New Age Islam
Sat Dec 04 2021, 03:43 PM

Urdu Section ( 23 March 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Bhagat Singh's Secular Legacy بھگت سنگھ کی سیکولر وراثت

 

کے سی تیاگی

24 مارچ، 2015

23 مارچ ڈاکٹر رام منورہر لوہیا کی یوم پیدائش ہےلیکن سماج وادی اسے جوش و خروش کے ساتھ نہیں  مناتے ۔ خود ڈاکٹر لوہیا نے اس دن کو قربانی کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو اسی دن لاہور جیل میں پھانسی دی گئی تھی ۔ پورے ملک میں انگریزوں کے خلاف زبردست غم و غصہ تھا ۔ متحدہ ہندوستان میں شہروں ، قصبوں، گاؤں میں ان کی قربانی کی ہی چرچا تھی۔ لاہور سازش کیس کے دوران اپنے مقدموں کی پیروی بھگت سنگھ خود کرتے تھے ۔ یہ بحث اتنی مشہور اور دلچسپ ہوچلی تھی کہ موتی لال نہرو، نیتا جی سبھاش چندر بوس ، پنڈت جواہر لال نہرو اور رفیع احمد قدوائی جیسے لیڈر بھی کئی مواقع پر لاہور کچہری میں ناظرین اور سامعین بنے۔ ‘ بھارت نوجوان سبھا’ کے منشور اور ہندوستان  سوشلسٹ ریپبلکن پارٹی کے وقتاٰ فوقتاٰ شائع دستاویز ات بھگت سنگھ اور ان کےساتھیوں  کے نظریے کی وضاحت بیان کرتے ہیں ۔ وہ صرف قربانی،  جرأت اور بہادری  کی علامت تھے بلکہ متحرک سماج وادی بھی تھے، اور مذہبی تعصب کے کٹر مخالف تھے ۔ متحدہ پنجاب ، بنگال اور بہار صوبے کے فسادات کی دلدوز کہانیاں اب ماضی کا حصہ ہوگئی ہیں، اسی دوران ہندوستان تقسیم کی بنیاد اور آزاد ہندوستان کے سماجی تانے بانے کی بنیاد میں نفرت و دشمنی کاملبہ جمع ہوتارہا ۔ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی اس وقت اور بعد کے حالات پر نظر رکھے ہوئے تھے ۔ ان مضامین پر نظر ڈالنے پر فرقہ واریت پر ان کی سمجھ کی جانکاری حاصل ہوتی ہے ۔

 بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے لکھی تحریر جون 1928 میں شائع مضمون میں ان کے خیالات کی کار کردگی ظاہر ہے ۔ ‘ ہندوستان  کی حالت اس وقت بڑی قابل رحم ہے۔ ایک مذہب کے پیروکار دوسرے مذہب کے پیروکار وں کے جانی دشمن ہیں ۔ اب تو ایک مذہب کا ہوناہی دوسرے مذہب کا کٹر دشمن ہونا ہے۔ اگر اس بات ہوناابھی یقین نہ ہو تو لاہور کے تازہ فسادات ہی دیکھ لیں ۔ کس قسم مسلمانوں نے بے گناہ سکھوں، ہندوؤں کو مارا ہے او رکس طرح سکھوں نےبھی بس چلتے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ یہ مار کاٹ اس لئے نہیں کی گئی کہ فلاں آدمی مجرم ہے ،بلکہ اس لئے کہ فلاں آدمی ہندو ہے یا سکھ ہے یا مسلمان ہے۔ صرف کسی شخص کاسکھ یا ہندو ہونامسلمانوں کی طرف مارے جانے کے لئے کافی تھا اور اسی طرح کسی شخص کا مسلمان ہونا ہی اس کی جان لینے کے لئے کافی تھا ۔ جب حالت ایسی ہو تو ہندوستان  کا ایشور ہی مالک ہے۔ ایسی صورت میں ہندوستان کامستقبل بہت تاریک نظر آتا ہے ۔ ان ‘مذاہب’ نے ہندوستان کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ اور ابھی پتہ نہیں کہ یہ مذہبی فسادات ہندوستان کاپیچھا کب چھوڑیں ۔ ان فسادات نے دنیا کی نظروں میں ہندوستان کو بدنام کردیا ہے۔ اور ہم نے دیکھا ہے کہ اس میں سبھی بہہ جاتے ہیں ۔ کوئی برلاہی ہندو، مسلمان یا سکھ ہوتاہے، جو اپنا دماغ ٹھنڈا رکھتاہے، باقی سب کے سب مذہب کے یہ نام لیوا اپنے نام لیوا مذہب کے رعب کو قائم رکھنے کے لئے ڈنڈے ،لاٹھیاں، تلواروں اور چھرے ہاتھ میں پکڑ لیتے ہیں اور آپس میں سر پھوڑ پھوڑ کر مرجاتے ہیں ۔ باقی کچھ تو پھانسی پر چڑھ جاتے ہیں او رکچھ جیلوں میں پھینک دیئے جاتے ہیں ۔ اتنا خون  ہونے پر ان ‘ مذہب کے ٹھیکیداروں ’ پر انگریزی حکومت کا ڈنڈا برستا ہے اور پھر ان کے دماغ کا کیڑا ٹھکانے آجاتا ہے’۔

