New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 03:20 AM

Urdu Section ( 2 Sept 2014, NewAgeIslam.Com)

The Arab World Has Lost Its Soul عرب اپنی روح کھو چکا ہے

 

 

 

خالد المعینہ

29 جولائی 2014

عرب میں جن لوگوں کی پیدائش 1950 کے اوائل میں ہوئی ان کی زندگی میں ایک بھی دہائی ایسی نہیں گزری جس میں تاریخ کا کوئی بڑا واقعہ یا حادثہ رونماں نہ ہوا ہو۔ 1956 میں السويس اسرائیل، برطانیہ اور فرانس کا سہ طرفہ حملہ۔ جون 1967 کی جنگ جس میں عرب کے ایک بڑے علاقے پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا۔ اکتوبر 1973 کی جنگ جس میں مصریوں نے اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کی داستان کو چیلنج کیا اور اگر اسے امریکہ کی حمایت حاصل نہیں ہوتی تو اس کے حتمی نتائج بالکل مختلف ہوتے۔

جون 1982 میں لبنان پر حملہ، بیروت کا محاصر اور تل الزعتر میں فلنجیوں اور اسرائیلی فوجیوں کے ذریعہ فلسطینیوں کا قتل عام جس کی وجہ سے پوری دنیا میں زبردست غم و غصہ اور کشیدگی کی لہر پھیل گئی۔ 1990 میں عراق کا کویت پر حملہ جس کی وجہ سے عرب اتحاد کی ساخت بکھر کر رہ گئی۔ اس کے بعد 11 ستمبر 2001 کے واقعات رونماں ہوئے جس نے پورے عرب کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کے بعد عرب بہاریہ کا دور شروع ہوا۔ اور عوام نے کچھ مہلت کی توقع کی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ لیبیا، یمن، شام اور عراق میں اب بھی ہنگامہ آرائی اور اضطراب کی صورت حال بنی ہوئی ہے۔

ہماری مرضی کو آزمانے کے لئے تازہ ترین بحران ایک بے یار و مددگار غزہ کی آبادی پر ظالمانہ بم حملے ہیں۔ میں نے اس سے پہلے کبھی بھی ان لوگوں کے اندر ایسی نفرتوں کا مشاہدہ نہیں کیا جو خود بڑے پیمانے پر قتل عام اور ایک ہولناک ہولوکاسٹ کا شکار رہ چکے ہیں۔ اس سلسلے میں زیادہ حیران کن پہلو امریکی میڈیا کے مختلف طبقات، AIPAC کے ارکان اور کم ظرف قانون ساز وں کا رویہ ہے جنہوں نے غزہ کی تو بات ہی چھوڑ دیں نقشے پر ہوبوکن کا خاکہ بھی پیش نہیں کیا اور جو اسے تباہ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

لیکن ہمیں اپنی حالت زار کا ذمہ دار دوسروں کو نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ ہم گزشتہ 40 سالوں سے کیا کر رہے تھے؟ حکمرانوں نے اپنا اثر و رسوخ قائم رکھا۔ انہوں نے عوام پر اپنی گرفت بڑھانے کے لیے اس عذر کے تحت سیکورٹی کا استعمال کیا کہ وہ صرف زندہ رہنا چاہتے ہیں۔

عربوں نے عدم استحکام، مصائب اور ظلم و زیادتی کا سامنا 2003 کے حملے اور سقوط عراق جیسے صرف بیرونی ذرائع کی ہی وجہ سے نہیں کیا بلکہ افراتفری اور خانہ جنگی کی صورت حال داخلی عناصر کی وجہ سے بھی پیدا ہوئی۔ اس کا مزید خسارہ عربوں کا وقار اور اخلاق کا کھو جانا ہے۔

