New Age Islam
Sat Dec 04 2021, 03:44 AM

Urdu Section ( 3 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Brutality of the ISIL Government آئی ایس آئی ایل کی حکومت میں سختیاں بے رحمی

 

حسن العبیدی ، بغدااد اور ولید ابوالخیر قاہرہ، (خبر ساوتھ ایشیا)

2 اگست 2014  

مسلم اتنہا پسند باغیوں کے زیر قبضہ عراقی شہروں کے رہائشیوں اور پناہ گزینوں کے مطابق عراق اور الشام میں اسلامی ریاست (آئی ایس آئی ایل ) کی حکومت میں زندگی دشوار ہے۔

جون میں آئی ایس آئی ایل نے واضح کیا کہ کہ وہ شمالی شام اور مشرقی عراق کے کچھ حصوں میں ایک اسلامی خلافت قائم کررہے ہیں جو ان کے جنگجوؤں نے سرکاری فوجوں سے لڑائی میں حاصل کئے ہیں۔

فلوجہ کے سابق رہائشی 49 سالہ حمید سعدی نے جوا ب سرکاری زیر انتظام قریبی شہر التفلاویہ میں رہائیش پذیر ہے بتایا کہ آئی ایس آئی ایل کے جنگجوؤں نے مارچ میں عراقی شہر فلوجہ پر قبضے کے بعد لوگوں کے گھر لوٹ لئے اور ان پر قبضہ کرلیا۔

انہوں نے بتایا کہ ’’شہر میں قانون کی عملداری نہیں ہے۔‘‘ مزید یہ کہ اس کے بجائے آئی ایس آئی ایل کے جنگجو ’’اپنے بنائے ہوئے قوانین جاری کررہے ہیں ،‘‘ اور ’’جان بوجھ کر لوگوں کی بے عزتی کررہے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا،’’یہی وجہ ہے کہ ہم نے فلوجہ چھوڑا۔‘‘نواحی انبار صوبے کے گورنر احمد النہیابی الدولیمی کو فرار لونے ولے رہائشیوں نے بتایا کہ آئی ایس آئی ایل سگریٹ پینے والوں کو کوڑے ماررہی تھی ۔ ہیئر سالون بند کردئیے گئے اور حجاموں کی دکانوں پر پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔

گورنر نے بتایا ، آئی ایس آئی ایل نے مقامی اماموں کو بھی شہر کی مسجدوں میں داخل ہونے سے روک دیا اور ان کو دوسروں سے تبدیل کردیا۔‘‘ جس سے بہت سے شہری مساجد میں جانے اور نماز ادا کرنے سے رک گئے۔’’انہوں نے مزید کہا کہ خاندانوں نے فر ار ہونا شروع کردیا جب آئی ایس آئی ایل نے نوجوانوں کو عوامی مقامات پر سزائیں دینا شروع کیں۔

الدلیمی نے بتایاکہ لوگ فاقوں کے دور اور پسماندہ جاہل گروپوں کے درمیان زندگی گزارنے کا فرق جان گئے ہیں جو صرف موت اور تباہی سے واقف ہیں۔ اور مذہب کو اپنے مرضی کے مطابق مسخ اور غلط پیش کررہے ہیں۔

کچھ نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ پر گر دش کرنے والی ایک ویڈیو پر غم و غصے کا اظہار کیا جس میں آئی ایس آئی ایل کے رہنما ابوبکر المصری (مصری) کو البیو صوبے کے جارادولس شہر میں ایک بوڑھے شامی کی اہانت کرتے ہوئے دکھایا گیاہے۔

شمال مشرقی شام کے شہر الرقا کے ایک استاد محمد الخلاق نے بتیا ’’ بوڑھے شخص کی کی جانے اولی بے عزتی اس بے عزتی کے سمندر میں ایک قطرہ ہے جو شامی شہری آئی ایس آئی ایل کے زیر قبضہ علاقوں میں روزانہ برداشت کرتے ہیں۔‘‘

آئی ایس آئی ایل نے لائبریریوں کی جانب اپنے طرز عمل سے ثقافت اور اس کی تعلیم کی طرف منفی رجحان کا مظاہرہ کیا ہے۔

گزشتہ ماہ شمالی عراق کے شہر موصل (اب آئی ایس آئی ایل کے زیر قبضہ) ، مقامیوں نے بتیا کہ گروہ نے لائبریری خالی کنی شروع کردیں اور اسلامی فلسفہ، شریعہ قوانین ، تاریخ ، ادب اور سائنس کی کتب کا قیمتی خزانہ جلاڈالا۔

نینوا صوبے کے قبائلی کونسل کے مطابق ، باغیوں نے ہزاروں کتابیں اس بنا پر تباہ کردیں کہ وہ ’’الحاد اور بد اخلاقی ‘‘ کو ترویج دیتی ہیں ۔

موصل کی سرکاری لائیبریری الحدبا میں کام کرنے والے جلال السفار نے بتایا کہ اس نے آئی ایس آئی ایل کی ضائع کی ہوئی تمام کتابوں کی الیکٹرانک نقل تیار کرلی ہے۔

’’خدا کا شکر ہے کہ عملے کی بڑی تعداد کے ساتھ ہم انہیں بغداد لے گئے۔‘‘ انہوں نے بتایا ’’وہ محفوظ ہیں اور آئی ایس آئی ایل کے موصل سے نکا ل دئیے جانے کے بعد ہم انہیں پھر چھاپ لیں گے۔‘‘

تاہم تار یخی کتابوں کی قد روقیمت ان کے اصل کاغذ (ایڈیشن) یں اہم تھی۔ انہوں نے مزید بتایا ’’میں ان میں سے ایک کتاب کے لئے رویا کیونکہ وہ علم کا ایسا خزانہ تھی جس پر ہم سب کو فخر تھا۔

ماخذ  http://khabarsouthasia.com/ur/articles/apwi/articles/features/2014/08/02/feature-01?gclid=CJaU-oSB- b8CFREmjgodAnYAAg

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/khabar-south-asia/brutality-of-the-isil-government--آئی-ایس-آئی-ایل-کی-حکومت-میں-سختیاں-بے-رحمی/d/98400

 

Loading..

Loading..