اخبارات کے رول پر بھی خبروں میں امتیاز برتنے کےالزام لگتے ہیں ۔ فرقہ وارانہ فسادات کے دوران تو غیر جانبدار صحافیوں اور اخبارات  کا گویا قحط پڑ جاتا ہے ۔ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں سمیت گاندھی جی تک کو اس کا دکھ جھیلنا پڑا ۔ باپو کی شہادت کی تووجہ ہی یہی تھی ۔ ان کی زندگی فرقہ پرستی کی بھینٹ چڑھ گئی ۔ لیکن مذہب کو لے کر انقلابی تحریک کے رہنماؤں کے خیال واضح تھے اور وہ اخبارات پر بھی واضح طنز کسنے سے گریز نہیں  کرتے تھے۔ اگر چہ اس وقت پابندی اور سیاہ قوانین کی وجہ سے اخباروں کی زیادہ اشاعت نہیں ہوتی تھی ، لیکن مذہبی نفرت اس وقت بھی صحافت کاحصہ تھی، جس کا ذکر اپنے مضامین میں بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے صاف گوئی سے کیاہے۔‘ دوسرے صاحب جو فرقہ وارانہ فسادات کو بھڑکانے میں خاص حصہ لیتے رہے ہیں ، وہ اخبار والے ہیں۔ صحافت کا کاروبار ، جو کسی وقت  بہت اونچا سمجھا جاتا تھا، آج بہت ہی گندا ہوگیا ہے ۔ یہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف بڑے موٹے موٹے عنوان دے کر لوگوں کے جذبات بھڑکاتے ہیں اور باہمی  سر۔ پھٹوول کرواتے ہیں ۔ ایک دو جگہ ہی نہیں ، کتنی ہی جگہوں پر اس لئے فسادات ہوئے ہیں کہ مقامی اخبارات نے بڑے اشتعال انگیز مضامین لکھے ہیں ۔ ایسے مصنفین  ، جن کا دل اور دماغ ایسے دنوں  میں بھی پرسکون رہاہو،  بہت کم ہیں۔

 اخبارات  کا اصلی فرض تعلیم دینا ، لوگوں سے تنگ نظری نکالنا ، فرقہ وارانہ جذبات ختم کرنا، باہمی مصالحت بڑھانا اور ہندوستان کی مشترکہ قومیت بنانا تھا ،لیکن انہوں نے اپنا اہم فرض جہالت پھیلانا ، تنگ نظری کی تشہیر کرنا، فرقہ وارانہ بنانا، لڑائی ، جھگڑے کروانا اور ہندوستان کی مشترکہ  قومیت کوتباہ کرنا اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی کی موجودہ حالت پر غور کرکےآنکھوں سےخون کے آنسو بہنےلگتے ہیں اور دل میں سوال اٹھتا ہے کہ ہندوستان کا بنے گا کیا؟ ’ آج اس پر طرہ یہ ہے کہ کچھ خود کو راشٹر بھکت کہنے والے ،جنہوں نے بھگت سنگھ کی شخصیت کو بغیر جانے ، محض  اپنی سیاسی روٹیاں  سینکنے کے لئے اور میڈیا کےایک حصہ کی توجہ اپنی طرف برقرار رکھنے کے لئے بھگت سنگھ  کی شخصیت کو چھوٹا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، جیسے بھگت سنگھ محض اس شخص کا نام ہے، جو جنون میں 21 سال کی عمر میں پارلیمنٹ میں بم پھینک کر پھانسی  پر چڑھ گیا، پرانا چہرہ چمکا نے کی ان کی بھوک میں بھگت سنگھ  کی اس شخصیت کی طرف ان کی نظر  نہیں جاتی جو گنیش شنکر  ودیارتھی کی صحافت ان کی تحریر اور خیالات سے متاثر تھا ۔ بھگت سنگھ محض ایک انقلابی نہیں بلکہ سیکولرازم کی مثال ، سماجوادی اور ایک بڑے مفکر تھے ۔

