New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 05:09 PM

Urdu Section ( 7 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔20)

31دسمبر،2025

مولانا ضیاء الدین نخشبیؒ

آج سے تقریباً چھ سو سال پہلے کاذکر ہے کہ بدایوں میں ایک بزرگ مولاناضیا ء الدین نخشبیؒرہتے تھے۔اللہ نے انہیں علم وفضل کی بے پناہ دولت سے نوازا تھا،لیکن مال و جان دنیوی سے ان کو یکسر محروم کردیا تھا۔ وہ اس محرومی کو اپنے لیے سعادت سمجھتے تھے اور عسرت وتنگی میں ایسی خوشی سے دن گزارتے تھے کہ ’الفقر وفخری‘ کا سماں آنکھوں کے سامنے کھنچ جاتاتھا، اورفضا ئیں تک پکار اٹھتی تھیں۔

دارا وسکندر سے وہ مردِ فقیر اولیٰ

ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہی

نخشبیؒ عزت وشہرت کے خواہاں نہ تھے۔ انہوں نے اپنے دل کی دنیا ’سوز ومستی، جذب وشو ق‘ سے تعمیرکی تھی۔ ان کی تمنا تھی کہ بس یہ ہی دنیا آباد رہے۔ وہ دعا کرتے تھے تو یہی۔

خدایا! اہل دل را‘ ذوق دل دہ

ضیائے نخشبیؒؒ راشوق دل دہ

انہوں نے عمر بھر اس ڈر سے گھر نہیں بنوایا کہ کہیں دل نہ ویران ہوجائے۔ عرفی نے سچ کہا تھا۔

امن از فریبِ عمارت گدا شدم ورنہ

ہزار گنج بہ ویرانہ دل افتاد است

 نخشبیؒؒ کی عزلت پسندی اورعزت وجاہ سے نفرت کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی شہرت بدایوں کے ایک گوشہ میں محدود ہوکر رہ گئی۔

شیخ عبدالق محدث دہلویؒ (المتوفی 1052ھ) سے پہلے کسی مؤرخ یا تذکرہ نویس نے ان کے حالات تو کیا، ان کا نام تک نہیں لکھا۔جب شیخ محدثؒ نے ان کے حالات لکھنے چاہے تو ان میں اور نخشبیؒؒ میں کم وبیش تین سو سال حائل تھے۔ گوشہ گمنامی میں زندگی گزارنے والے بزرگ کے حالات کا دستیاب ہونا آسان نہ تھا۔ چنانچہ ان کو نخشبیؒکی تصانیف کے چند اقتباسات پراکتفا کرنا پڑا۔ یہ 1590 ء کاذکر ہے جب شیخ محدثؒ ’اخبار الاخیار‘ کی ترتیب و تصنیف میں مصروف تھے۔ زندگی کے آخری سالوں میں جب انہوں نے ’التالیف قلب الالیف‘ لکھنی شروع کی، تونخشبیؒ کے حالات کی پھر تلاش کی، لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ شیخ محدثؒ کے بعد تذکروں میں نخشبیؒ کا ذکر ضرور ملتاہے لیکن وہ بڑی حد تک شیخ محدثؒ ہی سے ماخوذ ہوتاہے۔ ظاہر ہے کہ اب ضیاء نخشبیؒ کے حالات کی جستجو اگر کی بھی جائے تو ’کوہ کندن و کاہ برآوردن‘ کی مصداق ہوگی۔ اس مضمون میں میں نے کوشش کی ہے کہ خود ضیاء نخشبیؒ کی تصانیف سے ان کے حالات مرتب کیے جائیں اور ان کی علمی خدمات او رافکار کا پتہ لگایا جائے۔

وطن

مولانا ضیاء الدین نخشب کے رہنے والے تھے۔چہل ناموس میں خود لکھتے ہیں:

زہر شہرے وہرجائے مقامے قیمتی خیزد

ضیاء از نخشب وشکر زمصر وسعدی از شیراز

نخشب بخارا میں ایک پرفضا مقام تھا۔ عرب اس کو نسف کہتے تھے۔ دریا کشکااس کے درمیان سے گزرتاتھا او راس کی رونق میں اضافہ کرتا تھا۔جب وسط ایشیا میں منگولوں کا طوفان کف بردہان امنڈنا شروع ہوا تو نخشب بھی ان کے جوروستم سے محفوظ نہ رہ سکا۔چنگیز خاں نے اس پرقبضہ کرلیا اور اس کو یہ علاقہ ایسا پسند آیا کہ اپنی فوجوں کے لیے گرمی کی چھاؤنی یہاں بنادی۔رفتہ رفتہ منگولوں کے محلات بننے شروع ہوگئے یہاں تک کہ ہر طرف محل ہی محل نظرآنے لگے اورا س جگہ کا نام قرشی پڑگیا۔ قرشی منگولوں کی زبان میں ’محل‘ کوکہتے ہیں۔ آج بھی یہ علاقہ قرشی ہی کہلاتے ہے۔

ہندوستان میں آمد

گمان غالب یہ ہے کہ جب نخشب میں منگولوں کا تسلط ہوگیا اور وہاں کے حالات ناقابل برداشت ہوگئے تو وسط ایشیا کے اوربہت سے مسلمانوں کی طرح ضیاء نخشبی ؒ نے بھی ہندوستان کا رخ کیا۔ یہ وہ ز مانہ تھا جب بقول عصامی۔

بسے عالمان ِ بخارا نژاد

بسے زاہد و علبدِ ہر بلاد

دراں شہر فرخندہ جمع آمدند

چو پروانہ برنورِ شمع آمدند

دارالسلطنت دہلی خلائق عالم کا مرجع ومرکز بنا ہوا تھا۔

فارسی کاایک مشہور مصرعہ ہے۔

خدا  شر ے برانگیز وکہخیر ما دراں باشد

وسط ایشیا میں جب ترکان غز او رمنگولوں کی تباہ کاریوں نے عرصہ حیات تنگ کردیا تو علماء واکابر کی ایک کثیر تعداد ہندوستان کی طرف رجوع ہوگئی۔

بغداد وبخارا کے یہ ٹوٹے ہوئے تارے ہندوستان کی فضائے علم پر آفتاب وماہتاب بن کر نمودار ہوئے، اور اسلامی ہند کو اپنے ابتدائی دور میں علماء فضلاء کی ایک ایسی کثیر تعداد مل گئی جس نے سارے ملک کو اپنی نواسنحیوں سے پُر شور کردیا۔حضرت شیخ علی ہجویریؒ المعروف بہ داتا گنج بخشؒ غالباً پہلے بزرگ ہیں جو نامساعد حالات کے باعث ہندوستان تشریف لائے۔ ان کے بعد تو قافلہ لوگ اس ملک میں آنے لگے۔ عام طور سے جو لوگ عزت وشہرت کے خواہاں ہوتے تھے وہ دہلی میں رک جاتے تھے کہ دارالسلطنت کی زندگی میں بہر حال بڑی دلفریبی تھی۔ جو بزرگ حکومت وقت سے بے تعلق رہ کر زندگی بسر کرناچاہتے تھے وہ دہلی سے دور کسی مقام کا انتخاب کرلیتے تھے کہ دربار کے دم گھونٹنے والے ماحول سے ان کی طبیعت گھبراتی تھی۔ بدایوں ایسے لوگوں کا محبوب مرکز تھا۔حضرت شیخ نظام الدین اولیاؒء کے دادا او رنانا جو سرکاری ملازمت کو پسند نہیں کرتے تھے اور گوشہئ قناعت میں زندگی گزارنا چاہتے تھے۔ جب ہندوستان آئے تو بدایوں ہی کو اپنا مستقر بنا لیا۔ غالباً یہ خاموش زندگی بسر کرنے کی تمنا ہی تھی جس نے ضیاء نخشبیؒ کو بدایوں میں قیام کرنے پرآمادہ کرلیا۔

بدایوں میں قیام

بدایوں اسلامی تہذیب وتمدن کا قدیم مرکز تھا۔ یہاں اسلامی علوم وفنون نے بڑی ترقی کی تھی۔ جگہ جگہ مدرسے اور خانقاہیں تھیں۔ چپہ چپہ بزرگوں کے مزارات تھے۔ خود حضرت شیخ نظام الدین اولیاؒء کا فرمانا تھا کہ۔

در بدایوں بسیار بزرگان خفتہ اند

(جاری)

------------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-20/d/138333

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..