New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 10:36 AM

Urdu Section ( 22 Oct 2014, NewAgeIslam.Com)

Muslims to be Proud of ......ایسی چنگاری بھی یارب میرے خاکستر

 

 

 

خالد شیخ

23 اکتوبر، 2014

برادران و طن  کی نظروں میں مسلمانوں کی شبیہ اجڈ،گنوار ، مجرمانہ ذہنیت والی اور جھگڑا لو قوم کی ہے۔ اس میں دو رائے نہیں اور یہ شبیہ  ہم نے خود بنائی ہے۔ ثبوت درکار ہے ہو تو اخبارات  اٹھا کر دیکھ لیجئے ۔  کوئی دن نہیں جاتا جب ملک میں ہونے والے جرائم پر ہماری چھاپ نظر نہ آتی ہو ۔تصدیق کے لئے سچر کمیٹی رپورٹ کافی ہے جو ہماری ہمہ جہت پسماندگی  کا مرقہ ہے لیکن جس میں  یہ چشم کشا انکشاف بھی ہے کہ جیلوں میں ہمارا تناسب ہماری آبادی  سے کہیں زیادہ ہے۔ اپنی  کم مائگی او ربے وقعتی کے احساس کے باوجود  ہم نے یا ہمارے قائدین نے آزادی کے بعد سے آج تک کوئی ایسا  لائحہ عمل ترتیب نہیں دیا جو ہمیں پسماندگی  کے خول سے باہر نکال سکے ۔ بدقسمتی سے یہ صورتِ حال کسی ایک خطے یا علاقے تک محدود نہیں ۔ درماندگی عام ہے اور سارا عالم اسلام اس میں مبتلا نظر آتا ہے۔ دوسری قومیں ترقی کی نئی منزلیں  طے کررہی ہیں ۔ ہم تیزی سے تنزل کی طرف گامزن ہیں ۔ تعلیم ہو یا تجارت ، صنعت ہو یا حرفت ، سیاست ہو یا صحافت ،سائنس ہو یا ٹیکنالوجی ہم ہر میدان میں پیچھے  ہیں ۔ ایک ایسی قوم جو آبادی کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے  جس کا تسلط کروڑوں کلو میٹر رقبے والے 61 ممالک پر ہے۔ جس کی جدید ترین ہتھیار وں سے لیس تربیت یافتہ فوج کی تعداد 70 لاکھ سے زائد ہے جس کے عرب ، ایشیائی  اور افریقی  ممالک کے ہزاروں اربوں ڈالر مغربی ممالک کے بینکوں میں جمع ہیں ۔ ا س کی بے حسی  اور بے عملی  پر جس قدر ماتم کیا جائے کم ہے۔

ہر قوم کی شناخت اس کی تہذیب و ثقافت اور طرز معاشرت سے ہوتی ہے او رنئی نسل اس کا چلتاپھرتا اشتہار کہ راہ راست پر ہوتو فخر و امتیاز کا سبب بنتی ہے  ، گمراہ ہو تو ذلت و خواری کا ۔ ہماری نئی نسل کی اکثریت بے راہ روی اور گمراہی کا شکار  ہے اور تہذیب  و اخلاق سے عاری  نظر آتی ہے ۔ اسے ٹی وی، فلموں، موبائل اور انٹرنیٹ کے مضراثرات کہئے یا تربیت کی کوتاہی کےبچے وقت سے پہلے جوان اور جوان وقت سے پہلے بوڑھے ہورہے ہیں ۔ نوجوانوں نے شور  شرابے اور ہنگامے کو زندگی سمجھ  لیا ہے کسی بھی قوم کے نوجوانوں کی شناخت اتنی آسان نہیں جتنی ہمارےنوجوانوں کی ہے۔ ان کی حرکات و سکنات اور طرز تعلیم،  ہر جملے میں گندے الفاظ اور گالیوں کا بے تکلف استعمال چیخ چیخ کر ان کے مسلمان ہونے کی گواہی دیتا ہے ۔ اس پس منظر میں جب بھی نوجوانوں کی طرف سے کوئی خلاف واقعہ کارنامہ یا خبر سننے یا پڑھنے کو ملتی ہے تو یک گونہ اطمینان ہوتاہے کہ ابھی امت مرحومہ پر فاتحہ پڑھنے کا وقت نہیں آیا۔ اس وقت ہلکے سے تصرف کے ساتھ زبان پر بے ساختہ یہ مصرع آجاتا ہے کہ ‘‘ ایسی  چنگاری بھی یارب  میرے خاکستر  میں ہے’’۔ آج کا کالم ایسے ہی چند کار ناموں سے عبارت ہے جن سے مایوسی  کے بادل چھٹتے ہیں اور سر فخر سے اونچا ہوتا ہے۔

(1)  مراد آباد ، یوپی کا فرقہ وارانہ طور پر حساس شہر ہے ۔ گزشتہ مہینہ یہ شہر دو مسلم نوجوانوں کی موت پر سوگوار ہوا تھا ۔ دانش اور رحمان نامی دونوجوان ہاتھ پیر مارتی سمن کو بچانے کے لیے بہتے نالے میں کودے ۔ لڑکی کو تونہ بچا سکے لیکن اس کوشش  میں  اپنی جان گنوا بیٹھے ۔ فوج کی مدد سے تینوں  کی لاشیں نکالی گئیں ۔ ان نوجوانوں کی قربانی نےثابت کردیا کہ انسانی جان مذہبی اختلافات سے کہیں زیادہ قیمتی   ہوتی ہے۔ اور یہ اثر ہوا  کہ ان کی تجہیز و تکفین پر قرب و جوار کی آبادی  یکجا ہوگئی ۔ ہندو عورتوں نے جنازوں پر پھول برسائے تو مردوں نے کاندھا دیا ۔

(2) 11 جنوری 2014 کو مونیکا مور ے نامی ایس این ڈی ٹی کی طالبہ ممبئی کے گھاٹکوپر اسٹیشن پر ٹرین میں سوار ہونے کی کوشش میں پٹری پر گر پڑی اور دونوں ہاتھ گنوا بیٹھی ۔ اسٹیشن پر ابتدائی طبی امداد  اور ایمبولنس کا کوئی انتظام نہیں تھا او رمونیکا  کی حالت دیکھ کر کسی میں اس کی مدد کی ہمت نہیں ہوئی ۔ اتنے میں نسیم اور امجد چودھری دو بھائی پٹری پر کودے کٹا ہوا ہاتھ  کپڑے میں باندھا ، لٹکے ہوئے ہاتھ پر پٹی باندھی اور آٹو رکشا کےذریعے مونیکا کو اسپتال پہنچایا ۔ اس کے شناختی کارڈپر درج معلو مات   سے اس کے گھر  والوں کو مطلع کیا اور خود بھی پابندی کےساتھ اس کی عیادت کو جاتے رہے ۔ مہینوں کے علاج  اورنقلی ہاتھوں کے ساتھ جب مونیکا کو ڈسچارج کیا گیا تب بھی یہ دونوں  موجود تھے ۔ آج وہ مونیکا کےمنہ بولے بھائی اور مورے خاندان کا حصہ ہیں۔

(3) نفسانفسی کے اس دور میں جانے کیوں ظالم کو ظلم کرتادیکھ کر ہماری رگ حمیت نہیں پھڑکتی ہے ۔ ہمیں بھولے سے بھی  یہ خیال نہیں آتا ہے کہ آج جو دوسروں پر بیت رہی ہے۔ کل وہ ہم پر بیتے تو دل پر کیا گزرے گی ۔ 14 دسمبر 2013 کو ایسا  ہی ایک واقعہ کلیان میں پیش آیا ۔ اوورٹیک کے معاملے میں چند  غنڈوں نے ایک ڈاکٹر کی پٹائی کردی اور اسے چاقو مار کر زخمی کردیا ۔ خون بہنے  کی وجہ سے ڈاکٹر بیہوش  ہوگئے لیکن وہاں جمع بھیڑ سے کوئی ان کی مدد کو نہیں آیا ۔ ایسے میں  وہاں سے گزررہی بی ایم سی کی طالبہ مشعل  کاظم نے غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھیڑ کو غیرت دلائی، اپنے اسکارف سے  ڈاکٹر کے زخم  پر پٹی باندھی   اور چند لوگوں کی مدد سے اسے اسپتال  پہنچایا جہاں گھنٹہ بھر بعد زیادہ خون بہنے  کی وجہ سے ان کی موت ہوگئی ۔ مشعل کی شکایت پر غنڈوں کو گرفتار کر لیا گیا انہوں نے اپنی جرأت و بیباکی اور احساس ذمہ داری سے ڈاکٹر کے گھر والوں  کے دلوں میں ہمیشہ کے لئے جگہ بنالی ۔

(4)  دہلی کے عبدالستار گزشتہ 23 برسوں سے ایک عجیب و غریب  خدمت انجام دے رہیں ۔ وہ جمنا ندی پر تعمیر ‘‘ سوسائڈ پوائنٹ’’ کہلانے والے وزیر آباد پُل کے نیچے صبح سات بجے  سے غروب  آفتاب تک موجود رہتے ہیں ۔ وہ ماہر غوطہ خور ہیں اور ان کا کام زندگی سے مایوس اور خود کشی پر آمادہ لوگوں کو جان بچانا ہے۔ اور پولیس کارروائی سے محفوظ رکھنے  کے لیے انہیں ان کے گھر والوں  کے سپرد  کرنا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ حالات کتنے ہی خراب ہوں زندگی کو ایک اور موقع  ضرور دینا چاہئے ۔ اب تک انہوں نے ایک ہزار سے زائد افراد کی جانیں بچائی ہیں ۔ ضرورت پڑنے پر دہلی پولیس بھی ان کی خدمت حاصل کرتی ہے ۔ انہوں نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا کار نامہ 18 نومبر 1997 کو انجام دیا جب صبح سویرے 120 بچوں والی اسکول بس کو ندی  میں گرتا دیکھ کر وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بچوں کو بچانے میں جُٹ گئے ۔ دو پہر میں جب نیوی کے غوطہ خور ساز و سامان کے  ساتھ وہاں پہنچے تو بچاؤ کام تقریباً مکمل ہوچکا تھا ۔ اس حادثے میں 23 بچے ہلاک اور 6 غائب پائے گئے جن کی لاش نیوی والوں نے بر آمد کیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دوسرے دن میڈیا  نے بچاؤ کام کا کریڈٹ نیو ی اور پولیس کو دیا اور عبدالستار کو فراموش کر گئے ۔ لوگوں کے اعتراض پر جب اس وقت کی بی جے پی  حکومت کو غلطی کا احساس ہوا تو عبدالستار کو بہادری کا ایوارڈ ایک لاکھ روپے  کے انعام سے نواز ا گیا اور سابق وزیر اعلیٰ صاحب سنگھ ورما نے نوکری دینے کا وعدہ کیا ۔ اس کے بعد عبدالستار کو اور بھی انعامات  ملے لیکن نوکری کا وعدہ وفانہ ہوا ۔ انہیں ٹھیس پہنچی لیکن بد دل نہیں ہوئے اور آج بھی خود کشی پر آمادہ لوگوں کو زندگی کا درس اور جینے  کا صلہ دے رہے ہیں ۔

واقعات او ربھی ہیں  لیکن ہم نے ان چار کا انتخاب ان کی نوعیت اور افادیت کے لحاظ سے کیا ہے، ظلم اور نا انصافی کے خلاف آواز اٹھانا مصیبت زدوں کی مدد کرنا یا دوسرے لفظوں میں خدمت خلق  اسلام کے زریں  اصولوں میں سے ایک ہے۔ جن پر عمل کر کے ہم اپنی شبیہ بدل سکتے ہیں ۔

23 اکتوبر، 2014  بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/khalid-sheikh/muslims-to-be-proud-of---ایسی-چنگاری-بھی-یارب-میرے-خاکستر/d/99677

 

Loading..

Loading..