عربوں کے پاس اب کوئی رول ماڈل نہیں بچا تھا اور کسی روحانی قیادت کی عدم موجودگی کی وجہ وہ لوگ سخت گیر اور قساوت پسند بن گئے جو کبھی معتدل اور نیگ ہوا کرتے تھے۔ ہمدردی کی جگہ سنگدلی اور رحمت کی جگہ ظلم و ستم نے لے لی۔ انہوں نے اس بات کو غنیمت نہیں جانا کہ وہ حکمران چلے گئے بلکہ ان ممالک میں لوگوں نے ان کی حکومت قائم کرنے کے لئے زبردست اور خونی لڑائیاں لڑیں۔

وہ ریاستیں متفرق علاقوں کو کنٹرول کرنے والے حکمرانوں کی جاگیر بن گئی ہیں۔ اقتصادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جن کی یہ خواہش ہےکہ پرانی حکومتیں قائم رہیں۔ تنوع پسندی اور رواداری ختم ہو گئی اور معاشرہ علیحدگی پسندی کا شکار ہو گیا۔

اور ہاں ایسے بہت سے روادار لوگوں نے اپنی آوازیں بلند کیں جو اپنی مذہبی شناخت کو کھوئے بغیر کثیر ثقافتی معاشرے میں رہنا چاہتے ہیں پر آج ان کی آوازیں نہیں سنی جاتیں اس لیے کہ بہت سے لوگوں کو ان جہادیوں نے مار دیا جو لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ انسانی زندگی بے قدر و قیمت ہو کر رہ گئی ہے۔

ایسے نوجوان مذہب کے نام پر لوٹ مار مچاتے ہوئے ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر کرتے ہیں اور لوگوں پر مذہب کے تعلق سے ایسے عجیب و غریب نظریات مسلط کر تے ہیں جن کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

میں نے اس سے پہلے بھی کہا ہے اور پھر کہہ رہا ہوں کہ ایسا لگتا ہے کہ پورا عرب جمود و تعطل کا شکار ہو چکا ہے اس لیے کہ آفات و مصائب کی لہریں ہماری طرف بڑھ رہی ہیں۔ ہم اندرونی لڑائی اور بین العقائد تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے پر سنی، شیعہ، لبرل، وہابی، سیکولر اور ہر قسم کا لیبل لگائے جا رہے ہیں۔

دوسرے فرقے کےلوگوں کو قتل کرنا اور YouTube اور سوشل میڈیا میں اس پر چرچہ کرنا روز کا معمول بن گیا ہے۔

اور تمام چیزیں اللہ کے نام پر انجام دی جا رہی ہیں گو کہ اس نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہو۔ اور علماء کی جانب سے ان وحشیانہ کارروائیوں کی مذمت مضبوط انداز میں نہیں کی جا رہی  ہے۔

اس کے برعکس اس طرح کے غیر انسانی کاموں کی تعریف میں ٹویٹس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بدقسمتی سے حکام نے نسلی اور مذہبی بنیاد پر تنازعات کو جرم قرار دینے کے لیے قوانین وضع نہیں کیے ہیں۔ ہمارے اندر سے انسانیت ختم ہو رہی ہے اور ہم اپنی روح کو کھو رہے ہیں۔ رحم دلی اور ہمدردی اب ہمارے کردار کا حصہ نہیں ہے۔

ایک نوجوان عورت نے مجھے لکھا کہ: "عرب دنیا اپنی روح کھو چکی ہے۔" ہمارے اپنے معاشرے کے اندر بھائی کے خلاف بھائی کے قتل عام، خونریزیوں اور ہولناکیوں کے روزانہ کے مناظر نے مجھے اس سے اتفاق کرنے پر مجبور کر دیا۔

ماخذ:

http://english.alarabiya.net/en/views/2014/07/29/The-Arab-world-has-lost-its-soul.html

URL for English article:

 http://www.newageislam.com/islam-and-politics/khaled-almaeena/the-arab-world-has-lost-its-soul/d/98346

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/khaled-almaeena/the-arab-world-has-lost-its-soul--عرب-اپنی-روح-کھو-چکا-ہے/d/98861

 

Loading..

Loading..