New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 08:44 PM

Urdu Section ( 22 Jan 2016, NewAgeIslam.Com)

Terrorism and Critical Islamic Education دہشت گردی اور اسلامی تعلیمات

 

خیر الازہر

20 جنوری 2016

ہم بحیثیت استاذ اپنے طالب علموں کو دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ممکنہ خطرے سے دور رکھنے کیا کر سکتے ہیں؟ چونکہ کسی کا عقیدہ دہشت گردی کا بیج بونے کے لیے ایک زرخیز زمین ہو سکتا ہے، لہٰذا، مذہبی تعلیم کی تنظیم کس طرح کی جانی چاہئے؟

اس صورت حال میں والدین کو کیا کرنا چاہیے اس لیے کہ دہشت گردی کی بیج ان کے بچوں تک رسائی حاصل کر سکتی اور آج کل تو ان تک رسائی صرف ایک انگلی کی حرکت سے ہی آسان کے ساتھ حاصل کی جا سکتی ہے۔ وہ کس طرح اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں ان کے بچوں پر ان کی نگرانی ایک ذہنی خلفشار میں تبدیل ہونے کے بجائے ایک نتیجہ خیز طریقہ کار ثابت ہو؟

جس طرح آج اکثر دہشت گرد مسلمان کے روپ میں ہی سامنے آ رہے ہیں اور جس طرح وہ اپنے کارناموں کو داخلی طور پر اسلام پر مبنی قرار دے رہے ہیں اس موجودہ ماحول کے پیش نظر اسلامی تعلیمات کے تناظر میں حالات کو سلجھانے کے لیے کوئی نہ کوئی کوشش ضرور کی جانی چاہیے۔

اکثر دیگر مذاہب کی طرح زیادہ تر مسلمان انہیں مذہبی تعلیمات کو سمجھتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں جنہیں وہ تسلیم کرتے ہیں۔ جس صورت میں ان کا انحصار علما پر نہ ہو اس صورت میں وہ عام طور پر دستیاب تحریری مصادر و ماخذ، روایات اور یہاں تک کہ اپنے عقل کا استعمال کرتے ہیں، اور چونکہ ایک مذہب آسانی سے مطلقیت کو جنم دیتا ہے، لہٰذا مسلمان بھی اپنے مذہب سے متعلق ہر چیز کو مقدس اور غیر نزاعی سمجھتے ہیں کہ جس کی بنیاد پر آسانی کے ساتھ دہشت گردی کا بیج بویا جا سکتا ہے۔

مسلم طالب علموں کو اسلامی تعلیمات فراہم کرنے والے تمام اداروں میں، در اصل ان کا معمول ایک ہی جیسا ہے۔ مذہبی اساتذہ اپنے علم کی بنیاد پر اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کن درسی کتابوں کو پڑھایا جائے، اور اپنے طلباء کو وہی مذہبی تعلیمات فراہم کرتے ہیں جنہیں وہ سمجھتے ہیں اور جن پر وہ عمل کرتے ہیں اور اکثر ان تدریسی ہنر کا استعمال کرتے ہیں جن کا تجربہ انہوں نے اپنے زمانہ طالب علمی میں کیا ہے۔

قرآنی آیات یا احادیث کو رٹ کر زبانی یاد کرنا ان کا ایک پسندیدہ عمل ہے لہٰذا، اکثر طلباء کو قرآن پاک کی آیات یا روایات کے معنی کو سمجھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ قرآنی آیات کو اس قدر تقدس عطا کیا جاتا ہے کہ یہ خیال کیا جا تا ہے کہ یہ جنت میں ایک مقام محفوظ کرنے کے لئے کافی ہے۔

یہاں تک کہ اسے اس قدر تقدس عطا کیا جاتا ہے کہ اسے صحیح راستے پر چلنے میں محافظت اور رہنمائی کرنے کے لیے کافی خیال کیا جاتا ہے اور اس "خیالی" نعمت کا جشن منانے کے لیے مسابقوں اور تقریبات کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔

ان معمولات کے ساتھ طالب علم کس طرح انہیں سمجھتے ہیں، اور کس طرح تقویٰ و طہارت حاصل کرتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں، اس لیے مذہبی تعلیم کو اخلاقی تعلیم کا ایک ذریعہ تسلیم کیا جاتا ہے؟ کس تدریسی استدلال سے ہمارے سامنے اس بات کی وضاحت کی جاسکتی ہے اور ہمیں اس بات کا یقین دلایا جا سکتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس طرح کی مذہبی تعلیم کی سائنسی طور پر ضرورت ہے؟

طہارت جو کہ ایک ایسی چیز ہے جس پر مذہب کی بنیاد ہوتی ہے، اسے ایک جادوئی لفظ بنایا جاتا ہے اسے حفظ کیا جاتا ہے اور بینرز پر لکھا جاتا ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ "صفائی ایمان کا ایک حصہ ہے"۔ کبھی آپ روایتی اسلامی اداروں کا دورہ کریں تو آپ اس کے ارد گرد کوڑے کرکٹ کے ڈھیر بکھرے ہوئے پائیں گے۔

اگر تاریخی طور پر بات کی جاےئے تو ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ خاص طور پر دوسرے درجے کے لوگوں کے لئے مذہبی تعلیم فراہم کرنے میں ایک بہت بڑی غلطی ہوئی ہے۔