لیکن ہمیشہ گاندھی بمقابلہ بھگت سنگھ  کی بحث چلا کر یہ لوگ ‘ شہید اعظم’ کی شخصیت کے اس شاندار پہلو کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں جو کروڑوں نوجوانوں  کے لئے تحریک کا سر چشمہ  ہیں ۔ بھگت سنگھ کی شخصیت کو آج کہیں  زیادہ  شددت سےیاد کرنے کی ضرورت ہے ، کیونکہ ایسی  طاقتیں  جو نہ بھگت سنگھ میں عقیدہ رکھتی ہیں نہ گاندھی  میں، صرف انہیں اپنے  فرقہ وارانہ ایجنڈے سے مطلب ہے، آج جنتا سرگرم ہیں اتناپہلے کبھی نہیں تھیں ۔ یہ بھی واضح رہے کہ ان طاقتوں نے خود کو آزادی کی لڑائی سے دور رکھا تھا اور صرف فساد پھیلانے میں لگی  تھیں۔ بھگت سنگھ کے مطابق ’ سماج کا اصلی  سرپرست محنت کش ہے۔ عوام کاغلبہ  مزدوروں کی آخری قسمت ہے۔ ان آدرشوں اور یقین کے لئے ہم ان تکلیفوں کا استقبال کریں گے، جن کی ہمیں سزادی جائے گی ۔ ہم اپنے درد کو اسی انقلاب کی ویدی پر ہوم کرنےلائے ہیں، کیونکہ اتنے شاندار مقصد کے لئےکوئی بھی قربانی بہت بڑا نہیں ہے ..... سماج کا سب سےضروری عضو ہوتے ہوئے بھی پیداوار کرنے کا یا مزدوروں کا استحصال کرنےوالا طبقہ ان کی محنت کاپھل لوٹ لیتےہیں ۔ ایک طرف جہاں سب کے لئے اناج پید ا کرنےوالے کسانوں کے خاندان بھوکوں مرتےہیں، وہیں سارے جہاں کو سوت جتانے والا بنکر اپنا او راپنے بچوں کا تن ڈھانپنے کےلئے کافی کپڑا حاصل نہیں کرپاتا، شاندار محل کھڑا کرنے والا راج مستری ، لیبر اور بڑھئی ، جھونپڑیوں  میں ہی زندگیاں بسر کرتے اور مرجاتے ہیں ۔ اور دوسری طرف سرمایہ دار، استحصال کرنے والا اپنی  سنگ پر کروڑوں بہا دیتے ہیں’ ۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘ انقلاب سےہمارا مطلب یہ ہے کہ معاشرے میں ایک ایسانظام قائم کیا جائے، جس میں اس قسم کے بھگدر کا خوف نہ ہو اور جس میں مزدور طبقہ کے غلبہ کو منظوری دی جائے اور اس کے نتیجے میں عالمی سرمایہ داری کے بندھنوں ، دکھوں اور جنگوں سےانسانیت کا نجات حاصل کرسکیں’ ۔ جیسے جیسے بھگت سنگھ سماجوادی اصولوں  کامطالعہ کرکے ان کے اصل حقائق کو دل میں بٹھاتے گئے ان کا یہ یقین مستحکم ہوتا چلا گیا کہ انقلاب کا حقیقی راستہ محنت کشوں کو جوڑنااور شامل کرنا ہی ہے ۔ اپنی پھانسی سے کچھ ہی  پہلے  لاہور سنٹرل جیل  کے سپر نٹنڈٹ کے نام لکھے گئے ایک خط میں انہوں نے کہا تھا ۔ ‘ یہ میرا پختہ یقین ہے کہ ہم کو بموں او رپستولوں سےکچھ حاصل نہیں ہوگا، ۔ ہندوستان سوشلسٹ آرمی’ کو تاریخ سےیہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے ..... بم چلانا بے معنی  ہی نہیں، اکثر نقصان دہ بھی ہوتاہے ، اگرچہ کچھ حالات میں اس کی اجازت  دی جاسکتی  ہے جس کا بنیادی  مقصد مزدوروں او رکسانوں کو منظم کرنا ہی  ہونا چاہئے،۔ بھگت سنگھ سےپہلے بنگال اور پنجاب میں بڑے بڑے بہادر اور جانوں کو تنکے کی طرح وقف کردینے والے انقلابی پیدا ہوچکے تھے ۔ لیکن زیادہ تر لوگ سیاسی اور انقلابی تحریک کا یہی مقصد سمجھتے  تھے کہ ملک کے ظالم  انگریزوں کو ہٹا کر ہندوستانیوں  کی حکمرانی قائم ہوجائے ۔ لیکن وہ حکومت  کیسی ہو اور اس میں عوام کے کیا حقوق ہوں، اس سلسلہ میں زیادہ  تر لوگ کچھ سوچ فکر نہیں کرتے تھے ۔ وہ یہی  غور کرکے اطمینان کرلیتے  تھے کہ جب غیر ملکی راج  ہٹ جائے گا اور اس کی جگہ ہندوستانیوں کاراج قائم ہوجائے گا تو سبھی غلطیاں  اور شکایتیں  ضرور ہی دور ہوجائیں گی ۔ ان کے سامنے انقلاب کی کامیابی  کےبعد جدید معاشرے کی تشکیل کاکوئی واضح تصویر نہیں تھی ۔ ان کی تصور بہت ہی غیر واضح  تھی، جسے بھگت سنگھ  نےبڑی حد تک دو رکرنے کی کوشش کی تھی ۔ یہ انتہائی قابل  ستائش بات ہے کہ بھگت سنگھ نے بم او رپستول کو ہی اہم بنیاد ماننےوالے انقلاب کی تحریک کو کم ہی وقت میں سماج  وادی  خیالات  کا پیروکار بنا دیا ۔

24 مارچ، 2015  بشکریہ : روز نامہ خبریں، نئی دہلی

URL: https://newageislam.com/urdu-section/kc-tyagi/bhagat-singh-s-secular-legacy--بھگت-سنگھ-کی-سیکولر-وراثت/d/102075

 

Loading..

Loading..