New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 06:19 PM

Urdu Section ( 17 Dec 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمدنظامی

 (حصہ۔1)

12دسمبر،2025

تصوف

معرفت حق کی جستجو ایک گدڑیئے کے دل کو بھی اس طرح بے چین کرسکتی ہے، جس طرح ایک عارف کے دل کو۔اسی انسانی جستجو کا نام تصو ف ہے۔لیکن شاید کسی مذہب میں اس نوع کی جدوجہد نے وہ اہمیت او ر ہمہ گیر ی اختیار نہیں کی جو اسلام میں تصوف کی تحریک کو حاصل ہوئی۔بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ تاریخ اسلام میں ان عوامل او رمحرکات کا تجزیہ جن کے ذریعہ اسلامی فکر مختلف ذہنی اور سماجی فضا میں آگے بڑھی، اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک صوفیہ کی زندگیوں اورا ن کے طریقہ کار کاجائزہ پوری وقت نظر کے ساتھ نہ لیا جائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ بایں ہمہ مسلمانوں کے فکر وعمل کا شاید ہی کوئی ایسا گوشہ ہو جس پر تصوف سے زیادہ تنقید وتبصرہ کیاگیا ہو۔مآخذ سے لے کر مقاصد اور اثرات تک اس کے ہر ہر پہلو پرانتہائی شدومد کے ساتھ نکتہ چینی کئی گئی ہے۔ناقدین نے صرف اس کے سرچشموں ہی کو غیر اسلامی بتانے پراکتفانہیں کیا، بلکہ ملتِ اسلامیہ کے اکثر امراض کاباعث ہی اس کو قرار دیاہے۔ کش مکش حیات سے گریز، اہبانہ زندگی، اتباع شریعت سے انحراف، غیراسلامی فکر وکردار، غرض طرح طرح کے الزام تصوف اور صوفیہ پرعائد کیے گئے ہیں۔ بعض ناقدین نے تو اپنے لہجہ میں اس قدر سختی پیدا کرلی ہے کہ صدق وانصاف کا دامن ان کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ہے، او رانہوں نے تاریخی حقائق سے چشم پوشی کرکے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ تصوف اسلام کے رُخ روشن پر ایک بدنماداغ ہے۔اگر یہ الزامات صرف ”صوفیائے خادم“ اور ”مسخ شدہ تصوف“ پر ہیں تو ان کی صداقت میں کلام نہیں، لیکن اگر بلا استثنا تصوف اور صوفیائے کرام پرہیں تو غلط ہیں تو غلط ہی نہیں، بلکہ گمراہ کن بھی ہیں۔ حقیقی تصوف مذہب کی روح، اخلاق کی جان اور ایمان کا کمال ہے۔ اس کی اساس شریعت ہے اور اس کا شرچشمہ قرآن وحدیث۔ یہ شریعت کی نفی نہیں، بلکہ اس کی توضیح ہے۔ صرف اقرار باللسان نہیں،بلکہ اقرار بالقلب بھی ہے۔

پھر کچھ لوگ اس غلط فہمی میں بھی مبتلا ہیں کہ تصوف جہلا ء کا مسلک ہے، اور صوفیہ دین سے نابلد تھے۔مشایخ کے حالات کا سرسری مطالعہ بھی اس الزام کی نوعیت دریافت کرنے کے لئے کافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس چیز پر ان بزرگوں نے سب سے زیادہ زور دیا وہ علم ہی تھا۔ حضرت بابا فرید گنج شکرؒ فرمایا کرتے تھے کہ جاہل پرشیطان مسلط ہوجاتاہے۔ اس کی نگاہ حقیقت اور سراب میں امتیاز کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ وہ دل کی بیماریوں کی صحیح تشخیص او رمناسب علاج نہیں کرسکتا۔حضرت نظام الدین اولیاؒ فرماتے ہیں:

”پیر آنچناں باید کہ دراحکام شریعت وطریقت وحقیقت، عالم باشد، وچوں چنیں باشد، اوخود ہیچ نامشروع نہ فرماید“۔

”پیر ایسا ہوناچاہئے کہ احکام شریعت، طریقت اور حقیقت کاعلم رکھتا ہو، اگر ایسا ہوگا تو خود کسی نامشروع چیز کے لیے نہیں کہے گا“

حضرت محبو ب الہٰی ؒ کا یہ اصول تھا کہ وہ کسی ایسے شخص کو جو عالم نہ ہو خلافت عطا نہیں فرماتے تھے۔شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے قرآن اور حدیث کے علم کو ایک پیرومرشد کے لیے لازمی قرار دیا ہے۔حضرت یحییٰ بن معاذ رازمی کاقول ہے:

”تین قسم کے آدمیوں کی صحبت سے بچنا چاہئے: ایک غافل عالم سے، دوسرے مکار فقیر سے، اور تیسرے جاہل صوفی سے۔“

علامہ ابن جوزیؒ تصوف کے حامیوں میں نہیں تھے، لیکن ان کو بھی یہ اعتراض کرناپڑا کہ:

”قدمائے صوفیہ قرآن، فقہ، حدیث اور تفسیر کے امام تھے۔“

پھر صوفیائے کرام پرایک عام الزام رہبانیت کا ہے۔ لیکن الزام لگانے والوں نے کبھی یہ غورنہیں کیا کہ جس چیز کو صوفیہ نے ترک کیا وہ دنیا نہ تھی، وہ دنیا کا بے اعتداانہ استعمال تھا۔ وہ کہتے تھے کہ انسان اللہ کی دی ہوئی سب نعمتوں سے فائدہ اٹھا ئے، اس کائنات کی ایک ایک چیز سے مستفید ہو، لیکن اس طرح کہ دنیا کی محبت اس کے دل کو آلودہ نہ کرنے پائے۔ او رجب جان دینے اوران لذتوں سے دست بردار ہونے کی دعوت دی جائے تو وہ لبیک کہتے ہوئے اس طرح دوڑ ے گویا بھوکے کو غذا کی اور پیاسے کو پانی کی پکار سنائی دی۔ اس کی زندگی کامحور ومرکز رضائے خداوندی بن جائے، اور اس کے قلب کی بے چین دھڑکنیں صبح وشام یہ ہی پکارنے لگیں۔

مقصود من بندہ ز کونین توئی

از بہر تو  میرم، زبرائے توزیم

حضرت شیخ نظام الدین اولیاؒ کے یہ الفاظ آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ فرماتے ہیں:”ترکِ دنیا آں نیست کہ کسے خودرابر ہنہ کند، مثلاً لنگوتہ بہ بنددوبنشیند۔ترکِ دنیا آں است کہ لباس بپوشدوطعام بخورد، و آنچہ رسد روامی دارد، وبجمع اومیل نکند، وخاطر را متعلق بچیز ے ندارد، ترک دنیا آن است“۔

”ترک دنیا کے یہ معنی نہیں کہ کوئی اپنے آپ کو ننگا کرلے او ر لنگوٹہ باندھ کر بیٹھ جائے،بلکہ ترک دنیا یہ ہے کہ لباس بھی پہنے او ر کھائے بھی او رحلال کی جو چیز پہنچے اسے روارکھے،لیکن اس کے جمع کرنے کی طرف رجوع نہ کرے اور دل کو اس سے نہ لگائے۔ ترکِ دنیا یہ ہے۔“

عارف رومیؒ نے اس خیال کی ترجمانی اس طرح کی ہے۔

چیشت دنیا؟ از خدا غافل بُدن

نے قماش ونقرہ وفرزند وزن

(جاری)

---------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-1/d/138036

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..