New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 05:06 PM

Urdu Section ( 1 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔14)

25دسمبر،2025

بی بی فاطمہؒ کے وصال کا واقعہ بھی عجیب وغریب ہے۔حضرت شیخ نصیرالدین چراغ دہلویؒ نے ایک دن اپنی مجلس میں فرمایا:”ایک رات بی بی فاطمہؒ نے نمام مغرب پڑھ کر وہ نان او رپانی (جوکنیز رکھ گئی تھی) استعمال کرناچاہا تھا کہ یہ خیال گزرا کہ اے فاطمہ! اگر اس رات تو مر جاوے تو افسوس ہے کہ دنیا سے پیٹ بھری جاوے۔ یہ سوچ کر وہ روٹی پانی فقیر کود ے دیا اور عبادت میں مشغول ہوگئیں۔ غرض اسی طرح چالیس دن رات کچھ نہ کھایا نہ پیا۔ ہر شب یہی کہتیں کہ کیا معلوم آج کی شب زندگی کی آخری شب ہو، شاید یہی آخری سانس ہوں۔ او رچالیس رات برابر عبادت میں بیدار رہیں۔ اکتالیسویں دن ایک شخص باہیبت و عظمت کو گھر کے صحن میں کھڑے دیکھا۔ پوچھا تو کون ہے؟ وہ بولا: میں ملک الموت ہوں۔ پوچھا: کہاں آئے تو؟ کہا: تمہاری روح قبض کرنے کو۔بولیں: اتنی فرصت دیجئے کہ نیا وضو کرکے دورکعت تحتہ الوضؤ اور دو رکعت او راس کے بعد پڑ ھ لوں۔ملک الموت نے انتی فرصت دی۔ وہ اٹھیں اور وضو کرکے تحیۃ الوضوء اور دورکعتیں پڑھیں اور سجدہ میں سررکھا کہ اسی حال میں حضرت ملک الموت نے ان کی جان قبض کی۔“

شیخ نجیب الدین متوکلؒ ان کی رحلت کے وقت وہاں پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے ہی نماز جنازہ پڑھائی۔”برکنارِ حوض قصہ اندر پت“ آپ کو سپردخاک کیا گیا۔ سال وفات کسی معاصرتذکرہ میں درج نہیں۔حافظ غلام سرور نے 643ھ لکھا ہے او رتاریخ کے یہ اشعار دیئے ہیں۔

جناب فاطمہ خاتون  فردوس

چو از دنیا بجنت یافت آرام

بسالِ راتحالِ آں شہ دیں

خرد فرمود رہبر فاطمہ سام

643ھ

ایسا معلوم ہوتاہے کہ بی بی صاحبہؒ کا مزار کچھ عرصہ ویرانگی کی حالت میں رہا، لیکن عقیدت مندوں سے خالی نہ رہا۔ ایک زمانہ میں ایک دیوانہ ’راگھو‘ وہاں رہنے لگا تھا۔ حضرت گیسودرازؒ کا بیان ہے کہ وہ جسم پر سانپ لپٹے رکھتا تھا۔انہوں نے ایک بار اس کو وجہ پوچھی تو جواب دیا: ”میں کیا کروں، مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے“۔

ایک شہرت جو دہلی سے گلبرگہ تک پھیلی ہوئی تھی یہ تھی کہ قطب صاحبؒ او ربی بی فاطمہ سامؒ کے مزارات ایسے ہیں جوکبھی بغیر ابدال کے رہتے۔خود حضرت محبوب الہٰیؒ نے ایک دن اپنا واقعہ بیان کیا جو شیخ نصیرالدین چراغ دہلویؒ نے اپنی مجلس میں اس طرح دہرایا:

”ایک بار مولانا حسام الدین اندر پتیؒ حضرت شیخؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے فرمایا:مولانا! آج میں نے ایک ابدال کو دیکھا۔عرض کیا: کہاں پر؟ جناب شیخؒ نے فرمایا: میں زیارت مزارِ حضرت بی بی فاطمہ سامؒ کو گیا تھا۔وہاں ایک تالاب ہے۔ اس پرایک شخص کو دیکھا کہ ٹوکر ا ککڑیوں کا سر سے اتار کر کنارے پررکھا او رایسا خوب وضو کیا کہ میں دیکھ کر متعجب ہوا۔ بعد وضو دورکعت نماز با راحتِ تمام پڑھی۔مجھ کو اس کے طرز نماز سے اور زیادہ تعجب ہوا۔ پھرخالی ٹوکرا تین بار دھویا۔ پھر ایک ایک ککڑی دھوکہ درود تعجب ہوا۔ پھر خالی ٹوکرا تین بار دھویا۔ پھر ایک ایک ککڑی دھوکر درود پڑھ کر اس میں رکھتا رہا۔ اسی طرح سب دھوکر ٹوکرے کو تین بار تالاب میں غوطہ دیا اور کنارہ پر رکھا تا کہ پانی ٹپک جائے۔ میں متعجب ہوکر اٹھا اور ایک تنکہ سفید اپنے دستارچہ سے نکال کر پیش کیا۔ اورکہا: اے خواجہ! اسے قبول کرو۔ اس نے کہا: مجھے اس کے قبول کرنے سے معذور سمجھو۔ میں نے کہا: چند جیتل کے لیے تم اتنی زحمت اٹھارہے ہواور ایک تنکہ نقرہ جو اللہ تعالیٰ بطور فتوح تمہیں بھیج رہا ہے قبول نہیں کرتے؟ پھریہی کہا: معذور رکھو۔ میں نے کہا: اپناحال تو بتاؤ،کیوں اسے قبول نہیں کرتے؟ کہا: بیٹھ جاؤ تو بتاؤں۔ حضرت شیخ اور وہ شخص دونوں بیٹھ گئے۔ اس نے اپنا حال بتانا شروع کیا: میرا باپ بھی یہی کا م کرتا تھا۔میری خوردسالی میں اس کا انتقال ہوگیا۔ ماں نے اس قدر احکامِ عبادت الہٰی سکھادیئے کہ پانچ وقت نماز پڑھنا سیکھ گیا ہوں۔ پھر والدہ نے انتقال کے وقت مجھے نزدیک بلایا او رکہا کہ چھپّر میں ایک کپڑا گرہ لگاہوا رکھا ہے اسے لے آ۔ میں نے وہ کپڑا ماں کے سامنے رکھ دیا۔ انہوں نے کھول کر کچھ جدا کیا او رکہا اتنے میں کفن لانا اور اتنا غسّال کو دینا اور اتنا گورکن کو۔ پھر بیس درم کچھ کم کو دیئے او رکہا: یہ خرچ تیری تمام عمر کا ہے۔ تیرا باپ باغوں میں جاکر ککڑی او ر ترکاری بیچ کر لاتا تھا۔ اس سے گزر ہوتی تھی۔ یہ تیرا سرمایہ ہے۔ ککڑی اور ترکاری توبھی لاکر بیچا کر اور سوائے اس کے کسی دوسرے طریقہ سے روزی نہ کمانا۔ جب اس شخص نے یہ قصہ پورا کیا تو حضرت شیخ (محبوب الہٰی) کو احساس ہواکہ یہ شخص ابدال ہے، اور ابدال کسی سے کوئی چیز قبول نہیں کرتے۔ مزدوری یا کسب کرتے ہیں۔“

بی بی صاحبہؒ کے مزار کے قرب وجوار میں لال چوک کادروازہ، خیرالمنازل کی مسجد، حضرت نورالدین ملک یار پرّاں ؒ کی درگاہ، مرزا ان آثار سے تاریخ کی کتنی یاد یں وابستہ ہیں۔دلّی نے کتنے ہی پیکر بدلے، اور کس کس انقلاب سے گزری، لیکن بی بی صاحبہؒ کامزار ان انقلابات کے باوجود انسانیت کی اعلیٰ قدروں کا ترجمان بن کر اپنی جگہ قائم رہا۔

ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق

ثبت است بر جریدہئ عالم دوامِ ما

حضرت محبوب الہٰیؒ کا نظام اصلاح وتربیت

حضرت محبو ب الہٰیؒ کا خیال تھاکہ اصلاح وتربیت کے کام کیلئے عقل، علم اور عشق۔۔تین صلاحیتوں کا جمع ہونااز بس ضروری ہے۔ ان کے بغیر کوئی انسان اس وادی میں قدم نہیں رکھ سکتا۔تیرہویں صدی میں تین عظیم الشان شخصیتوں نے تعلیم وتربیت،اصلاح وتلقین،تنظیم وتدبیر کے مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے ان صلاحیتوں کا مؤثر تجزیہ کیا اور اس کے ایک ایک پہلو کو روشن کردیا۔حضرت شیخ سہاب الدین سہروردیؒ (م 1234ء) کے ’عوارف المعارف‘ لکھ کر بتایا کہ فہم وتدبیر کی روشنی میں خانقہی نظام کس طرح او رکن بنیادوں پر استوار کیا جاسکتا ہے۔امام اکبر شیخ محی الدین ابن عربیؒ (م 1248ء) کے ’فصوص الحکم‘ اور ’فتوحات مکیہ‘ میں مذہبی علم اور دینی بصیرت کو ایک وسیع ذہنی سانچے میں ڈھال کر عالمی مذہبی فکر سے ربط اور تعلق کی راہیں ہموار کیں۔مولانا جلا الدین رومیؒ (م 1273ء) نے اپنی منثوی میں فطرت انسانی کی ایک ایک ادا سے سرگوشیاں کیں اور عشق کی دنیا کو سنوارنے اور انسانی جذبات کو اعلیٰ اخلاقی اور روحانی اقدار کی چاکری میں لگادینے کا سامان مہیا کردیا۔ ان تین عظیم المرتبت شخصیتوں نے تائید الہٰی کی بشارتیں پاکراپنی زندگیاں بغداد، دمشق اور قونیہ میں ان افکار کی نشر واشاعت میں صرف کردیں۔(جاری)

----------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-14/d/138259

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..