خلیق احمد نظامی
(حصہ۔10)
21دسمبر،2025
بابا صاحبؒ نے شیخ نظام الدین اولیاؒکے افکار واحساسات کی تربیت اسی اصول پر کی تھی اوران کو دعا دی تھی کہ اللہ تعالیٰ تجھے ایسا سایہ داردرخت بنائے جس کے سایہ میں خستہ جان انسانوں کو آسائش اور راحت ملے۔ یہ دعا حقیقت میں اس مقصد کی تکمیل کی دعا تھی جس پر بابا صاحبؒ نے اپنی زندگی کی ساری کوششیں مرکوز کردی تھیں۔

انسان دوستی کا ایک نقاضا یہ تھا کہ انسانی سماج کو اَلَخَلقَ عَیَال اللہ سمجھتے ہوئے اتحاد، ایک دلی او رمحبت کرنے کی کوشش کی جائے ا ور مختلف طبائع او رمتضاد فطرتوں کوایک رشتہ الفت میں پرویا جائے۔ بابا صاحبؒ کو کسی نے قینچی پیش کی تو فرمایا،”مجھے قینچی نہیں، سوئی دو، میں کاٹتانہیں، سیتا ہوں“۔ یہ جملہ ان کی زندگی کے ان مقاصد کا ترجمان ہے جن کے سایہ میں انہوں نے انسانی قلوب کو رنج، تفرقہ، نفاق، دشمنی سے پاک کرکے اعلیٰ روحانی اوراخلاقی اقدار کی چاکری میں لگانا چاہا تھا۔’سیرالاولیاء‘ میں ہے کہ بابا صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ جب تک انسان اپنے دل کو کینہ اور غصہ سے خالی نہیں کرتا۔ وہ معرفت الہٰی کی رہ گامزن نہیں ہوسکتا۔انسان کو چاہیے کہ نفرت کاجواب محبت سے دے اور برائی کے بدلے میں بھلائی کو اپنا شیوہ بنائے کہ اسی میں انسانی سماج کی فوز وکامرانی کارازمضمر ہے۔ گروگرنتھ صاحب میں بابا صاحبؒ کی یہ تعلیم اس طرح نشرکی گئی ہے۔
فریدا برے دا بھلا کر غصہ من نہ ہنڈائے
دیہی روگ نہ لگ ای
پلے، سب کچھ پائے
یعنی اے فرید، برائی کابدلہ بھلائی سے دواور اپنے دل میں کسی کی طرف سے غصہ کو جگہ نہ دو اس طرح تمہارا جسم سب روگوں سے بچا رہے گا اورتم کو اپنامقصود حاصل ہوجائے گا۔
بابا صاحبؒ کی تعلیم کے جو خطوط ’فوائد الفواد‘، ’سیرالاولیاء‘ ’احسن الاقوال‘ میں ملتے ہیں، اگر ان کو سامنے رکھ کر گروگونتھ صاحب کے اس اقوال سے مقالہ کیا جائے جو بابا صاحبؒ سے نقل کیے گئے ہیں اور جن میں انسان کی اصلاح وتربیت، زہد وعبادت اور جسم جان کے تعلق کی تاثیر کس طرح حساس دلوں کی دھڑکنوں میں منتقل ہوگئی تھی۔
بابا صاحبؒ کا جماعت خانہ ان اخلاقی اورروحانی قدروں کی بہترین عکاسی کرتاہے جن کی انہو ں نے مدت العمر پاسبانی کی تھی۔ اخوت، مساوات، یکجہتی او راجتماعی کوششوں کو انہوں نے ایک نیا رخ دے دیا تھا۔ اس مٹی کے بنے ہوئے وسیع ہال میں بڑے بڑے عالم حافظ اور عابد فرش زمین پراپنی زندگی یاد خدا میں بسرکرتے تھے۔ کچھ لوگ جنگلوں سے کریل او رڈیلا توڑلاتے،کچھ کنووں سے پانی بھر لاتے، کچھ جنگل سے لکڑیا ں چن کر جمع کردیتے۔ بے نمک کی یہ خوراک جب پوری طرح میسر آجاتی تو بقول شیخ نظام الدین اولیاؒ، یہ سب کے لیے عید کا دن ہوتا۔ محبت الہٰی سے سرشار یہ انسان عسرت اور تنگی میں اپنی زندگی گزارتے تھے، لیکن غربت میں اس طرح خوش رہتے گویا دنیا جہاں کی سعادتیں او رنعمتیں ان کو حاصل ہیں۔’الفقر فخری‘ کا جو سماں اس جماعت خانہ میں دیکھا گیا وہ اپنی مثال آپ تھا۔ یہاں بسنے والے لوگ بھی عجیب تھے۔کرمان کا ایک متمول تاجر خاندان جب مادی زندگی کی آسائشوں سے گھبراتا ہے، تو اس جماعت خانہ کے کچے درودیوار اس کے دامن دل کر پکڑ لیتے ہیں۔ لکھنوتی میں جب حمید طغرل کی ملازمت میں اپنی خودی کو مجروح ہوتے محسوس کرتا ہے تو اسی جماعت خانہ کا رخ کرتا ہے۔مولانا بدرالدین اسحاقؒ جب دہلی کی علمی دنیا کی خودنگری سے گھبراجاتے ہیں تو ان کو اسی جماعت خانہ میں خود شکنی کا سامان نظرآتا ہے۔ یہاں چھوٹے بڑے کاکوئی امتیاز نہ تھا۔ عورتوں کو بھی یہاں عزت اور احترام سے رکھا جاتا تھا او ران کی روحانی صلاحیتوں کے بابا صاحبؒ بڑے مداح او رزبردست قدرواں تھے۔ بی بی رانی ایک مالدار باپ کی بیٹی تھیں۔ لیکن اپنے شوہر کے ساتھ یہاں رہتی تھیں اور جماعت خانہ کے رہنے والوں کے کپڑے دھوکر اسی طرح خوش ہوتی تھیں جیسے کوئی بہن اپنے بھائی کاکام کرکے خوش ہوتی ہے۔ بابا صاحبؒ کا جماعت خانہ آدھی رات گئے تک کھلا رہتا تھااو رخلقت کی آمد ورفت جاری رہتی تھی۔
یہ جماعت خانہ اخلاقی زندگی کی ایک کارگہ تھا جہاں افکار کی اصلاح اور شخصیت کی تعمیر ہوتی تھی۔ چشتیہ سلسلہ کا یہ پہلا عظیم الشان مرکزتھا جہاں روحانی اوراخلاقی تربیت کاکام نہایت اعلیٰ پیمانے پر انجام دیا گیا۔ اور صوفیہ کی ایک ایسی جماعت تیار ہوگئی جس کی نوا سنجیوں نے پورے ملک میں خدا پرستی اورانسان دوستی کی لہر دوڑ ادی۔
با با صاحبؒ سے تاریخ تصوف کے اس دور کی ابتداہوتی ہے جب بقول شیخ نظام الدین اولیاؒ تصوف کی تحریک کو عوامی تحریک بنا دیا گیا تھا۔ ’حسرت نامہ‘ میں برنی نے لکھا ہے کہ ایک دن بے شمار آدمیوں کو مرید کرتے ہوئے دیکھ کر ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہواکہ مشایخ متقدمین تو اس طرح ہرکس وناکس کو سلسلہ میں داخل نہیں کرتے تھے۔حضرت محبوب الہٰیؒ کو خطرہ سے آگاہی ہوئی، تو فرمایا کہ بابا صاحبؒ کے زمانہ سے بیعت وارادت کے دروازے کھول دیے گئے ہیں او رہر شخص کو جو چاہتا ہے داخل سلسلہ کرلیا جاتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ بابا صاحبؒ نے پنجابی زبان میں ذکر بتانا شروع کردیا تھا اور پنجاب کے گوشہ گوشہ میں ان کی تعلیم او رنظریات پھیل گئے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ بابا صاحبؒ نے چشتیہ سلسلہ کو فکر بھی دی اورنظام بھی۔ انہوں نے اپنے خلفاء کے لیے قرآن پاک،’تمہید ات‘ اور ’کتاب التمہید‘ او ر’عوارف لمعارف‘ کو مرکزی اہمیت دی۔ ان کتابوں سے کس طرح وہ تعمیر شخصیت کا کام لیتے تھے او رعلم، عقل اور عشق کی کس طرح تربیت کرتے تھے اس کا تجزیہ افادہ سے خالی نہ ہوگا۔ ان کی دعائیں، ان کی سیرت او رمقاصد زندگی کی بہترین آئینہ دار ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ سے وقت خوش، آپ دیدہ اور راحت دل کی دعا مانگتے تھے۔باطن کو ظاہر سے بہتر رکھنے کی تلقین کرتے تھے۔ خود اپنی زندگی کے مصائب پرکوہ تحمل اور دوسروں کی پریشانی پر تصویر غم بن جاتے تھے۔انہوں نے انسان کو انسانیت کااحترام سکھایا۔(جاری)
----------------
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ
URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-10/d/138199
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism