New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 05:09 PM

Urdu Section ( 31 Dec 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔13)

24دسمبر،2025

”تپش ازیں دراں دیہ عورتے بود اور ابی بی فاطمہ سام گفتندے،درغایت صلاح وبزرگی معمر شدہ بود، اور ادیدہ بودم،بس عزیز عورتے بودہ است۔بیت ہائے بسیار درِ حسب حال ہر چیز ے گفتی۔“

اس سے پہلے فلاں گاؤں میں ایک خاتون رہتی تھیں، ان کو بی بی فاطمہ سام کہتے تھے،نہایت صالح تھیں، ان کی بڑی عمر ہوئی تھی، میں نے انہیں دیکھا تھا، بڑی خوب شخصیت پائی تھی۔موقع کی مناسبت سے بہت سے شعر کہتی تھیں“۔

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت محبوب الہٰیؒ خود بھی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے،اورعلاوہ ان کی بزرگی کے ان کے ادبی ذوق سے بھی متاثر تھے۔ ان کوبی بی صاحبہؒ کاپڑھا ہوا صرف شعر یاد رہ گیا تھا۔

ہم عشق طلب کنی وہم  جاں خواہی

ہر دو طلبی، ولے میسر نشود

راہِ طریقت میں گامزن انسانوں کے لیے اس سے زیادہ مؤثر ہدایت نہیں ہوسکتی۔اس ایک شعر میں غیرت عشق کی ساری نزاکتیں بیان کردی گئی ہیں۔

حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی طرح بی بی صاحبہؒ کی نظر میں طاعت کی بہترین قسم خدمت خلق تھی۔اس کو وہ اپنے نظام فکر میں بنیادی حیثیت دیاکرتی تھیں۔مولانا غلام معین الدین عبداللہ نے ان کا ایک قول نقل کیا ہے کہ فرمایا کرتی تھیں:

”از برائے نان وکوزہئ آب کہ بکسے وہند نعمت ہائے دینی ودنیوی نثار او کنند کہ بصد ہزار روزہ ونماز نتواں یافت۔“

اس روٹی اور پانی کے پیالے پر (جو بھوکے پیاسے کود یا جائے) دین اوردنیا کی ساری نعمتیں اس پر قربان ہیں۔ (و ہ ثواب تو) لاکھوں روزوں او رنماز سے بھی حاصل نہیں ہوسکتا۔

یہ جملہ نچوڑہے تصوف کے اعلیٰ ترین مقاصد کا۔ ایسے مقاصد کاجنہوں نے تصوف کی تحریک کو انسانیت کی خدمت کی ایک عظیم الشان تحریک بنادیاتھا۔ انہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کردیا کہ خدمت خلق کے لیے دولت نہیں دل دردِ مند کی ضرو رت ہے۔ایسا دل جو کسی انسان کو تکلیف میں نہ دیکھ سکے۔

چیست انسانی؟ تپیدان از تپِ ہمسائگاں

از سموم نجد در باغ عدن پژمان شدن

بابا فریدؒ کے چھوٹے بھائی شیخ نجیب الدین متوکلؒ اکثر ان کی خدمت میں اکتساب فیض کی نیت سے حاضر ہوتے تھے۔شیخؒ کی زندگی بہت عسرت او رتنگی کی زندگی تھی۔ اکثر شب کو انہیں اور ان کے گھرو الوں کوبھوکا سونا پڑتا تھا۔ جب فاقہ پر رات گزرجاتی، تو دوسرے دن بی بی صاحبہ کچھ روٹیاں ان کے پاس بھیج دیتیں او رساتھ میں یہ بھی کہلادیتیں کہ یہ ’ازوجہ حلال است‘ (حلال کی کمائی سے ہے)۔

ایک بار فاقہ کی شدید حالت میں بی بی صاحبہؒ کی یہ روٹیاں شیخ نجیب الدین ؒ کو ملیں،تو بے اختیار ان کی زبان سے نکلا:

”اے پروردکار! جس طرح تو نے اس عورت کو ہمارے حال سے واقف کیا ہے، شہر کے بادشاہ کوبھی واقف کرتاکہ کوئی بابرکت چیز بھیجے۔“

اور پھر تبسم فرمایا او رکہا:

”باداشاہاں را آ ں صفا کجا باشد کہ آگاہ شوند“۔

بادشاہوں کو وہ صفائی (باطن) کہاں نصیب ہے کہ واقف ہوسکیں۔

دلداری کا جذبہ بی بی صاحبہؒ میں کوٹ کوٹ کر بھرا گیا تھا۔ اس زمانہ کے ایک بزرگ شیخ جماالدین ؒ نے ایک شخص کی دعوت شروع میں قبول نہ کی، لیکن جب بہت منّت سماجت کی تو قبول کرلی۔ بی بی صاحبہؒ کو معلوم ہوا تو فرمایا:

”شیخ جمالدین! جب تم جانتے تھے کہ اس کے گھر تمہیں جاناہی پڑے گا تو پھر پہلی باراس کے بلانے پرکیوں نہیں گئے؟“

اتفاق سے راستہ میں شیخ جمالدینؒ کے پیر میں موچ آگئی تھی۔ بی بی صاحبہؒ نے فرمایا:”یہ اسی کی سزا ہے“۔ یعنی کسی شخص کی دلداری میں تامل کرنااچھا نہیں۔

حضرت شیخ قطب الدین بختیار کاکیؒ سے بی بی صاحبہؒ کو بڑی عقیدت تھی۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کے کتے ہوئے سوت کاکپڑا بنوایا اور اس کا غلاف تیار کرکے قطب صاحبؒ کے مزار پرچڑھا یا تھا۔خواجہ حسن نظامیؒ نے دہلی کے زیارت نامہ میں لکھا ہے:

”جو (بی بی صاحبہؒ کا بنا ہواغلافِ مزار) سات سو برس سے آج تک درگاہ مذکور میں موجود ہے۔ایک دفعہ درگاہِ حضرت خواجہ قطب صاحبؒ کے زرّیں غلافوں کو چور چرا کر لے گئے تھے اور اسی میں یہ غلاف بھی چوری ہوگیا تھا۔جب چوروں نے غلافوں کی چاندی نکالنے کے لیے ان کو جلایا تو یہ غلاف بھی ان کے اندر تھا۔ سب غلاف جل گئے لیکن یہ غلاف نہیں جلا۔ اس واسطے چور اس اس غلاف کو پھر درگاہ میں ڈال گئے۔ یہ غلاف اب تک موجود ہے اور اس کے ایک حصہ پرآگ کانشان بھی ہے۔“

حضرت شیخ نظام الدین اولیاؒ کو بی بی صاحبہؒ سے روحانی تعلق تھا۔ ایک دن بی بی صاحبہؒ نے فرمایا: ”ایک شخص کے لڑکی ہے،اگر اس سے شادی کرلو تو اچھا ہو۔“ حضرت محبوب الہٰیؒ نے جواب دیا:

”ایک دفعہ میں شیخ الاسلام فریدالدینؒ کی خدمت میں حاضر تھا۔ وہاں ایک جوگی موجود تھا۔بات اس بارے میں شروع ہوئی کہ بعض بچے بے ذوق پیدا ہوتے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو مباشرت کرنے کا وقت معلو نہیں۔ بعد ازاں جوگی نے بتایا ہر دن کی الگ الگ خاصیت ہے۔ مثلاً اگر فلاں دن مباشرت کی جائے تو فرزند ایساپیدا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ میں نے دنوں کے اثر کو جوگی سے سن کر اچھی طرح یاد کرلیا۔شیخ الاسلام شیخ فریدالدین قد س اللہ سرہ العزیز میری مخاطب ہوئے اور فرمایا: جو کچھ تم یاد کررہے ہو یہ تمہارے کسی کام نہیں آئے گا۔“

بی بی فاطمہؒ نے یہ سنا تو فرمایا: ”اب مجھے صورتِ حال کا علم ہوگیا۔ اچھا کیا کہ تم نے اس لڑکی سے عقد کا اقرار نہ کیا۔ میں نے اس شخص کا دل رکھنے کے لیے تم سے کہا تھا۔“

بی بی صاحبہؒ کے وصال کے بعد حضرت محبوب الہٰی ؒ کا یہ معمول تھا کہ جب کوئی مسئلہ پیش آتا توان کے مزار پر حاضر ہوکر اللہ سے لولگا تے۔ حضرت محبوب الہٰیؒ او ران کے سلسلہ کے مشایخ کے ذریعہ بی بی صاحبہؒ کا نام دوردور پہنچ گیا تھا۔گلبرگہ میں حضرت سید محمد گیسودرازؒ کی مجلس میں ان کا ذکر رہتا تھا۔ ایک بار انہوں نے ایک شخص کاخواب بیان کیا کہ بی بی فاطمہؒ کو بارگاہ رب العزت میں براہِ راست رسائی ہوئی تھی۔ (جاری)

------------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-13/d/138242

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..