ماضی میں، تقریبا تمام نجی اور ریاستی روایتی اسلامی اداروں میں پڑھائے جانے والے مذہبی مضامین کی درجہ بندی علوم الدین یعنی ‘‘تیار شدہ’’ اسلامی تعلیمات اور مضامین کا نصاب، اور علوم الآلات، یعنی مذہبی مضامین اور تعلیمات کو سیکھنے اور سمجھنے کا نصاب۔

سابق یعنی ‘‘علوم الدین’’ کا نصاب الہیات، نجی اور عوامی فقہ اور اخلاقیات پر مشتمل تھا، جو ساکت و جامد ہوتے تھے اور جن کا وقت اور مقام کے ساتھ گہرا تعلق تھا اور جو مختلف مکتبہ فکر میں مختلف ہوتے تھے۔ جبکہ علوم الآلات کا نصاب باریک لسانیاتی منطق اور حکمت (فلسفہ) پر مشتمل ہوتا تھا۔ جو کہ ایک ایسا آلہ تھا جس کا استعمال قابل نفاذ علوم و معمولات کو ترتیب دینے کے لیے کیا جاتا تھا، لہٰذا، ان کا استعمال اس وقت ان علوم و معمولات کا جائزہ لینے اور ان میں ترمیم کرنے کے لئے کیا جاتا تھا جب سیاق و سباق کے تناظر میں ایسا کرنا ضروری ہوتا۔

اب بھی بہت سے اداروں میں روایتی طور پر پڑھائے جانے والے علوم الآلات کی دستیابی نے ایک قسم کے منطقی استدلال کو رواج بخشا ہے، جو کہ ایک ایسا عمل ہے جس مسلم طلباء اور علماء وقت اور حالات کے تناظر میں پیش کیے گئے کسی شرعی حکم کی باریکی کے ساتھ تحقیق و تفتیش کرتے ہیں۔

چونکہ ان اہم مضامین کی درس و تدریس کا سلسلہ نچلی اور ثانوی سطح پر شروع ہوا تھا اسی لیے مسلم طلبا نہ صرف یہ کہ اپنی قدیم نصابی کتابوں میں فراہم کردہ مثالوں پر استدلالی عمل کو بروئے کار لانے کے عادی تھے بلکہ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی رائے دہی کا بھی استعمال کرتے تھے اور یہاں تک کہ وہ اس سلسلے میں اپنے اہم سوالات بھی پیش کرتے تھے جو کہ مسئلے کی نوعیت کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے ایک مذہبی حکم بھی تھا۔

1989 سے 1994 تک روایتی اسلامی ادارے کے ایک طالب علم کے طور پر میں بھی اپنے مذاکرے کا دلدادہ تھا- جو کہ ایک قسم کی بحث و مباحثے کی مجلس ہوتی تھی جس میں ہم کسی مسئلہ یا قرآن کی آیت پر اپنی محدود لسانی منطقی اور کلاسکی تشریحی بصیرت کی روشنی میں تبادلہ خیال کرتے تھے۔

ذرا تصور کریں کہ ہم لسانی طور پر نماز کا حقیقی معنی پوچھ سکتے تھے اور یہ بھی سوال کر سکتے تھے کہ ہمیں نماز ادا کرنا کیوں ضروری ہے۔ ہماری نگرانی استاذکرتے تھے، وہ صرف مسکرا کر ہمیں دیکھتے رہتے تھے اور اس نشست کے آخر میں کسی بھی خوف و خطر کے بنا کیا، کیسے اور کیوں کی وضاحت کرتے تھے۔

فن تعلیم کی رو سے علوم الآلات کی دستیابی اور انہیں استعمال کرنے کے عمل سے ان کے دماغ اور ان کی فہم و فراست کی پرورش ہو سکتی تھی اور طالب علموں کا دماغ اہم علمی آلات سے لیس ہو سکتا تھا۔ قدرتی طور پر وہ کسی بھی نئے علم اور معلومات کی تحقیق و تفتیش اور اپنی سوچ کی آزادی کے لئے جدوجہد کے عادی ہوتے تھے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ انڈونیشیائی اسلامی تعلیمات کے ادارے اپنی تاریخ سے کچھ سبق حاصل کریں؟

اس کے لیے بنیادی طور پر ہمت و جرات کی ضرورت ہے۔

اگر آپ ایک استاد ہیں چھوٹی ہی سطح پر سہی لیکن دین کے مسائل پر اہم بحث و مباحثے کا آغاز کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کسی اسکول میں ایک پالیسی ساز ہیں تو طالب علموں کو ایسی سرگرمیاں فراہم کریں جو ان کے اندر سے مذہب کے بارے میں ان کی تنقیدی سوچ کو ختم کرنے میں معاون ہوں۔ اگر آپ والدین ہیں تو اپنے بچوں کو مذہب کے بارے میں بات چیت کرنے کے لئے سازگار ماحول فراہم کر کے ان کے ذہن و دماغ کو کشادہ کریں، جس سے ان کے اندر سے نمایاں طور پر مذہب کے بارے میں غیر ضروری اوامر و نواہی کاتمہ ہو گا۔

ماخذ:

thejakartapost.com/news/2016/01/20/terrorism-and-critical-islamic-education.html

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-society/khairil-azhar/terrorism-and-critical-islamic-education/d/106067

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/khairil-azhar,-tr-new-age-islam/terrorism-and-critical-islamic-education--دہشت-گردی-اور-اسلامی-تعلیمات/d/106085

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..