New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 06:20 PM

Urdu Section ( 30 Dec 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔12)

23دسمبر،2025

بی بی صاحبہؒ کی زندگی کے واقعات ’فوائد الفؤاد‘،’خیر المجالس‘، ’سیرالاولیاء‘،’جو مع الکلم‘ میں ملتے ہیں۔ان ہی کی بنیاد پربعد کے تذکرہ نویسوں مثلاً مولانا جمالیؒ، شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ، غلام معین الدین عبداللہ وغیرہ نے ان کا مختصر حال اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔مشہور مؤرخ ضیاء الدین برنی نے ان کو دورِ بلبنی کی مشہور ترین روحانی شخصیتوں میں شمار کیا ہے اور ان کا ذکر بابا فرید گنج شکرؒ، شیخ صدرالدین عارفؒ، شیخ بدالدین غزنویؒ، ملک یار پَراں ؒ اور سیدی مولاؒ کے ساتھ کیاہے۔حضرت سید محمد گیسودرازؒ ان کے متعلق فرمایا کرتے تھے:”درایام حیات خویش براعتبار ے تمام بودوخلق توجہے درست داشت ومشایخ آں وقت گرد بی بی می آمدند می نشستندچنانکہ بی بی رابعہ بصری بود“

اپنے ز مانہ حیات میں بہت معتبر سمجھی جاتی تھیں او رلوگ آپ سے صحیح عقیدت رکھتے تھے او راس زمانہ کے مشایخ بی بی کے ہاں آتے اور آپ کی خدمت میں اس طرح بیٹھتے تھے جیسا کہ رابعہ بصریؒ کے یہاں (دستو ر تھا)۔شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے ان کو ”عابداتِ زمانہ“ میں شمار کیا ہے۔مولانا جمالیؒ کا بیان ہے کہ اس عہد کے درویش ان میں کامل اعتقاد رکھتے تھے۔

حالات اور قرائن سے کچھ ایسا خیال ہوتا ہے کہ بی بی صاحبہؒ پنجاب کے کسی علاقہ (غالباً نواح ملتان یا اجودہن) سے دہلی تشریف لائی تھیں۔ شیخ محدثؒ کا بیان ہے: ”انہوں نے شیخ فریدالدینؒ اور شیخ نجیب الدین متوکلؒ کو دینی بھائی او رانہوں نے دینی بہن بنالیا تھا۔“

با با صاحبؒ دہلی کئی بار آئے، لیکن یہ نسبت یہاں کے مختصر قیام میں پیدا ہوناقرین قیاس نہیں۔ وہ غالباً اجو دہن یا اس کے قرب وجوار میں رہتی ہوں گی، جس کی بنا پربابا صاحبؒ اور ان کے بھائی سے اس طرح کی نسبت پیدا ہوئی۔

’سام‘ کاکیامفہوم ہے؟ بعض لوگوں کا خیال تھاکہ چونکہ آپ اکثر روز ہ رکھتی تھیں اس لیے ’بی بی صائمہ‘ کہلاتی تھیں، جو عوام الناس نے’بی بی سام‘ کردیا۔

بعض مصنفین کا خیال ہے کہ آپ کو لوگ بی بی شام کہتے تھے۔لیکن یہ دونوں وجوہات جیسا کہ شیخ محدثؒ نے لکھا ہے صحیح نہیں معلوم ہوتیں۔

سام کے کئی معنی ہیں:

(1) حضرت نوع علیہ السلام کے بڑے اور چہیتے بیٹے کانام سام تھا۔

(2) غور میں شہاب الدین محمد غوری کے باپ کا نام بہاء الدین سام تھا، جس کا حال قاضی منہاج السراج نے دیا ہے۔ فتوح السلاطین میں غیاث الدین محمد بن سام کی وفات کے سلسلے میں لکھا ہے:

غیاث الدین آں شاہِ عالم نماند

بہ عالم بجز جائے ماتم نماند

نہی ماند بے ذات اور تختِ غور

کنوں سامیاں را بود زد نہ زور

زگیتی سفر کرد آں پور سام

کہ بودست درد و دہاں نور سام

(3) زال زر کے باپ کانام تھا۔فردوسی لکھتا ہے۔

چودستانِ سام اندر آمد بہ تنگ

پیادہ شدندش ہمہ بے درنگ

(4) آتش کے معنی میں استعمال ہوتاہے۔ علاوہ ازیں اس جانور کے لیے بھی جو آگ میں رہتا ہے۔ مولانا روم کہتے ہیں۔

گفتم بنگر درمن گفتا کہ نمی ترسی

از آتش رخسارم وانگہ نہ تو سام اندر

(5) ماوراء النہر میں ایک پہاڑ کانام ہے۔

اگر یہ نسبت وطنی ہے تو ممکن ہے کہ بی بی صاحبہؒ یا ان کے اجداد جبالِ سام کے رہنے والے ہوں۔ اگر ان کی روحانی خصو صیات کی طرف اشارہ ہے تو ممکن ہے کہ روحانی کیفیات کے پیش نظر ان کو ’آگ‘ سے تعبیر کیاجاتاہو۔ ایک امکان او ربھی ہے۔ ان کے شعر کہنے کا ذکر ملتاہے۔ممکن ہے کہ یہ تخلص ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ سام ان کے باپ کانام ہو۔ بہر حال یہ سب امکانات ہیں۔ کوئی قطعی بات کہنا دشوار ہے۔

بی بی صاحبہؒ کی زندگی کا ایک واقعہ بڑا دردناک ہے، لیکن اس سے ان کی شخصیت کا رنگ پوری طرح نمایاں ہوجاتاہے۔ بچپن میں ا ن کارشتہ ایک شخص سے طے ہوگیا تھا۔ وہ ایک جنگ میں شہید ہوگیا۔ جب دوسرے پیام کی بات چیت شروع ہوئی تو بی بی صاحبہؒ نے یہ کہہ کر اس سلسلہ کو ختم کردیا:”اگر نصیب من بود ے ہماں اول بودے بعد ایں من اگر میرے نصیب میں (شوہر) ہوتا تو پہلے ہی سے رشتہ ہوجاتا۔ اب وہ دوسرے سے نہ کروں گی۔

چنانچہ بی بی صاحبہؒ نے اپنی پوری عمر(جوکافی طویل تھی) عبادت و ریاضت الہٰی میں گزاردی۔

تذکروں سے ایسا اندازہ ہوتاہے کہ حضرت بی بی صاحبہؒ کو صوفی حلقوں میں ایک مثالی حیثیت حاصل تھی۔ حضرت شیخ نظام الدین اولیاؒ جب عورتوں کی بزرگی کا ذکرکرتے تو ان کو مثال کے طور پر پیش کرتے۔ ایک مرتبہ فرمایا: اندر پت میں ایک خاتون تھیں جن کو فاطمہ سام کہتے تھے۔ ان میں انتہائی عفت اور صلاحیت تھی۔ چنانچہ شیخ الاسلام فریدالدین قدس اللہ سرہ العزیز کی زبان مبارک پر بارہا آیا کہ وہ عورت مرد(کی مانند) ہے۔ اس کو عورتوں کی شکل میں بھیجا گیاہے“۔

اس واقعہ کے بیان کے فوراً بعد حضرت محبوب الہٰیؒ نے فرمایا کہ نیک مرد اور نیک عورتوں کی حرمت سے دعا کی جاتی ہے، جس میں پہلے نیک عورتوں کا نام لیا جاتا ہے۔تسلسل گفتگو کا خیال رکھا جائے تو صاف واضح ہوجائے گا کہ حضرت محبوب الہٰیؒ بی بی صاحبہؒ کو ایسی نیک عورتوں میں شمار کرتے تھے جن کی حرمت دعا کو درِ اجابت تک پہنچا دیتی ہے۔

اس کے بعد حضرت محبوب الہٰی نے بابا صاحب کے جملہ کے تعلق سے فرمایا:”چو ں شیر از بیشہ بیروں آید کسے نیز سد کہ ایں شیر

جب شیر جنگل سے نکلتا ہے تو کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ نرہے یا مادہ۔

یعنی طاعت وتقویٰ اصل چیز ہے۔عورت یا مرد اس میں اہم بات نہیں۔یہ ذکر حضرت محبوب الہٰیؒ نے 27 جمادی الآخر(708 ھ کو جمعرات کے دن فرمایا تھا۔ممکن ہے اس سے پہلے او راس کے بعد بی بی صاحبہ کاذکر آیا ہو۔ بہر حال تیرہ چودہ برس بعد 11/ ذی الحج 720ھ کو انہوں نے بی بی صاحبہ کا ذکر اس وقت کیا جب کشف و کرامت پر گفتگو ہورہی تھی۔فرمایا:(جاری)

-----------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-12/d/138228

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..