New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 05:08 PM

Urdu Section ( 18 Dec 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمدنظامی

(حصہ۔2)

13دسمبر،2025

شیخ ہجویریؒ ایک بزرگ کاقول نقل کرتے ہیں کہ فرمایا کرتے تھے:

”فقیر وہ نہیں ہے کہ اس کا ہاتھ متاع او ر توشہ سے خالی ہووے، بلکہ فقیر وہ ہے جس کی طبیعت مراد سے خالی ہووے“۔

اگر یہ ’رہنانیت‘ ہے، تو پھر یہ طے کرنا ہوگا کہ اسلام کی تعلیم کیاہے؟ شاید حقائق سے اس قدر بے اعتنائی کا ثبوت کبھی نہیں دیا گیا جتنا یہ کہہ کر کہ صوفیہ نے ایک خانقہی مزاج پیداکرکے ملت کے قوائے عمل کو مضمحل کردیا۔ یہ الزام غلط او ربے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان بزرگوں نے ملت کے عروقِ مردہ میں ہمیشہ نئی روح پھونکی ہے اور زوال وانحطاط کے زمانہ میں تجدید واحیاء کے راستے تلاش کیے ہیں۔ اور یہ ہی ان کے کارناموں کاایک ایسا گوشہ ہے جس کا اب تک تعصب اور تنگ نظری سے الگ ہوکر جائز ہ نہیں لیا گیا۔تاریخ کے طلباء نے شاہی خاندانوں کے عروج زوال کی داستانوں میں اپنے آپ کو کچھ اس طرح گم کردیا ہے کہ ان کے نزدیک تاریخ صرف دربار او رمیدان جنگ سے ہی عبارت ہوکر رہ گئی ہے گویا سنائیؒ کا یہ دعوت نامہ ان کے کانوں تک پہنچاہی نہیں۔

اے کہ شنیدی صفت روم وچیں

خیز وبیا، ملکِ سنائی یہ بیں

مذہبی تدکرہ نگاروں نے اس سلسلہ میں جو کچھ لکھاہے وہ اس طرح کہ ان بزرگوں کے اصلی خدوخال ہی چھپ گئے، او رماحول کے صحیح پس منظر میں نہ ان کو دیکھا جاسکا اور نہ انسانیت کی سطح پر ان کی عظمت وبلندی کی اندازہ لگایا جاسکا اور نہ انسانیت کی سطح پر ان کی عظمت وبلندی کا اندازہ لگایا جاسکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان بزرگوں کی سوانح حیات کرامات کی چند بے معنی داستانوں کامجموعہ بن کر رہ گئی۔وقت کا تقاضا ہے کہ ان بزرگوں کے حالات بنی نوع اورملت کی ضروریات کے آئینہ میں دیکھے جائیں، تاکہ ان کے افکار،سیرت اورکارناموں کی صحیح نوعیت واضح ہوسکے۔

یورپ کے مستشرق جب اسلامی تاریخ کامطالعہ کرتے ہیں تو انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا سیاسی زوال کبھی ان کے نظام کو تباہ نہ کرسکا۔ بلکہ بقول پروفیسر ہٹی (Hitti) اکثر ایسا ہوا کہ ’سیاسی اسلام‘ کے نازک ترین لمحات میں ’مذہبی اسلام‘ نے بعض شاندار کامیابیا ں حاصل کیں۔ ہولینڈ کے ایک فاضل لوکے کارد (Frede Lokkegaard) نے دبے انداز میں اس بات پر استعجاب کااظہار کیا ہے گو اسلام کاسیاسی زوال تو بارہا ہوا،لیکن روحانی اسلام میں ترقی کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا۔

کیا ان اسباب کا تجزیہ ممکن نہیں جنہوں نے مسلمانو ں کی دینی زندگی کو سیاسی زوال کے خطرناک اثرات سے بچایا اور زمانہ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کے فکر وتحمل میں تبدیلیاں پیدا کیں؟ انگلستان کے ایک مشہور اور ذی علم مستشرق پروفیسر ایچ اے آرگب(H.A.R. Gibb) نے ایک مرتبہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی مجلس کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا:

”تاریخ اسلام میں بارہا ایسے مواقع آئے کہ اسلام کے کلچر کاشدت سے مقابلہ کیا گیا ہے، لیکن بایں ہمہ وہ مغلوب نہ ہوسکا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تصوف یا صوفیہ کااندازِ فوراً ا س کی مدد کو آجاتا تھا اور اس کو اتنی قوت او رتوانائی بخش دیتا تھا کہ کوئی طاقت اس کامقابلہ نہ کرسکتی تھی۔“

ہندوستان میں چشتیہ سلسلہ کی داغ بیل

ایک دن مولاناضیاء الدین برنی(صاحب تاریخ فیروز شاہی) حضرت محبوب الہٰیؒ کی خدمت میں حاضر تھے۔ اشراق سے چاشت کاوقت ہوگیا اور سلطان المشایخ مسلسل خواہشمند حاضرین کوبیعت فرماتے رہے۔ نہ کسی سے اس کے حالات کی تفتیش فرماتے تھے اور نہ کسی سے اس کے افکار و جذبات کے متعلق سوال کرتے تھے۔ اس صلاحِ عام سے برنی کے دل میں خطرہ گزرا کہ مشایخ سلف تو مرید کرنے میں بڑی احتیاط کرتے تھے۔ یہ کیا بات ہے کہ حضرتؒ نے بیعت وارادت کادروازہ اس طرح ہر کس وناکس کیلئے کھول دیاہے؟ حضرت محبوب الہٰیؒ کی چشم جہاں بیں نے برنی کے دل کی کیفیت کو ان کے چہرہ پر پڑھ لیا اور فرمایا:

”مولانا ضیاء الدین! تم ہر بات کو مجھ سے دریافت کرتے ہو، لیکن کبھی یہ نہیں پوچھتے کہ میں بغیر تحقیق کیے ہر آنے والے کوکیوں سلسلہ میں داخل کرلیتا ہوں اورکوئی تفتیش نہیں کرتا؟“

شیخ کایہ ارشاد سن کر برنی ہر لرزہ کی کیفیت طاری ہوگئی اورطاقتِ گویائی نے جواب دیا۔ سلطان المشایخؒ نے جواب کاانتظار کیے بغیر اس طریقہ کار کی وضاحت اس طرح فرمائی:

”سنو۔خداتعالیٰ نے ہر زمانہ میں اپنی حکمت بالغہ کی ایک خاصیت پیدا کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہرزمانہ کے آدمیوں کے طریقے،ان کے رسوم ورواج علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں، او رہر زمانہ کی رفتار لوگو ں میں اس درجہ اثر کرجاتی ہے کہ موجودہ زمانہ کے لوگوں کے اخلاق اورطبائع سے کوئی مشابہت نہیں رہتی۔یہ بات تجربہ سے ثابت ہوچکی ہے۔

پھر مرید کی اصل ارادت یہ ہے کہ وہ غیر حق سے قطع تعلق کرکے مشغول حق ہوجائے۔ سلف جب تک مرید میں کلی انقطاع نہ دیکھتے تھے اس کوبیعت نہ کرتے تھے۔ لیکن شیخ ابوسعید ابوالخیرؒ کے زمانہ سے شیخ سیف الدین باخرزیؒ کے عہد تک اور شیخ شہاب الدین سہروردیؒ کے زمانہ سے شیخ الشیوخ فرید الحق والدینؒ کے زمانہ تک ایک اور ہی طریقہ کی جلوہ گری نظر آتی ہے۔ ان مشایخ کے یہاں خلقت کاہجوم رہتا تھا او ریہ مشایخ بغیر کسی تحقیق اور تفتیش کے خاص وعام کو داخلِ سلسلہ کرتے تھے۔ آج بھی وہی صورت ہے اور میں بھی اس پر عمل کرتاہوں۔ اورزمانہ کے موافق بھی بات یہی ہے۔“

پھر اس طرح داخل سلسلہ ہونے والوں کی زندگیو ں میں حیرت انگیز تبدیلی کاذکرکرتے ہوئے فرمایا:”میں نے ثقہ اور استباز لوگوں سے سنا ہے کہ جو لوگ میری ارادت اوربیعت میں داخل ہوتے ہیں، وہ تمام گناہوں سے الگ ہوجاتے ہیں (۰۰۰) نماز جماعت سے ادا کرتے ہیں اور اوراد ونوافل میں مصروف رہتے ہیں (۰۰۰) اگر میں ارِادت کے قیود و شرائط بجالا نے پر مجبور کروں (۰۰۰) تو اس قدر خیر او ر بھلائیاں جو ان سے ظہور میں آتی ہیں وہ ان سے محروم رہیں۔“

حضرت محبوب الہٰیؒ کی اس جامع اور فکر انگیز تقریر نے تصوف کی تحریک کے ان گوشوں کو روشن کردیا جن پرنتظیم سلاسل کی بنیاد تھی، اور جن کے باعث مشایخ سلف کے انفرادی اصلاح وتربیت کے نصب العین نے ایک عوامی رنگ اختیار کیاتھا۔ حضرت محبوب الہٰیؒ نے اس موقع پر تصوف کی ہئیت اجتماعی کی کئی حقیقتوں کو واضح کردیا۔

(1) تصوف کی تحریک کوئی جامدتحریک نہیں۔(جاری)

------------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-2/d/138048

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..