ کیا، لیکن اصل کی خوبی ترجمہ میں پیدا نہ کرسکا۔ ضیاء نخشبیؒ نے اپنے دوستوں کے اصرار پراس کا م کو دوبارہ کیا او را س انداز میں کیا کہ اصل سنسکرت کی پوری روح کوفارسی کے قالب میں ڈھال دیا اور اپنے موزوں قطعات اور رنگین اشعار سے اس میں ایک ایسی دل آویزی پیدا کردی کہ جو اسے پڑھتا بس مسحور ہوکر رہ جاتا۔نخشبیؒ کا ترجمہ 52 ابواب پر مشتمل ہے۔
شہنشاہ اکبر کو سنسکرت کی کتابوں میں جو دلچسپی تھی اس سے تاریخ کا ہر طالب علم واقف ہے۔ اس نے سنسکرت کی متعدد کتابوں کا فارسی میں ترجمہ کرایا۔’کوکاسیتی‘ کو سادہ زبان میں منتقل کرانے کا خیال آیا تو ابوالفضل کو اسی کام پر متعین کیا۔(جاری)
-------------------
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ
URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-24/d/138392
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism